کورونا نئی لہر،بگڑتی صورت حال

89

کوورونا وائرس سال 2019 دسمبر میں چین میں رپورٹ ہوا، 11 مارچ 2020 کو اسے ’’عالمی وبا‘‘ قرار دیا گیا۔192 سے زائد ممالک اس عالمی وبا کا شکار ہوچکے ہیں۔
کورونا کی تیسری نئی اور پہلے سے زیادہ تباہ کن لہر جاری ہے۔ دنیا بے بس و پریشان ہے۔ جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق عالمی سطح پر اس وقت کورونا وائرس کے کُل مصدقہ متاثرین کی تعداد 15کروڑ سے زیادہ ہے، جبکہ اس عالمی وبا سے 31 لاکھ سے زیادہ اموات ہوئی ہیں۔ سب سے زیادہ متاثرہ ملک امریکہ ہے جہاں کووڈ 19 کے تقریباً 3 کروڑ22لاکھ سے زیادہ متاثرین ہیں، جبکہ 5 لاکھ 75ہزار سے زیادہ اموات ہوچکی ہیں۔ ہندوستان میں کورونا وائرس کی تیسری لہر ہنگامی صورت اختیار کرچکی ہے اور ایک کروڑ 86 لاکھ متاثرین کے ساتھ یہ دنیا میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا نیا مرکز بنتا جارہا ہے۔ انڈیا میں مسلسل کئی روز سے یومیہ 3 لاکھ سے زیادہ نئے کیس رپورٹ ہورہے ہیں اور متعدد علاقوں میں لوگ اپنے عزیزوں کے لیے آکسیجن اور وینٹی لیٹر کا انتظام کرنے کی کوشش کرتے نظر آرہے ہیں۔ بی بی سی کے مطابق انڈیا میں مقامی ذرائع ابلاغ کی کئی خبروں میں یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ کورونا وائرس سے ہونے والی اموات کو سرکاری اعداد و شمار میں کم ظاہر کیا جا رہا ہے، کیونکہ سرکار صرف ہسپتالوں میں مرنے والوں کو گن رہی ہے۔ امریکہ کی اپنے شہریوں کو فی الفور انڈیا چھوڑنے کی تاکید ہے ۔
انڈیا کے حالات کووڈ کے خلاف عالمی لڑائی کے لیے بہت بری خبر ہوسکتے ہیں۔
یونیورسٹی آف کیمبرج کے کلینیکل مائیکروبایولوجی کے پروفیسر روی گپتا کہتے ہیں کہ ’انڈیا کی زیادہ آبادی اور کثافت اس وائرس کے لیے خود میں تغیر لانے کے لیے بہترین انکیوبیٹرہیں۔ اسن کا کہنا ہے کہ انڈیا کے حالات کووڈ کے خلاف عالمی لڑائی کے لیے بہت بری خبر ہوسکتے ہیں۔اگر اس طرح کے مثالی حالات میں وائرس کو تبدیلوں کا وقت ملا تو پوری دنیا میں یہ وبائي شدت کو طول دے سکتا ہے۔
پاکستان میں کورونا کی تیسری لہر کے دوران نئے مریضوں کی تعداد ایک مرتبہ پھر تیزی سے بڑھ رہی ہے، جبکہ ملک میں ویکسی نیشن کا عمل جاری ہے، مگر سست روی کا شکار ہے۔ کورونا وائرس کی جاری تیسری لہر کے دوران پاکستان بھر میں مریضوں اور اموات میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ کورونا مریضوں کی تعداد کے حوالے سے مرتب کی گئی فہرست میں پاکستان 31 ویں نمبر پر ہے۔ نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر (این سی او سی) کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں کورونا وائرس سے انتقال کرنے والوں کی مجموعی تعداد 17 ہزار680 ہو گئی ہے، جبکہ کُل مریضوں کی تعداد 8 لاکھ15 ہزار سے زائد ہوچکی ہے۔ ہمارے اسپتالوں، قرنطینہ سینٹرز اور گھروں میں کورونا وائرس کے کُل 89ہزار 838مریض زیرِ علاج ہیں، جن میں سے 5 ہزار 75 مریضوں کی حالت تشویش ناک ہے، جبکہ 6 لاکھ 99 ہزار 816 مریض اب تک اس بیماری سے شفایاب ہوچکے ہیں۔ تیسری لہر کے دوران پنجاب میں کورونا وائرس کے کیسز میں تیزی سے اضافہ جاری ہے، جہاں کورونا مریضوں کی تعداد دیگر صوبوں سے زیادہ ہوکر 2 لاکھ 93 ہزار 468 ہوگئی، جبکہ یہاں کُل ہلاکتیں بھی دیگر صوبوں سے زیادہ ہیں جو 8 ہزار 97 ہوچکی ہیں۔(29اپریل2021,،جنگ)
