ہماری امی جی

91

  ان کا مسکراتا زندگی سے بھرپور چہرہ ہمیں ہمیشہ ان کی یاد دلاتا رہے گا،وہ ہمیں سکھا گئیں کہ دکھوں، پریشانیوں،اور تکلیفوں کے باوجود مسکرایا کیسے جاتا ہے، والہانہ محبت سے بھرپور ملاقات کا انداز اپنے اور پرائے سب کے دل میں گھر کر لینا، ملنے والے کو یہ احساس ہی نہ ہونے دیتیں کہ یہ پہلی ملاقات ہے،یہاں تک کہ اگر کسی سے صرف فون کی حد تک کا تعلق اور رابطہ تھا وہ بھی ان کی محبت اور خلوص کی داد دیئے بغیر نہ رہ سکا،کہیں کسی ہسپتال میں یا دوران سفر کسی سے ملاقات ہو جاتی تو اس ملاقات کا اختتام رابطہ نمبر کے تبادلے سے ہوتا اور پھر اس رابطے کو قائم بھی رکھتی میں اکثر ان سے کہتی “آنٹی آپ اتنے سارے لوگوں سے تعلق کیسے نباہ لیتی ہیں کہ مصروفیت کے اس دور میں انسان قریبی تعلق ہی بمشکل نباہ پاتا ہے انکا جواب ہمیشہ ایک خوبصورت مسکراہٹ میں ملتا،میں جہاں بھی رہی میری دوستیوں اور تعلقات کو انہوں نے مجھ سے بڑھ کے نبھایا،میں اکثر کہتی میری دوستوں سے ان کی مجھ سے بڑھ کہ دوستی ہے،وہ ان سب کی آنٹی تھیں۔۔۔۔یہاں تک کہ بچیوں کی جو سہیلیاں گھر پہ آتیں ان سے اس قدر محبت کہ وہ میرے بچوں کی طرح ان سب کی بھی “امی جی” تھیں،اور ان کی جدائی کا غم ان سب نے بھی ایسے ہی محسوس کیا جیسا کہ ہم سب نے کیااللہ رب العزت کی کریم ذات سے امید ہے کہ وہ جنتوں میں ایسے ہی خوبصورت اور نیک لوگوں کی صحبتوں اور محفلوں سے ان کی دلجوئی فرمائے۔۔۔
ان سے تعلق اور رشتہ تو ساس اور بہو کا تھا لیکن ان کو کبھی بھی اس تعلق سے پکارا جانا پسند نہیں تھا ان سے جب بھی کسی نے ہمارے تعلق اور رشتے کے بارے میں سوال کیا تو ان کا جواب پورے اعتماد کے ساتھ یہی ہوتا کہ یہ میری بیٹیاں ہیں اور انہوں نے اس کا اظہار صرف زبان سے نہیں بلکہ اپنے رویے اور عمل سے بھی کیا وہ سب گلے شکوے جو ایک لڑکی صرف اپنی ماں بہن یا سہیلیوں سے کرتی وہ ہم ان سے باآسانی کرلیتے وہ بڑے انہماک سے سنتیں ہماری دل جوئ کے لیے دو چار کوسنے بیٹوں کوکہتیں اور اکثر جو الفاظ ان کی زبان سے ادا ہوتے وہ یہ ہوتے”میں کیا کروں ان کی عادتوں کا”پوتوں پوتیوں میں جان اٹکی رہتی ان کو دیکھ دیکھ کے جیتیں،بچیاں تھوڑی بڑی ہوئیں تو ہر وقت یہ فکر لاحق ہوتی ہم کیسے رخصت کریں گے ان کو،ان کے لیے شاید یہ ایک مشکل مرحلہ تھا اس لیے اللہ نے ان کو بیٹیاں رخصت کرنے کی آزمائش میں ڈالا ہی نہیں،جب سے میرے گھر پہ درس و تدریس کا سلسلہ شروع ہوا تو بہت خوش اور مطمئن رہتیں اکثر دعائیں دیتیں ان کے سامنے کبھی کہیں کوئی درس  یا کلاس کر لی تو اس قدر خوشی کا اظہار کرتیں سب کہ سامنے ماتھا چوم کر پیار کرتیں اور علم و عمل میں برکت کی ڈھیروں دعائیں دیتیں کبھی کبھی تواس قدر خوشی اور محبت کا اظہار ہوتا کہ میں شرمندہ ہو جاتی،اللہ رحمان و رحیم کی ذات سے امید ہے کہ وہ محفلیں جو ان کو دنیا میں پسند تھیں اللہ رب العزت وہی ذکر وفکر کی محفلیں ان کو وہاں بھی عطا کرے اور ہم سب کو ان کے لیے بہترین صدقہ جاریہ بنائے۔۔۔
