قانون انسداد توہین رسالت,ایک تاریخی اور تجزیاتی مطالعہ

73

(چوتھا حصہ)
سابق مسلم ہندوستان میں بعض اہم واقعات رونما ہوئے، جن کے جنوبی ایشیا کے معاشرے اور سیاست پر انمٹ اثرات مرتب ہوئے۔ ان میں سے ایک مشہور واقعہ متھرا کے راجہ کا ہے، جسے توہین رسالتؐ کا مجرم پایا گیا اور مغل شہنشاہیت کے چیف جسٹس نے اسے موت کی سزا دی۔ (۱۸) مغل شہنشاہ نے متھرا کے راجہ کی زندگی بچانے کی سر توڑ کوشش کی، لیکن عدلیہ نے مغل شہنشاہ کی درخواست پر غور سے انکار کردیا۔ مسلمان علماء اور ماہرین فقہ کے اس سخت اقدام کے ردعمل کے طور پر ہی جنوبی ایشیاء کے مختلف مذاہب اور مذہبی تصوف کے خیالات و روایات کو ملا کر شہنشاہ اکبر نے ایک نیا مذہب پیش کیا جسے تاریخ میں ’’دین الٰہی‘‘ کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔ (۱۹)
برطانوی دور حکومت کے دوران ۱۹۲۰ء اور ۱۹۳۰ء کے عشروں میں ہندوئوں کی طرف سے توہین رسالتؐ کے متعدد واقعات پیش آئے، جو ہندوئوں کی تحریکوں ’’شدھی‘‘ اور ’’سنگھٹن‘‘ کا حصہ تھے۔ ان تحریکوں کا مقصد مسلمانوں کو ہندو بنانا تھا۔ چنانچہ توہین رسالتؐ کا ارتکاب کرنے والے تمام ہندوئوں کو مسلمانوں نے موت کے گھاٹ اُتار دیا۔ ان مسلم رضا کاروں پر برطانوی حکومت کے تحت مقدمات چلائے گئے اور انہیں ’’تعزیرات ہند‘‘ کے تحت موت کی سزا دی گئی۔
یہ بڑی اہم بات ہے کہ اس طرح پھانسی پانے والے تمام مسلم رضا کاروں کو جنوبی ایشیا کے مسلمانوں نے قومی ہیرو کا درجہ دیا، ان کی سوانح عمریاں لکھی گئیں، بلکہ ان کی زندگی پر بعض فلمیں بھی بنائی گئیں جو بڑی مقبول ہوئیں۔ جنوبی ایشیاء کے ممتاز مسلم رہنمائوں نے بھی ان رضا کاروں کو خراج عقیدت پیش کیا۔ انہیں عوام نے ’’غازی‘‘ کا لقب دیا اور آج بھی ان کے ناموں کے ساتھ یہ لقب لکھا اور پکارا جاتا ہے۔
مذہب انجیل میں توہین، ایک موازنہ
توہین رسالت کے قانون کی بنیاد جن اصولوں پر رکھی گئی ہے، مغربی دنیا میں ’’توہین خدا‘‘ (کلمہ کفر) کے تصور سے ان کا کوئی تعلق نہیں، چنانچہ ہم مغربی دنیا کے قوانین اور توہین رسالت کے قانون کے درمیان موازنے کا مطالبہ کرتے لیکن یہ بات مناسب معلوم ہوتی ہے کہ مغرب میں ’’کلمہ کفر‘‘ کے تصور کا تاریخی اعتبار سے جائزہ لیا جائے۔ یہ تجزیہ اس لیے بھی ناگزیر ہے کہ پاکستان میں توہین رسالت کے قانون کے ناقدین، اس قانون کو مغرب میں قانون ’’توہین خدا‘‘ کی تاریخ کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اس قانون کے پردے میں کلیسا اور ریاست نے جو زیادتیاں کیں، ان کے باعث اس قانون کے خلاف بتدریج ترد عمل ہوتا رہا، جس کے نتیجے میں بالآخر بعض ممالک میں تو یہ قانون منسوخ ہوگیا اور بعض میں برائے نام رہ گیا۔ کلیسا نے نہ صرف خود کو حضرت عیسیٰؑ کا وارث قرار دے لیا بلکہ خود ہی حضرت عیسیٰؑ کی جگہ لے لی اور یوں کلیسا خدا کا نمائندہ بن بیٹھا، نتیجہ یہ کہ کلیسا کے تصورات سے اختلاف کو ’’کلمہ کفر‘‘ (توہین خدا) قرار دے کر مستوجب سزا کرواتا گیا۔ یہ مشہور مقولہ کہ ’’تم وہ نہیں کرتے جو میں چاہتا ہوں‘‘۔ اس ضمن میں کلیسا کے رویے کا آئینہ دار سمجھا جاتا ہے۔ اس رویے سے حصول علم اور با معنی تحقیق و تفتیش کے دروازے بند ہوجاتے ہیں۔
کلیسا میں علمیت کی گرتی ہوئی سطح اور ان کی سیاسی قوت میں اضافے کے باعث کلیسا کے ناخدائوں نے ہر اس نظریے کو جو ان کی پالیسیوں سے متصادم ہوتا ’’کلمہ کفر‘‘ اور ’’توہین خدا‘‘ قرار دینا شروع کردیا۔ ریاست نے کلیسا کی ہدایت پر نہایت وفاداری سے عملدرآمد شروع کردیا اور یوں کلیسا کے اثر و رسوخ میں اضافہ ہوتا رہا اور ریاست اس کے استحکام میں آلہ کار کا کردار ادا کرنے لگی۔ ۱۵۵۳ء میں انگلستان کی ملکہ الزبتھ (اوّل) نے بعض افراد کو زندہ جلوا دیا کیونکہ ان کا عقیدہ تھا کہ حضرت عیسیٰ مسیح خدا نہیں ہیں اور چھوٹے بچوں کو بپتسمہ دینے کی ضرورت نہیں۔
انگریزی زبان کا لفظ Blasphemy دراصل یونانی لفظ ہے جس کے لفظی معانی ’’بری باتیں کرنا، بدگوئی، اتہام طرازی یا ہتک عزت‘‘ ہیں لیکن روزمرہ گفتگو میں اس سے ناپاک تقریر، مذہب یا خدا کے خلاف غلط اور توہین آمیز باتیں مراد لی جاتی ہیں۔ اخلاقیات و ادیان کی دائرہ معارف (انسائیکلوپیڈیا آف ریلچن اینڈ اتھکس) میں اس لفظ سے ’’گناہ، کلیسا یا پادری کے متعلق نصاریٰ اور یہود کے مذاہب اور دوسرے متعلقہ مذہبی مکانت فکر کے خلاف جرم‘‘ مراد لی جاتی ہے۔ یہودیوں اور عیسائیوں کی (مشترکہ) روایات کے مطابق اس لفظ کو ان متبرک اقدار اور مذہبی عقائد کے خلاف جرم کے معانی میں استعمال کیا جاتا ہے جن کا اعلان کلیسا کی طرف سے بطور مسیحی مذہبی اقدار اور معتقدات کے طور پر کیا جاتا ہے۔
یہ بات قابل غور ہے کہ انجیل کے اصل متن کی دیانت دارانہ تعبیر و تفسیر کو بھی جو سرکاری کلیسا کی تعبیر سے متضاد ہو، کلمہ کفر یا ’’توہین خدا‘‘ قرار دیا جاتا ہے، بلکہ اسے ’’خدا کے خلاف بغاوت‘‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ لیکن انجیل مقدس کے پرانے اور نئے عہد ناموں میں کلیسا کی رائے کو اتنا تقدس عطا نہیں کیا گیا۔ انجیل مقدس میں خدا کے خلاف نفرت انگیز زبان استعمال کرنے کی صاف صاف ممانعت کی گئی ہے۔
انجیل مقدس میں بعض دیگر حوالے بھی ملتے ہیں جن کے مطابق خدا کے خلاف باتیں کرنا یا اس کے نام کو بدنام کرنے والے کو سنگین (سخت) سزا کا مستوجب قرار دیا گیا ہے۔