سندھ میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 2 لاکھ81ہزار385ہوچکی ہے، جبکہ اس سے کُل اموات 4 ہزار 629ہوگئیں۔
خیبر پختون خوا میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 1 لاکھ 17ہزارسے زائد ہوچکی ہے، اس سے اب تک کُل اموات 3 ہزار 238ہوگئیں۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں74ہزار640 کورونا وائرس سے متاثرہ مریض اب تک سامنے آئے ہیں، یہاں کُل 677افراد اس وبا سے جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ بلوچستان میں 22ہزار118مریض اب تک رپورٹ ہوئے ہیں اور 232 افراد اس مرض سے انتقال کرچکے ہیں۔ آزاد جموں و کشمیر میں کورونا وائرس کے اب تک 16 ہزار 931مریض رپورٹ ہوئے ہیں، اس کے باعث اب تک یہاں کُل 470مریض وفات پا چکے ہیں۔ گلگت بلتستان میں کورونا وائرس کے 5 ہزار 296 مریض سامنے آئے ہیں جبکہ اس سے اب تک 106 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔سندھ کی وزیرِ صحت کے مطابق کورونا کے 22 کیسز پر تحقیق کی گئی،18 میں یوکے ویرینٹ، جبکہ 2 میں بی 1135 ویرینٹ کی تصدیق ہوئی ہے۔
امریکی ہیلتھ انسٹی ٹیوٹ کی ایک اہم رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ جنوبی ایشیا میں کووڈ-19 کیسز میں غیرمعمولی اضافے کے نتیجے میں مئی کے وسط تک عالمی سطح پر ایک دن میں وائرس کا شکار افراد کی تعداد ڈیڑھ کروڑ تک پہنچ سکتی ہے۔ ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق یونیورسٹی آف واشنگٹن کے ہیلتھ میٹرکس اور تشخیصی ڈپارٹمنٹ نے کہا کہ ہمارے تازہ ترین تخمینوں سے پتا چلتا ہے کہ ہندوستان میں کووڈ-19 کے کیسز میں اضافے کے ساتھ ساتھ بنگلہ دیش اور پاکستان میں کیسز میں اضافے کے نتیجے میں دنیا بھر میں وائرس سے متاثرہ افراد کی ایک دن میں تعداد ڈیڑھ کروڑ تک پہنچ سکتی ہے۔ اس اندازے کے مطابق یکم اگست تک پاکستان میں یومیہ کیسز 2 لاکھ 40 ہزار اور اموات کی تعداد یومیہ 28ہزار 549 تک پہنچ سکتی ہے۔ان میں سے 5 ہزار 639 اموات سندھ، پنجاب میں 12ہزار 460، خیبر پختون خوا میں 6 ہزار 978، بلوچستان میں 796، گلگت بلتستان میں 115، آزاد جموں و کشمیر میں 1ہزار 88 اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 1ہزار 473 اموات ہوسکتی ہیں۔
جولائی 2020ء میں انسٹی ٹیوٹ نے پیش گوئی کی تھی کہ نومبر 2020ء تک امریکا میں کووڈ 19 اموات2 لاکھ سے تجاوز کرسکتی ہیں۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ان اعداد و شمار کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ وہ اموات کو ایک لاکھ تک محدود رکھ سکتے ہیں۔
