انتظار حسین کا انٹریو

136

’’مجھ جیسا افسانہ نگار اکیلا ہے اور اکیلے ہی لڑ رہا ہے!‘‘
ماضی کیا ہے؟ آدمی کا ماضی سے سمبندھ کیسے ہوتا ہے؟ وہ ماضی میں یا ماضی اس کے اندر ہوتا ہے؟ یہ سب باتیں انتظار حسین کے حوالے سے ایک خاص معنویت رکھتی ہیں۔ کیوں کہ ان کے افسانوں کے سب سوتے ماضی ہی سے پھوٹتے ہیں۔ وہ پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں، غور سے، حزن اور اداسی سے دیکھتے ہیں، دیکھتے ہی رہتے ہیں تب کہیں کوئی افسانہ، کوئی کہانی، ایک کونپل کی طرح ان کے اندر پھوٹ پڑتی ہے۔ وہ پیچھے مڑ کر دیکھتے ہی نہیں، اُلٹے قدموں چلتے چلتے پیچھے کہیں اپنے قصبے میں کبھی عہد قدیم میں کبھی کربلا کی مقتل گاہ اور کبھی اس بستی میں جہاں آخری آدمی بندر کی جون میں خود کو ڈھلنے سے بچانے کی اذیت میں مبتلا ہوتا ہے۔ یا جون ماجوج کی زمین پر پہاڑوں سے اُتر کر پھیل جانے سے جو اتھل پتھل کا سماں سراسیمگی کا اگر دیکھا کسی نے اور لکھا افسانہ کسی نے تو اور کون لکھ سکتا تھا انتظار حسین کے سوا۔
انسان اپنے اندر اور باہر ماضی ہی کو پاتا ہے، اس کا حال بھی اور اپنا احوال بھی سب ماضی کی ڈور سے بندھے ہوتے ہیں۔ یہ راز کہ آگے کا مستقبل کا راستہ ماضی ہی کی روشنی میں طے ہوتا اور ہوسکتا ہے، یہ جس طرح انتظار حسین کے افسانوں میں کھلا، نہ کھل سکا اردو کے کسی اور افسانہ نگار پر۔ ان کے افسانوں کے کردار اگر اسطوری، علامتی ہیں بھی تو مبہم اور گنجلک، ناقابل تفہیم نہیں، بہت جانے پہچانے، اتنے شناسا کہ پڑھنے والا خود کو اور اپنے عہد کو باآسانی ان سے Identify کرلیتا ہے۔ وہ سب کچھ اجتماعی لاشعور میں ہے جسے انتظار حسین نے کہانیوں اور کرداروں کے ذریعے دریافت کیا ہے۔ نہیں یاد دلایا ہے۔
یاد، انتظار حسین کے افسانوں کو، ان کی تخلیقی شخصیت کو اسی ایک لفظ سے پہچانا جاسکتا ہے۔ تخیل جو کچھ دیکھ لیتا اور دکھا دیتا ہے، اس کا بہت گہرا معاملہ اسی یاد سے ہے۔ عام مفہوم میں یاد ماضی کے تجربے کو جو یادداشت میں محفوظ رہ جائے ایک ادیب، افسانہ نگار باطنی طور پر اس یاد سے بھی جڑا ہوتا ہے جو اجتماعی حافظے میں موجود وہ تجربہ ہے جس کا ایک سرا تاریخ اور دوسرا تخیل میں ہوتا ہے۔ تاریخ اور تخیل کی آمیزش ہی سے وہ افسانہ تخلیق ہوتا ہے جسے انتظار حسین کی کتابوں میں پڑھا جاسکتا ہے۔ ایسے افسانے لکھنے لکھانے کے لیے ایک خاص اسلوب کا تقاضا کرتے ہیں۔ اسلوب جسے شخصیت کہا گیا ہے، وہبی اور اکتسابی صلاحیت کے تال میل سے نمو پاتا ہے۔ زبان و بیان پر گرفت کر لیے لکھنے والے کی کوتاہی، کمی، کاہلی ناقابل معافی ہوتی ہے مگر اسلوب ایک خاص رنگ و آہنگ کا جس کا مقدر ہو اس سے ایسی خطا ہوتی نہیں۔
انتظار حسین اپنی تحریروں میں خواہ افسانہ، ناول، مضمون یا کالم، بہت الگ سے ہیں۔ ہر اچھا اور بڑا ادیب الگ سا، منفرد ہی ہوتا ہے۔ مگر انتظار حسین میں کوئی بات ایسی بھی تھی جو ان کے معاصرین میں سے کسی میں نہ تھی۔ شاید وہ بات یہی تھی کہ ماضی ان کے وجود میں، ان کی نس نس میں، ان کے خون میں رلاملا ہوا تھا، ذاتی نہیں، اجتماعی ماضی۔ ایسا نہ ہوتا تو ’’آخری آدمی‘‘، ’’شہر افسوس‘‘، ’’زرد کُتّا‘‘ جیسی بے مثال کہانیاں وہ کیسے لکھ سکتے تھے۔