بچوں کی دوری ان کو بہت کھلتی میرے پاس ہوتیں تو گھر پہ موجود بچوں کے لیے بےچین اور اگر گھر پہ ہوتیں تو ہمارے لیے بےچین، مجھ سے اکثر کہتی،”کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ سب ایک جگہ اکٹھے رہیں”؟؟اللہ رب العزت نے جوان بچی کی جدائی کا غم دیا، جو ایسی عمر میں ایک ٹریفک حادثے کا شکار ہو کے  ان سے جدا ہوئیں جب مائیں اپنی بیٹیوں کی رخصتی کی تیاریوں میں مصروف ہوتی ہیں،ان سے منسوب چھوٹی چھوٹی چیزوں کو ہمیشہ سنبھال کے رکھا،بچیوں سے اکثر انکا ذکر کرتیں تاکہ اس رشتے سے انکا تعلق قائم رہے،اللہ کی کریم و حلیم ذات سے دعا ہے کہ وہ جنتوں کا ساتھ نصیب کرے وہاں کے ساتھ سے دل اور آنکھیں ٹھنڈی کرے۔۔۔
بیماری کی حالت میں ان کے صبر و برداشت نے ہمیں فرطِ حیرت میں مبتلا کر دیا چلتے پھرتے اٹھتے بیٹھتے شکر الحمد للہ کے الفاظ ان کی زبان پر جاری رہے ہسپتال کے ایام میں بے انتہا تکلیف کے باوجود ایک خاموش وجود ہماری آنکھوں کے سامنے رہا،ایسا مقام جہاں ہر طرف سے آہ و بقا سنائ دیتی، وہاں نہ آہ تھی نہ کراہ، اللہ رب العزت کی غفور و رحیم ذات سے دعا ہے کہ ان کے ہر درد اور ہرتکلیف کے بدلے ان کے گناہ جھڑے ہوں درجات بلند ہوئے ہوں نامہ اعمال میں نیکیوں کا اضافہ ہوا ہو ۔۔۔ ان کی ایک عادت جو مجھے شادی کے شروع کے دنوں میں بہت بھائی اور اس کا ذکر میں نے ان کے ہسپتال کے ایام میں ان سے کیا،صبح سویرے فجر کی نماز کے بعد وہ گھر کے کاموں میں مصروف ہو جاتیں میرے کمرے میں ان کے قدموں کی آواز کے ساتھ ان کی یسین اور مزمل کی تلاوت کی آواز سماعتوں سے ٹکراتی تو بہت اچھا لگتا اور ہمیشہ اس بات کی حسرت کرتی کہ کاش میں بھی ایسے چلتے پھرتے تلاوت کروں اور میرے بچے سنیں اللہ رب العزت کی سمیع وبصیر ذات سے التجا ہے کہ یہ سورتیں یہ تلاوت قبر میں ان کی مونس و ساتھی بنیں۔۔۔
ہمیشہ ان کو نمازوں کا پابند پایا،یہ انکا پہلا رمضان تھا جس کے دس روزے بیماری کے باعث نہ رکھ پائیں جسکا ان کو بہت دکھ تھا،اور انکا فدیہ ہسپتال جانے سے پہلے ادا کر کے گئیں اپنی زکوة کی ادائیگی بھی اپنی روانگی سے پہلے کر گئیں اور ہمیں بھی یہ نصیحت تحریری صورت میں کر کے گئیں کہ زکوة بہت ضروری ہے،اللہ رب لعزت ان کی تمام عبادات کو اپنی بارگاہ میں قبول و مقبول فرمائے کمی کوتاہی سے درگزر فرمائے،اپنی شان کے مطابق ان کی میزبانی کرے جنت کے رزق و مشروبات سے ان کو سیر و سیراب کرے۔۔۔
