توبۃالنصوح

48

’’توبہ‘‘ کے لفظی معنی پلٹ جانے کے ہیں۔ انسان جب کسی گناہ کا ارتکاب کرتا ہے اور غلطی کا احساس ہونے پر وہ اپنے رب کے حضور اس کی ذات سے معافی کی امید لگاتا ہے اور گڑگڑا کر معافی طلب کرتا ہے تو اسے ’’توبہ‘‘ کہتے ہیں۔
توبہ دراصل دل میں پیدا ہونے والی ایک کیفیت یعنی شرمندگی یا ندامت کا نام ہے جس کے پیدا ہونے سے انسان اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنی غلطی کا اقرار کرکے معافی طلب کرتا ہے۔ گناہ اللہ اور اس کے رسولؐ کے احکامات کی خلاف ورزی اور اللہ کی قائم کی ہوئی حدود کو توڑنا ہے۔ سورہ النساء آیت نمبر 10 میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
’’جو شخص کسی برائی کا ارتکاب کرے یا اپنے نفس پر ظلم کرے، پھر اللہ سے بخشش طلب کرے تو وہ اللہ کو بہت بخشنے والا اور مہربان پائے گا‘‘۔
جب انسان اللہ سے گناہوں کی معافی طلب کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت جوش میں آتی ہے اور وہ اسے معاف فرما دیتے ہیں۔ توبہ کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کا ارشاد ہے: ’’اے ابنِ آدم! جب تک تُو مجھے پکارتا رہے گا اور مجھ سے امید وابستہ رکھے گا، تو تُو جس حالت میں ہوگا، میں تجھے معاف کرتا رہوں گا اور میں کوئی پروا نہیں کروں گا۔ اے ابنِ آدم! اگر تیرے گناہ آسمان تک پہنچ جائیں، پھر تُو مجھ سے معافی طلب کرے، تو میں تجھے بخش دوں گا اور کوئی پروا نہیں کروں گا۔ اے ابنِ آدم! اگر تُو زمین بھر گناہوں کے ساتھ میرے پاس آئے، پھر تُو مجھ سے اس حال میں ملے کہ تُو نے میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھیرایا ہو، تو میں بھی اتنی مغفرت کے ساتھ تجھے ملوں گا جس سے زمین بھر جائے‘‘۔ (ترمذی)
اب لفظ ’’نصوح‘‘ کو سمجھ لیتے ہیں۔ نصوح سے مراد ہے ’’بالکل خالص‘‘۔ یہ لفظ النصیحہ سے ماخوذ ہے۔ انسان گناہ کرنے کے بعد جب اللہ رب العزت سے سچے دل سے توبہ کرتا ہے اور اپنی ہر ممکن کوشش کرتا ہے کہ اب اس سے یہ گناہ دوبارہ سرزد نہ ہو، تو اسے ’’توبتہ النصوح‘‘ کہا جاتا ہے۔
سورۃ التحریم آیت نمبر8 میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’مومنو! اللہ کے آگے صاف دل سے توبہ کرو‘‘۔
توبتہ النصوح کا شرعی مفہوم ایک حدیث سے ملتا ہے کہ ابن ابی حاتم نے زر بن حبیش کے واسطے سے نقل کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابی بن کعبؓ سے توبتہ النصوح کا مطلب پوچھا تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ سے یہی سوال کیا تھا، آپؐ نے فرمایا: ’’اس سے مراد یہ ہے کہ جب تم سے کوئی قصور ہوجائے تو اپنے گناہ پر نادم ہو، پھر شرمندگی کے ساتھ اس پر اللہ سے استغفار کرو اور آئندہ کبھی اس فعل کا ارتکاب نہ کرو‘‘۔ یہی مطلب حضرت عمرؓ، حضرت عبداللہ بن مسعودؓ اور حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے بھی منقول ہے۔ ایک اور روایت میں حضرت عمرؓ نے توبتہ النصوح کی تعریف یہ بیان کی ہے کہ ’’توبہ کے بعد آدمی گناہ کا اعادہ تو درکنار، اس کے ارتکاب کا ارادہ تک نہ کرے۔ ( ابنِ جریر )‘‘
حضرت علیؓ نے ایک مرتبہ ایک بدو کو جلدی جلدی توبہ و استغفار کے الفاظ زبان سے ادا کرتے سنا تو فرمایا ’’یہ توبتہ الکذابین ہے‘‘۔ اس نے پوچھا ’’پھر صحیح توبہ کیا ہے؟‘‘ فرمایا ’’اس کے ساتھ چھ چیزیں ہونی چاہئیں:
-1جو کچھ ہوچکا اس پر نادم ہو۔
-2 اپنے جن فرائض سے غفلت ہو ان کو ادا کر۔
-3 جس کا حق مارا ہو اس کو واپس کر۔
-4 جس کو تکلیف پہنچائی ہو اس سے معافی مانگ۔
-5 آئندہ کے لیے عزم کر کہ اس گناہ کا اعادہ نہ کرے گا۔
-6 اپنے نفس کو اللہ کی اطاعت میں گھلادے جس طرح تُو نے اب تک اسے معصیت کا خوگر بنائے رکھا ہے، اور اس کو اطاعت کی تلخی کا مزا چکھا جس طرح اب تک تُو اسے معصیتوں کی حلاوت کا مزا چکھاتا رہا ہے‘‘۔ (کشاف)
’’توبتہ النصوح‘‘ انسان کا عمل بدل دیتی ہے۔ موجودہ حالات کے پیشِ نظر ملک میں بڑھتی ہوئی فحاشی و عریانی، سود، کورونا، مہنگائی، جھوٹ اور بے انتہا برائیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرکے اجتماعی توبتہ النصوح کی ضرورت ہے۔

حصہ