نوجوان اور کامیابی کا راز

139

نوجوان ہر قوم اور نسل کے لیے اہمیت کے حامل اور ان کا اثاثہ ہوتے ہیں ،ان پر بات ہوتی ہے ان کے لیے منصوبے بنائے جاتے ہیں ان کی فکر کی جاتی ہے ۔ہماری نوجوان نسل کے حوالے سے ایک اعتراض عمومی طور پر کیا جاتا ہے کہ وہ سہل پسندی کا شکار ہے ۔ علم کی جستجو کے ساتھ ان کے اندر کچھ کرنے کا جذبہ ماند پڑرہا ہے۔تعلیمی اداروں اور جامعات کے اساتذہ شکایت کرتے نظر آتے ہیں کی آج کا طالب علم نہ صرف پڑھتا نہیں ہے بلکہ وہ کلاس میںسوال بھی نہیںکرتا اُسے لیکچرکی صورت میں جو گھول کر پلادیا جائے اُسے وہ ’’متبرک‘‘ سمجھ کر قبول کرلیتا ہے۔سہل پسندی اور اندھی تقلید کسی بھی معاشرہ کے لیے زہر قاتل ہے۔معاشرے کے افکار و رجحانات،خیالات و نظریات، رسوم ورواج، طرزِ معاشرت سمیت وہ تمام اہم بنیادیں جو کسی معاشرہ کے مستقبل کا رخ تعین کرتی ہیں وہ علم کی بنیاد پر پروان چڑھنے والی نوجوان نسل کی مرہون منت ہی ہوتی ہیں ملک کے مستقبل کا دارومدارنوجوانوں کے جذبہ،فکر اور تحرک پر منحصر ہے علامہ اقبال اور قائداعظم نوجوانوں کے اس کردار سے بخوبی آگاہ تھے اقبال نے شاہین کے استعارہ میں ہمیں یہ بتایا کہ وہ نوجوانوں میں بلند پروازی، دور اندیشی اور خودداری جیسی صفات اور خصوصیات دیکھنا چاہتے تھے وہ کہتے تھے۔
پرندوں کی دنیا کا درویش ہوں میں
کہ شاہیں بناتا نہیں آشیانہ
اقبال کا نوجوانوں سے شکوہ بھی تھا جو بدقسمتی سے آج بھی ویسے ہی موجود ہے ۔
وہ آباء تمہارے ہی مگر تم کیا ہو
ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہو
قائد اعظم کی بھی نوجوانوں سے امیدیں وابستہ تھیں اور 1937 کے کلکتہ کے اجلاس میں قائد اعظم نے نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا’’نئی نسل کے نوجوانوں آپ میں سے اکثر ترقی کی منازل طے کرکے اقبال اور جناح بنیں گے۔مجھے پورا یقین ہے کہ قوم کا مستقبل آپ لوگوں کے ہاتھوں میں مضبوط رہے گا۔‘‘
لیکن سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ آج کا نوجوان نہ اقبال کا ’’شاہین ‘‘اور نہ ہی قائد اعظم کی خواہش پر پوراترنے کی جدوجہد سے دور کسی اور دوڑ میں لگا ہوا ہے۔اس کی خواہش اورترجیحات کچھ اور ہیں جو قوموں کو کمزور کرتی ہیں۔جس معاشرے کے نوجوانوں کو زنگ لگ جائے یا وہ جمود کا شکار ہوجائے تو معاشرہ زنگ آلود ہوجاتا ہے اور ہمارا معاشرہ جمود کا شکار ہورہا ہے اُسے گھن لگ رہا ہے۔آج کا نوجوان سہل پسندی اور سوال نہ کرنے کے کلچر میں مبتلا ہے وہ خواب بڑے دیکھتا ہے خواہشات بڑی رکھتا ہے لیکن علم،طاقت اور صلاحیت کے حصول میں جس مشقت محنت اور لگن کی ضرورت ہوتی وہ اس سے دور ہے۔