اولاد کی صورت میں بہترین صدقہ جاریہ اپنے پیچھے چھوڑ کے گئیں،4 حافظ قرآن بیٹے مختلف مقامات پر تراویح پڑھاتے ہوئے ان کے لیے نیکیاں سمیٹ رہے ہیں گھر کے مختلف کونوں سے جب تلاوت کی آواز آتی تو ایسا رشک آتا ہے کہ کیسی خوش نصیبی ہے والدین کی،ان کی بیماری کے ایام جو بیٹا بھی ملاقات کے لیے ہسپتال آتا انکا ہاتھ تھام کہ تلاوت قرآن کرتا،وصال کے وقت بھی بیٹے کی گود میں سر تھا اور کانوں میں ان کی تلاوت کی آواز گونج رہی تھی،اس سے بڑھ کر کسی ماں کی خوش نصیبی اور کیا ہوگی کہ بیٹوں نے ان کی خواہش کے مطابق خود ان کی نماز جنازہ پڑھائی اللہ کریم سے التجا ہے کہ ہماری اولاد کو ہمارے لیے صدقہ جاریہ بنائے اور ہم سب کو ہمارے بچوں کو ان کے لیے بہترین صدقہ جاریہ بنائے۔۔۔تربیت اولاد کی طرح شوہر کی اطاعت اور اس کے مال کی حفاظت میں بھی ہم نے ان کو ہمہ تن مصروف پایا،ترتیب اور سلیقہ ان کے ہر کام میں نظر آتا ہمیشہ اپنے ہاتھ سے کام کرنے کو ترجیح دیتیں،اپنے ذاتی کام کے لیےکبھی کسی کو مشقت میں نہیں ڈالا،اپنی بیماری کے ایام میں بھی اپنی تکلیف سے بڑھ کے یہ فکر ان کو ستاتی رہی کہ میری وجہ سب مشقت میں پڑ رہے رہیں جبکہ خدا گواہ ہے انہوں نے ہمیں مشقت میں ڈالا ہی نہیں۔۔۔ہمیشہ طہارت کا بے انتہا اہتمام کیا،ماشاءالله آٹھ بچوں کی نگرانی و دیکھ بھال کے باوجود گھر کی ترتیب و تنظیم نے دیکھنے والے کو ہمیشہ متاثر کیا اللہ رب العزت کی بہت عطا کرنے والی ذات سے دعا ہے کہ ان کو یہاں کے گھر سے بہتر گھر سے بہتر زوج عطا کرے۔۔۔
جنازے میں اور دعا کے لیے آنے والے ہر فرد ہر خاتون نے ان کے اخلاق، خلوص و محبت کی تعریف کی،جنازے میں سات افراد کی گواہی پہ جنت کا وعدہ اور یہاں اتنی ڈھیروں گواہیاں اللہ نے سب قبول کر لی ہوں اور جنت میں اعلی مقام ان کے منتظر ہوں۔۔۔وہ ہم سب کو بہت غمزدہ اور تنہا کر گئیں ان کے جانے کہ بعد ایسا محسوس ہوا جیسے سر سے کوئی چھت کوئی چادر چھن گئی موسموں کے گرم سرد سے بچانے کے لیے کوئی اوٹ کوئی پناہ گاہ  باقی نہیں رہی،عجیب خالی پن،اور دعاؤں والے ہاتھ سے محرومی کا احساس ہر پل ستا رہا ہے اللہ ہمیں اس مصیبت پر بہترین صبر و سکون عطاکرے اور اور اسکا بہترین نعم البدل عطا کرے۔۔۔رمضان کا بابرکت مہینہ جمعہ کا خوبصورت دن نماز جمعہ کی قیمتی گھڑیاں جب ہماری پیاری امی جی ہم سے جدا ہوئیں  اللہ رب العزت کی ذات سے یہ خوبصورت گمان ہے کہ وہ اپنے انجام سے خوش اور میرا رب رحیم ان سے راضی۔۔۔بے شک ایسے ہی ہوتے ہوں گے وہ نفس مطمئن جن کا وعدہ سوره الفجر میں کیا گیا۔۔۔

حصہ