عالم اسلام کی جدید تحریکیں

128

جسارت میگزین: خاندان اور تعلیمی پس منظر کے بارے میں بتایئے؟
عابدہ سلطانہ: میرا خاندانی پس منظر علمی تھا۔ ہم پانچ بہن بھائی تھے۔ بچپن کھیل کود کے بجائے پڑھائی میں گزرا۔ والد صاحب کا کاروبار چونکہ کتابوں کا تھا اس طرح ہر نئی کتاب میرے لیے آجاتی۔ اس ماحول میں مجھے صرف مطالعے کا ہی شوق ہوا۔ میٹرک تک میں نسیم حجازی صاحب اور مولانا مودودیؒ صاحب کی کئی کتابیں پڑھ چکی تھی۔ گھر کی کوئی بھی مصروفیت ہو‘ کتاب ہمیشہ ساتھ رہتی۔ بے اے کے بعد ہی شادی ہوگئی۔ شوہر ڈین کلیہ معارف اسلامیہ بھی رہ چکے ہیں۔ ان کی شدید خواہش پر میں نے ایم اے اردو ادب کا ارادہ ترک کیا اور اسلامی علوم میں پرائیویٹ ایم اے کیا اور کراچی یونیورسٹی سے فرسٹ کلاس تھرڈ پوزیشن حاصل کی۔ دوسرا ایم اے میں نے اپنی خواہش پر اردو ادب میں کیا۔ بعدازاں کراچی یونیورسٹی میں دوران تدریس ابلاغیات میں فیڈرل اردو یونیورسٹی سے ایک اور ایم کرنے کا موقع بھی ملا۔
جسارت میگزین: شعبہ تدریس سے منسلک رہیں‘ کہاں کہاں کام کیا؟
عابدہ سلطانہ: میں جامعۂ کراچی میں شعبۂ تدریس سے منسلک رہی۔ اس کے علاوہ ٹیکنیکل کالج IIEE میں بھی پانچ سال تک بطور لیکچرر خدمات سرانجام دیتی رہی ہوں۔ اخلاقیات کے طلباء کو بھی پڑھایا جو ہندو اور عیسائی تھے۔ اس وقت میں پڑھنے پڑھانے کے اس قدر قریب رہی کہ کوئی اور کام نہیں کیا۔ جامعات المحصنات میں باقاعدہ نہیں پڑھایا‘ البتہ مرکزی حیثیت سے ادارے کی نگرانی کی۔
جسارت میگزین: ’’عصرِ حاضر کی اسلامی تحریکات‘‘ بطور تحقیقی مقالہ منتخب کرنے کی کوئی خاص وجہ؟
عابدہ سلطانہ: یہ موضوع شاید اس لیے منتخب کیا کہ میں ہمیشہ سے ذہنی طر پر تاریخ کی طالبہ رہی ہوں۔ تاریخ اسلام سے اس قدر تعلق رہا کہ خواہش ہوئی ان تحریکات پر کام کروں جنہوں نے اسلامی انقلاب برپا کیا۔ آغاز بیسویں صدی کی تحریکات سے کیا تھا۔ بعدازاں اہم تحریکات کی شکل میں مقالہ تحریر کیا۔ مقالہ لکھنا بلاشبہ ایک مشکل کام ہے۔ راستے میں بہت سے پتھر آئے جنہیں ٹھکراتے ہوئے آگے بڑھتی گئی۔ تحقیق مکمل کرنے میں میرے سات برس لگ گئے۔ گھر والوں کا تعاون بھی ملا۔ چند سال پہلے ہی اس کو میں نے کتابی شکل میں چھپوایا۔ یہ میرے لیے اعزاز کی بات ہے کہ کتاب کی رونمائی کے موقع پر سید منور حسن مہمان خصوصی تھے۔ انہوں نے کہا ’’اتنا مشکل موضوع کیسے لے لیا؟ یہ تو مردوں کا موضوع تھا۔‘‘ میں سمجھتی ہوں کہ مردوں کو پیدا کرنے والی بھی تو عورتیں ہی ہوتی ہیں۔ انہی کے بھروسے تو بیٹے پلتے ہیں۔
جسارت میگزین: اعلیٰ تعلیمی نظام سے مطمئن ہیں؟ وہ کون سے عوامل ہیں جن کے باعث تحقیقی میدان خالی ہیں؟