یہ اسّی کی دہانی کا کوئی سال تھا، انتظار حسین کراچی آئے ہوئے تھے۔ اپنی ہمشیرہ کے گھر ٹھہرے تھے۔ مجھے پتا چلا تو ان سے انٹرویو کے لیے فون پر وقت لے کر حاضر ہوا، دورانِ انٹرویو میں مشتاق تھا اور وہ بیزار۔ اس کی تفصیل ان پر اپنے خاکے میں لکھ چکا ہوں۔ اعادہ کی ضرورت نہیں۔ ان کا تب بھی گرویدہ تھا، اب بھی مداح ہوں۔ ان کی موت سے ایسا شبہ ہوتا ہے، اردو ادب کی بساط لپیٹ دی گئی۔ خدا کرے ایسا نہ ہو۔ اس لیے کہ ادب انسانی نفس اور انسان کے باطن کا جیسا پتا دیتا ہے کوئی اور علم نہیں دیتا۔ تطہیر جذبات کا جیسا ذریعہ ادب ہے، اس کا نعم البدل صحافت ہے نہ نیا میڈیا۔ انتظار حسین کو جاننا ضروری نہیں لیکن انہیں پڑھنا ضروری ہے، اسی میں آگہی ہے اور وہ مسرت جس کا کسی اور طریقے سے پانا اور حاصل کرنا ممکن نہیں۔
انتظار حسین جنہیں ماضی پرست بھی کہا گیا، ہندوستان کے ضلع بلند شہر (یوپی) کے گائوں ڈبائی میں 21 دسمبر 1952ء کو پیدا ہوئے۔ والد منظر علی مختلف قسم کے کاروبار کرتے تھے۔ مزاجاً بہ قول انتظار حسین ’’کچھ واعظ اور مبلغ قسم کے آدمی تھے‘‘۔ اس کا ردّعمل بیٹے پر یہ ہوا کہ والد کے طرزِ فکر سے بدک کر واعظوں، مبلغوں اور مصلحوں سے طبیعت میں بیزاری پیدا ہوگئی۔ انتظار حسین کی رسمی تعلیم ان کے گائوں میں ہوئی۔ مزید تعلیم کے لیے میرٹھ کالج میں داخلہ لیا اور وہاں سے اردو میں ایم اے کیا۔ کالج ہی میں پروفیسر کرار حسین اور محمد حسن عسکری کی ادبی رہنمائی اور مشفقانہ رفاقت ملی جس نے ادب سے رشتہ استوار کرنے میں معاونت کی۔ پہلا افسانہ اپریل 1947ء میں ’’قیوما کی دکان‘‘ لکھا جو افسانوں کے مجموعہ ’’گلی کوچے‘‘ میں موجود ہے۔ لکھنے کی ابتداء میں کرشن چندر سے متاثر ہو کر ان ہی کے رنگ میں لکھتے تھے۔ پھر مطالعہ اور ریاضت سے بتدریج اپنا رنگ اور اپنا اسلوب وضع ہوگیا۔ تقسیم ہند کے بعد ہجرت کرکے لاہور آگئے۔ پھر ساری زندگی یہیں گزاری۔ روزگار کے لیے اخبار نویسی کا پیشہ اپنایا۔ آخر عمر تک کالم نویسی کی۔ اردو میں اور پھر انگریزی زبان میں بھی ادبیء کالم لکھے۔ ’’بستی‘‘ کے انگریزی ترجمے پر ’’مین بوکر پرائز‘‘ (برطانیہ) کے لیے نامزد کیے گئے۔ حکومت نے ستارہ امتیاز، تمغہ حسن کارکردگی اور اکادمی ادبیات پاکستان نے کمال فن کا انعام بھی دیا۔ 1982ء میں ’’بستی‘‘ کو آدم جی ایوارڈ دیا گیا جسے قبول کرنے سے انکار کردیا۔ 2فروری 2016ء کو دنیا کو الوداع کہا۔
تصانیف:
افسانے:
-1 گلی کوچے (1953ء)
-2 کنکری (1955ء)
-3 آخری آدمی (1967ء)
-4 شہر افسوس (1973ء)
-5 کچھوے (1981ء)
-6 جنم کہانیاں (چار افسانوی مجموعے)
-7 شہرزاد کے نام (2002ء)
-8 نئی پرانی کہانیاں (2006ء)
ناول:
-1 چاند گہن (1953ء)
-2 دن اور داستان (1972ء)
-3 بستی (1979ء)
-4 تذکرہ (1987ء)
-5 آگے سمندر ہے (1995ء)
تنقید:
-1 خیمے سے دُور (1986ء)
-2 علامتوں کا زوال (1983ء)
-3 نظریے سے آگے (2004ء)
-4 اپنی دانست میں (2014ء)
کالم:
-1 ذرّے (1976ء)
-2 بوند بوند (2004ء)
-3 قطرے میں دریا (2010ء)
-4 قصہ کوتاہ (2017ء)
ترجمہ:
-1 سرخ تمغہ از اسٹیفن کرین (1960ء)
-2 فلسفے کی نئی تشکیل از جان ڈیوی (1961ء)
-3 گھاس کے میدانوں میں از چیخوف (1990ء)
سفرنامہ:
-1 زمیں اور فلک اور (1984ء)
-2 نئے شہر پرانی بستیاں (1999ء)