ایک نوجوان نے سقراط سے پوچھا کہ کامیابی کا راز کیا ہے۔سقراط نے کہا اچھا واقعی تم کچھ سیکھنا چاہتے ہو اوراس نے نوجوان سے کہا کہ میرے ساتھ دریا میںکچھ دور چلو، جب دونوں کندھے تک گہرے پانی میں پہنچ گئے توسقراط نے اچانک نوجوان کو سر سے پکڑا اور اسے پوری طاقت لگا کر ڈبونے کی کوشش کی۔ نوجوان کیونکہ اس بات کے لیے تیار نہ تھا اس لیے زیادہ مزاحمت نہ کر پایا اور قریب تھا کہ نوجوان کا سانس رک جاتا، سقراط نے اس نوجوان کو چھوڑ دیا اور وہ نوجوان پانی سے سر نکال کر گہرے سانس لینے لگا۔ سقراط نے نوجوان سے پوچھا ‘‘جب تم سر سمیت پورے کے پورے پانی کے اندر تھے اور باہر نکلنے پر اپنے آپ کو بے بس محسوس کر رہے تھے تو وہ کون سی اہم ترین بات تھی جو تمہارے ذہن، دماغ اور دل میں آرہی تھی۔ اس نوجوان نے جواب میں کہا ‘‘ہوا اور سانس ‘‘یہ وہ چیزیں تھیں جو میرے لیے قیمتی ترین تھیں جن سے میری جان بچنے کی امید تھی۔سقراط نے کہا ‘‘میاں یہ ہے کامیابی کا راز کہ جب تمہیں کامیابی کی اتنی شدید ضرورت ہو جتنی تمہیں زندگی بچانے کے لیے ہوا کی ضرورت تھی اور وہ کامیابی تمہیں مل جائے تو پھر تمہیں اس کی قدر کرنی چاہیے ۔اور جس طرح تم زندگی بچانے کے لیے ہوا کی اہمیت اب سمجھ گئے ہو اس طرح اچھی زندگی گزارنے کے لیے اگر کامیابی کی اتنی ہی شدت سے کوشش کرو جتنی جان بچانے کے لیے ہوا کھینچنے کے لیے کر رہے تھے تو یاد رکھنا کہ وہ کامیابی تمہارے لئے بڑی قیمتی ہونی چاہیے ۔دنیا میں اس سے بڑا کامیابی کا راز کوئی اور نہیں ہے‘‘سقراط نوجوانوں کے لیے ایک سیکھنے کا عنوان ہے۔سقراط کا باپ سنگ تراش اور ماں دایہ تھی۔ سقراط نے دنیا کو ایک نئے انداز مبحث سے متعارف کروایا۔ وہ اپنی بحث سے نتائج تک پہنچتا اور حقیقت ثابت کرتا تھا ۔وہ پے در پے سوال کرتا اور پھر دوسروں پر ان کے دلائل کے تضادات عیاںکرتا اور یوں مسائل کی تہہ تک پہنچ کر منطقی ومدلل جواب سامنے لاتا تھا ،سچائی کیا ہے ؟،عدل کیا ہے؟،انصاف کیا ہے؟ ان کے جواب حاصل کرتا تھا ۔ دنیا کے تما م بڑے لوگوں نے سوال اٹھایا ہے وہ کسی نے کیا خوب لکھا ہے کہ ایک سوال کہ جواب میں ایک اچھا جواب انسان کی زندگی یکسر تبدیل کرسکتا ہے ایک اچھا جواب ایک اچھا خیال اور ایک اچھی فکر بن سکتا ہے جو کسی بھی نوجوان کی زندگی کے راستے کے تعین میںکلیدی کردار ادا کرسکتا ہے اُ س کے سوچنے،سمجھنے اور برتنے کے زاویے کو تبدیل کرسکتا ہے ۔