عابدہ سلطانہ: اس نظام سے کیسے مطمئن ہو سکتے ہیں۔ یہ نظام تو مغرب کا دیا ہوا وہ تحفہ ہے جو ہمیں انگریزوں سے ملا۔ ہم تو اس نظام کی پیداوار ہیں جب کہ اسلامی دنیا کے اندر مسلمان جو ادارے قائم کرتے تھے اس میں تمام سائنسی و اسلامی علوم سمیت تحقیقاتی علوم سب اکٹھے پڑھائے جاتے‘ مسلمانوں کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ سب سے پہلے انہوں نے تحقیقیات کا کام شروع کروایا۔ تحقیقات کی وہ کتابیں آج بھی ان کے کتب خانوں میں نہ صرف موجود ہیں بلکہ نصاب کا حصہ بھی ہیں۔ اس کے برعکس ہمارے کتب خانے اپنے ہی ادبا سے محروم ہیں‘ ان کے علوم سے ناواقف ہیں‘ یہ نظام جو ہمیں دیا گیا ہے بس ایسے ہی ہے کہ مکھی پہ مکھی ماریں۔ جو لکھا ہوا ہی اسی میں کچھ الفاظ کاپی کرکے آگے بڑھا دیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ہمارے طلباء تحقیق کر ہی نہیں پاتے پھر کیوں علمی میدان ویران نہ ہوں گے؟
جسارت میگزین: جامعات میں مخلوط تعلیمی نظام کے بارے میں رائے؟ قابلیت پر اثر انداز ہو رہا ہے؟
عابدہ سلطانہ: میں اس نظام کو مسترد کرتی ہوں‘ ردّی قرار دیتی ہوں۔ دنیا بھر میں خواتین کی ضرورت کے مطابق خواتین کی جامعات قائم ہیں۔ مخلوط تعلیمی نظام کبھی بھی ہماری ضرورت نہیں رہا۔ ہم کیسے اس نظام کے قائل ہو سکتے ہیں۔ میں سمجھتی ہوں کہ مخلوط تعلیمی نظام میں قابلیت تو کیا کسی طرح بھی ہمارے بچوں میں وہ فکر نہیں آسکتی جو ہم ان میں دیکھنا چاہتے ہیں۔
جسارت میگزین: آپ کیا سمجھتی ہیں کہ نصاب جامعات کی ضرورت کے مطابق ہے؟ نیز تبدیلی کی ضرورت محسوس ہوئی؟
عابدہ سلطانہ: میرے خیال میں تمام جامعات کا نصاب ضرورت سے میل نہیں کھاتا‘ اس میں تبدیلی کی اشد ضرورت ہے۔ طلبہ و طالبات کو وہ پڑھایا جائے جس کی ان کو عملی زندگی میں ضرورت ہے۔ دونوں کی ضرورت قدرے مختلف نے۔ نصابِ تعلیم بھیڑ چال کی نذر ہو چکا ہے۔ ہر طرح کے لوگ بغیر سوچے سمجھے کسی بھی شعبے میں چلے جاتے ہیں اور جب وہ ان کی ضرورت کے مطابق نہیں ہوتا تو آگے بڑھ نہیںپاتے‘ کچھ کر نہیں پاتے نتیجتاً شعبہ جات جام ہو جاتے ہیں۔ شعبوں کو فعالیت کی ضرورت ہے‘ پڑھے لکھے طبقے کی ضرورت ہے اور یہ نصاب میں تبدیلی کے بغیر ممکن نہیں۔ تبدیلی نہ کی پھر آئندہ نسلیں خالی ہوں گی۔
جسارت میگزین: تعلیم یافتہ نوجوان منفی سرگرمیوں میں کیوں ملوث ہیں‘ و جہ؟ سدباب؟
عابدہ سلطانہ: بالکل اسی میں کوئی شک نہیں۔ بے ایمانی‘ ملاوٹ‘ خلوص کوئی خوبی نظر نہیں آتی۔ دوسرے کو نقصان پہنچانا ہمارے پڑھے لکھے طبقے کے اندر عام ہے۔ رشوت کے بغیر فائل آگے بڑھانا ناممکن ہے۔ اس ماحول میں اگر کوئی تعلیم یافتہ ہوجاتا ہے اور اس کی جگہ کم تعلیم یافتہ لے لیتا ہے اور آگے بڑھتا ہے تو پڑھے لکھے نوجوان میں نتیجتاً مایوسی ہوتی ہے۔ انہیں جب اپنا مستقبل تاریک نظر آنے لگتا ہے اور وہ غلط کاموں میں ملوث ہو جاتے ہیں‘ جرم کرتے ہیں‘ ان سب کی وجہ ایک اچھے اور مضبوط تعلیمی نظام کا فقدان ہے۔
جسارت میگزین: جامعۃ المحصنات کی کامیابیوں کے بارے میں آپ کیا کہتی ہیں؟