لیکن یہ پیشن گوئی درست ثابت ہوئی اور اب امریکا میں اموات کی تعداد 5 لاکھ 72 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے، جبکہ اب تک دنیا میں سب سے زیادہ 3 کروڑ 20 لاکھ سے زائد افراد وائرس سے متاثر ہوچکے ہیں۔
اس ہفتے جاری کی جانے والی اپنی تازہ ترین رپورٹ میں انسٹی ٹیوٹ نے جنوبی ایشیا کو عالمی سطح پر ہاٹ اسپاٹ قرار دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ مئی کے وسط تک استحکام سے قبل خطے میں انفیکشن اور اموات کی تعداد میں اضافہ جاری رہے گا۔
اس رپورٹ کے اندازے کے مطابق بھارت میں روزانہ اموات کی تعداد مئی کے وسط تک بڑھ کر یومیہ 13ہزار تک پہنچ سکتی ہے اور یہ تعداد اِن دنوں رپورٹ ہونے والی اموات کے مقابلے میں چار گنا ہے۔
انسٹی ٹیوٹ کے تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ وبائی مرض مئی کے وسط تک ہندوستان اور جنوبی ایشیا کے دوسرے حصوں میں غیر معمولی اضافے کا باعث بنے گا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں کیسز اور اموات میں غیر معمولی اضافہ جاری ہے اور ہمارے تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ انفیکشن کا پتا لگانے کی شرح 5 فیصد سے بھی کم ہے، شاید اس وقت 3 سے 4 فیصد کے قریب ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے جن کیسز کی تشخیص ہورہی ہے اس کو 20 گنا تک بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ بھارت میں وائرس کا شکار ہونے والوں کی اصل تعداد سامنے آسکے، اس وقت بھارت میں وائرس کا شکار افراد کی تعداد غیر معمولی ہے۔
انسٹی ٹیوٹ نے پیش گوئی کی کہ ممکن ہے یہ وبا کم سے کم مئی کے دوسرے ہفتے تک جاری رہے، ہمارے ماڈل تجویز کررہے ہیں کہ مئی کے آخر تک ہندوستان میں ٹرانسمیشن میں کمی آنا شروع ہوسکتی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہندوستان میں کیسز کے اضافے کے سبب نیپال میں بھی کیسز پھیل رہے ہیں۔
مقامی حکومتوں کی جانب سے فراہم کردہ سرکاری اعدادوشمار پر تبصرہ کرتے ہوئے انسٹی ٹیوٹ نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں بقیہ ممالک خصوصاً بنگلہ دیش میں کیسز عروج پر پہنچ چکے ہیں اور اب ان میں کمی آنا شروع ہوچکی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ بھارت میں وائرس کے شکار افراد کی اصل تعداد 30 گنا زیادہ اور یہ 50 کروڑ تک ہوسکتی ہے۔
اس وقت پورے ملک میں کورونا کی صورت حال اس رپورٹ کے برعکس نظر نہیں آتی۔ صورت حال اتنی زیاہ خراب ہورہی ہے کہ کراچی سمیت صوبے بھر میں سرکاری اور نجی اسپتالوں میں معمول کے آپریشن ملتوی کردیئے گئے ہیں۔ لہر میں تیزی کو مدنظر رکھتے ہوئے شہریوں سے ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد کروانے کے لیے فوج کی مدد طلب کرلی گئی ہے۔
(باقی صفحہ نمبر 12)
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کورونا وائرس کی تازہ صورت حال سے متعلق کہنا ہے کہ 22 سے 28 اپریل تک مثبت کیسز کا تناسب 10.75 فیصد رہا ہے، یہ صورتحال اچھی نہیں ہے، سخت اقدامات کرنے ہوں گے۔
