قدرت اللہ شہاب کا انٹریو

138

طاہر مسعود: آپ طویل عرصے تک حکومت کی شہ رگ کا حصہ بنے رہے۔ قوم کی تقدیر کے بننے اور بگڑنے کے فیصلے آپ کی آنکھوں کے سامنے ہوئے۔ بیورو کریسی کا آپ نے مشاہدہ کیا۔ آپ کے سینے میں ان گنت راز محفوظ ہوں گے۔ بے شمار بڑی شخصیتوں کی اصلیت سے آپ واقف ہوں گے تو کیا آپ اپنے ان مشاہدات اور تجربات کی بنیاد پر کوئی ناول یا کتاب لکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں جس میں ان حقائق پر سے پردہ اٹھائیں؟
قدرت اللہ شہاب: ناول تو نہیں، میں ایک کتاب ’’شہاب نامہ‘‘ کے عنوان سے لکھ رہا ہوں۔ آپ اسی کو ناول سمجھیں۔ اس کے لکھنے کا واقعہ یہ ہے کہ جب ابن انشا بیمار ہو کر لندن گیا ہوا تھا میں بھی وہاں تھا۔ یہ اس کی وفات سے چند ہفتے قبل کا واقعہ ہے۔ ایک مرتبہ وہ اپنی زندگی کا حساب لگا رہا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ وہ اب زندہ نہیں بچے گا۔ مذاق مذاق میں کہنے لگا کہ ’’ہندو مذہب کی طرح اگر آوا گون کا سلسلہ ہو تو میں یہ چاہوں گا، میں وہ چاہوں گا‘‘۔ پھر مجھ سے پوچھا اگر تمہیں دوبارہ زندگی گزارنے کا موقع ملے تو تم کیا چاہو گے؟ میں نے کہا کہ ’’میں معمولی سی تبدیلیوں کے ساتھ دوبارہ یہی زندگہ گزارنا پسند کروں گا جو میں نے گزاری ہے‘‘۔ وہ بڑا حیران ہوا۔ میں نے جواب دیا کہ میں ساری زندگی سیلف میڈ رہا ہوں۔ میں نے اپنی محنت سے سول سروس جوائن کی اور کبھی کسی سے یہ نہیں کہا کہ مجھے فلاں پوسٹنگ چاہیے۔ مجھے ہمیشہ خود بہ خود ایسی پوسٹنگ ملتی رہی جو اہمیت کی حامل تھی۔ میرے دل میں کبھی خواہش بھی پیدا نہیں ہوئی۔ جب یحییٰ خان کے زمانے میں، میں مستعفی ہوا تو اپنی بیوی (جو اس وقت زندہ تھی) اور بچے، کے ساتھ لندن چلا گیا۔ یحییٰ خان نے میری پنشن بھی جاری نہیں کی تھی، میں وہاں پندرہ پونڈ فی ہفتہ کی آمدنی پر اپنے چھوٹے سے خاندان کے ساتھ گزارا کرتا رہا جو مجھے حکومت برطانیہ دیگر بے روزگاروں کی طرح ادا کرتی تھی لیکن میرے لیے کبھی کوئی فرق نہیں پڑا۔ ان حالات میں بھی مجھے کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلانا پڑا۔ نہ میں نے کبھی تنہائی محسوس کی اور نہ ہی فرسٹریٹڈ ہوا۔ ابن انشا میری باتیں کاغذ پر لکھتا رہا۔ آخر میں کہنے لگا کہ تم ان باتوں کو جمع کرکے کتاب لکھو۔ اس طرح میں نے ایک کتاب لکھنے کا فیصلہ کیا جو ’’شہاب نامہ‘‘ کے نام سے شائع ہوگی۔
طاہر مسعود: کیا یہ آپ کی خودنوشت سوانح عمری ہوگی؟
قدرت اللہ شہاب: بچپن سے لے کر اب تک جو واقعات میں نے دیکھے ہیں ضروری نہیں کہ وہ واقعات سب کو متاثر کریں لیکن جنہوں نے مجھے متاثر کیا، میں انہیں لکھ رہا ہوں۔ اس کتاب کا تعلق تاریخ سے نہ ہوگا۔ یہ شاید ناول بھی نہ ہو، پتا نہیں، یہ سوانح عمری بن پائے گی نہیں۔ یہ ملی جلی تحریر ہوگی۔ اس کا ہر باب اپنی جگہ مکمل ہوگا اور سارے ابواب تسلسل میں بھی ہوں گے۔ اس کا ایک چوتھائی حصہ میں لکھ چکا ہوں۔ ایوب خان کے زوال کے ذکر سے آگے بھی مزید لکھنا ہے۔