تذکرے، خودنوشت:
-1 اجمل اعظم (1995ء) (حکیم اجمل خاں کی سوانح عمری)
-2 چراغوں کا دھواں (1999ء) (خودنوشت)
-3 دلّی جو ایک شہر تھا (2003ء)
-4 جستجو کیا ہے؟ (2011ء)
ڈرامے:
خوابوں کے مسافر (2016ء)۶
انٹرویو:
باتیں اور ملاقاتیں (س ن)
اخبارات سے وابستگی
روزنامہ امروز، روزنامہ مشرق، روزنامہ آج کل، ڈیلی ڈان، روزنامہ ایکسپریس۔
ممتاز نقاد و افسانہ نگار آصف فرحی نے انتظار حسین کی شخصیت اور ان کی ادبی و صحافتی خدمات پر نہایت عمدہ تنقیدی و تجزیاتی کتاب ’’چراغ شب افسانہ۔ انتظار حسین کا جہانِ فن‘‘ کے عنوان سے لکھی ہے جو 2016ء میں سنگِ میل پبلی کیشنز سے شائع ہوئی۔
طاہر مسعود: کچھ عرصہ قبل سلیم احمد نے ادب کی موت کا اعلان کیا تھا۔ اگر آپ اس اعلان کی تصدیق کرتے ہیں تو ادب کی موت کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ خود ادیب پر یا قاری پر؟
انتظار حسین: میں اس مفروضے کو درست نہیں سمجھتا۔ ممکن ہے کہ سلیم احمد کے لیے ادب مرچکا ہو، میرے لیے نہیں مرا بلکہ شاید پورے معاشرے کے لیے ادب مرچکا ہے، بدقسمتی سے وہ میرے لیے اب تک زندہ ہے۔ بات یہ ہے کہ معاشرہ اتنا بے حس ہوگیا ہے کہ اب فنون لطیفہ اس کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتے لیکن میری ذاتی کوشش ہے کہ ادب اس معاشرے کے لیے ایک بامعنی ذریعہ اظہار بنا رہے۔
طاہر مسعود: سوال تو یہی ہے کہ معاشرے کے لیے ادب بے معنی کیوں ہوگیا؟ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ادیب نے اجتماعی مسائل سے خود کو الگ تھلگ کرلی اور اپنے ذاتی مسائل کو ادب میں جگہ دینے لگا تو معاشرے کی دلچسپی ادب سے ختم ہو کر رہ گئی۔ کیا آپ اس سے اتفاق کرتے ہیں؟
انتظار حسین: ممکن ہے ادیب کا یہ ردعمل ہو کہ اس نے معاشرے کو بے حس دیکھ کر اپنا مخاطب خود اپنے آپ کو بنالیا ہو۔ چیخوف نے ایک کوچوان کی کہانی لکھی ہے، جس میں بتایا ہے کہ ایک کوچوان کا بیٹا مر گیا ہے۔ وہ بار بار اپنی سواریوں کو اس سانحے کے بارے میں بتانا چاہتا ہے لیکن سواریاں اپنے اپنے مسائل و موضوعات پر محو گفتگو ہیں۔ جب کوچوان کسی سواری کو بھی اپنے آپ میں دلچسپی لیتے نہیں پاتا تو اپنے گھوڑے کو بتاتا ہے کہ اس کا بیٹا مر گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایک بے حس معاشرے میں ایک ادیب گھوڑے سے خطاب کرتا ہے۔
طاہر مسعود: بہ حیثیت ادیب آپ کس سے خطاب کرتے ہیں؟
انتظار حسین: میں چڑیوں اور درختوں سے باتیں کرتا ہوں۔ ممکن ہے میرے نزدیک چڑیاں اور درخت انسانوں سے زیادہ زندہ ہوں اور ان کے ساتھ ابلاغ کا کوئی مسئلہ مجھے درپیش نہ ہو۔ جب معاشرے کی ادب میں شرکت نہ ہو تو لکھنے والا صحرا میں بھی بیٹھ کر لکھ سکتا ہے اور صحرا میں بیٹھ کر ادب لکھا گیا ہے۔
طاہر مسعود: آپ نے کہیں گوتم بدھ کے ایک قول کے حوالے سے لکھا ہے کہ ہر آدمی کے اندر ایک بچہ موجود ہوتا ہے جسے کہانیاں سننے کا شوق ہے۔ میں جس عہد میں ہوں اس میں آدمی کے اندر کا بچہ مر گیا ہے۔ سوال اتنا سا ہے کہ اس بچے کی موت کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟
انتظار حسین: دیکھیے ایک معاشرہ جوں جوں اخلاقی لحاظ سے زوال پذیر ہوتا ہے اس کے اندر کا وہ بچہ مرتا جاتا ہے۔