یہ بات قابل غور ہے کہ کسی مسلم ریاست میں کسی غیر مسلم کی طرف سے خدا کے خلاف توہین آمیز کلمات کہنے پر اسے موت کی سزا نہیں دی جاتی بلکہ یہ سزا صرف اور صرف توہین رسالت کے مجرم کے لیے ہی مقرر کی گئی ہے۔ مسلم فقہا نے خدا کی توہین اور توہین رسالت پر سزا میں فرق پر تفصیلی بحث کی ہے۔
مسیحی روایات میں ’’توہین‘‘ (توہین مذہب یا خدا) کا تصور کبھی یکساں نہیں رہا۔ یہ ’’جرم‘‘ قدیم عبرانی زبان میں خدا کے پاک نام کی توہین سے لے کر بعض بے سروپا بیانات تک محیط ہے، جسے کسی کے مذہبی جذبات و احساسات مجروح ہوسکتے ہیں۔ کیا چیز، کیا بات ’’توہین‘‘ یا ’’کلمہ کفر‘‘ قرار دیے جانے کی مستحق ہے، اس کا تصور بھی ایک معاشرے سے دوسرے معاشرے تک اور ایک مقام سے دوسرے مقام بلکہ وقت کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتا رہا ہے لیکن جس بات کو بھی ’’توہین آمیز گردانا گیا، اسے آزادی کا غلط استعمال ہی قرار دیا گیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کوئی بھی معاشرہ اس نوع کی ’’توہین‘‘ یا توہین آمیز کلمات برداشت نہیں کرسکتا۔ مسیحیت کی تاریخ میں کس نوع کے اعمال یا کلمات کو ’’توہین مذہب‘‘ یا ’’توہین خدا‘‘ قرار دیا جاتا رہا ہے، اس کی وضاحت کے لیے ہم درج ذیل امور کا ذکر کریں گے۔
٭ حضرت عیسیٰ مسیحیؑ پر لعنت بھیجنا، ان کی شان میں بدگوئی، ان کی نبوت کو چیلنج کرنا، لعنت ملامت کرنا، ان کی ہنسی اڑانا یا ان کا انکار کرنا۔
٭ خود کو حضرت عیسیٰؑ کی طرح کا یا ان کی جگہ ظاہر کرنا۔
٭ ان کی ہمسری کا دعویٰ کرنا۔
٭ ان کی بطور (نبی) استعداد اور ان کے سے اوصاف کا مالک ہونے کا دعویٰ کرنا۔
٭ خدا کے کسی کام یا روح القدس کو جس نے حضرت عیسیٰؑ کو اللہ کے پیغام سے متحرک کیا، برائی یا غیر اخلاقی قرار دینا۔
٭ مذہب سے انکار یا مذہب سے پھر جانا (مرتد ہونا)۔
٭ حضرت عیسیٰؑ کی تعلیمات سے انکار یا اختلاف کرنا۔
یہ بات قابل غور ہے کہ ان اعمال میں سے بیش تر مذہب سے انکار یا ارتداد ہی سمجھے جاتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان اعمال یا پیغمبر کے بارے میں کلمات کو پیغمبر کی توہین تصور نہیں کیا جاتا۔ مثال کے طور پر اگر کوئی غیر مسلم اس بات سے انکار کرے کہ محمدؐ خدا کے رسول ہیں، تو اسے توہین رسالت کا ملزم قرار نہیں دیا جائے گا اور نہ اس قانون کے تحت اسے سزا کا مستوجب سمجھا جائے گا۔ اس طرح کئی غیر مسلم رسول اللہؐ کی تعلیمات سے انکار کرے یا کسی ایک حکم سے اختلاف کرے تو وہ اس وقت توہین رسالتؐ کا ملزم نہیں ٹھہرایا جائے گا جب تک وہ پیغمبرؐ یا ان کی تعلیمات کے بارے میں توہین آمیز کلمات استعمال نہ کرے۔ اس کا یہ مطلب ہے کہ عیسائیت میں ’’توہین‘‘ کے قانون کا نفاذ اور اس کا دائرہ عمل شاتم رسول کے متعلق اسلامی قانون سے زیادہ وسیع ہے۔
