ہزار ماہ سے افضل رات

39

روزہ اور قرآن لازم و ملزوم ہیں۔ قرآن ہمیں ہدایت فراہم کرتا ہے، اور روزہ ہماری تربیت کرتا ہے۔ اس ماہ میں اللہ رب العزت ہمیں حلال سے روک کر عام دنوں میں حرام سے بچنے کی ٹریننگ دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں تمہارے لیے آسانی کرنا چاہتا ہوں، سختی نہیں۔
اگر ہم غور کریں تو کتنی ساری سورتیں ہیں جن میں ہم اللہ تعالیٰ کی طرف سے آسانی حاصل کرتے ہیں، جیسے کہ بیماری یا سفر کی حالت میں چھوڑے ہوئے روزے بعد میں ادا کرنے کی سہولت، زیادہ بیماری یا بڑھاپے میں روزے کے بجائے فدیہ دینا، قمری مہینے کی وجہ سے رمضان کا مختلف مہینوں میں آنا، طاق راتوں میں جاگنا اور درمیان کی راتوں میں آرام کرنا، اور سب سے بڑھ کر عمریں کم ہونے کی وجہ سے شب قدر میں ہزار مہینوں سے بڑھ کر عبادت کا اجر…سبحان اللہ۔
کتنا مہربان ہے ہمارا رب ہم پر۔ پھر اللہ ہم سے یہ چاہتا ہے کہ ہم اس بابرکت مہینے کو پاکر فیض یاب ہونے پر اس کی بڑائی کو دل سے مانیں اور بہترین طریقے سے شکر ادا کریں۔ نبی محترم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث سے رمضان کی اہمیت مزید واضح ہوجاتی ہے۔ حضرت سلمان فارسیؓ سے روایت ہے کہ شعبان کی آخری تاریخ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا جس میں فرمایا کہ اے لوگو ایک بڑی عظمت اور بزرگی والا مہینہ قریب آگیا ہے، وہ ایسا مہینہ ہے جس کی ایک رات ہزار مہینوں سے افضل ہے، اللہ تعالیٰ نے اس مہینے میں روزے رکھنا فرض قرار دیا ہے اور اس مہینے میں راتوں کو تراویح پڑھنا نفل کردیا ہے، جو شخص اس مہینے میں ایک نیک عمل کرے اپنے دل کی خوشی سے، تو وہ ایسا ہے رمضان کے سوا دیگر مہینوں میں فرض ادا کیا ہو، جو اس مہینے میں فرض ادا کرے گا تو وہ ایسا ہے کہ رمضان کے سوا کسی دوسرے مہینے میں ستّر فرض ادا کیے ہوں۔ اس حدیث سے رمضان کی فضیلت کا اندازہ ہوتا ہے کہ جب منبر پر چڑھتے ہوئے حضرت جبریل علیہ السلام نے دعا کی کہ اے اللہ جو شخص رمضان کا مہینہ پائے اور پھر بھی اپنی بخشش نہ کروائے تو اس پر لعنت ہو، اس پر نبیؐ نے آمین کہا۔
رمضان کے مہینے سے زیادہ بہرہ مند ہونے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی نیتوں کا جائزہ لیتے رہیں، کیوں کہ نیت کا درست نہ ہو نا ہمیں ریاکاری اور منافقت کی طرف لے جاتا ہے، اور جس عمل کے پیچھے نیت درست نہ ہو وہ آخرت میں بے وزن ہوگا۔
ان انمول گھڑیوں سے زیادہ سے زیادہ مستفید ہونے کے لیے عید کی تمام تیاری، بازار کے کام، اور کچن کے حتی المقدور کام پہلے نمٹائیں۔ ہمیں رمضان کی قدر کرنی ہے، کیا پتا یہ ہمارا آخری رمضان ہو۔ نماز تراویح کا خصوصی اہتمام، تہجد کی ادائیگی، دعاؤں پر توجہ، نیکیوں کی تلاش، طاق راتوں میں جاگ کر شب قدر کا حصول، اعتکاف کی کوشش، حقوق العباد کی ادائیگی کی فکر، انفاق میں دریا دل ہونا، صدقہ، خیرات، زکوٰۃ، فدیہ، فطرہ ہر مد میں دل کھول کر خرچ کرنا۔ ہمارے نبیؐ رمضان میں تیز ہواؤں کی طرح اللہ کی راہ میں خرچ کرتے تھے۔ اس بات کا دھیان ضرور رکھنا ہے کہ حرام مال سے کیا ہوا انفاق اللہ کے ہاں کوئی درجہ نہیں رکھتا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان تمام باتوں پر عمل کرنے اور اس ماہ مبارک کی ساعتوں سے مستفید ہونے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔

حصہ