شاگردکا ایک سوال اوراستاد کا ایک اچھا جواب مثبت تبدیلی کا باعث بن سکتا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ آج کے نوجوان کا ہدف کیا ہے وہ اپنی زندگی کے بارے میں کیا سوچتا ہے وہ اپنے انسان ہونے کے حوالے اپنی کیا ذمہ داری محسوس کرتا ہے ،وہ مسلمان ہونے کے ناتے اپنے کیا فرائض جانتا ہے اس کے سامنے کیا کوئی چیلنج بھی موجود ہے۔؟کیا اُس کی زندگی کا مقصد صرف ٹی وی ،ویڈیو،سوشل میڈیا،کھانا،پینا،سونا اور موج مستی ہی ہے۔؟کیاہمارے نوجوان کا یہ کام نہیں کہ معلوم کریںکہ وہ کیا ہے اُس کا مقام کیا ہے۔؟یا یہ کہ وہ صرف مٹی کا مادھو ہے۔جس کی حیثیت کچھ نہیں ہے؟
بات یہ ہے کہ علم ’’ہماری‘‘ میراث تھی ہمارے اسلاف نے علم کی قدر وقیمت کو پہچانا اوردنیا پر حکمرانی کے ساتھ علم کے تمام میدانوں میںاپنا لوہا منوایا تھا،تعلیمی ادارے،جامعات،لائبریریاں ہماری شناخت تھیں۔ہم صدیوں تک دنیا کے امام اور استاد تھے ۔اورآج ہم جس مغرب کی تقلید کرتے ہیںکبھی وہ ہماری تقلید کرتا تھا۔ آج کا جو مغرب اور اس کا تہذیب وتمدن ہمارے سامنے موجود ہے وہ اُس نے مسلمانوں کے شاندار علمی ذخیرہ کی بنیاد پر ہی حاصل کیا ہے۔
یہ عصر حاضر کی ایک تلخ حقیقت اورعظیم المیہ ہے کہ مسلمانوں کا جس قدر علمی عروج تھااسی قدر وہ آج انحطاط ،تنزلی اور پستی کا شکار ہیں۔اورعلمی فقدان کی وجہ سے ہم سیاست،معیشت معاشرت اور ثقافت میںمحتاج ہیں۔یہ ایک افسوسناک حقیقت ہے جس کا بدقسمتی سے ہمیں سامنا کرنا پڑ رہاہے۔مسلمان جس کی تخلیق دنیا کی راہنمائی کے لئے کی گئی تھی آج خود نشانِ منزل کی تلاش میں ہے۔لیکن اہم بات یہ ہے کہ اس افسوسناک حقیقت،ذلت ومسکنت اور اپنے عبرتناک صورت حال کا ہمیں شاید شعوربھی نہیں ہے،گویا احساس زیاں ہی جاتا رہا۔سوال یہ ہے کہ مسلمانوں کی عظمت رفتہ کی بازیافت کا جو خواب اقبال نے دیکھا تھا اس کو ہمارا نوجوان کتنا سمجھتا اور جانتا ہے؟اور یہاںیہ اہم سوال بھی موجود ہے کہ آج کا نوجوان اپنی حیثیت اور مقصد کس طرح پہچانے جس کا ایک سادہ اورآسان سا جواب تو یہ ہے کہ وہ علم حاصل کرے،علمی اورتعلیمی مجلسوں میں بیٹھے،جاننے والوں سے،علم والوں اور اپنے استاد سے سوال کرے،اور ساتھ ہی اس بات کا بھی خیال رکھے کہ علم کی جستجو میںکچھ قیمت ادا کرنی پڑتی ہے کچھ قربانی دینا پڑتی ہے۔امام شافعی فرماتے ہیں کہ ’’جو علم سیکھنے کے لیے تھوڑی دیر تک مشقت براداشت نہیںکرتا وہ زندگی بھر جہالت کی ذلت برداشت کرنے پر مجبور ہوتا ہے‘‘ایک آدمی نے ارسطو سے کہا علم کی مشقت برداشت کرنے کی مجھ میں تاب وطاقت نہیں‘‘ ارسطو نے اسے جواب دیا:’’پھر ساری زندگی ذلت برداشت کرتے رہو۔