پورے ملک کے ساتھ سندھ میں بھی تعلیمی ادارے بند ہیں۔ محکمہ صحت سندھ کے مطابق این سی او سی کی ہدایت کے بعد محکمہ داخلہ اور محکمہ صحت نے احکامات جاری کیے، نجی و سرکاری اسپتالوں میں معمول کی سرجریز اور آپریشن ملتوی کردیئے گئے۔ صرف ہنگامی صورت حال کا سامنا کرنے والے افراد کے آپریشن کیے جاسکیں گے۔ ہنگامی آپریشن سے قبل مریض کا کورونا کا ٹیسٹ لازمی ہوگا۔ محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ کینسر کے مریضوں کا علاج اور آپریشن معمول کے مطابق ہی چلے گا، اسپتالوں میں مریضوں سے ملنے والے تیمارداروں پر بھی پابندی ہوگی۔ و زارت داخلہ نے کہا کہ عید کی چھٹیوں اور 8سے 16 مئی کے دوران سیاحت پر مکمل پابندی ہوگی، سیاحتی مقامات، ریزارٹ، ہوٹل، پبلک پارک، ریستوران اور شاپنگ مال بند رہیں گے۔ مری، گلیات، سوات، کالام، سمندر اور شمالی علاقوں پر خاص توجہ دی جائے گی۔ جہاں عید کی چھٹیاں طویل کرنے کی بات ہورہی ہے وہاں عید کی چھٹیوں میں بین الصوبائی اور انٹر سٹی ٹرانسپورٹ مکمل بند رہے گی۔ وزارت داخلہ کے مطابق مقامی افراد بالخصوص گلگت بلتستان کے لوگوں کو سفر کی اجازت ہوگی۔
وزیرآعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا ہے کہ کورونا کی صورت حال میں بہتری نہیں آئی تو باقی شہروں میں بھی لاک ڈاؤن لگایا جاسکتا ہے، رمضان اور عید سادگی سے گزارنے ہوں گے۔ ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں 1200 ویکسین سینٹر ہیں جہاں پر ویکسی نیشن کا عمل بلاتعطل جاری ہے، ویکسی نیشن سینٹر جمعہ کو بند اور اتوار کو کھلتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوویکس کی طرف سے آنے والی ویکسین نہیں ملی ہے، ملک میں 50 سال سے زائد عمر کے لوگوں کی ویکسین چل رہی ہے، 40 سال سے زائد عمر کے لوگوں کے لیے رجسٹریشن شروع کردی گئی ہے اور 3مئی سے ویکسین لگنا شروع ہوجائے گی جبکہ 20 لاکھ سے زیادہ ویکسین کی ڈوز لگ چکی ہیں۔
ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ، ہم تین کمپنیوں سے ویکسین خرید بھی رہے ہیں۔17 لاکھ ڈوزز حکومت چین کی طرف سے تحفے میں آئی ہیں، 30 مارچ سے 30 لاکھ ویکسین ڈوز خرید چکے ہیں، جبکہ 3 کروڑ ویکسین ڈوز خریدنے کا معاہدہ کرلیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک معاہدہ کین سائنو کمپنی سے ٹرانسفورم ٹیکنالوجی کا ہے، یہ ٹیکنالوجی پاکستان آئے گی، کین سائنو کمپنی کی ویکسین کی فلنگ پاکستان میں ہوگی۔ فیصل سلطان کے مطابق آکسیجن سپلائی پر این سی او سی کی کمیٹی نے نظر رکھی ہوئی ہے، آکسیجن کی موجودہ پلانٹ سے منتقلی پر بھی نظر ہے، جبکہ پاکستان اسٹیل مل کے آکسیجن پلانٹ کو بھی دیکھ رہے ہیں، اس کے علاوہ مختلف ممالک سے آکسیجن کی امپورٹ کو بھی ممکن بنایا جاسکتا ہے۔
ویکسین کے حوالے سے عرب نیوز کی ایک خبر ہے کہ اے جی پی لمیٹڈ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ کین سائنو بائیولوجکس کی کورونا وائرس ویکسین اگلے ماہ سے بڑی مقدار میں پاکستان لائی جائے گی، جسے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ میں واقع فلنگ پلانٹ میں پیک کیا جائے گا۔ چین سے ’ٹیکنالوجی ٹرانسفر‘ کے بعد جلد ہی پاکستان میں اس ویکیسن کی تیاری بھی شروع کردی جائے گی۔
