سوشل میڈیا پر لبیک اقصیٰ کی صدائیں

124

یہ ہفتہ تمام حوالوں سے مسجد اقصیٰ کے نام رہا گوکہ ’ٹوکٹے ‘نامی طوفان کی بھی بازگشت رہی۔ کراچی میں ایک دن شدید گرمی کے بعد چند گھنٹے موسم بہتربھی ہوا، کچھ پانی بھی برسا، لیکن طوفان نے بھارت کا رخ کر لیا جو پہلے ہی کورونا حالات سے لڑنے میں مصروف تھا ۔اب تک ساحلی طوفان سے کوئی 40افراد کی اموات اور اس سے دگنے افراد کی گمشدگی 16ہزار گھروں کی تباہی کی اطلاعات بین الاقوامی میڈیا دے رہا تھا ۔اس کے بیچ میں کہیں سے نیو چینل کا مارننگ شو بھی زیر بحث آگیا اس کے ایک کلپ میں مہمان نے مردو خواتین کے میوزیکل چیئر پر سخت اعتراض کیا اور عوام کے دلوں کی آواز بن گیا۔ سیاسی میدان میں جہانگیر ترین نے اپنا ایک گروپ بنا کر حکومت کے سیاسی مخالفین کو زبان دی۔ تاہم تحریک انصاف کی میڈیا ٹیم نے ٹوئٹر پر عمران خان کے حق میں خوب مہم جاری رکھی اور اپنی تنخواہ حلال کی۔ مجموعی بات کی جائے گی فلسطین کی جسے دنیا کے نقشے سے ہی ختم کر دیا گیا ہے۔ گوگل میپ پر لکھیں تو وہ اسرائیل کو دکھاتا ہےبہرحال اسرائیل عربی ورژن کے آفیشل ٹوئیٹر اور ویری فائڈ اکاؤنٹ کاایک اسکرین شاٹ جس میں سورۃ فیل بطور ڈسکرپشن اور تصویر غزہ پر بمباری کی ڈالی گئی تھی۔ 18مئی اس پر تاریخ درج تھی لیکن میرے چیک کرنے پر ایسی کوئی پوسٹ مجھے وہاں نہیں ملی ، ہو سکتا ہے ہٹا دی گئی ہو، شرارت ہو یا کچھ اور مگر جو کچھ اُس اکاؤنٹ سے ملا وہ زہر بہت اہم تھا۔ یقین کیجیے کہ سوشل میڈیا ہمارا ٹول نہ تھا نہ ہے نہ ہو سکتا ہے ، ہم کھیل تماشوں میں ہی وقت ضائع کر سکتے ہیں یا پھر ’وقار ذکا ‘کی طرح پیسہ بنانے میں ۔ جو کام اسرائیل عربیہ کا پیج کر رہا ہے وہ انتہائی باریک و گہرا کام ہے، جنوری 2011 سے شروع ہونے والے اس ٹوئٹر اکاؤنٹ پر صرف ساڑھے چار لاکھ فالوورز تھے لیکن جو کام وہ اکاؤنٹ کر رہا تھا ، عربوں کے اندر اُسے بہت باریک نظریاتی کام قرار دیا جا سکتاہے ۔ حماس و اس کی قیادت کے خلاف ذہن سازی میں جھوٹے واقعات و پوسٹوں کے ساتھ پورا کام سنجیدگی کے ساتھ انجام دے رہا ہے۔ایک پوسٹ میں بتایاگیا کہ اردن سے میڈیکل کا سامان آرہا تھا جسے حماس کے میزائل حملوں کی وجہ سے غزہ جانے سے روک دیا گیا، یہ ہے حماس کے نزدیک انسانی جانوں کی قیمت۔اب اس پوسٹ کے نیچے عرب دنیا کے تبصرے جاری تھے ، لوگوں نے کہا بھی کہ یہ جھوٹی پوسٹ ہے لیکن نقار خانے میں یہ صدا کہاں تک پہنچی ہوگی۔اسی طرح لبنان کی سمت سے کئی میزائل حملوں کا ذکر پوسٹوں میں کر کے اسرائیل کی مظلومیت کا رونا رویاگیا۔