طاہر مسعود: کیا آپ نوٹس کی مدد سے کتاب لکھ رہے ہیں یا صرف یادداشت کے سہارے؟
قدرت اللہ شہاب: میرے ذہن میں ہمیشہ سے یہ خیال رہا ہے کہ میں کبھی نہ کبھی ان واقعات کو لکھوں گا لہٰذا میں پابندی سے نوٹس لیتا رہا ہوں۔
طاہر مسعود: اب ذرا عمومی دلچسپی کے سوالات۔ آپ ایوب خان کے نزدیک رہے ہیں۔ اس لیے آپ بہتر جانتے ہوں گے۔ کیا ایوب خان ایک ادب شناس حکمراں تھے۔ انہیں ادب وغیرہ سے دلچسپی تھی؟
قدرت اللہ شہاب: بالکل نہیں۔ وہ ادب کے معاملے میں بالکل کورا تھا۔ ایک واقعہ سناتا ہوں اس سے اندازہ ہوجائے گا۔ اس زمانے میں گلڈ کے تحت ’’اداس نسلیں‘‘ والے عبداللہ حسین، احمد ندیم قاسمی اور جعفر طاہر کو ایوارڈ دیے گئے تھے۔ جعفر طاہر فوج میں نان کمیشنڈ افسر تھے۔ تقسیم ایوارڈ کے موقع پر جعفر طاہر ایوارڈ وصول کرنے وردی میں ملبوس ہو کر آئے تھے۔ ایوب خان کو ایوارڈ تقسیم کرنا تھا۔ جب انہوں نے جعفر طاہر کو وردی میں ملبوس دیکھا تو سب سے پہلے ان کی طرف آئے اور گرم جوشی سے ہاتھ ملایا اور پوچھتے رہے کہ کہاں کے رہنے والے ہو وغیرہ۔ میں بھی قریب کھڑا تھا۔ ایوب خان مجھے دیکھ کر مونچھوں پر تائو دے کر کہنے لگے۔ ’’دیکھا فوج میں بھی کتنے پڑھے لکھے اور لائق فائق لوگ ہیں‘‘۔ جعفر طاہر نے یہ سن کر دھیمے سے کہا، ’’جی حضور! مگر صرف نان کمیشنڈ رینک تک‘‘۔ ایوب خان نے یہ بات سن لی مگر کچھ کہا نہیں۔ اسی طرح ایک واقعہ اور ہے۔ بابائے اردو کو انجمن ترقی اردو سے ایک سازش کے تحت نکال دیا گیا۔ یہ بڑی گڑ بڑ سی بات تھی۔ میں نے ایوب خان کو بتایا کہ صاحب بابائے اردو کے ساتھ زیادتی ہوگئی ہے، آپ انہیں وقت دیں۔ ایوب خان بڑا حیران ہوا۔ کہنے لگا ’’یہ بابائے اردو کیا ہوتا ہے؟ یہ آدمی ہے، کتاب ہے یا کیا ہے؟‘‘ ’’جی آدمی ہے‘‘۔ خیر وقت دیا گیا۔ ایوب خان سے بابائے اردو کی ملاقات ہوئی اور مسئلہ حل ہوا۔ مارشل لا کے ہم نے دو ہی فائدے اٹھائے ایک تو کاپی رائٹ ایکٹ بنوایا اور دوسرا ڈاکٹر عبدالحق کو انجمن کا دوبارہ صدر بنوایا۔ ایوب خان بابائے اردو سے ملاقات کے دوران ’’بابا، بابا‘‘ کہتے رہے اور یہ بالکل بھول گئے کہ ان کا اردو سے بھی واسطہ ہے یا نہیں۔
طاہر مسعود: ممکن ہے ایوب خان کا ادب سے تعلق ہوتا تو ملک کے مسائل کو سنجیدگی سے محسوس کرتے؟
قدرت اللہ شہاب: (ہنستے ہوئے) شاید اُمید تو رکھنی چاہیے، ویسے گلڈ کو جتنی بھی کامیابی ہوئی اس میں ایوب خان کی حمایت کا عمل دخل تھا۔
طاہر مسعود: حکومت کے اندر گلڈ کے جتنے مخالفین تھے، ان میں الطاف گوہر صاحب کا بھی نام لیا جاتا ہے۔ سنا ہے انہوں نے گلڈ کی طرز پر ایک اور انجمن قائم کرنے کی کوشش کی تھی اور اس چپقلش کے نتیجے میں گلڈ کو کافی نقصان پہنچا تھا۔ اس کی تفصیلات کیا ہیں؟
