اکیلی میں کیا کروں

99

س-ز
صبح کے10 بج گئے لیکن ابھی تک نیند آنکھوں سے رخصت ہونے کے لیے تیار ہی نہیں۔ بصد اصرار اس کو رخصت کیا کہ گھر پہ ہماہمی شروع ہوگئی تھی، اور ابھی تھوڑی دیر میں دیر تک سونے پر ہر کوئی اپنے حصے کا فقرہ دینے والا تھا…بھوک بھی زوروں کی لگی تھی۔ اب ناشتا بھی خود ہی بنانا پڑے گا۔ یہ کوفت الگ محسوس ہوئی۔ آٹھ بجے گرم گرم ناشتے کی خوشبو نیند میں بھی آئی تھی…لیکن اُف یہ نیند۔
ہاتھ بڑھا کر موبائل اٹھایا جس کورات ڈھائی بجے کے بعد سے اب تک نہیں دیکھا تھا۔ پتا نہیں کیا کچھ ہوگیا ہوگا۔ واٹس ایپ پہ پہلا میسج خالہ کا تھا جنہوں نے صبح بخیر کے ساتھ دنیا اور آخرت کو سنوارنے کے لیے بہت ساری دعائیں منہ بھر کے بھیجیں، اس پہ تو آمین بنتا ہے… بلکہ ایسے سارے پیغامات پہ آمین تو ضرور ہی لکھنا ہوتا ہے۔ اللہ قبول کرے پتا نہیں کب کون سی دعا قبول ہوجائے… اور پھر اپنے خاندان اور دوستوں کی بھلائی بھی مقصود ہے۔ سارے گروپ میں دعا فارورڈ کی۔ لو جی صبح اٹھتے ہی نیکی کرلی۔ اب باقی کے میسجز دیکھوں۔
یہ عید سے پیوستہ دنوں میں ایک صبح کا ہی قصہ ہے جب رات دیر تک کبھی آدابِ مہمانی نبھائے جارہے تھے، تو کبھی ذوقِ میزبانی، اور اس کے بعد تھکن اتارنے کے لیے یوٹیوب… اُف اس وقت تو ہر گروپ میں ایک ہی قسم کی تصاویر اور تقریباً ایک جیسے میسج… نگاہ بچاتے بچاتے بھی زخمی بچوں کی وڈیوز سامنے آگئیں۔ یا اللہ کیا ہورہا ہے؟ معصوم مسلمانوں پہ یہ کس قسم کا ظلم ہے؟ آسمان و زمین سے حملے… دل پہ چھریاں چل گئی تھیں۔
دل کا عجیب حال تھا۔ اب نہ تھکن، نہ بھوک کا احساس، نہ آج ہونے والے پروگرام سے دل چسپی۔ ایک نئی ذمے داری کا احساس تھا جو کچھ کرنے کو بے چین کررہا تھا۔ ہاں کچھ خاص… لیکن کیا کروں اور وہ بھی اکیلی…! اکیلی کیوں؟ اتنے وسیع گروپ کی ممبر ہوں، ہر میسج پر رپلائی کرکے گروپ کی منظورِ نظر بھی۔ بس ٹھیک ہے ان دل سوز مناظر کے ساتھ میں بھی میسج فارورڈ کردیتی ہوں، کچھ تو حق ادا ہو ہی جائے گا۔ میسج فارورڈ کرتے ہوئے بھی دل بے چین تھا۔ کیا اس سے ان کی دادرسی ہوجائے گی جن کے گھر ٹوٹ گئے، جو ملبے کے اوپر سو رہے ہیں، جن کے پاس ایک وقت کھانے کو ہوتا ہے اور علاج کے لیے ہاتھ خالی۔ موبائل ہاتھ سے رکھ کر الماری کا دروازہ کھولا، کپڑوں کے پیچھے کچھ جمع شدہ رقم تھی جس میں عیدی کے اضافے کے ساتھ بڑی تسلی تھی کہ ڈیزائنر کا اچھا سا ڈریس اپنی پیاری سہیلی کی شادی کے لیے آجائے گا۔ اس وقت دل پہ ایسی سکینت طاری ہورہی تھی یہ سوچ کر کہ اس میں سے کچھ رقم اپنے فلسطینی بھائی بہنوں کے لیے دے دوں اور تھوڑی رقم رکھ لوں تو ڈیزائنر نہیں، اچھی دکان سے ایک ڈریس تو لے ہی سکتی ہوں۔ عائزہ نے اپنے لفافے سے رقم نکالی اور بھائی کے ہاتھ بھجوا دی۔ اب وہ آرام سے واٹس ایپ پہ میسج فارورڈ کررہی تھی، جس میں اپنے فلسطینی مسلمان بھائی بہنوں اور بچوں کی امداد کی اپیل کی گئی تھی۔
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے

حصہ