اسی طرح کی دیگر پوسٹوں سے ان کا پیج بھرا ہوا تھا جس کا مقصد حماس سے لوگوں کو متنفر کرنا ، یہ باور کرانا کہ امن و امان کی خرابی کی ذمہ دارصرف حماس ہے اور اسرائیلی یہودی تو نہایت امن پسند اور ’نفیس‘ لوگ ہوتے ہیں۔اسی تناظرمیں کسی نے تحریک انصاف کی رکن قومی اسمبلی عاصمہ حدید کی دو سال پرانی اسمبلی خطاب کی ویڈیو دوبارہ اپلوڈ کردی ، جس پر تحریک انصاف کو دوبارہ رگڑا ملا کہ عوام ایک جانب فلسطینی مسلمانوں پر مظالم دیکھ کر افسردہ ہے دوسری جانب یہ کہہ رہی ہے کہ مسجد اقصیٰ یہودیوں کی ہے ۔ یہ ویڈیو تودو سال پرانی تھی مگر تاز ہ اسمبلی سیشن میں ان ہی خاتون رکن اسمبلی نے جو خطاب کیا اور خود جہاد پر سب سے پہلے جانے کا اعلان کیا اُس کو جان بوجھ کر شیئر نہیں کیا گیا۔ بہرحال اگر کوئی انسان مطالعہ کرکے یا دوسروں کے بتانے پر اپنی اصلاح کر لے تو اس کی تعریف و ستائش کی جانی چاہیے ۔
یو ٹیوب پر لبیک اقصیٰ یالبیک غزہ کے عنوان سے اگر سرچ کریں تو یقین کریں کہ ترانوں کی وڈیوز کا اتنا زبردست جذباتی کلیکشن ملے گا کہ ایمانی مزا آجائے گا۔اس سے قبل بلکہ چند برس قبل اس کا تصور نہیں تھا ، نعتوں کے کلیکشن، نوحہ یا دعائیہ و حمدیہ کلام کے سوا کوئی مواد نہیں ہوتا تھا۔نعت سے ہٹ کر اِصلاحی یا امت کادرد لیے تمام شاعری و منظوم کام صرف جماعت اسلامی سے جڑے ہوئے تھے مگر آج ایسا نہیں ہے ۔ حقیقت اپنی جگہ برقرار رہےگی کہ سلیم ناز بریلوی ؒمرحوم کے ذریعہ جو شمع جلی اس کو سید نعمان شاہ بخاری نے اس حد تک مزید روشن کیا کہ پاکستان سمیت پوری دنیا میں یہ روشنی کام کر گئی۔ انقلابی و جذباتی ترانوں و نشید کی ویڈیوزمیں گذشہ سال سے ایک نئی روح ’ارتغرل‘، ’عثمان‘ و ’نظام عالم‘ نامی ترک ڈرامہ سیریل سے پڑی ۔ ان ڈراموں کا کمال ہے کہ اسکے مناظر ہر طرح کی انقلابی، اسلامی، جذباتی شاعری سے مکمل میچ کرتے ہیں پھرتمام شاٹس ہیں بھی ہائی کوالٹی کے ، تو اس پر ایڈیٹر کی مہارت نے مزید جان ڈالی اور کلام اقبال سے لیکر شان صحابہ تک اور کئی دیگر انقلابی ترانوں کی بھرمار ہو گئی۔ ارتغرل سیریز خود اتنی طویل اور اتنے مناظر سموئے ہوئے ہے کہ ہزار ترانے اور بھی آجائیں تو کوئی شاٹس کا مسئلہ نہیں رہا۔اسکے بعد عثمان شروع ہوگئی بات نہیں رکی تو اب نظام عالم نے ناظرین کے اندر پنجے گاڑھ لیے ہیں دوسری جانب مندرمان جلال الدین کی سیریز بھی کچھ عرصے میں ایسی ہی مقبول ہو جائے گی ۔ترک صدر ہو یا ڈرامے بہرحال دور تک وار کر رہے ہیں ۔ اب مسجد اقصیٰ کا معاملہ اٹھاتو جس طرح صدر ایردوان کے جملے کوٹ ہوتے رہے مختلف اسٹیٹس ویڈیوز کے طور پر اُسی طرح جذباتی و انقلابی ترانوں کا معاملہ اور گرم ہوگیا ۔ مسجد اقصیٰ ( فلسطین ، غزہ) سے بھی کئی فوٹیجز آ رہی تھیں لیکن اُن میں زیادہ تر اسرائیلی بمباری و تباہی کی ویڈیوز ہوتیں ، مگر ترک ڈراموں سے جب کفار کے گلے کاٹنے کی ویڈیوز ترانوں کے اشعار ے مطابق لگائی گئیں تو ناظرین کا جوش و مزہ دوبالا ہوجاتا۔تادم تحریر کوئی بیس کے قریب ترانے ان دنوں میں تیار کر کے اپلوڈ ہو کر یہ بات بھی بتا رہے تھے کہ اس معاملے پر سب مسلمان ہر لحاظ سے ایک ہی پیج پر ہیں ۔معاویہ بن اعظم ایک پاکستانی نوجوان طالب علم ہے جس نےاپنی صلاحیتوں کو اسی راہ میں وقف کردیا، اپنے یو ٹیوب چینل کو53خوبصورت ترانوں کی ویڈیوزسے ایک سال میں ساڑھے تین کروڑ ویورز تک پہنچایا ۔ اس کی نہیں بلکہ ایسے کئی چینلز ہیں جن میں پیس اسٹوڈیوز، ایڈکس زون، وائی ایس پرو، نشید کلب، روحانی میڈیا، اسلامک میڈیا، نشید ریلیزس، نشید ۱،اسلامک انٹرٹینمنٹ سمیت کئی چینلز خوب پیسہ بنا نے میں مصروف ہیں ۔ اب یہاں میری سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ سب چینلز صرف اور صرف دینی ، اصلاحی ، تربیتی و انقلابی مواد بہترین تیاری کے ساتھ نشر کرتے ہیں مگر ان میں کچھ چینلز نے یو ٹیوب سے اشتہارات آن کروائے مطلب مانیٹائزیشن کروائی ہوئی ہے کہ اس کے آغاز میں یا درمیان میں جو بھی اشتہار چلے گا لوگ اس کو جتنا دیکھیں گے اس کے بدلے یو ٹیوب والے ان کو پیسہ دیں گے اس لیے زیادہ سے زیادہ ناظرین پانے وسبسکرائبر بڑھانے کے لیے ہی یہ سب کیا جا تا ہے ۔ یہاں آکر میں بھی پریشان ہوجاتا ہوں کہ آخر کیوں یہ سب کے سب اتنا جہادی ، اصلاحی ، دعوتی ، دینی ، انقلابی کلام پیسہ کمانے کے لیے چلاتے ہیں ۔ ایسی کیا مجبوری ہوسکتی ہے ؟ بہرحال اس کا جواب ان سب سے براہ راست لینے پر ہی درست اندازہ ہوگا ۔
فی زمانہ ظاہری طور پرکسی بھی مسئلہ پر طاقتور کے سامنے احتجاج کرنے کا مہذب طریقہ یہ بن چکا ہے کہ لوگ زیادہ سے زیادہ تعداد میں جمع ہو کراظہار خیال کریں ۔ نعرے لگائیں ، بینر لگائیں، پوسٹر یا کسی اور ذریعہ ابلاغ سے بتائیں کہ وہ کیا چاہتے ہیں ۔ فلسطین میں جاری اسرائیلی درندگی پر بھی دنیا بھر میں یہی طریقہ اپنایا گیا۔ عوام سڑکوں پر نکلیں ، جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سراج الحق نے مزید قدم بڑھاتے ہوئے فلسطین فنڈ جمع کرنے کی اپیل کی تو اس میں عوام نے حصہ ملایا۔اتفاق یہ بھی ہوا کہ عوام تو عوام ہوتے ہیں حکمران طبقہ نے بھی یہی کام کیا جو وہ 60-70برس سے کر رہا ہے ماسوائے 60کی دہائی میں ہونے والی 2ناکام جنگوں کے ۔مذمتی قراردادیں ہوئی اور کچھ نہیں ۔ اس بار سوشل میڈیا پر عوام نے شدت سے حکمرانوں کو خوب لتاڑا کہ عوام کا مذمت کرنا تو سمجھ آتا ہے حکمرانوں کو زیب نہیں دیتا۔ لوگوں نے سوال کیاکہ غوری، و دیگر میزائل ٹیکنالوجی کب کام آئے گی؟