ٹھنڈی ہوا کا جھونکا

198

حسان کی فیس کے سلسلے میں اسکول سے واپسی پر گرمی سے ایسا لگ رہا تھا کہ ہر چیز جھلس جائے گی۔ دُور کا تو کچھ نظر ہی نہیں آرہا تھا، بالکل ایسا ہی منظر لگ رہا تھا جیسا اکثر ٹی وی پہ صحرا کا منظر دکھاتے ہیں کہ ہر جگہ صرف تپتی زمین، جہاں نہ کوئی سایہ نہ کوئی درخت۔
میں رکشے کے انتظار میں سائے کی تلاش میں تھی کہ اپنے عقب سے بہت نحیف آواز سنائی دی… ’’فالسے والا، فالسے لے لو…‘‘
میں نے بے اختیار مڑ کے دیکھا تو ایک بابا جی کندھے پہ ٹوکری اٹھائے ملتجی نظروں سے مجھے دیکھ رہے تھے۔ بابا جی کو دیکھ کر مجھے بہت دکھ ہوا کہ یہ ان کی آرام کرنے کی عمر ہے نہ کہ اس جھلساتی گرمی میں روڈ پہ پھرنے کی۔ میں نے بابا جی کی ٹوکری میں دیکھا تو تھوڑے سے فالسے تھے۔ پتا نہیں کس مشکل میں تھے کہ بس تھوڑے ہی فالسے بیچنے نکل آئے۔
میں نے باباجی سے سارے فالسوں کی قیمت پوچھی اور سب خرید لیے، اور انہیں تھوڑے پیسے زیادہ ہی دے دیے۔ باباجی نے پیسے گنے اور مجھے واپس کرنے لگے۔ وہ یہ سمجھے کہ غلطی سے زیادہ آگئے ہیں۔ مگر میں نے زبردستی انہیں وہ پیسے لینے پر مجبور کردیا۔ باباجی مجھے دعائیں دیتی نظروں سے دیکھتے ہوئے چلے گئے۔ اچانک ہی ایک ٹھنڈی ہوا کا جھونکا مجھے محسوس ہوا اور اتنے میں رکشا بھی آگیا۔
رکشے میں بیٹھ کر میں سوچ رہی تھی کہ گرمی کی لہر ہر ذی روح کے لیے برداشت کرنا دقت طلب ہے، یہ دنیا کی گرمی جو بہت سی تہوں سے گزر کر ہم تک پہنچتی ہے برداشت نہیں کی جا رہی، اور جب روزِ محشر سورج کی گرمی براہِ راست برس رہی ہوگی، کہیں سایہ اور پانی نہ ملے گا تو کیا حال ہوگا؟ تو کیا ہم نے اس کا انتظام کرلیا؟ روزِ محشر جب سورج سوا نیزے سے بھی نیچے ہوگا اور گناہ گاروں کے دماغ پگھل کر بہہ رہے ہوں گے، اُس وقت حوضِ کوثر سے پانی پینے والے لوگ کتنی بڑی نعمت سے سرفراز ہورہے ہوں گے، اُس وقت پانی کا ایک گھونٹ کتنا قیمتی ہوگا۔ کیا اُس وقت کی پیاس بجھانے کی تیاری کرلی؟
ابھی رمضان گزرا ہے۔ پچھلے سال کی نسبت اچھا گزر گیا۔ رمضان میں ہم اپنا کتنا خیال رکھتے ہیں کہ زیادہ کوئی ایسا کام نہ کریں جس سے روزہ لگے۔ اگر ایسا ہو بھی جائے تو بھوک کو تو کنٹرول کرلیتے ہیں، اپنے آپ کو سمجھا لیتے ہیں کہ بس کچھ ہی دیر میں کھانا مل جائے گا… لیکن اگر پیاس لگے تو کنٹرول کرنا بہت زیادہ مشکل ہوجاتا ہے۔ یہ تھوڑی دیر کی پیاس کتنا پریشان کردیتی ہے! اگر ہم یہ پیاس برداشت نہیں کرسکتے تو اُس دن کیا ہوگا جب کسی کا کوئی پرسانِ حال نہ ہوگا۔
یہ تیاری صرف روزہ رکھ لینے سے نہیں ہوگی، اس کے لیے نہ صرف خود کو بدلنا ہوگا بلکہ آنے والی نسلوں کی تربیت بھی کرنی ہوگی۔ اگر اپنی اولاد کو صرف دین کے بنیادی اصول سکھانے کے بعد ان پر عمل کرنا بھی سکھا دیا تو یقین جانیں آپ کی نسلیں سدھر جائیں گی۔
گزشتہ دور کی نسبت آج کی مائیں زیادہ پڑھی لکھی ہیں لیکن دین سے دور ہیں۔ آج کا بچہ اگر اپنے سے بڑے کو جواب دے کر آتا ہے تو ماں فخر سے کہتی ہے: اچھا کیا جو منہ بند کروا دیا۔ پچھلے دور کی کم پڑھی لکھی مائیں اپنی اولاد کو دین ضرور سکھاتی تھیں۔ دین محض چند عبادات کا نام نہیں بلکہ زندگی کے ہر معاملے میں یہ جاننا ہوگا کہ اللہ اور اس کے رسولؐ کی ہدایات کیا ہیں۔ اگر ہم اپنی اولاد کو صرف درگزر، بڑوں کی عزت کرنے، لوگوں کے کام آنے، گالی سے پرہیز کرنے، نیکی میں پہل کرنے، سلام میں پہل کرنے، اٹھنے، بیٹھنے، چلنے کے آداب، کھانا کھانے کے آداب، بات کرنے کے آداب سکھادیں اور نماز اور تلاوتِ قرآن کی عادت ہی ڈال دیں تو یقین جانیں کہ ہماری نسلیں سدھر جائیں گی اور ہم حوضِ کوثر کے پانی کے مستحق ہوجائیں گے، کیوں کہ ہمارا اصل کام اپنی نسل کی تربیت ہے، اور اس فرض کی ادائیگی ہمارے لیے فرحت بخش احساس کی ضامن ہوگی زندگی میں بھی اور زندگی کے بعد بھی۔

حصہ