منتخب غزلیں

84

اکبر الہ آبادی

معنی کو بھلا دیتی ہے صورت ہے تو یہ ہے
نیچر بھی سبق سیکھ لے زینت ہے تو یہ ہے
کمرے میں جو ہنستی ہوئی آئی مس رعنا
ٹیچر نے کہا علم کی آفت ہے تو یہ ہے
یہ بات تو اچھی ہے کہ الفت ہو مسوں سے
حور ان کو سمجھتے ہیں قیامت ہے تو یہ ہے
پیچیدہ مسائل کے لیے جاتے ہیں انگلینڈ
زلفوں میں الجھ آتے ہیں شامت ہے تو یہ ہے
پبلک میں ذرا ہاتھ ملا لیجئے مجھ سے
صاحب مرے ایمان کی قیمت ہے تو یہ ہے
…٭…
منظر بھوپالی

طاقتیں تمہاری ہیں اور خدا ہمارا ہے
عکس پر نہ اِتراؤ، آئینہ ہمارا ہے
آپ کی غلامی کا، بوجھ ہم نہ ڈھوئیں گے
آبرو سے مرنے کا، فیصلہ ہمارا ہے
عمر بھر تو کوئی بھی، جنگ لڑ نہیں سکتا
تم بھی ٹوٹ جاؤ گے، تجربہ ہمارا ہے
اپنی رہنمائی پر، اب غرور مت کرنا
آپ سے بہت آگے، نقشِ پا ہمارا ہے
غیرتِ جہاد اپنی، زخم کھا کے جاگے گی
پہلا وار تم کر لو، دوسرا ہمارا ہے
…٭…
شمیم حنفی

کتاب پڑھتے رہے اور اداس ہوتے رہے
عجیب شخص تھا جس کے عذاب ڈھوتے رہے
کوئی تو بات تھی ایسی کہ اس تماشے پر
ہنسی بھی آئی مگر منہ چھپا کے روتے رہے
ہمی کو شوق تھا دنیا کے دیکھنے کا بہت
ہم اپنی آنکھوں میں خود سوئیاں چبھوتے رہے
بس اپنے آپ کو پانے کی جستجو تھی کہ ہم
خراب ہوتے رہے اور خود کو کھوتے رہے
زمیں کی طرح سمندر بھی تھا سفر کے لیے
مگر یہ کیا کہ یہاں کشتیاں ڈبوتے رہے
ہمیں خبر نہ ہوئی اور دن بھی ڈوب گیا
چٹختی دھوپ کا بستر بچھائے سوتے رہے
…٭…
عاجز ہنگن گھاٹی

زخموں کے دہن بھر دے خنجر کے نشاں لے جا
بے سمت صداؤں کی رفعت کا گماں لے جا
احساس بصیرت میں عبرت کا سماں لے جا
اجڑی ہوئی بستی سے بنیاد مکاں لے جا
شہروں کی فضاؤں میں لاشوں کا تعفن ہے
جنگل کی ہوا آ جا جسموں کا دھواں لے جا
ہے اور ابھی باقی تاریک سفر شب کا
اگنے دے نیا سورج پھر چاہے جہاں لے جا
جلتی ہوئی راتوں کا بجھتا ہوا منظر ہوں
گھر آ کے کبھی عاجزؔ مجھ سے یہ سماں لے جا
…٭…
میں فلسطین ہوں /عمران پرتاب گڑھی

میں فلسطین ہوں میں فلسطین ہوں
یہ میری قوم کے حکمراں بھی سنیں
میری اجڑی ہوئی داستاں بھی سنیں
جو مجھے ملک تک مانتے ہی نہیں

ساری دنیا کے وہ رہنما بھی سنیں
صرف لاشیں ہی لاشیں مری گود میں
کوئی پوچھے میں کیوں اتنا غمگین ہوں
میں فلسطین ہوں میں فلسطین ہوں