طاہر مسعود: اس صورت میں آپ کے خیال میں ادب کا کیا امکان باقی رہ جاتا ہے؟
انتظار حسین: میرے پاس پیغمبرانہ نظر نہیں ہے۔ میں ادب کے مستقبل کے بارے میں کیا کہہ سکتا ہوں؟
طاہر مسعود: کیا ادیبوں کے پاس پیغمبرانہ نظر نہیں ہوتی؟
انتظار حسین: بعض ادیبوں نے اپنے آپ کو پیغمبر تک کہا ہے، لیکن میں اپنے آپ کو اس مقام پر نہیں دیکھتا۔ میں تو موجود لمحے میں گرفتار ہوں۔
طاہر مسعود: یہ سوال پریشان کن نہیں کہ تقسیم سے قبل کے معاشرے میں ادب کا ایک رول تھا۔ لکھنے والے لکھتے تھے اور پڑھنے والے شوق سے پڑھتے تھے لیکن اب کیا ہوگیا ہے کہ نہ لکھنے والے اچھا لکھتے ہیں اور نہ ہی پڑھنے والے ان کی تحریروں میں کسی دلچسپی کا اظہار کرتے ہیں؟
انتظار حسین: ہر عہد میں جو کچھ لکھا جاتا ہے اس میں خس و خاشاک بہت ہوتا ہے۔ مثلاً 1930ء کا زمانہ جسے آپ بلند مقام دے رہے ہیں اس پر ایک نگاہ ڈالیں تو چھن چھنا کر کچھ ہی لکھنے والے ملتے ہیں جنہوں نے بامعنی طور پر لکھا ہے۔ باقی اس وقت پورے برصغیر میں تحریکیں چل رہی تھیں، جب کہ ہم ایسے زمانے میں زندہ ہیں جس میں قومی سطح پر کوئی تحریک نہیں ہے۔ لکھنے والے کے لیے لکھنا بڑا امتحان ہے۔ اب اس کام کے لیے فضا سے لڑنا پڑتا ہے، جب کہ اس زمانے میں ترقی پسند افسانہ نگار افسانہ لکھ رہا تھا تو پورا برصغیر اس کی کمک تھا، مگر مجھ جیسا افسانہ نگار اکیلا ہے اور اکیلے ہی لڑ رہا ہے۔ میں جس تجربے سے نبرد آزما ہوں، خود ہی اپنی ذات کے لیے سامان اکٹھا کرکے اس تجربے کا اظہار کرتا ہوں۔
طاہر مسعود: قومی تحریکیں تو ہمارے ملک میں بھی چلی ہیں۔ ایوب خان کے خلاف تحریک، جنرل یحییٰ کے خلاف اور پھر بھٹو کے خلاف زبردست عوامی تحریک۔ علاوہ ازیں مشرقی پاکستان میں چلنے والی تحریک جس کے نتیجے میں ہمارا ایک بازو ہم سے علاحدہ ہوا۔ اس کے باوجود ہمارے ادیبوں نے کبھی ان تحریکوں سے اثر قبول نہیں کیا۔ حتیٰ کہ مشرقی پاکستان کے سانحے پر کوئی قابل ذکر ناول تک نہیں لکھا گیا۔
انتظار حسین: مشرقی پاکستان میں چلنے والی تحریک تو دراصل پاکستان کی خودکشی کا عمل تھا۔ اگر وہ واقعہ نہ ہوتا تو شاید مجھے ’’بستی‘‘ لکھنے کا خیال بھی نہ آتا۔
طاہر مسعود: لیکن اس ناول میں آپ اتنے Involve نظر نہیں آتے جتنے اپنی بعض دوسری تحریروں میں دکھائی دیتے ہیں؟
انتظار حسین: یہ Involvement کا مسئلہ ہے۔ میں اس تجربے کے بارے میں کیا کہہ سکتا ہوں؟
طاہر مسعود: بعض ادبی حلقوں میں یہ بحث بڑی سنجیدگی سے چھڑی رہتی ہے کہ اردو میں فکشن کیوں نہیں۔ یعنی ہم نے شاعری میں جتنے بڑے نام پیدا کیے ہیں، افسانے میں وہ مقام کسی کو بھی حاصل نہیں ہے۔ مثلاً اقبال، غالب، یا میر کو شاعری میں جتنی بلندی اور عظمت حاصل ہے وہ افسانے میں منٹو، بیدی، یا پریم چند کو کیوں حاصل نہیں ہے؟
انتظار حسین: میں اس مسئلے کو اس طرح نہیں دیکھتا۔ ہمارے یہاں فکشن کی روایت الگ طرح سے چلی ہے جب کہ شاعری کی روایت اس کے مقابلے میں بالکل جدا ہے۔ فکشن کی روایت ہمارے یہاں داستانوں کی روایت سے شروع ہوئی ہے اس لیے ان کا باہم موازنہ کرنا درست نہیں۔
طاہر مسعود: اسی طرح اردو میں اچھے ناول بھی گنتی کے ہوں گے؟ ناول نہ ہونے کی کیا وجوہات ہیں؟
