پروفیسر شمیم حنفی: کثیر الجہات شخصیت

124

پھر لوٹ کے اس بزم میں آنے کے نہیں ہیں
ہم لوگ کسی اور زمانے کے نہیں ہیں
درج بالا شعر کے خالق متاز ادیب، نقّاد، ڈراما نگار، شاعر اور مترجم پروفیسر شمیم حنفی بھی ایک نادیدہ وائرس کا شکار ہوکر اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ ان کی وفات معاصرِ اردو ادب کے لیے بڑا سانحہ ہے۔ اردو ادب کے حوالے سے آپ کو بھارت اور پاکستان کے علاوہ عالمی سطح پر منعقدہ تقاریب میں بھی مدعو کیا جاتا تھا۔ پاکستان میں منعقدہ عالمی اردو کانفرنس کے علاوہ متعدد ادبی تقاریب میں شرکت کے لیے کورونا سے پہلے تک آتے رہے تھے۔
ان کے جانے سے یقیناً ادب کی دنیا میں ایک بڑا خلا پیدا ہوگیا ہے، اور یہ خلا کئی سمتوں میں محسوس کیا جائے گا- شمیم صاحب جب آخری بار کراچی تشریف لائے تھے تو محترم تحسین فراقی کے ساتھ آرٹس کونسل میں آپ سے ایک ملاقات ہوئی، بات انٹرویو کی ہوئی تو انتہائی ملنسار شمیم حنفی نے کہا اب تو میرے جانے کا وقت ہو گیا ہے لیکن ہندوستان پہنچ کر انٹرویو فون یا زوم پر کرلیں گے- انہوں نے کہا کی اہلیہ کے موبائل کےذریعے رابطہ ہو جائے گا۔ شمیم صاحب اپنی اہلیہ صبا شمیم صاحبہ کی فیس بک آئی ڈی سے ہی لوگوں سے رابطے میں رہتے تھے۔ لیکن بس پھر اپنی مصروفیات اور اس سے زیادہ سستی کی وجہ سے یہ ممکن نہ ہوسکا جس کا ہمیشہ ملال رہے گا۔
شمیم حنفی پاک و ہند کی ادبی دنیا کے بڑے آدمی تھے۔ آپ کی تصانیف اردو ادب کا بیش قیمت سرمایہ ہیں۔ شمیم حنفی17 نومبر 1938ء کو اتر پردیش کے شہر سلطان پور میں ایڈووکیٹ محمد یاسین صدیقی اور بیگم زیب النسا کے گھر پیدا ہوئے یہ وہی سلطان پور ہے جسے آج لوگ مجروح کے نام سے جانتے ہیں- آپ چھ بہن بھائیوں میں سب سے بڑے تھے۔ شمیم حنفی کو گھر والے شمی کے نام سے پکارا کرتے تھے۔ آپ کا شمار ہمارے اُن گنے چنے اہلِ علم میں ہوتا ہے جو لکھنے کے ساتھ بولنے پر بھی قادر ہوتے ہیں- شمیم حنفی کثیر المطالعہ تھے۔ وہ بھارت اور پاکستان کے ادبی رسائل کا مطالعہ کرتے اور پاکستان کے ادیبوں اور شاعروں سے بھی ان کے بڑے گہرے روابط رہے۔ شمیم حنفی کا حافظہ بہت قوی تھا، ان کے والدین کی تربیت کا یہ عنصر بھی قابلِ ذکر ہے کہ خود شمیم حنفی نے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ ’میرے والد نے اس دور کے ممتاز شعرا کی نظمیں مجھے یاد کرائیں جس سے میرے حافظے کو خوب جِلا ملی۔ ان کء والد اس وقت کی سیاست میں بھی متحرک تھے اور علم و ادب سے بھی شغف رکھتے تھے یہی وجہ ہے کہ وہ شمیم صاحب کو مختلف لوگوں کو پڑھنے کا بھی کہا کرتے تھے- انہوں نے ٹیگور کو بھی پڑھا۔ مولوی مغیث الدین سے فارسی زبان سیکھی- اردو ادب میں دلچسپی ان کے والد کی اردو، تاریخ اور انگریزی کے استاد سید معین الدین قادری سے قربت کا نتیجہ تھی۔ آپ کو زمانہ طالبِ علمی میں کئی صاحبانِ علم و فضل سے سیکھنے کا موقع ملا جن میں فراق گورکھ پوری، احتشام حسین، ستیش چندردیب جیسی شخصیات شامل ہیں۔ الٰہ آباد یونیورسٹی اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ 1976میں پروفیسر آل احمد سرور کی نگرانی میں دوہرے امتیازات کے ساتھ ڈٰی لٹ کی باوقار سند حاصل کی۔ اسی سال آپ کا تقرر جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی میں بحیثیت لیکچرر ہوگیا۔ اپنی غیر معمولی صلاحیت اور علمی قابلیت کی بنا پر وہ چند ماہ بعد ہی ریڈر کے عہدے پر فائز ہوئے اور 1984میں پروفیسر کے منصب پر فائز ہوگئے۔ آپ کئی دفعہ شعبۂ اردو کے صدر رہنے کے علاوہ ڈین فیکلٹی آف ہیومینٹیز اینڈ لینگویجز اور اردو کارسپانڈنس کورس کے ڈائریکٹر بھی رہے۔ 2007 میں جامعہ کی تدریسی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہوئے مگر ان کی علمی و ادبی صلاحیتوں سے جامعہ کو محروم نہ کرنے کی غرض سے انھیں پروفیسر ایمرٹس بنا دیا گیا۔
پروفیسر شمیم حنفی نے اپنی تعلیمی و تدریسی مصروفیات کے ساتھ ساتھ اردو ادب کی بے مثال خدمت کی- آپ کی تحریر اور مرتب کردہ کتابوں میں ’’جدیدیت کی فلسفیانہ اساس‘‘، ’’پریم چند کے منتخب افسانے‘‘، ’’کہانی کے پانچ رنگ‘‘، ’’فراق، شعر و شخص‘‘، ’’فراق، دیارِ شب کا مسافر‘‘، ’’سرسید سے اکبر تک‘‘، ’’منٹو حقیقت سے افسانے تک‘‘، ’’غزل کا نیا منظر نامہ‘‘، ’’اردو کلچر اور تقسیم کی وراثت‘‘، ’’میرا جی اور ان کا نگار خانہ‘‘، کالموں کا مجموعہ ’’یہ کس خواب کا تماشا ہے‘‘، ’’دکانِ شیشہ گراں‘‘، اور خاکوں کی کتاب ’’ہم سفروں کے درمیان‘‘، ’’اقبال کا حرفِ تمنا‘‘ ان کی چند نہایت اہم اور قابلِ ذکر کتب ہیں۔ شمیم حنفی نے تراجم کے علاوہ ڈرامے اور بچوں کے لیے بھی کہانیاں تخلیق کیں۔ آپ کے علمی و ادبی خطبات بے حد معروف و مقبول رہے۔ ہائیڈل برگ جرمنی میں منعقد عالمی اقبال سیمینار میں آپ نے اقبالیات پر اپنا گراں قدر مقالہ بھی پیش کیا۔ اس سے قبل علامہ اقبال گورنمنٹ کالج لاہور میں بھی مقالہ پیش کرنے کا موقع ملا جسے علامہ اقبال کی فکری جہات کی تفہیم میں ایک صحت مند اضافہ تسلیم کیا گیا۔ آپ کی ادبی خدمات کے اعتراف میں کئی بڑے اداروں، تنظیموں اور اکادمیوں نے آپ کو اعزازات سے نوازا جن میں مولانا ابو الکلام آزاد ایوارڈ، مغربی بنگال اردو اکادمی کا پرویز شاہدی ایوارڈ، غالب ایوارڈ دہلی اردو اکادمی ایوارڈ، اتر پردیش اردو اکادمی کی طرف سے اعزاز وٖغیرہ شامل ہیں۔ 2021 کی شروعات میں مجلس فروغ اردو ادب قطر کی جانب سے آپ کی مجموعی خدمات کے اعتراف میں عالمی فروغ اردو ادب ایوارڈ 2021 دینے کا اعلان کیا گیا تھا۔
فیض احمد فیض آپ کے پسندیدہ شاعر تھے- آپ ایک پروگرام میں فیض کی انقلابی شاعری پر اظہار خیال فرما رہے تھے۔ اس درمیان علامہ اقبال کی شاعرانہ عظمت کا ذکر نکل آیا۔ آپ نے برجستہ طور پر فرمایا ’’فیض احمد فیض اپنی تمام تر شاعرانہ عظمتوں کے باوجود علامہ اقبال کی شاعرانہ رفعتوں کے آس پاس بھی نہیں پہنچتے۔‘‘ آپ نے شاعر اقبال کے فکری مباحث کا مطالعہ بہت باریک بینی سے کیا تھا اسی لیے نہایت اعتماد کے ساتھ اقبال کی شاعرانہ عظمت کے معترف تھے۔ اپنی کتاب اقبال اور عصر حاضر کا خزانہ میں  لکھتے ہیں ’’اقبال ہماری فکری روایت کے سب سے بڑے مفسر تھے۔ اپنی آگہی اور وسعت فکر کے لحاظ سے اقبال کا کوئی پیش رو اور کوئی ہم عصر ان کے رتبے کو نہیں پہنچتا۔ اردو کی فلسفیانہ روایت اور اجتماعی فکر کا نقطہ عروج ہمیں اقبال کی شاعری اور نثر میں نظر آتا ہے۔‘‘ آپ کا شمار اردو کے ممتاز ترین نقادوں میں ہوتا ہے۔ آج کی ادبی تنقید کی دنیا میں بہت اہم نام آپ کا ہے۔ اردو تنقید کے ساتھ ساتھ شمیم حنفی ادب کے علاوہ مصوری سے بھی غیر معمولی وابستگی رکھتے تھے۔ ان کی شاعری کا مجموعہ ‘آخری پہر کی دستک 2015 میں ریختہ میں شائع ہوا۔ اپنے مرحوم والدین کو یاد کرتے ہوئے انھوں نے نظم بعنوان ’مرحوم والدین کے نام‘ لکھی تھی۔
عسکری صاحب کے حوالے سے اپنے ایک مضمون میں لکھا۔ ’’شاید اردو کے واحد نقاد تھے جو مغرب کے بڑے بڑے ادیب اور عالم سے برابر کی سطح پر گفتگو کرتے تھے اور مرعوبیت یا کسی خوش گمانی کے شائبے کے بغیر مشرق کی ذہنی، حسیاتی اور تہذیبی انفرادیت اور برگزیدگی پر اصرار کر سکتے تھے۔ اس معاملے میں ہر چند کہ وہ کسی خانہ بندی کے قائل نہ تھے اور اپنی ادبی زندگی کے اوائل میں انہوں نے بہت وضاحت کے ساتھ یہ بات کہی تھی کہ ’’اگر ہمیں اپنے ادب کو انسانی ترکے کا ایک حصہ بنانا ہے تو ہم زیادہ عرصے تک اپنے آپ کو زمان و مکاں میں محدود نہیں رکھ سکتے۔ ادب میں ڈیڑھ اینٹ کی الگ الگ مسجدیں نہیں بن سکتیں۔ اگر ہم اردو ادب میں صرف نئی نئی راہیں کھول دینے پر ہی مطمئن نہیں ہیں، بلکہ واقعی ’’سونے کی سرزمینیں‘‘ فتح کرنا چاہتے ہیں تو جلد یا بدیر ہمیں نہ صرف اپنے پیش روؤں سے بلکہ ساری دنیا کے بڑے بڑے نثر نگاروں اور شاعروں سے اپنا مقابلہ کرنا پڑےگا۔ یہ کام آنے والی نسلیں تو خیر کریں گی ہی مگر وہ ہمارے لیے بے فیض ہوگا۔ اس مقابلے اور موازنے سے پہلو بچانا گویا اپنے قد کو بڑھنے سے روکنا ہے۔‘‘
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں پروفیسر شمیم حنفی کے شاگرد رہنے والے پروفیسر کوثر مظہری نے وائس آف امریکا سے گفتگو میں کہا کہ شمیم حنفی کا انتقال نہ صرف بھارت بلکہ پوری اردو دنیا کا بڑا نقصان ہے۔ ان کے مطابق وہ کثیر الجہات شخصیت کے مالک تھے۔ ان کی ادبی شخصیت کے کئی پہلو ہیں۔ ان کی یادداشت بہت غضب کی تھی۔ وہ یادداشت کے معاملے میں بھی اپنے ہم عصروں میں ممتاز تھے۔ اردو ادب کے علاوہ عالمی ادب پر بھی ان کی بڑی گہری نظر تھی۔ ہندی، انگریزی، فرانسیسی اور یہاں تک کہ سنسکرت ادب پر بھی ان کی نگاہ تھی۔ اس کے علاوہ جنوبی بھارت کے ادب پر بھی وہ نظر رکھتے تھے۔ کوثر مظہری کے مطابق شمیم حنفی کو فنون لطیفہ سے بھی بڑی دل چسپی تھی۔ وہ ادیب، نقاد اور ڈراما نگار کے علاوہ شاعر اور مصور بھی تھے۔ ان کا انداز تخاطب بہت دل چسپ تھا، وہ گفتگو اور تقریر میں انگریزی ادبا و شعرا کے خوب حوالے دیتے تھے۔ ان کے مطابق انہوں نے اپنی کتاب ’جدیدیت کی فلسفیانہ اساس‘ میں پہلی بار مغربی ادب میں رائج اصطلاحات کو اردو اصطلاحات میں تبدیل کر کے پیش کیا۔ جس سے بعد کے لکھنے والوں کو بہت رہنمائی ملی۔ یہ ان کے ڈی لٹ کا موضوع تھا جو دو حصوں میں شائع ہوا تھا۔