آئے تھے ایک دن میرے گھر آئے تھے
دشمنوں کو بھی تنہا نظر آئے تھے
اونٹ پر اپنا خادم بٹھائے ہوئے
میری اس سرزمیں پر عمر آئے تھے
جس کی پرواز ہے آسمانوں تلک
زخمی زخمی ہے جو میں وہ شاہین ہوں
میں فلسطین ہوں میں فلسطین ہوں

میرے دامن میں ایمان پلتا رہا
ریت پر رب کا فرمان پلتا رہا
میرے بچے لڑے آخری سانس تک
اور سینوں میں قرآن پلتا رہا
ذرے ذرے میں اللہ اکبر لئے
خوش نصیبی ہے میں صاحبِ دین ہوں
میں فلسطین ہوں میں فلسطین ہوں

نہ ہی روئیں گے اور نہ ہی مسکائیں گے
صرف نغمے شہادت کے ہی گائیں گے
اپنا بیت المقدس بچانے کو تو
میرے بچے ابابیل بن جائیں گے
جو ستم ڈھا رہے ابرہا کی طرح
ان کی خاطر میں سامانِ توہین ہوں
میں فلسطین ہوں میں فلسطین ہوں

علامہ اقبالؔ

زمانہ اب بھی نہیں جس کے سوز سے فارغ
مَیں جانتا ہوں وہ آتش ترے وجود میں ہے
تری دوا نہ جنیوا میں ہے ، نہ لندن میں
فرنگ کی رگِ جاں پنجۂ یہود میں ہے
…٭…
میر مہدی مجروح

میں خاک تھا آدمی بنایا تو نے
اور عیب معاصی کو چھپایا تو نے
کیا شکر ادا کروں کرم کا تیرے
اس کاہ کو کوہ کر دکھایا تو نے
…٭…

فرازؔ ترک تعلق تو خیر کیا ہوگا
یہی بہت ہے کہ کم کم ملا کرو اس سے
احمد فراز
…٭…
نقشہ اٹھا کے کوئی نیا شہر ڈھونڈیئے
اس شہر میں تو سب سے ملاقات ہو گئی
ندا فاضلی
…٭…
آج تو مل کے بھی جیسے نہ ملے ہوں تجھ سے
چونک اٹھتے تھے کبھی تیری ملاقات سے ہم
جاں نثاراختر
…٭…
اللہ اگر توفیق نہ دے انسان کے بس کا کام نہیں
فیضان محبت عام سہی عرفان محبت عام نہیں
محمد خالد
…٭…
جانے والے سے ملاقات نہ ہونے پائی
دل کی دل میں ہی رہی بات نہ ہونے پائی
شکیل بدایونی
…٭…
شمیم حنفی

پھر لوٹ کے اس بزم میں آنے کے نہیں ہیں
ہم لوگ کسی اور زمانے کے نہیں ہیں
اک دور کنارا ہے وہیں جا کے رکیں گے
جتنے بھی یہاں گھر ہیں ٹھکانے کے نہیں ہیں
یوں جاگتے رہنا ہے تو آنکھوں میں ہماری
جو خواب چھپے ہیں نظر آنے کے نہیں ہیں
دل ہے تو یہ دولت کبھی معدوم نہ ہوگی
یہ درد کسی اور خزانے کے نہیں ہیں
کل رات خموشی نے عجب رنگ دکھائے
یہ شعر اگر ہیں تو سنانے کے نہیں ہیں
ہر سمت اجالا بھی ہے سورج بھی ہے لیکن
ہم اپنے چراغوں کو بجھانے کے نہیں ہیں
دنیا نے بھی کچھ ہم کو بہت گھیر لیا ہے
کچھ ہم بھی اسے چھوڑ کے جانے کے نہیں ہی
…٭…
یروشلم/نعیم صدیقی

یروشلم یروشلم تو ایک حریم محترم
تیرے ہی سنگ در پر آج منہ کے بل گرے ہیں ہم
تجھے دیا ہے ہاتھ سے بزخم دل بچشم نم
یروشلم یروشلم یروشلم یروشلم
…٭…

حصہ