یہودیوں اور عیسائیوں میں ’’توہین پیغمبر‘‘ کا جو تصور ہے، اس کے باعث بھی اس موضوع پر قانون کے اطلاق میں ترقی یا فروغ پر منبی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
یہ بات بڑی اہم ہے کہ توہین پیغمبر یا توہین مذہب کے مقدمات میں فیصلہ سناتے ہوئے انگلستان اور امریکا کے جج صاحبان بھی بڑی حد تک انہی اصولوں سے رہنمائی حاصل کرتے، جو توہین رسالتؐ کے ضمن میں مسلم فقہا کے ذہنوں میں رہتے ہیں۔ مثال کے طور پر 1676ء میں ایک کاشت کار جون ٹیلر نے مذہب اور حضرت عیسیٰؑ دونوں کی توہین کی۔ اسے شاہی عدالت سے سزا دی گئی۔ اس وقت کے چیف جسٹس میتھیوہب نے فیصلہ دیا کہ لادینی (سیکولر) عدالتوں کو توہین پیغمبر (یا توہین مذہب) کے مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل ہے اور وہ توہین کے مرتکب کو سزا سنا سکتی ہے اور یہ کہ عیسائیت ملکی قانون کا ایک حصہ ہے اور ریاست کو حکمت اور مذہب کو ختم کیے جانے کی کوشش کے خلاف تحفظ دینا چاہیے۔
چیف جسٹس کے اس فیصلہ کا آخری حصہ خاص طور پر بہت اہم ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کی توہین کا جرم مذہب (دین مسیح) اور حکومت کو ختم کرنے کی کوشش تصور کیا جائے گا۔
بعض مغربی عالموں نے بھی ’’توہین‘‘ کے مجرموں کو دوسرے مذاہب کے پیروکاروں کی طرف سے سزا دینے کا حق تسلیم کیا ہے۔ ’’انسائیکلو پیڈیا آف ریلیجنز‘‘ (مذاہب کی دائرئہ معارف) کے ایک مضمون نگار کارل۔ ڈبلیو۔ ارنسٹ نے تسلیم کیا کہ ’’یہودی یا مسیحی مذہب کی روایات کو ہی ’’توہین‘‘ کے تصور پر اجارہ داری حاصل نہیں۔ کوئی بھی معاشرہ اپنے دیوتائوں کی توہین یا ان کو مسترد کرنے والوں کو ضرور سزا دیتا ہے کیونکہ مذہب (یا پیغمبر) کی توہین ناقابل برداشت ہے۔ یہ پادریوں کے طبقہ کی توہین اور انہیں للکارنے کے مترادف ہے، اس سے عبادت گزاروں کے مضبوط اور دل میں رچے بسے عقائد اور بنیادی مذہبی اقدار کی شدید خلاف ورزی بلکہ اہانت ہوتی ہے جو کسی بھی طبقے کے افراد میں یکساں طور پر پائے جاتے ہیں‘‘۔
ارنسٹ کے مطابق ’’توہین مذہب‘‘ (یا پیغمبر) تو ایک طرح سے کسی معاشرے کی ان اقدار اور معیار کا امتحان ہوتا ہے جو یہ معاشرہ مذہبی امن، نظم و ضبط، اخلاق اور سب سے بڑھ کر اخروی نجات کے لیے ناگزیر تصور کرتا ہے۔
قانون توہین رسالت کے بارے میں غلط فہمیاں
