سیلفی کیوں نہ بنائوں ؟

279

کچھ سال قبل جب کوئی طرح طرح کے منہ بنا کر بیچ سڑک پر کھڑے ہوکر عجیب و غریب حرکتیں کرتا نظر آتا تو وہ مسخرہ سمجھا جاتا تھا۔ لیکن آج کل اچھا بھلا انسان سڑکوں پر، ہوٹلوں میں، بازاروں میں، گھروں میں، شادیوں میں اور ناگفتہ بہ جگہ پر بھی طرح طرح کے منہ بنا کر کیمرے کے ایک فلیش سے اسے محفوظ کرلیتا ہے جسے عرفِ عام میں ’’سیلفی‘‘ کا نام دیا جاتا ہے۔
جہاں ہم ترقی کی طرف جا رہے ہیں، وہیں دورِ جاہلیت کی طرف بھی رواں دواں ہیں، مگر ہم اس کا احساس نہیں کر پا رہے ہیں۔ شاید ’جیسا دیس ویسا بھیس‘ کے مصداق کوئی بری چیز بری محسوس نہیں ہورہی۔ اہلِ نظر ہی یہ بات بتائیں گے کہ سیلفی کے بخار نے دنیا کو کتنا نقصان پہنچایا، اور اہلِ اعداد و شمار بتائیں گے کہ کتنے فیصد لوگ اس مرض میں مبتلا ہوکر راہیِ ملک عدم ہوچکے ہیں۔ ہم تو صرف اتنا عرض کر رہے ہیں کہ جس سیلفی کو آج ترقی سمجھا جا رہا ہے، یہ ترقی کے ساتھ ساتھ تباہی کا پیش خیمہ ہے۔
کچھ عرصہ قبل سمندر کے پاس سیلفی بناتے ہوئے ایک شخص سمندر میں ڈوب کر اپنی جان سے گیا۔ ایسی ایک نہیں کئی مثالوں سے ہمارا معاشرہ بھرا پڑا ہے۔ یہ بخار لوگوں کو چڑھ تو گیا ہے مگر اترنے کا نام نہیں لے رہا۔
جانی نقصانات کے ساتھ ساتھ اس نے ہمارے معاشرے کو ایک بیماری میں بھی مبتلا کیا ہے۔ معاشرے کی ایک بڑی آبادی خود نمائی اور خود ستائشی کا شکار ہوچکی ہے۔ فارسی محاورہ ہے ’’ہمچو من دیگر نیست‘‘ (ہم جیسا کوئی نہیں)۔
اس محاورے کو بدل کر یوں بھی پڑھا جاتا ہے ’’ہمچو من ڈنگر نیست‘‘ (ہم جیسا کوئی جانور نہیں)۔ سیلفی کا خمار رشتوں میں دراڑ کا بھی باعث بن رہا ہے۔ کراچی کے ایک معروف علاقے میں جہاں ایک برادری کے لوگ رہتے ہیں، اسی سیلفی نے گھر اور خاندان الگ کر دیے۔
کھانا کھاتے ہوئے سیلفی بنانا اور شیئر کرنا عام ہوچکا ہے، یہ سوچے بغیر کہ بہت سارے لوگ ایسے ہیں جو اس کھانے کو دیکھ کر احساسِ کمتری میں مبتلا ہوں گے، حالانکہ ہمارے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے تو کھانے کی خوشبو پڑوسی کو محسوس ہو تو اُسے بھی کھانا بھیجنے کا حکم دیا ہے۔ اس کے برعکس ہم کھانوں کی تصویریں وائرل کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ آپ کی یہ سیلفی کسی دوسرے کے لیے تکلیف کا باعث بن جائے۔
اسی سیلفی کی وجہ سے کئی ایسی چیزیں وجود میں آئی ہیں جو کہ وقت کے ضیاع کا باعث بنتی ہیں۔ مہنگے موبائل خریدے جانے لگے، کھانے کے پیسے ہوں یا نہ ہوں لیکن موبائل بہت ہی اعلیٰ قسم کا ہوتا ہے، چاہے بیش قیمت ہی کیوں نہ ہو… اکثر و بیشتر یہی کہتے سنا ہے کہ ایسا موبائل چاہیے جس سے وڈیو اور تصویر اچھی آجائے۔ سوچنے کی بات ہے کہ پوری دنیا کا سرمایہ موبائل مالکان کی جیب میں چلا جاتا ہے، وہ اہلِ دنیا کو محکوم بناکر اُلّو بناتے رہتے ہیں اور ہم بنتے رہتے ہیں۔
ان سیلفیز سے ہم دور بیٹھے لوگوں پر رعب ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں، جو کچھ ہی دیر میں اسکرول کرکے آگے بڑھ جاتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ اپنے قریب رہنے والوں کے دلوں میں اپنی بے غرض محبت اور خدمت سے جگہ بنائی جائے، کہ اس کی قدر کرنے والا رب کبھی نہیں بھولتا۔

حصہ