انتظار حسین: اس کی وجہ کوئی اور ہوگی۔ شاید ناول نگار میں زندگی کو کُل کے طور پر دیکھنے کی صلاحیت کم ہو اس لیے ناول کم لکھا گیا ہو۔ پہلے فکشن رائٹر میں یہ صلاحیت موجود ہوگی اس لیے داستانیں لکھی گئیں جو پوری کائنات اور حیات کا ایک تصور پیش کرتی ہیں اور زندگی کو ایک کُل کی حیثیت سے دیکھتے ہیں۔
طاہر مسعود: کہا جاتا ہے اردو میں صاحبِ اسلوب لکھنے والے بھی خال خال ہیں۔ ادیبوں کی اکثریت کا اسلوب تحریر ایک دوسرے سے بے حد مشابہ ہے۔ ایسا کیوں ہے؟
انتظار حسین: ہر لکھنے والا صاحب اسلوب نہیں ہوتا۔ شاعری میں بھی آپ کو صاحب اسلوب کم ہی ملیں گے۔
طاہر مسعود: آپ کا ایک دکھ، ایک مسئلہ، آپ کی تحریروں کا عموماً مشترک موضوع ’’ہجرت‘‘ ہے۔ آپ ہجرت کے غم میں بُری طرح گرفتار ہیں، حالاں کہ آپ منزل پر پہنچ چکے ہیں۔ اب آپ کو آگے کی سمت دیکھنا چاہیے مگر آپ پیچھے مڑمڑ کر دیکھتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ ہجرت کے علاوہ بھی مسائل ہیں جن پر لکھنا اور غور کرنا چاہیے کیوں کہ ویسے بھی ہجرت تو ایک مخصوص خطے کے افراد کا تجربہ تھا؟
انتظار حسین: ہجرت اور پاکستان لازم و ملزم ہیں۔ کیا میں ہجرت کو بھول جائوں؟ اگر ہم پاکستان پہنچ چکے ہیں تو کیا میں 1947ء کو فراموش کردوں؟ اگر میں اسے بھول گیا تو پاکستان میرے لیے بے معنی ہوجائے گا۔ جس تاریخ کے پیٹ سے پاکستان پیدا ہوا ہے اس تاریخ کو لوگ کہتے ہیں کہ بھول جائو، حالاں کہ یہ تو ناجائز اولاد کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنے ماضی کو بھول جائے۔ ہجرت کے دو پہلو ہیں۔ ایک ذہنی اور دوسرا جسمانی۔ اس علاقے کے لوگوں کو بھی ایک سطح پر ہجرت سے گزرنا پڑا۔ پہلے یہ علاقہ ہندوستان میں تھا۔ انہیں ذہنی سفر کرکے پاکستان اس وقت آنا پڑا جب یہ علاقہ پاکستان میں شامل ہوگیا۔ میرا خیال ہے پاکستان کے تمام باشندوں یعنی سندھی، بلوچی، پنجابی، پٹھان وغیرہ کو 1947ء ہی میں ہجرت کرلینی چاہیے تھی لیکن دانش ور یہ بات کہتے ہیں کہ ہجرت ایک مخصوص خطہ زمین کے رہنے والے لوگوں نے کی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ان دانش وروں نے خود اب تک ذہنی طور پر ہجرت کا سفر طے نہیں کیا۔ جب کہ میرے خیال میں یہ ایک قومی تجربہ ہے اور پوری قوم ہجرت کے تجربے سے گزری ہے۔ علاوہ ازیں کوئی ایک واقعہ بھی اتنا دور رس اور اس نوع کا ہوسکتا ہے کہ تھوڑے سے لوگ اس تجربے سے گزریں، لیکن عملاً پوری قوم اس تجربے سے گزر جائے۔ مثلاً جلیا نوالہ باغ کا واقعہ جو امرتسر میں پیش آیا تھا لیکن جس نے پوری قوم کو ہلا دیا۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں ہجرت پوری قوم کا تجربہ ہے۔ علاوہ ازیں میں نے موضوعات بنا کر کبھی افسانے نہیں لکھے۔ بعض افراد صوبوں کے مسائل پر پریشانی کا اظہار کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب آپ مجھ سے یہ تقاضا کرتے ہیں کہ میں ہجرت کے تجربے کو فراموش کردوں تب تو آپ خود صوبوں کے مسائل کو ہوا دے رہے ہیں۔ اس تجربے کو فراموش کردینے کے نتیجے میں یہ مسائل تو پیدا ہونے ہی ہیں۔
طاہر مسعود: انتظار صاحب! یوں بھی ہجرت صرف برصغیر کے مسلمانوں کا واحد تجربہ نہیں، فلسطین سمیت دنیا میں جگہ جگہ انسانوں کو ہجرت کے دُکھ سے گزرنا پڑا۔