قدرت اللہ شہاب: میں یہاں نہیں تھا۔ ہالینڈ چلا گیا تھا، البتہ اس چکر میں جمیل الدین عالی کو خاصا نقصان پہنچا بلکہ انہیں نوکری سے بھی ہاتھ دھونا پڑا تھا۔
طاہر مسعود: اس معاملے کا آپ کو علم تو ہوگا؟
قدرت اللہ شہاب: میں نے جاننے کی کوشش نہیں کی۔ گلڈ کی مخالفت ادیبوں، افسروں، فوجی جنرلوں اور بعض اخباروں میں تھی۔ اب اسے کیا کہا جائے۔
طاہر مسعود: گلڈ پر ایک الزام یہ بھی ہے کہ اس نے بعض اہم کتابوں کو ایوارڈ سے محروم رکھا۔
قدرت اللہ شہاب: اس میں تو ہمیشہ جھگڑا رہے گا۔ یہ تو ججوں کی صوابدید پر ہے۔ اس معاملے میں دو گروپ ہمیشہ رہیں گے۔
طاہر مسعود: لیکن ’’آگ کا دریا‘‘ تو بڑی کتاب تھی؟
قدرت اللہ شہاب: جی ہاں۔ ’’آگ کا دریا‘‘ اور ’’علی پور کا ایلی‘‘ بڑی کتابیں تھیں، انہیں ایوارڈ نہیں ملا لیکن یہ گلڈ کی خوبی تھی کہ وہ کسی جج پر پریشر ڈالنے سے گریز کرتا تھا۔ پھر شاید احمد دہلوی اور وقار عظیم جیسے منصفین بھی تھے جو کسی پریشر کو قبول نہ کرتے۔
طاہر مسعود: آپ کے خیال میں گلڈ کا قیام ادیبوں کے حق میں مفید رہا؟
قدرت اللہ شہاب: گلڈ نے ادیبوں کو بعض ٹھوس فائدے پہنچائے۔ انعام وغیرہ تقسیم ہوئے۔ کسی ادیب کی بیماری یا وفات کی صورت میں مدد کی گئی۔ یہ سب گلڈ کے زمانے میں شروع ہوا۔ گلڈ کا سب سے بڑا کارنامہ ساری زبانوں کے ادیبوں میں بھائی چارے کا ماحول پیدا کرنا ہے۔ گلڈ سے ادیبوں کی عزت نفس میں بھی اضافہ ہوا۔
طاہر مسعود: آپ اس بارے میں کس طرح سوچتے ہیں کہ ملک میں طویل عرصے تک مارشل لا رہا۔ لوگوں کو اظہار رائے کی آزادی حاصل نہیں رہی۔ بنیادی حقوق معطل ہوتے رہے۔ آدھا ملک الگ ہوگیا۔ ان حالات میں ہمارے ادیبوں نے جو ادب تخلیق کیا اس میں مذکورہ قومی مسائل کی جھلک بے حد کم نظر آتی ہے۔ اس تناظر میں کوئی بڑا ناول یا افسانہ نہیں لکھا گیا۔ اسے آپ ادیبوں کی بے حسی کہیں گے یا بے توجہی، یا اس کا کیا تجزیہ کریں گے؟
قدرت اللہ شہاب: اسے بے حسی تو نہیں کہہ سکتے کیوں کہ ادیب بے حس تو ہوتے نہیں ہیں، بس توجہ اس طرف نہیں گئی۔ اس کے علاوہ کوئی وجہ ہو تو مجھے معلوم نہیں۔ تقسیم ہند پر تو لکھا گیا ہے لیکن مشرقی پاکستان کی علیحدگی پر کوئی بڑی چیز سامنے نہیں آئی جس کا مجھے بے حد افسوس ہے۔ غالباً اس کی سیاسی وجوہات ہوں گی کہ اس واقعہ کے بعد ایسے حالات پیش آئے جس میں ایسی چیز کا لکھنا یا چھاپنا ممکن نہ ہوگا۔ اصل میں یہ مارشل لا جو ہوتا ہے یہ لکھنے والے کے ذہنوں پر بندش لگا دیتا ہے۔ ہزار کہیں کہ کوئی پابندی نہیں ہے لیکن یہ ازخود ہوجاتی ہے، مثلاً ایوب خان کے زمانے میں انہیں کنونشن میں بلایا گیا۔ بحیثیت سیکرٹری کے میرا فرض تھا کہ انہیں بتائوں کہ اس کنونشن میں کیا تقریر کرنی ہے۔ لیکن میں نے ان سے بہانہ کردیا کہ وہاں آپ کو کوئی تقریر وغیرہ نہیں کرنی ہے۔ اصل میں، میں یہ سنا چاہتا تھا کہ ان کی ادیبوں کے بارے میں اصل رائے کیا ہے؟ ظاہر ہے میں بتادیتا تو وہ وہاں میری لکھی ہوئی تقریر پڑھتے۔ اس لیے نہ صرف میں نے ان سے جھوٹ بول دیا بلکہ چھپے ہوئے پروگرام میں بھی ان کی تقریر کا ذکر غائب تھا۔ ایوب خان کنونشن کے آخری سیشن میں آئے۔ کنونشن کٹرک ہال میں ہورہا تھا۔ انہیں صدر اور چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بنے ہوئے تین مہینے ہوئے تھے۔ اس عرصے میں انہیں ہر محفل میں صدر محفل بنے کی عادت پڑ چکی تھی۔ اس سے ہٹ کر کسی محفل میں شرکت کا تصور ان کے ذہن میں موجود نہیں تھا۔ لہٰذا وہ جوں ہی ہال میں داخل ہوئے، لمبے لمبے ڈگ بھرتے ہوئے اسٹیج کی طرف اوپر بیٹھنے کے لیے بڑھے۔ خیر انہیں بڑی مشکل سے میں نے روکا۔ قرۃ العین حیدر نے ان کے کوٹ کا کنارا کھینچا۔ عالی نے راستہ آگے سے روکا، یوں انہیں ہم لوگ گھیر گھار کر اگلی صف میں لے کر آئے اور سامعین کے ساتھ بٹھادیا۔ ڈاکٹر عبدالحق صاحب کو بحیثیت صدر کے اسٹیج پر جگہ دی گئی۔ میرے لیے مشکل یہ پیش آئی کہ عالی صاحب اسٹیج سیکرٹری تھے۔ میں گلڈ کا سیکرٹری جنرل منتخب ہوچکا تھا اور اسٹیج پر ڈاکٹر صاحب کے بائیں جانب بیٹھا ہوا تھا۔ میں بڑا ایمبریسڈ تھا کہ میرا باس نیچے بیٹھا ہوا ہے اور میں اسٹیج پر چڑھا بیٹھا ہوں۔ خیر ڈاکٹر جاوید اقبال، ڈاکٹر سجاد حیدر وائس چانسلر راج شاہی یونیورسٹی وغیرہ نے مقالے پڑھے۔ صدر ایوب سنتے رہے۔ پھر ڈاکٹر عبدالحق نے صدر ایوب کو دعوت دی کہ اب آپ آکر کچھ فرمائیں۔ ایوب خان نے نیچے سے مجھے گھورا۔ میں بھلا کیا کرتا، خاموشی سے بیٹھا رہا بلکہ میں نے ایک مقالہ ’’ادیب اور آزادیٔ اظہار رائے‘‘ کے موضوع پر پڑھا اور اس میں نہایت سختی سے کہا کہ جو حکمراں یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ادیبوں کے جسموں کو قید کرکے ان کے خیالات کو بھی قید کرلیتے ہیں، وہ دراصل احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔ میں نے جان بوجھ کر مقالہ انگریزی میں پڑھا تا کہ صدر ایوب سمجھ جائیں۔ خیر ڈاکٹر عبدالحق کی دعوت پر صدر ایوب اُٹھ کر آئے اور فی البدیہہ تقریر کی۔ وہ ایک اچھی تقریر تھی۔ انہوں نے ادیبوں کے خلاف تقریر نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ مارشل لا کا زمانہ ہے لیکن آپ ملک کو نقصان پہنچائے بغیر اپنا تخلیقی کام جاری رکھیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ چار ہفتے کے بعد مارشل لا ہیڈ کوارٹر سے ان کے پاس مسودوں کے لیے ریگولیشن آیا کہ جو کتاب چھپے، اسے چھپنے سے پہلے ایک سرکاری سنسر کمیٹی منظوری دے، لیکن صدر ایوب نے اس پر دستخط کرنے سے انکار کردیا۔ انہوں نے کہا کہ میں ادیبوں سے وعدہ کر آیا ہوں لہٰذا ان کے زمانے میں کتابوں پر پابندی نہیں لگی۔ وہ مسودہ میرے پاس آیا اور ہدایت کے مطابق مجھے اس پر نوٹ لکھنا چاہیے تھا لیکن میں نے صرف یہ دیکھنے کے لیے کہ صدر صاحب نے کنونشن میں ادیبوں سے جو وعدہ کیا ہے وہ انہیں یاد ہے یا نہیں، اس مسودے پر کوئی نوٹ درج نہیں کیا لیکن انہوں نے خود ہی اسے مسترد کردیا۔