ہمارے معاشرے کے بعض حلقوں کی طرف سے قانون توہین رسالت کے متعلق غلط فہمیوں کا اظہار کیا جاتا ہے۔ ان پر بحث سے قبل ہمیں یہ دیکھ لینا چاہیے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے مطابق ریاست، جمہوریت، آزادی، مساوات، تحمل و برداشت اور سماجی انصاف کے اصولوں کی سربلندی کی ضامن ہے، مگر اس طرح نہیں جس طرح یہ اصطلاحات مغربی معاشرے یا کسی بھی اور نظریاتی نظام میں سمجھی جاتی ہیں بلکہ ان اصطلاحات کو اسلام کے حوالے سے دیکھا اور سمجھا جائے گا۔ (آرٹیکل ۳۳۔ الف) یہ بات آئین کے حصہ ’’قرار داد مقاصد‘‘ میں کہی گئی ہے اور بانیان پاکستان نے قرار داد مقاصد کو آئین کا حصہ اس لیے قرار دیا ہے کیونکہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ ان اصطلاحات کی تعبیر و تشریح اس طرح ہو جس یورپ کی لادینی روایات یا کسی بھی اور ثقافت کی روایات کے تحت کی جاتی ہے بلکہ وہ ان اصطلاحات پر اسلام کی روح کے مطابق عمل درآمد کے خواہشمند تھے۔
اس کے ساتھ ہی ساتھ کسی شک و شبہ کے بغیر یہ بات بھی درست ہے کہ آئین پاکستان میں غیر مسلم اقلیتوں کو قانون، حکومتی پالیسی اور اخلاقی اصول و ضوابط کے مطابق حقوق کی مکمل ضمانت دی گئی ہے۔ آئین پاکستان میں شہریوں کے حقوق و مراعات کی بعض حدود مقرر کی گئی ہیں۔ قانون کی اپنی ضروریات ہیں جہاں تک سرکاری پالیسی یا اخلاقیات کا تعلق ہے تو ان کی تعبیر و تشریح عوام کی اکثریت کے احساسات اور امنگوں کے مطابق ہی کی جائے گی۔
بعض لوگ اس قانون (قانون توہین رسالت) پر اس لیے اضطراب محسوس کرتے ہیں کہ وہ اسے آئین میں دیے گئے بنیادی انسانی حقوق کے منافی تصور کرتے ہیں لیکن ان کا یہ اضطراب خود آئین پاکستان میں دی گئی بلکہ نافذ کی گئی حدود و قیود کی روشنی میں بلاجواز ہے۔ سیاسی طور پر بھی پاکستان میں غیر مسلم اقلیتوں کے لیے یہ بات قرین مصلحت نہیں کہ وہ اس قانون پر ناک بھوں چیھائیں، وہ اچھی طرح جانتے ہیں، نہیں جانتے تو جان لینا چاہیے کہ پاکستان کے مسلمان کسی بھی شخص کا، جن میں اقلیتیں بھی شامل ہیں، یہ دعویٰ کرنے کا حق تسلیم نہیں کرتے کہ انہیں کسی بھی بہانے یا کسی بھی طرح اسلام یا ان کے پیغمبرؐ کی توہین کی آزادی دے دی جائے۔ پاکستان کے مسلمانوں کے لیے یہ منطق قابل فہم نہیں ہوسکتی کہ تاریخ انسانی میں مقدس ترین اور سب سے زیادہ چاہے جانے والی شخصیت کی توہین کی اجازت دے دی جائے۔
پاکستان کے (نام نہاد) آزاد خیال دانش ور دراصل خود اپنے نظریہ آزادی کی تنگ نظری اور تعصب کی تفہیم میں ناکام رہے ہیں۔ سائنسی انداز فکر اور آزاد خیال کے نام پر جو کچھ کیا اور کہا جارہا ہے وہ انسانی حقوق اور شائستگی کے لیے مذہب کے نام کی جانے والی باتوں اور اعمال سے زیادہ تباہ کن ثابت ہوا ہے۔
(جاری ہے)

حصہ