عید گاہ

45

آج خوشی سے ناچتے بچے کرتے ہیں سب کام
خوشیوں سے بھرپور
عید گاہ میں شور ہے کتنا میلے کا ہنگام
غم سے چکنا چور
اچھے اچھے کپڑے پہنے بچوں کی اک فوج
موسم ہے رنگین
چلتا پھرتا ایک سمندر موج سے ملتی موج
بچے بجائیں بین
سارے کھیل کھلونے سطوتؔ گڈمڈ ہوتے جائیں
مل کر سب چلائیں
ان سارے چہروں میں کتنے چہرے روپ بنائیں
سب کو کیوں للچائیں
عید ہے آئی عید رے بچو عید ہے آئی عید
بچھڑے آن ملیں گے پھر سے ہو جائے گی دید

حصہ