طاہر مسعود: کہا جاتا ہے کہ عبداللہ حسین کے ناول ’’اداس نسلیں‘‘ کو ایوارڈ دینے کے بعد ایوب خان بعد میں بہت ناراض ہوئے تھے کیوں کہ انہیں بتایا گیا تھا کہ ناول میں فور لیٹرز استعمال ہوئے ہیں۔
قدرت اللہ شہاب: ایوب نہیں، بلکہ کالا باغ سخت ناراض ہوا تھا۔ ایوب خان نے ایوارڈ دے دیا۔ اس نے ناول پڑھا بھی نہیں تھا۔ کالا باغ نے بھی نہیں پڑھا تھا۔ اس زمانے میں ون یونٹ تھا۔ پولیس اور ہوم ڈیپارٹمنٹ کے محکموں نے اس ناول کو ضبط کرنے اور اس پر فحاشی کے الزام میں مقدمہ چلانے کا پروگرام بنایا ہوا تھا۔ ہمیں بھی اس کا علم نہیں تھا لیکن جب اس ناول کو ایوارڈ ملنے کی خبر اخبارات میں شائع ہوئی تو مجھے نواب کالا باغ کا ٹیلی فون آیا۔ وہ کہہ رہا تھا کہ یہ کس ناول کو ایوارڈ دلا دیا۔ ہم تو اس پر مقدمہ چلانے والے تھے۔ یہ کتاب نہیں کنجر خانہ ہے، بالکل واہیات ہے۔ اب صدر ایوب نے اسے ایوارڈ دے دیا۔ ہم اس پر کیسے مقدمہ چلائیں۔ اس نے بڑا شور شرابا مچانے کے بعد صدر ایوب کو خط لکھا کہ آپ کے لوگ اس معاملے میں ہم سے مشورہ نہیں کرتے جس کی وجہ سے اس طرح کی باتیں ہو جاتی ہیں۔ اس نے وہ خط میرے خلاف لکھا تھا لیکن ایوب خان نے نظر انداز کردیا۔ اس نے مجھ سے بھی پوچھ گچھ نہیں کی۔
طاہر مسعود: اس نوعیت کے کچھ اور واقعات جو آپ کو یاد ہوں؟
قدرت اللہ شہاب: میں نے اپنی کتاب ’’شہاب نامہ‘‘ میں کرید کرید کر ساری باتیں جمع کیں اور لکھ دی ہیں۔ اس میں ایک باب ’’رائٹرز گلڈ‘‘ پر بھی ہے۔ اس باب کو لکھتے وقت میں نے ان انٹرویو کو بھی سامنے رکھا ہے جو آپ نے کچھ عرصہ قبل مختلف ادیبوں سے کیے تھے۔

طاہر مسعود: یہ کتاب ہمیں اگلے سال پڑھنے کو ملے گی؟
قدرت اللہ شہاب: ان شاء اللہ اگر مجھ سے آسانی سے ختم ہوگئی۔
طاہر مسعود: آپ کا شاید انگریزی میں بھی کوئی کتاب لکھنے کا ارادہ تھا؟
قدرت اللہ شہاب: جی ہاں ارادہ تھا، لیکن میں ’’شہاب نامہ‘‘ میں زیادہ مصروف ہوگیا۔ انگریزی میں کہانی وغیرہ لکھنے کا ارادہ تو نہیں تھا۔ اس کتاب میں، میں ایک کیس اسٹڈی کرنا چاہتا تھا۔ پاکستان میں یکے بعد دیگرے انسٹی ٹیوشنز فیل ہوتی رہی ہیں۔ میں ان کے اسباب کا سراغ لگانا چاہتا تھا۔ Causes of Failure of Institutions in Pakistan اس موضوع پر میں سنجیدگی سے کتاب لکھنا چاہتا تھا۔ اس پر ریسرچ اور تجزیے کی بڑی سخت ضرورت ہوگی۔ دیکھیے یہ منصوبہ پورا بھی ہوگا یا نہیں۔
طاہر مسعود: آپ کا شمار کبھی ترقی پسندوں میں نہیں ہوا لیکن آپ کو ان کے قریبی مشاہدے کا موقع ملا ہے ان دنوں آپ حکومت میں بھی تھے اور گلڈ کے سیکرٹری بھی۔ ترقی پسند نہایت سرگرم عمل تھے۔ گو ترقی پسند تحریک تنازعات کا شکار ہوچکی تھی۔
