تبصرہ کتاب

143

نام کتاب: آئینہ اظہار
نام مصنف: پروفیسر اظہار حیدری
تالیف: ہاشم اعظم
ناشر: الجیلس پاکستانی پبلشنگ سروسز
’’آئینہ اظہار‘‘ پروفیسر اظہار حیدری کے کالم اور مضامین کا مجموعہ ہے جسے ان کے بچوں نے نہایت محبت اور محنت سے یکجا کرکے شائع کیا ہے۔ پروفیسر اظہار حیدری مرحوم ایک مدبر، دانشور، صحافی اور صاحب طرز انشاء برداز ہونے کے ساتھ ایک اچھے شاعر بھی تھے۔ انہیں زبان و بیان پر جو قدرت حاصل تھی اس کا اعتراف کتاب پر تبصرہ کرنے والے افراد نے بھی کیا ہے۔ کتاب پر تبصرہ کرنے والوں میں سب سے اہم ترین نام جس نے اس کتاب کی اہمیت کو بڑھا دیا ہے وہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا ہے۔ انہوںنے اس بات کا اظہار کیا ہے کہ ناسازی صحت کے باعث وہ لکھنے پڑھنے کی اضافی ذمہ داری سے اجتناب کرتے ہیں لیکن محترم جیلس سلاسل سے تعلق کی وجہ سے اس کتاب پر تبصرے سے انکار نہ کرسکے۔ وہ کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔
’’آئینہ اظہار‘‘ تاریخ کی اہم کتابوں میں ایک خوبصورت اضافہ ہے۔ تاریخ کے طلبا کو اس کتاب کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے۔
کتاب کے دوسرے اہم ترین تبصرہ نگار ممتاز صحافی جناب محمود شام ہیں انہوں نے اظہار حیدری کے بچوں کو سراہتے ہوئے اس بات کا اظہار کیا ہے کہ ان تحریروں سے پاکستان کی تاریخ بھی مرتب ہوجاتی ہے۔ اظہار حیدری کا اپنا ایک منفرد اسلوب ہے۔ وہ ایک غیر جانب دار مورخ ہیں۔
محترمہ فائزہ احسان نے بھی کتاب پر مفصل تبصرہ کیا ہے۔
جیسا کہ پہلے عرض کیا جاچکا ہے کہ آئینہ اظہار محترم اظہار حیدری کے مطبوعہ و غیر مطبوعہ کالموں کا مجموعہ ہے۔ جن شخصیات پر محترم اظہار حیدری کے کالم شامل ہیں ان میں قائد اعظم محمد علی جناح، ڈاکٹر عبدالقدیر خان، فتح علی ٹیپو سلطان، پیر صاحب پگارا، جلیس سلاسل، رتی جناح، ڈاکٹر امرحسن صدیقی، مشفق خواجہ، میر خلیل الرحمن، کامریڈ سجاد ظہیر، جون ایلیا اور دیگر شخصیات شامل ہیں۔
اس کے بعد محترم اظہار حیدری کے پاکستان اور بھارت کے تعلقات اور اسی کے تناظر میں پاکستان اور ہندوستان کی کشمیر کی پالیسی پر مضامین شامل ہیں۔ ہندوستان کی کشمیر کے حوالے سے حکمت پر عمل پر وہ کہتے ہیں کہ بھارت کی خارجہ پالیسی خود بھارت کی اقتصادی و معاشی پسماندگی کا سبب ہے اس کی خارجہ پالیسی میں کمزوروں کے خلاف جارحیت کا عنصر کارفرما ہے جس کی وجہ سے بھارت کی اپنی اقتصادی اور معاشی بساط سے زیادہ اس کے بے تحاشہ فوجی اخراجات ہیں۔ انہی مضامین میں بھارت کے علاقائی بالادستی کے خواب کو یعنی مصنف نے آڑے ہاتھوں لیا ہے۔
کتاب کے آخری صفحے میں مختلف کتب پر کیے جانے والے تبصرے شامل ہیں جس میں زاہد ملک کی ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور اسلامی بم (صفحہ اول و دوئم)، محسن پاکستان کی ڈی بریفنگ کے علاوہ محترم آسیہ سحر کی ’’وجہ تخلیق کائنات‘‘ محترمہ شاہین حبیب کی ’’میزائل سائنس‘‘ اور دیگر کتب شامل ہیں۔ محترمہ فائزہ احسان نے بجا کہا ہے کہ تبصرہ نگار کی حیثیت سے اظہار حیدری نے بڑے کشاہ قلب کے ساتھ شاعروں اور ادیبوں کی کاوشوں پر تبصرہ کیا ہے اور ان کی تصنیفات اور تالیفات کے تمام مثبت پہلوئوں کو سراہا ہے اور تنقید برائے تنقید نہیں کی ہے بلکہ تنقید برائے تعمیر کی ہے۔
آخر میں محترم اظہار حیدری مرحوم کے صاحب زدگان کو خراج تحسین پیش نہ کرنا زیادتی ہوگی جنہوں نے ان کی تحریروں کو ماہ و سال کی گرد سے آزاد کیا اور کتابی شکل میں پیش کردیا۔ اس سے نئی نسل کو اس دور کے معاملات سے آگاہی ملے گی اور مورخین و محققین کو اپنی تحقیق میں مدد ملے گی۔
کتاب کی طباعت معیاری ہے الجلیس پاکستان بک پبلشنگ سروسز نے شائع کیا ہے۔ کتاب کی قیمت800 روپے ہے۔

حصہ