عابدہ سلطانہ: یہ کُل پاکستان پروگرام ہے‘ پاکستان کے مختلف شہروں میں اس کی برانچز قائم ہیں۔ جامعہ خاص طور پر خواتین کے لیے بنائی گئی ہے۔ المحصنات میں اسلامی و تاریخی تعلیم کے ساتھ عصرِ حاضر کے علوم بھی پڑھائے جاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ آج جامعۃ المحصنات کی طالبات اس قدر قابل ہیں کہ وہ ایم فِل اور پی ایچ ڈی بھی کر رہی ہیں۔
جسارت میگزین: جامعۃ المحصنات کے علاوہ دیگر اداروں سے بھی تدریسی طور پر منسلک رہیں‘ تعلیم پانے والے بچوںمیں کیا فرق محسوس کرتی ہیں؟
عابدہ سلطانہ: جامعات المحصنات کی طالبات مشنری طالبات ہیں کہ جن کا مشن طویل المدت ہے۔ میرے نزدیک اس ادارے سے نکلنے والی طالبات اور عام طالبات میں سب سے بڑا فرق مذہب کی گہرائی سے واقفیت ہے۔ ان میں بھرپور صلاحیتیں موجود ہیں‘ بہترین گفتگو کا فن‘ تنظیمی صلاحیتوں کے ساتھ اخلاقی طور پر مضبوط ہیں۔ ان طالبات کی تحقیقی طور پر بھی ذہن سازی کی جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ گزشتہ کچھ برسوں سے تحقیقی مجلے کا اجرا کیا جارہا ہے جس سے طالبات کو وابستہ کیا جاتا ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ یہ خواتین مستقبل کی خواتین کی رہنمائی کرنے کی اہل ہوں گی۔
جسارت میگزین: تحقیق کے شعبے میںدل چسپی رکھنے والے طلبہ و طالبات کو کیا مشورہ دیںگی؟
عابدہ سلطانہ: ایسے طلبہ و طالبات سے میرا اکثر واسطہ رہتا ہے۔ موضوعات کے لحاظ سے مشورہ مانگتے ہیں۔ میں اکثر انہیں اس طرح کے موضوعات دیتی ہوں جو آج کی دنیا کی ضرورت ہے۔ علمی دنیا کے اس موضوع کو نظر انداز نہ کریں‘جس سے ہم اپنے ذہن کو تازہ کر سکیں۔
جسارت میگزین: شاعری سے بھی شغف رہا؟
عابدہ سلطانہ: بالکل درس و تدریس سے منسلک ہونے سے پہلے شاعری بھی کرتی رہی جس میں اپنے دل کی بات کہہ دیتی۔ مضمون نگاری میرا بہت اچھا اور کامیاب شغف رہا۔ مختلف اخبارات میں لکھا‘ افسانے اور مضامین چھپتے رہے۔
جسارت میگزین: آج کل کے تناظر میں خاندان کی تربیت کتنی اہمیت رکھتی ہے؟ کیسے کی جاسکتی ہے؟
عابدہ سلطانہ: میڈیا نے اس وقت بگاڑ کا سامان پیدا کر دیا ہے‘ خاندان بالخصوص نئی نسل کی بہترین رہنمائی ہی ہمارا مقصد ہونا چاہیے۔ علم دوست ہونے کی حیثیت سے میرا مرکزِ نگاہ یہی ہے کہ اس دنیا کی شکل کو بدل دیں۔ اس کے لیے خاندان کو خوب صورت بنانا ہوگا‘ اس کے لیے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ ہوں‘ دین کے علم سے بہتر مند ہوں‘ خاندان کی تربیت کے لیے اپنی نسل کی تربیت کو مقصد بنائیں‘ برائیوں سے بچانے کے لیے میڈیا کے اثرات سے بچائیں‘ ان کو مطالعے کے لیے کتب مہیا کریں‘ گھروں میں کتب خانے قائم کریں‘ اچھی محافل میں لے کر جائیں۔ اپنی قریبی ماحول بنائیں‘ مثبت سیر و تفریح کریں‘ فضول قسم کے کاموں سے خود بھی رکیں اور بچو کو بھی نکالیں۔ یہی میرا پیغام بھی ہے۔

حصہ