قدرت اللہ شہاب: نہ صرف یہ کہ میرا شمار ترقی پسندوں میں نہیں ہوتا تھا بلکہ 48-49ء میں ’’یاخدا‘‘ چھپی تھی تو ترقی پسند انجمن نے (جو پاکستان میں تھی) اس کی مخالفت کی تھی اور اس کے خلاف بارہ بارہ صفحات کے تنقیدی مضامین ’’ادب لطیف‘‘ وغیرہ میں چھپوائے تھے اور فیصلہ کیا تھا کہ اس شخص کی کوئی چیز ان کے رسائل میں شائع نہیں ہوگی لیکن جب گلڈ بنا تو وہ اس میں خوشی خوشی شامل ہوگئے۔
طاہر مسعود: انجمن ترقی پسند مصنفین پر پابندی لگنے کے پس منظر سے آپ واقف ہیں؟ پابندی کن حالات میں لگی؟
قدرت اللہ شہاب: ترقی پسند تحریک سے میرا واسطہ ہی نہیں رہا بلکہ جب انہوں نے ’’یاخدا‘‘ پر لعن طعن کی تو میرا دل ان کی طرف سے سرد ہوگیا۔ میں نے کبھی ان کی طرف سنجیدگی سے دیکھا تک نہیں۔
طاہر مسعود: فیض احمد فیض صاحب بہت اچھے بہت بڑے شاعر ہیں۔ آدمی بھی نفیس طبیعت کے ہیں لیکن ان کی روس سے اس درجے سیاسی وابستگی ہے کہ وہ ان مظالم کی جانب سے آنکھیں بند کرلیتے ہیں جو روس چھوٹے ممالک پر ڈھارہا ہے۔ وہ فلسطین پر تو نظمیں لکھتے ہیں لیکن ان کے پڑوسی ملک افغانستان میں روسی جارحیت کے نتیجے میں جو ظلم ہورہا ہے اس پر وہ مہر بہ لب ہیں آپ اس رویے کو کیا نام دیں گے؟
قدرت اللہ شہاب: فیض صاحب سے میرے مودبانہ تعلقات ہیں۔ ان کی وجہ سے اس کا جواب دیتے ہوئے ایمبرسمنٹ سی محسوس کررہا ہوں لیکن میں فیض صاحب سے قطع نظر کرتے ہوئے اتنا ضرور کہہ سکتا ہوں کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔
طاہر مسعود: یعنی ظلم جہاں بھی ہو، اس کے خلاف ادیب کو صدائے احتجاج بلند کرنا چاہیے۔
قدرت اللہ شہاب: ایک دفعہ جب میں رائٹرز گلڈ کا سیکرٹری تھا، روسی رائٹرز یونین کے اجلاس میں شرکت کا دعوت نامہ ملا۔ میں نے یہ شرط عاید کی تھی کہ آپ کے ایجنڈے میں کئی ممالک کا ذکر ہے لیکن جموں و کشمیر کے مسئلے کا ذکر ہی نہیں ہے۔ اگر آپ ایجنڈے میں اسے شامل کریں تو میں آئوں گا ورنہ نہیں۔ انہوں نے مجھے جواب ہی نہیں دیا۔ سخت ناراض ہوئے۔ میں نے انہیں یہ بھی لکھا کہ دنیا میں آزادی کی جتنی تحریکیں جو آپ کو پسند ہیں، وہاں تو آپ مدد کرتے ہیں اور یہاں پر ویٹو کردیتے ہیں۔
طاہر مسعود: ہمارے عام ترقی پسندوں کا رویہ یہ ہے کہ جو ادیب روس کی مخالفت کرے وہ اسے امریکا کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں۔
قدرت اللہ شہاب: میرے ساتھ بھی یہی ہوا۔ جب گلڈ کا دستور بنا تو دستور میں کسی بھی غیر ملک سے مالی امداد نہ لینے کی شرط رکھی گئی۔ امریکی سفارت خانے کو شاید یہ گمان تھا کہ ان کی مدد کے بغیر پاکستان میں کوئی ادارہ نہیں چل سکتا۔ اس لیے گلڈ کے متعلق بھی انہیں توقع تھی کہ ہم بہت جلد اس سلسلے میں ان کے آگے ہاتھ پھیلائیں گے لیکن جب ہم ان کے پاس نہیں گئے تو انہیں شبہ ہوا کہ شاید ہمیں روس سے پیسے ملتے ہیں اور ہم روس کی جھولی میں ہیں جب کہ روسی سمجھتے تھے کہ ہم امریکا کی جھولی میں ہیں، حالاں کہ ہم تو صرف پاکستان کی جھولی میں کل بھی تھے اسی میں آج بھی ہیں۔