انتظار حسین: جی ہاں! یہ ایک انسانی مسئلہ ہے۔ انسانیت ہجرت کے جس دُکھ اور درد سے دوچار ہورہی ہے، میں نے اسے اپنے قومی تجربے کے واسطے سے چھوا ہے اور اس طرح میں نے ایک بڑے انسانی تجربے تک پہنچنے کی کوشش کی ہے یا اس تک پہنچنے کی راہ ہموار کی ہے۔
طاہر مسعود: آپ کے خیال میں شعر و ادب کی جو صورت حال ہمارے یہاں موجود ہے، کیا امریکا اور یورپ میں بھی ادب کو ایسے ہی دگرگوں صورت حال کا سامنا نہیں ہے؟
انتظار حسین: اپنے گناہوں کے لیے باہر سے سند جواز لانا درست نہیں ہے۔ مجھے اس سے غرض نہیں ہے کہ یورپ میں ایسا ہورہا ہے یا نہیں۔ کیوں کہ اگر میں نے یورپ کے حق میں کچھ کہا تو آپ علامہ اقبال کا شعر پڑھ دیں گے اور میں مجبور ہوجائوں گا۔ البتہ ایک بات واضح ہے کہ میں اس کا قائل نہیں ہوں کہ ہمارے یہاں مہنگائی کی بات کی جائے تو فوراً بھارت کا حوالہ دیا جائے کہ وہاں بھی مہنگائی ہوگئی ہے۔ (ٹھہر کر) ہماری قوم نے تخلیقی تجربوں میں دلچسپی لینا چھوڑ دی ہے۔ ہمارے یہاں احساس کی موت واقع ہوچکی ہے جس کی وجہ سے اسے فنون لطیفہ نہیں صرف پیشہ نظر آتا ہے۔
طاہر مسعود: کیا اس کا سبب یہ نہیں ہے کہ موجودہ عہد میں ٹیلی ویژن اور دوسری ترغیبات نے ادب کے متبادل کے طور پر جگہ حاصل کرلی ہے؟ اور گر ایسا ہے تو پھر افسانہ نگاروں کو ڈرامے کے ذریعے اپنی بات پہنچانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ کیوں؟
انتظار حسین: میرے لیے افسانہ لکھنا اور ناول لکھنا ایک سنجیدہ تخلیقی سرگرمی ہے لیکن ٹیلی ویژن پر ڈراما لکھنا اس حد تک سنجیدہ سرگرمی نہیں بن سکتی۔ اس میں ایک کمرشل پہلو شامل ہے۔ لوگوں کو صرف ٹیلی ویژن سے دلچسپی ہے۔ وہ ٹیلی ویژن پر ڈراما شوق سے دیکھتے ہیں لیکن ایسا سنجیدہ ڈراما جسے ہم تخلیقی کارنامہ کہیں تو وہ نہیں دیکھتے۔ پھر ٹیلی ویژن والوں کا تقاضا ہوتا ہے ایسا ڈراما لکھیں جسے لوگ سمجھ سکیں اور انہیں پسند آئے۔ یہ درست ہے کہ ڈراما اپنی جگہ پر ایک تخلیقی سرگرمی ہے۔ ڈرامے کا مقام ادب میں بہت اونچا ہے، لیکن ہمارے یہاں ڈراما تخلیقی سرگرمی پوری طرح نہیں بن سکا ہے اور نہ ہی اس کی روایت کو پوری طرح فروغ مل سکا ہے۔ شعر یا افسانہ لکھنے والا آزاد ہوتا ہے، لیکن ڈراما لکھنے والا اتنا آزاد نہیں ہوتا۔ ہمارے یہاں ڈراما اداروں کا پابند ہوتا ہے اس لیے اب تک یہ صنف آزاد سرگرمی نہیں بن سکی ہے۔
طاہر مسعود: آپ نے اشفاق احمد کی سیریز ’’ایک محبت سو افسانے‘‘ دیکھی ہوگی، اس کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
انتظار حسین: میں نے اس سیریز کے بہت کم ڈرامے دیکھے ہیں۔ اس لیے اس کے بارے میں کوئی محاکمہ نہیں کرسکتا۔
طاہر مسعود: اردو ادب میں فکشن نہ ہونے کا ایک سبب یہ بتایا جاتا ہے کہ بڑا یا اچھا افسانہ ہمیشہ گناہوں کے اعتراف سے جنم لیتا ہے جب کہ ہمارا معاشرہ اپنی مذہبی روایات کی وجہ سے ناپسندیدہ اور مکروہ حقائق کو چھپانے یا پوشیدہ رکھنے پر زور دیتا ہے، جب کہ یورپ اور امریکا میں فکشن اس لیے پیدا ہوا کہ وہاں حقائق کا اعتراف باآسانی کرلیا جاتا ہے۔ آپ کا کیا خیال ہے؟