‘‘آج ہمارے نوجوان کا بڑا دشمن جہاں سہل پسندی اور نہ جاننے کی عدم جستجو کی وجہ سے اس کے اندر جنم لے رہا ہے وہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ ہمارے معاشرہ کا کلچر بھی علم دوست نہیں رہا ،ہمارا گھر ،ہمار محلہ کتاب اور علم کے کلچر سے دور ہے۔آج ہمارے معاشرے کو اقبال کے شاہین کی ضرورت ہے احمد جاوید کہتے ہیں بڑا آدمی تو وہ ہے جو دنیا میں رہے لیکن دنیا سے بلند ہو کررہے ،اقبال کا شاہین بن کر رہے ،کیونکہ وہ لالچی نہیں ہوتا ،خود غرض نہیں ہوتا،دوسروں کے لیے مضر نہیں ہوتا،کاہل نہیں ہوتا،ہر وقت متحرک رہتا ہے اس کی فکر میں ایک بلندی پائی جاتی ہے جو چھوٹی چیزوں کی طرف مائل نہیں ہونے دیتی‘‘ ۔ہمیں ایسے ہی بڑے آدمی اور نوجوانوں سے بھرے سماج کی ضرورت ہے ۔آج کے چلیجنز کے پس منظر میںنوجوانوں کی اہمیت پر احمد جاوید نے درست فرمایا ہے کہ ’’ ملک کی نظریاتی، تہذیبی، معاشی، تاریخی بقا اسی وقت ہی ممکن ہے جب اس ملک کے نوجوان ہمارے تصورات کو ایکچو لائز Actualize کریں کیونکہ نوجوان ہی ایکچوئیلازر ہوتے ہیں۔ اب انسان اپنی انسانیت کے ساتھ گلوبلائز نہیں ہو رہا بلکہ اپنی ڈی ہیومنائزیشن کے ساتھ گلوبلائز ہو رہا ہے۔ یعنی انسان اپنے تمام بنیادی تصورات سے دستبرداری اختیار کرنے پر مجبور کر دیا گیا ہے اور ہمارا نوجوان اس کے خلاف اگر اپنی تہذیبی، اخلاقی اور علمی قوت کے ساتھ نہ کھڑ اہوا تو یہ لہر ہمیں بہا کر لے جائے گی۔ اس مرحلے پر سب سے پہلا سوال ہماری بقا کا ہے اور اس حوالے سے ہمیں تین چیزوں میں بہت سنجیدہ ہوجانا چاہیے۔ ایک یہ کہ ہمیں علم اور ذہن میں دوسرے نظام چلانے والے اذہان سے کمتر نہیں ہونا چاہیے ہمیں اخلاقی معیار پر ان سے برتر ہونا چاہے اور ہمارے اندر صلاحیت کار کا دنیا میں جو معیار ہے اس سے پیچھے نہیں ہونا چاہے یہ تین چیزیں ہیں علم و ذہانت، اخلا ق اور اہلیت کار۔ ان تین مقاصد کی طرف اگر ہمارے نوجوان سنجیدگی کے ساتھ متوجہ ہو جائیں تو ہمارا مستبقل تابناک ہو سکتا ہے۔لیکن ہمیں اپنے نوجوانوں کی قوت، صلاحیت، حوصلے ، امنگوں، جفا کشی، بلند پروازی اوربلند عزائم سے استفادہ کرنا ہے تو اس سلسلے میں ماں باپ،استاد ، علما اور دانشوروں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اسی صورت میں نوجوان طبقہ مستقبل میںملک و قوم اور سماج کی تعمیر اور اصلاح کے لیے موئثر کردار ادا کرنے کے ساتھ قوموں اور تحریکوں کے لیے امید کی کرن اور مستقبل کی تعمیر کا ضامن ثابت ہوسکتا ہے۔

حصہ