(4نومبر1983ء)
ایک ضروری وضاحت
مکرمی طاہر مسعود صاحب سلام علیک و رحمتہ اللہ برکاتہ،
11 نومبر 1983ء کے ’’جسارت‘‘ میں قدرت اللہ شہاب صاحب نے اپنے کارناموں کے ضمن میں یہ فرمایا ہے کہ مارشل لا کے ہم نے دو ہی فائدے اٹھائے، ایک تو کاپی رائٹ ایکٹ بنوایا، دوسرے ڈاکٹر عبدالحق کو دوبارہ صدر بنوایا اور اس کی وضاحت یوں فرمائی ہے کہ ’’بابائے اردو کو انجمن اردو سے ایک سازش کے تحت نکال دیا گیا۔ یہ بڑی گڑبڑی کی بات تھی‘‘۔ میں نے ایوب خان کو بتایا کہ ’’بابائے اردو کے ساتھ زیادتی ہوگئی ہے۔ آپ انہیں وقت دیں‘‘۔ ایوب خان بہت حیران ہوا، کہنے لگا، بابائے اردو کیا ہوتا ہے؟ یہ آدمی ہے، کتاب ہے، یا کیا ہے؟ میں نے کہا، جی آدمی ہے۔ خیر وقت دیا گیا۔ ایوب خان سے بابائے اردو کی ملاقات ہوئی اور مسئلہ حل ہوا۔
جناب طاہر مسعود صاحب! میں یہ سمجھ رہا تھا کہ یہ انٹرویو جو آپ شائع کررہے ہیں اس میں ساری باتیں حقائق پر مبنی ہوں گی لیکن متذکرہ بالا بیان سن کر مجھے بڑی حیرت ہوئی۔ آپ کو دریافت فرمانا چاہیے تھا کہ مولوی صاحب کو انجمن کی صدارت سے کب نکالا گیا تھا اور ان کی جگہ کس کو صدر بنایا گیا تھا۔
ظاہر ہے بالکل بے بنیاد بات ہے۔ مولوی صاحب ایک دن کے لیے بھی انجمن کی صدارت سے الگ نہیں ہوئے۔ ہاں یہ سچ ہے کہ مولوی صاحب کو قدرت اللہ شہاب صاحب نے صدر ایوب سے ملوایا مگر مولوی صاحب کو اس کی بڑی قیمت دینی پڑی، وہ یہ کہ انہیں صدر ایوب کی حکومت، ان کی بنیادی جمہوریت سب کی تعریف کرنی پڑی اور اخبارات میں بیان دینے پڑے، جس سازش کا ذکر قدرت اللہ شہاب صاحب نے فرمایا ہے وہ صرف اتنی تھی کہ مولوی صاحب کو ایک غلط شخص کے پنجے سے چھڑایا جائے اور انجمن کا کتب خانہ محفوظ ہوجائے۔ یہ داستان طویل ہے۔ اردو کی تاریخ میں مناسب مقام پر اس کا ذکر ضرور آئے گا۔
نیاز مند آفتاب حسن
معتمد (سائنٹفک سوسائٹی پاکستان)
نصر اللہ خاں کا مکتوب
قدرت اللہ شہاب صاحب کے انٹرویو کے بارے میں میجر آفتاب حسن کا مراسلہ جو روزنامہ ’’جسارت‘‘ میں چھپا تھا، میری نظر سے گزرا۔ چوں کہ میں ایک عینی شاہد کی حیثیت رکھتا ہوں اور مولوی عبدالحق صاحب سے ایک مدت کی نیاز مندی رہی ہے اس لیے چند باتیں ریکارڈ کی درستی کے لیے عرض کرتا ہوں:
قدرت اللہ شہاب صاحب نے یہ جو فرمایا کہ ایوب خان ذاتی طور پر مولوی صاحب سے واقف نہیں تھے تو یہ بات بے بنیاد ہے اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ جب علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے مولوی صاحب کو ایل ایل ڈی کی ڈگری دی تھی تو، ایوب خان، والنٹیروں میں شامل تھے اور انہوں نے مولوی صاحب کا استقبال کیا تھا (یہ بات خود ایوب خان نے مولوی صاحب کو بتائی تھی اور مولوی ساحب نے مجھے بتائی تھی)۔ پاکستان کے قیام کے بعد بھی مولوی صاحب اور ایوب خان میں مراسم رہے اور جب مولوی صاحب نے اردو کالج بنایا تو اس کی پرنسپل شپ کے لیے میجر آفتاب حسن صاحب کو منتخب کیا، چوں کہ میجر صاحب فوج میں ملازم تھے اور وہ ازخود ملازمت چھوڑ نہیں سکتے تھے۔ لہٰذا مولوی صاحب نے ایوب خان کو خط لکھ کر انہیں فوج سے ریلیز کرایا تھا۔
