طواف عشق کا جائزہ

132

معروف شاعر،ادیب،کالم نگار شاہنواز فاروقی کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔نثر ہویا نظم شاہنواز فاروقی دونوں میدانوں میں کامیاب اور ہم رنگ نظر آتے ہیں۔حال ہی میں فاروقی صاحب کا ــ’’کتابِ دل‘‘ کے بعد دوسرا شعری مجموعہ ’’طوافِ عشق‘‘ منصہ شہود پر نمودار ہواہے ۔272 صفحات پر مشتمل اس مجموعے کو گیلانی پبلی کیشنز اُردو بازار کراچی نے شایع کیا ہے۔انتساب بیٹے کے نام ہے ۔مجموعے میں 114 غزلیں 31نظمیں، دعا کے عنوان سے حمد،یاد کے عنوان سے نعت اور شہادت کے عنوان سے امام حسینؓ پر کہی گئی منقبت شامل ہے ۔کتاب میں معروف شاعر،اسکالر احمد جاوید کا ایک مضمون ہے جو فاروقی صاحب کے پہلے مجموعے ’’کتابِ دل‘‘ کی تقریبِ رونمائی میں پڑھا گیا تھا۔ کتاب میں سب سے زیادہ 19 غزلیں بحرِ رمل کی مزاحف شکل(فاعلاتن،فعلاتن،فعلاتن،فعلن) میں18 غزلیں بحر ِ مجتث کی مزاحف شکل( مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن ) میں، 15 غزلیں بحرِ مضارع کی مزاحف شکل(مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن)میں14 غزلیں بحرِ خفیف کی مزاحف شکل (فاعلاتن مفاعلن فعلن) میں اور 6 غزلیں بحرِ ہزج کی مزاحف شکل(مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن) میں کہی گئی ہیں۔بغاوت ہوچکی ہے،سلسلے،اندیشہ،خبر یہ ہے ،المیہ سمیت بیشتر آزاد نظمیں مفاعیلن کے وزن پرکہی گئی ہیں۔ابو المعانی بیدل نے کہا تھا کہ
دیدہ ای راکہ بہ نظارہ دل محرم نیست
مژہ برہم زدن از دستِ تاسف کم نیست
(جو آنکھ دل کے نظارے کی محرم نہ ہو اُس کا پلکیں جھپکنا افسوس سے ہاتھ ملنے جیسا ہے)
اس شعر میںعاشقِ صادق کی جو خوبی بیان کی گئی ہے وہ فاروقی صاحب کی شاعری میں جا بہ جا نظر آتی ہے۔طواف عشق ایک ایسے عاشق کا طواف ہے جو دنیا کو اُس رنگ میں دیکھنا چاہتا ہے جس رنگ کو خالقِ کائنات نے پسند فرمایا ہے،فکر کی بالیدگی،فہم و دانش سے لبریز اس مجموعے میں جا بہ جا ایسے اشعار نظر نواز ہوتے ہیںجو شاعر کے دل میں جنم لیکر آنکھوں میں مشاہدے کی صورت میں سامنے آکر قرطاس کی زینت بنے ہیں،اس شاعری کے سوتے عشقِ حقیقی کی لامحدود کہکشائوں کی جانب محوِ پرواز ہیں۔
میں بھی آتا ہوں کہیں تجھ کو نظر
تُو نظر آتا ہے مجھ کو چار سو

وہ ہونے کی تذلیل ہے
جو عاشق نہیں بن سکا

ڈھونڈا گلی گلی میں مگر مل نہیں سکا
وہ آدمی کہ جس کو بہت ہو فقط خدا

ایک منزل ہے عشق میں ایسی
جس میں مجنوں کا نام لیلیٰ ہے

جو اپنی روح میں لیلیٰ سے بات کرتا ہو
مرے عزیز یہ حالت یہاں کسی کی نہیں

افسوس کئی لوگ خدا تک نہیں پہنچے
بیمار ہیں اور اپنی دوا تک نہیں پہنچے
سہلِ ممتنع میں شعر کہنا جوئے شیر کھودنے سے کم نہیں،ویسے تو ہر شاعر کے ہاں سہل ِممتنع کے اشعار مل جاتے ہیں ،مگر وہ سہلِ ممتنع سے زیادہ صرف سادگی کی تعریف پر پورے اُترتے ہیں،سہل ِ ممتنع کے اشعار میں ندرتِ خیال،احساس کی رعنائی اور تہہ داری بھی ہونی چاہیے۔فاروقی صاحب نے سہل ِ ممتنع میں بہت سے اشعار کہے ہیں جو خوب صورت ہونے کے ساتھ ساتھ بامعنی اور فکری بالیدگی کے آئنہ دار بھی ہیں۔چند اشعار
اُس کو دیکھا تو یہ ہوا معلوم
آئنہ کس لیے بنا ہوگا