یہ سوال بھی سوشل میڈیا پر خاصا وائرل رہا کہ ’بھائی ہونے کا تو تم کہہ رہے ہو یہ تو بتاؤ ہابیل ہو یا قابیل ۔‘ایک بار پھر اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کی بات کی گئی۔ یہی نہیں فیس بک انتظامیہ نے فلسطین کے حق میں اور اسرائیل مخالف پوسٹوں پر خوب ایکشن لیا اور ہزاروں اکاؤنٹس اِس وجہ سے بندکیے گئے ۔اس کے جواب میں فیس بک کی موبائل ایپلیکیشن کی ریٹنگ گرانے کی مہم واٹس ایپ پر زور و شور سے چلائی گئی ، مگر وہ اتنا لمبا و پیچیدہ طریقہ تھا کہ واللہ اعلم کتنے لوگ اس پر عمل کر پائے ہوں گے ۔
ریٹنگ بہرحال کچھ نہ کچھ اثر رکھتی ہے ،جس طرح مصنوعات کا بائیکاٹ اہمیت کا حامل ہے اگر واقعی کیا جائے ۔حماس کے حوالے سے ایک اندرون خانہ مہم جاری تھی اس تناظر میں فیض اللہ خان نے حق لکھا کہ کرنے کا کام یہ ہے کہ اسلامی ممالک میں رائے عامہ ہموار کرکے مسلم دارالحکومت یہود و نصاریٰ کے ایجنٹوں سے چھڑائے جائیں ۔علمی سیاسی معاشی میدان میں طاقت حاصل کی جائے ۔مسلم افواج کو بار بار اور مسلسل ان کی ذمہ داریوں سے آگاہ کیا جائے بتایا جائے کہ ان مقبوضات کی بازیابی آپکا کام ہے کسی گروہ کا نہیں ۔ اِس سے کم از کم ایک دباؤ کی صورت برقرار رہے گی ۔پھردنیا بھر میں جاری ایسی جہادی تحریکوں کی حمایت کی جائے جو عالمی و مقامی خفیہ اداروں کی مداخلت سے آزاد ہوں اور اسلام کی روح ِجہاد سے واقف ہوں ، ارض قدس پہ جاری مزاحمت کی ہر ممکن مدد کی جائے اور اس مسئلے کو فراموش کرنے کے بجائے اگلی نسلوں تک منتقل کیا جائے ۔ارض قدس پہ موجود ذہین نوجوانوں کو اسلامی ممالک یا یورپ میں پناہ دلوا کر اعلی تعلیم اور معیشت کی مضبوطی کے منصوبے پہ عمل کیا جائے تاکہ تحریک کا تسلسل برقرار رہے۔
اسی تناظر میں ایک دوست نے کہاکہ یہودیوں نے سو سال قبل 1920میں جو پلاننگ کی تھی یعنی خلافت عثمانیہ کے اختتام پر اپنے لیے جو منصوبہ بنایا تھا آج وہ بالکل اُس کے مطابق وہیں پہنچے ہوئے ہیں جو انہوں نے راستہ بنایا۔ امریکا جو پوری مغربی دنیا اُن کی پشت پر ہے ، چند لاکھ یہودی اس وقت پوری دنیا کی معیشت و ٹیکنالوجی پر قابض ہیں۔مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کا مقابلہ غلیل سے مظلوم فلسطینی مسلمان کر کےاپنی زندگی و حریت کا ثبوت دے رہے ہیں ۔اس تناظر میں گو کہ اکثریت بلکہ سیکولر و لبرل لابیز بھی احتجاج کرنے میدان میں نکل آئیں ، ٹوئٹر پر پورا ہفتہ ہی کئی ٹرینڈز اس حوالے سے جاری رہے جن کو ایک نظر دیکھ کر بھی آپ کو زیر بحث گفتگو کا اندازہ ہو سکتا ہے۔ ان ٹرینڈز میں #PalestiniansLivesMatter، #SaveGazaFromZionists، #FreePalestine، #WhereMuslimsStand، #OIC_CheatPalestine

حصہ