میجر صاحب نے اپنے مراسلے میں یہ لکھا ہے کہ مولوی صاحب کو انجمن کی صدارت سے کبھی علیحدہ نہیں کیا گیا تو یہ میجر صاحب نے صحیح کہا ہے۔ عہدئہ صدارت بے شک مولوی صاحب کے پاس رہا لیکن اختیارات صدارت کے ان سے چھین لیے گئے تھے۔ ان کی لائبریری مقفل کردی گئی تھی اور اس سے وہ استفادہ نہیں کرسکتے تھے۔ میں اس زمانے میں ان سے بارہا ملتا رہا ہوں اور انہیں ہمیشہ افسردہ پایا۔ آخر مجبور ہو کر ایک دن انہوں نے صدر ایوب کو ایک خط لکھا جس میں اپنے خلاف بعض لوگوں کی ریشہ دوانیوں کا ذکر تھا۔ چناں چہ اس پر صدر ایوب نے نومبر 1959ء میں مارشل لا کا ضابطہ نمبر 21 نافذ کیا جس کے تحت انجمن ترقی اردو اور اردو کالج کی مجلس نظمابرخواست کردی گئی اور ایک انتظامیہ کمیٹی بنائی گئی جس کے صدر مولوی عبدالحق تھے۔ مولوی صاحب نے صدر ایوب کو جو مراسلہ لکھا تھا وہ اس زمانے کے اخبارات میں شائع ہوچکا ہے۔ میرے پیش نظر رسالہ ’’قومی زبان‘‘ کا شمارہ بابت 16 اکتوبر تا نومبر 59ء ہے۔ اس میں یہ مراسلہ موجود ہے جس سے میرے بیان کی تصدیق کی جاسکتی ہے۔ اس مراسلے کے چند جملے یہ ہیں:
’’میری لائبریری جس میں نایاب اور قیمتی کتابیں ہیں، مقفل کرکے سیل کردی گئی اور مجھے وہاں جانے کی ممانعت کردی گئی ہے، اس سے ریسرچ کا وہ تمام کام رُک گیا جسے میں نے اپنی زندگی میں ختم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ انجمن کے حالات خراب سے خراب تر ہوتے چلے جارہے ہیں، اگر انہیں برقرار رہنے دیا گیا تو انجمن جیسی کوئی چیز باقی نہ رہے گی‘‘۔
میجر صاحب کی اردو کالج سے علیحدگی مذکورہ مارشل لا آرڈر کے تحت عمل میں آئی تھی کیوں کہ وہ مولوی صاحب کے مخالف گروہ کے سربراہ تھے اور یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ میجر صاحب نے یہ تو تسلیم کیا کہ مولوی صاحب کے خلاف سازش ہوئی تھی کہ مولوی صاحب کو ایک غلط آدمی کے پنجے سے چھڑالیا جائے۔ ہمیں اس کیس سے کسی محترم سازشی یا سازشیوں کے ٹولے پر خدانخواستہ کوئی اعتراض نہیں ہے۔ سازشیں نیک نیتی سے بھی ہوتی ہیں۔ ممکن ہے ایک بھولے بھالے شخص کو کسی غلط آدمی سے چھڑانے کی غرض سے یہ سازشیں کی گئی ہوں لیکن نتیجہ اس سازش کا یہ نکلا کہ مذکورہ شخص ایک غلط ہاتھ سے نکل کر بہت سارے غلط ہاتھوں میں پڑ گیا اور آخر میں اسے بہ حالت مجبوری صدر ایوب خان کی دہائی دے کر ان کے ہاتھوں سے بھی چھٹکارا حاصل کرنا پڑا اور اس میں شبہ نہیں کہ شہاب صاحب نے مولوی صاحب کو چھٹکارا دلانے میں بڑی مدد کی۔ نصر اللہ خاں

حصہ