انتظار حسین: مجھے نہیں معلوم کہ اس بات کا افسانے سے کیا تعلق ہے لیکن یہ بات ضرور درست ہے کہ ہمارا قومی مزاج اعتراف کا قائل نہیں۔ ہم اپنے قومی مزاج کے زیر اثر ہمیشہ ایک قربانی کے بکرے کی تلاش میں رہتے ہیں تا کہ جتنے گناہ یا کوتاہیاں ہیں ان کا بوجھ اس بکرے پر لادا جائے۔
طاہر مسعود: منٹو نے جتنے افسانے لکھے وہ ایک طرح سے معاشرے کے گناہوں کا اعتراف تھا۔ معاشرہ چاہتا تھا کہ ان گناہوں کو پس پردہ رکھا جائے لیکن منٹو نے انہیں بیان کردیا اور لوگ اس کے مخالف ہوگئے۔ اگر اعتراف کرنے کی آزادی ہوتی تو کیا ہمارے یہاں اچھے افسانے لکھے جانے کے امکانات نہیں تھے؟
انتظار حسین: جی ہاں بالکل! غالباً ہمارے یہاں ڈرامے کے نہ پنپنے کا بھی یہی سبب ہے۔ ٹیلی ویژن کے کسی ڈرامے میں اگر کوئی طبقہ بھی expose ہوجائے تو احتجاجی خطوط آنے شروع ہوجاتے ہیں۔ اسی لیے ٹیلی ویژن کسی ڈراما نگار کو پوری آزادی نہیں دیتا۔ اس کے علاوہ منٹو نے جو کچھ لکھا اسے ٹیلی وژن یا اسٹیج پر پوری طرح پیش کرنا ممکن نہیں ہے۔
طاہر مسعود: قرۃ العین حیدر کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
انتظار حسین: میں انہیں بہت بڑا ناول نگار سمجھتا ہوں بلکہ سچ پوچھیے تو ہمارے عہد کی اصل ناول نگار تو وہی ہیں دوسروں نے تو چلتے چلتے ناول لکھ لیا ہے۔
طاہر مسعود: کیا ان کے بیش تر ناولوں کی فضا، موضوعات اور کردار ایک ہی جیسے نہیں ہیں؟ آپس میں ملتے جلتے اور مشابہ؟
انتظار حسین: قرۃ العین کا تجربہ ایک ہی ہے۔ کردار بھی ملتے جلتے ہیں مگر ناول الگ الگ ہیں۔ پڑھنے والے جس قسم کی ورائٹی ٹیلی وژن کے پروگراموں کے لیے مانگتے ہیں اتنی ورائٹی لکھنے والا نہیں دے سکتا۔ یہ قطعی ممکن ہے کہ لکھنے والے کے پاس ایک ہی تجربہ ہو اور اس تجربے کی بنیاد پر وہ ساری زندگی لکھتا جائے بلکہ بڑے لکھنے والے کے پاس تو ایک ہی تجربہ ہوتا ہے۔ میر کا تجربہ عشق کا تھا۔ انہوں نے اسی ایک تجربے کے واسطے سے انسانی زندگی کے مختلف گوشوں کو پیش کیا ہے۔ باہر کے ناول نگاروں کو دیکھ لیجیے۔ وہاں بھی ایک ہی تجربہ ملے گا۔ کافکا اور جیمس جوائس کے پاس کتنے تجربے تھے؟
طاہر مسعود: عبداللہ حسین کے ناول ’’اُداس نسلیں‘‘ نے کیا آپ کو بھی متاثر کیا؟
انتظار حسین: ’’اُداس نسلیں‘‘ ایک اچھا ناول ہے۔
طاہر مسعود: قرۃ العین نے ’’کار جہاں دراز ہے‘‘ کی جلد دوم میں الزام لگایا ہے کہ ’’اداس نسلیں‘‘ ان کے مختلف ناولوں کے اسٹائل کا چربہ ہے اور اس سلسلے میں انہوں نے ’’اداس نسلیں‘‘ کے صفحات تک کا حوالہ دیا ہے۔ آپ نے دونوں ناول نگاروں کا مطالعہ کیا ہے۔ آپ کے خیال میں اس الزام میں کس حد تک صداقت موجود ہے؟
انتظار حسین: میں دوبارہ ناول پڑھ کر ہی کوئی رائے دے سکتا ہوں۔ اس وقت تو ٹھیک طرح سے یاد بھی نہیں ہے۔
طاہر مسعود: کوئی نہ کوئی رائے تو یقینا آپ کی ہوگی؟
انتظار حسین: دیکھیے قرۃ العین حیدر نے یہ بات کہی ہے تو کوئی نہ کوئی بات ضرور ہوگی۔
طاہر مسعود: آپ ذہنی تحفظات کے ساتھ گفتگو کیوں کرتے ہیں؟
انتظار حسین: میں محاکمے دینے یا فتوے جاری کرنے کا کچھ زیادہ قائل نہیں ہوں۔ میرے افسانے میں بھی آپ کو اس طرح کا محاکمہ نہیں ملے گا اور عام زندگی میں بھی یہ نہیں کرتا۔
طاہر مسعود: آپ کچھ عرصہ قبل ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے بھارت گئے تھے۔ آپ نے وہاں کی ادبی فضا پاکستان کے مقابلے میں کیسی پائی؟ ادب کے سلسلے میں وہاں لوگوں کا کیا رویہ ہے؟