دہلی یونیورسٹی میں استاد اور ڈراما نگار پروفیسر محمد کاظم نے شمیم حنفی کی ڈراما نگاری کے بارے میں بتایا کہ انہوں نے ریڈیو کے لیے بہت اہم ڈرامے لکھے جن کے مجموعے شائع ہوئے ہیں۔ ان کے کچھ ڈراموں کو اسٹیج بھی کیا گیا اور ان کے کئی ڈرامے نصاب میں شامل ہیں۔ ان کے مطابق شمیم حنفی کے ڈراموں میں ہمارا سماج، ہمارا ادب اور عوام صاف طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے ریڈیو کی تکنیک کے حوالے سے بھی بہت اچھے ڈرامے لکھے۔ غالب اکیڈمی، نئی دہلی کے سیکرٹری ڈاکٹر عقیل احمد نے بتایا کہ شمیم حنفی کی کتاب ’غالب کی تخلیقی حسیت‘ بھارت اور پاکستان میں کئی بار شائع ہوئی۔ ان کے مطابق شمیم حنفی کا تعلق ہندی اداروں سے بھی رہا ہے۔ مثال کے طور پر گیان پیٹھ، وانی پرکاشن، رضا فاونڈیشن اور راج کمل پرکاشن شمیم حنفی کے مشوروں کو کافی اہمیت دیتے تھے۔ مولانا آزاد یونیورسٹی جودھپور کے صدر اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ اسلامک اسٹڈیز کے سابق صدر پروفیسر اخترالواسع نے کہا کہ شمس الرحمٰن فاروقی کے بعد شمیم حنفی کا انتقال اردو دنیا کا ایک بڑا سانحہ ہے۔ ان کے بقول شمیم حنفی کی ادب کی مختلف اصناف اور جہات پر زبردست پکڑ تھی۔ اب ایسے لوگ کم ہوتے جا رہے ہیں۔ تراجم کے اعتبار سے ان کی بہت خدمات ہیں۔ انہوں نے جامعہ ملیہ کے رسالہ ’جامعہ‘ کے مدیر کی حیثیت سے جو ادبی خدمات انجام دیں وہ غیر معمولی ہیں۔
رحمٰن عباس کے کہنا ہے ہے کہ گزشتہ نصف صدی گواہ ہے کس طرح شمیم حنفی اردو تنقید کی تاریخ میں اپنی علمیت سے اس مقام پر پہنچ گئے تھے جہاں اب ان کا بدل ممکن نہیں ہے۔ ہمارے لیے ان کی شناخت ایک ایسے نقاد کی تھی جو وارث علوی، شمس الرحمن فاروقی اور گوپی چند نارنگ کے عہدمیں اپنی انفرادی شناخت بنانے میں نہ صرف کامیاب ہوا تھا بلکہ شخصیت کی سادگی، انکساری اور دھیمی آنچ میں قاری سے مکالمہ کرتی ہوئی تنقید پڑھنے والوں کے دلوں میں ایک الگ جگہ بناتی ہے۔ ان کے ساتھ کئی ملاقاتیں ہوئی، کئی بار ان کے ساتھ ادبی صورت حال پر گفتگو کا موقع ملا اور متعدد بار ان سے فون پر ادب اور ادیب کے کردار پر بات ہوئی۔ وہ کسی طرح افکار کے حصار میں مقید نہیں تھے۔ خود کو حق بجانب گرداننے کی بیماری میں مبتلا نہیں تھے۔ وہ اپنی تنقید اور آرا پر کی جانے والی تنقید سے برانگیختہ نہیں ہوتے تھے۔ شمیم حنفی علم، مطالعے اور تنقید ی مضامین میں بہتا ہوا دریا تھے، یہ پانی کہیں گدلا نہیں ہوا، کہیں جامد نہیں ہوا، بلکہ ندی کی طرح ان کے افکار کا بہاؤ جاری رہا۔ ان کے خیالات میں نئی کونپلیں آئیں ،وہ زندگی اور ادب کے باہمی رشتے پر متواتر فکر مند رہے۔ آخری برسوں میں بھارت میں ہندوتوا کی نفرت پر مبنی سیاست سے مایوس تھے اور چاہتے تھے ادیبوں کو اس کے خلاف اپنی آواز بلند کرتے رہنا چاہیے۔ وہ جہاں سنجیدہ فکر نقاد تھے وہیں حساس دل انسان بھی تھے، ان کی اسی خوبی کے سبب آج جہان اردو سوگوار ہے، ہمارے دل ٹوٹ گئے ہیں۔

حصہ