کورونا کی تیسری لہر بچوں کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہورہی ہے ، اس تیسری لہر میں اب تک 125 سے زائد بچے متاثر جبکہ 13 زندگی کی بازی ہار گئے۔ جاں بحق بچوں میں ایک سال سے کم عمر بچوں کی تعداد زیادہ ہے جبکہ بڑے بچے جن کو پہلے سے دل، جگر یا کوئی اور بیماری پہلے سے تھی وہ جاں بحق ہوئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ احتیاط ہی ایک واحد طریقہ ہے جس سے بچوں کو اس مہلک وائرس سے بچایا جاسکتا ہے۔
کورونا وائرس ایک حقیقت کے طور پر ہمارے سامنے ہیں، حکومتی اقدامات اور ویکسی نیشن کا عمل اتنا اچھا نہیں ہے کہ ہم یہ کہہ سکیں کہ جلد اس وبا سے نجات مل جائے گی۔ اس وقت جب لوگوں میں ویکسین لگانے کا شعور بیدار ہوا ہے تو ویکسین سیںٹر کم ہونے کی وجہ سے ہجوم بڑھ رہا ہے، اور اگر ایسا ہی رہا تو لوگ رش کی وجہ سے ویکسین لگانے سے گریز کریں گے۔ اس کے لیے حکومت کو فوری طور پر ملک کے ہر حصے میں سینٹر بڑھانے کی ضرورت ہے، اور اس سلسلے میں نجی شعبے کو بھی بزنس سے ہٹ کر حکومت کا ساتھ دینا چاہیے۔ حکومت مختلف نیک نام رکھنے والی این جی اوز الخدمت، عمیر ثنا فائونڈیشن و دیگر سے بھی اس سلسلے میں تعاون لے سکتی ہے۔ اس کا ایک ہی علاج ہے اور وہ ہے احتیاط۔ اس مہلک وائرس سے بچوں کو احتیاط سے ہی بچایا جاسکتا ہے۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ والدین پہلے خود بچوں کے لیے رول ماڈل بنیں، جب بھی باہر جائیں ایس او پیز پر عمل کرکے جائیں، اور جیسے ہی گھر آئیں فوراً ہاتھ دھوئیں۔ بچے بھی والدین سے سیکھیں گے، ان میں بھی ہاتھ دھونے کی عادت پڑے گی۔ بچوں کو ہجوم والی جگہ پر بالکل بھی نہ لے کر جائیں۔ بچوں کو ایس او پیز پر عمل کروانا تھوڑا مشکل ہے مگر جب بھی وہ لیپ ٹاپ اور موبائل کو ہاتھ لگائیں ان کے ہاتھ فوراً دھلوائیں۔ اگر ہم ماسک پہنیں اور اس کو اپنے معمول کا حصہ بنالیں اور ہاتھ دھوتے رہیں تو بہت حد تک خود بھی محفوظ رہ سکتے ہیں اور دوسروں کو بھی اس وبا سے بچاسکتے ہیں۔ لیکن ہمارا رویہ بہت افسوسناک اور شرمناک ہے۔ اس وقت کھلے بازاروں میں جس قسم کا ہجوم ہے اور لوگ ماسک کے بغیر جس طرح بغیر کسی احتیاط کے گھوم رہے ہیں یہ صرف اُن کے اور اُن کے عزیزوں کے لیے خطرناک نہیں ہے بلکہ پورے ملک کے لیے خطرناک ہے۔ پھر اس کے نتیجے میں مکمل لاک ڈائون اور بندش کا سلسلہ شروع ہوا تو وہ بھی ہمارے ملک اور عام آدمی کی معیشت کے لیے کورونا کی طرح کم خطرناک نہیں ہوگا۔ آخر میں کورونا بحران کے تناظر میں لکھی گئی ڈاکٹر اختر شمارؔ کی ایک دعائیہ نظم پیش خدمت ہے:
قریہ قریہ گریہ پیہم یا رحیم یا کریم
مر رہی ہے نسلِ آدم یا رحیم یا کریم
ہم خطاؤں پر ہیں نادم سب کہیں مل کر شمارؔ
دور کردے ہم سے ہر غم یا رحیم یا کریم

حصہ