انتظار حسین: بھارت جا کر احساس ہوا کہ وہاں لکھنے والے اور قارئین ادب کو زیادہ سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ ان کے یہاں ادب میں Involvement ہمارے مقابلے میں زیادہ ہے۔ وہ زیادہ سنجیدگی سے پڑھتے اور سوچ بچار کرتے ہیں۔ وہاں یہ بات بھی دیکھی کہ ہندی کے لکھنے والے اردو ادب میں خاصی دلچسپی لیتے ہیں۔ پاکستان کے اردو ادب سے بھی باخبر رہتے ہیں۔ تراجم وغیرہ کا سلسلہ بھی خاصا ہے۔ اس کے برعکس ہم نہ صرف ان کی باتوں سے بے خبر ہیں بلکہ اردو ادب ہندی میں اتنی دلچسپی نہیں لیتا جتنا ہندی والے اردو میں دلچسپی لیتے ہیں… حالاں کہ ایک ادیب کو زیادہ باخبر رہنا چاہیے۔
طاہر مسعود: بھارت کے تذکرے کے ساتھ اکثر وہاں اردو کے مستقبل کا سوال زیر بحث آتا ہے۔ آپ کے خیال میں وہاں اردو کے پنپنے کا کتنا امکان ہے؟
انتظار حسین: میں تو پاکستان میں اردو کے مستقبل کے بارے میں بہت کنفیوز ہوں۔ جب میں ہندوستان میں دیکھتا ہوں کہ وہاں اردو ادب میں قارئین کا اتنا Involvement ہے کہ لکھنے والے اس میں ایک معنی دیکھتے ہیں۔ ترجمے پڑھتے ہیں۔ پھر میں ہندوستان میں اردو کے مستقبل سے کیسے مایوس ہوجائوں۔ وہاں ایک پوری خلقت نظر آتی ہے جن کی بول چال کی زبان اردو ہے۔ پورا ہندوستان اردو ہی کی بنیاد پر چل رہا ہے۔ سرکاری سطح پر اردو کے سلسلے میں کیا ہورہا ہے اس سے میرا کوئی تعلق نہیں۔ زبانیں سرکاری واسطوں سے نہ ترقی کرتی ہیں نہ ختم ہوتی ہیں۔ اگر یہ ہوتا تو اردو اب تک ہندوستان میں ختم ہوجاتی۔ تاہم وہاں اردو کے سلسلے میں بالخصوص ایک رویہ شروع ہی سے اردو دشمنی کا رہا ہے۔
طاہر مسعود: پاکستان میں آپ اردو کے مستقبل کے بارے میں کنفیوز کیوں ہیں؟
انتظار حسین: بھئی بات یہ ہے کہ اردو سے میرا اپنا ایک رشتہ ہے۔ اردو کو ہماری قوم سنجیدگی سے اپنی سرکاری زبان بنانا چاہتی ہے یا نہیں؟ اور یہ قومی زبان بنتی ہے یا نہیں؟ مجھے اس سے اتنی دلچسپی نہیں ہے۔ میں تو سمجھتا ہوں کہ میں اردو میں اپنے تجربے اور اپنی ذات کا اظہار کرتا رہوں گا۔ پاکستان میں اردو کا کیا مستقبل ہے، کیا حدیں ہیں؟ اس سے میرے افسانے پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ (رک کر) ایک قوم جب قوم بننے ہی کے بارے میں سنجیدہ نہ ہو تو قومی زبان کے بارے میں کیسے سنجیدہ ہوسکتی ہے۔
طاہر مسعود: ایک سپاہی سے اس کا ہتھیار چھین لیا جائے تو وہ کیسے لڑے گا؟ جس زبان میں آپ لکھتے ہیں، وہ آپ کا ہتھیار ہے، اس کی حفاظت کی ذمہ داری آپ پر عائد نہیں ہوتی؟
انتظار حسین: (مسکراتے ہوئے) مجھ سے کون چھینے گا یہ ہتھیار۔ میری اردو یہاں کی چڑیاں اور درخت سمجھتے ہیں۔ میں چڑیوں کے لیے لکھتا ہوں۔
طاہر مسعود: نئے لکھنے والوں سے آپ کیا توقعات وابستہ کرتے ہیں؟
انتظار حسین: نئے لکھنے والوں کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ لکھنے کے آغاز کے ساتھ مرجھا جاتے ہیں۔ اس کے باوجود بہرکیف افسانے کی سرگرمی جاری رہے گی۔ میں یہ کیسے کہہ سکتا ہوں کہ افسانہ مجھ پر ہی ختم ہوگیا ہے۔ نئے لکھنے والوں میں اگر قوت ہوگی تو وہ لکھتے رہیں گے اور :
ہم نہ ہوں گے کوئی ہم سا ہوگا

حصہ