عشق میں انسان کے
خود نکل آتے ہیں پر

ہماری گفتگو افلاک مرکز
ہماری جستجو ساری زمینی

بات کرتا ہوا گلابوں سے
خود بھی وہ پھول لگا رہا ہوگا

محبت نے ہر چیز کو
یکا یک نیا کردیا

انسانوں سے بات کرو
اُن سے کچھ فرمائو نہیں

موت کے آنے سے ہوتا ہے
فانی انساں بھی لافانی

بہت خاموش رہنا بھی
محبت کی نشانی ہے
ملعون فرانس سے چلنے والی جدت کی بادِ سموم نے ہمارے پاکیزہ اور با مقصد ادب کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے،مطالعہ کی کمی،عقل و شعور کے فقدان اور خود کو انفراد دکھانے کی دوڑ میں ہمارے شعراء ایسے گُم ہوئے کہ بامقصد و بامعنی ادب جس سے ایک صحت مند معاشرے کی آبیاری ہونی تھی وہ بے مقصد،بے معنی ہوکر رہ گیا،کسی نے ادق و نامانوس لفظوں کو برتنا جدیدیت سمجھ لیا تو کسی نے بے مفہوم شعر کہہ کر اپنے تئیں خود کو جدید شاعر سمجھ لیا،یہی وجہ ہے کہ ہزاروں شعری مجموعے اشاعت پذیر ہونے کے باوجود کوئی ایک شعر بھی زندہ و جاوداں ہونے کے لیے دل میں جگہ نہیں بنا پارہا۔ستائشِ باہمی اور خبطِ عظمت میں مبتلا شعراء اس دکھ کو کیا سمجھیں کہ سمجھ بوجھ ہے ہی نہیں۔
سورج کو چونچ میں لیے مرغا کھڑا رہا
کھڑکی کے پردے کھینچ دیے رات ہوگئی

ہے بدی پائوں سے سر تک اچھی
تنگ پتلون میں ٹیڈی لڑکی
اب ان اور ان جیسے ہزاروں کی تعداد میں کہے گئے اشعار سے کس طرح کے معاشرے نے پروان چڑھنا ہے؟ کیا ان اشعار کی مجذوب کی بڑ سے زیادہ کوئی حیثیت ہے؟مگروہی روشن بات کہ رات جتنی بھی گہری ہو سویرا ہوکر رہتا ہے ،چراغ رات سے کبھی نہیں گھبراتا،اس خورِ ادب کے پُر آشوب دور میں فاروقی صاحب جیسے شعراء کی موجودگی دم غنیمت ہے کہ جنہوں نے جدیدیت کو جان کر عصری آگہی ،جدید طرزِ احساس سے کام لیکر ایسے ایسے جدید اشعار کہے ہیں کہ جو نہ صرف دل میں گھر کرلیتے ہیں بلکہ نئے شعرا کے لیے تربیت و سند اور فکری آبیاری کا سامان بھی مہیا کرتے ہیں،چند اشعار۔
فطرتِ خنزیر کا اک آدمی
سونگھتے ہی مرگیا پھولوں کی بُو

اتنے پرانے سورج سے
کیسے نیا دن نکلے گا

اس وقت کائنات کا ذرّہ ہے آدمی
اک وقت تھا زمین پہ ہونا کچھ اور تھا

گھونسلے نے پیڑ کو
کردیا ہے معتبر

کاش باتوں میں بھی تری ہوتا
چائے پینے میں جو سلیقہ ہے

میں کائنات کا سب سے بڑا بگولہ ہوں
میں پھٹ پڑا تو میرا انتشار کیا ہوگا

آپ اس کو بھی نئے عہد کا تحفہ سمجھیں
لطف آیا نہ کسی کو کسی تہہ داری میں

مرے گی زر کے ہیضے سے
یہ دنیا کا مقدر ہے

فاروقی صاحب کا طوافِ عشق،عاشقانِ ادب کے لیے ایک انمول تحفہ ہے جس میں ندرتِ خیال،شدتِ احساس اور اس کی پاکیزگی،کیفیات کا خالص پن،نو بہ نو اچھوتے مضامین،تعمیری و مثبت سوچ،زندگی کی اصل حقیقت،کائنات کے پوشیدہ گوشوں کی کھوج،فہم و فراست کی چکاچوند،بصیرت افروزی سمیت وہ تمام اسباب ملیں گے جو آدمی کو انسان کے درجے پر فائز کرتے ہیں۔خوبصورت اشعار نشان زد کرنے لگا تو کرتا ہی چلا گیا جن میں سے جگہ کی کمی کے باعث چند اشعار پیش ہیں۔
دعا کے بعد ،دعا میں،دعا سے پہلے بھی
بس ایک بار نہیں،بار بار ہے دنیا

اک دوسرے کو ایسے تکے جارہے ہیں لوگ
جیسے کسی کی بات کوئی سُن نہیں سکا

سب نے پھر دانش وری مانی مری
گفتگو کو میں نے جب الجھا دیا

وہیں وہیں سے یہ عالم حسین لگتا ہے
جہاں جہاں سے تمھارا سمجھ میں آتا ہے
اس میں مفہوم ہی نہیں کوئی
آپ کا شعر کتنا اچھا ہے

ہم ادھورے پن کے عادی لوگ ہیں
خوف آتا ہے ہمیں تکمیل سے

ہر اک گلی میں آئنے ٹوٹے ہوئے ملے
اتنا جہاں میں عام ہے بے چہرگی کا خوف

مسکراہٹ تری لگتی ہے سحر کے جیسی
تیرا آنسو مجھے لگتا ہے ستارے جیسا

چودھویں رات کے مہتاب نے پوچھا مجھ سے
کچھ کمی آئی مجھے دیکھ کے بیزاری میں

بچھڑ کے تجھ سے مجھے زندگی کی ہر صورت
نئی بھی ہو تو نہایت پرانی لگتی ہے

ہائے اندھی خرد پرستی نے
آدمی کو بنا دیا بونا

بہت بدل کے بھی دنیا بدل نہیں پائی
انا کے کھیل سے آگے نکل نہیں پائی

جس سمت دیکھتے ہیں محبت کا کھیل ہے
لیکن وہ کھیل جس میں معانی کوئی نہیں

بس ایک شخص کو اپنا بناکے دل والے
ہر ایک شخص کو اپنا سمجھنے لگتے ہیں

حصہ