رمضان ، تزکیہ نفس اور یہ چینلز

61

رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی مختلف چینلز پر رمضان المبارک کے حوالے سے پروگرام شروع ہوجاتے ہیں۔ دینی تعلیمات پر مبنی پروگراموں کی ترویج اچھی بات ہے، اس قسم کے پروگرام عوام الناس میں آگہی کا سبب بن سکتے ہیں، لیکن شرط یہ ہے کہ ان پروگراموں کے ذریعے ان کے اصل مقصد و تقدس کو پامال نہ کیا جائے کہ جس سے دل آزاری ہو۔ مستند علمائے کرام کے ذریعے اسلامی تعلیمات کی ترویج و تدوین آج کے دور کی اشد ضرورت ہے، لیکن ایمان داری سے بتائیں آج کے دور میں ٹی وی چینلز پر جو رمضان نشریات ہورہی ہیں ان کی کیا حقیقت اور کیا اثرات ہیں؟
زندگی کے کسی بھی شعبے کو دیکھیں، ہر شعبے سے متعلق تعلیم سے آراستہ افراد ان شعبوں کو کامیابی سے ہمکنار کرتے ہیں۔ کوئی ڈاکٹر انجینئر کے فرائض بخوبی انجام نہیں دے سکتا، اسی طرح اگر انجینئر کو آپریشن تھیٹر میں کتنے ہی بہترین آلات کے ساتھ بھیج دیا جائے کہ اس شخص کی سرجری کا کام تمہیں نبھانا ہے تو کیا نتائج سامنے آئیں گے؟
لیکن افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ آج دین کو مذاق بنا دیا گیا ہے۔ سب سے اہم اور ضروری شعبہ جو انسان کی دنیا و آخرت کی بھلائی کا سامان ہے… اس شعبے کو نااہل اور ناتجربہ کار لوگوں کے حوالے کردیا جاتا ہے۔ جی ہاں، رمضان ٹرانسمیشن کے نام پر بنائے گئے ان پروگراموں کے میزبان کیا ایسے پروگرام کرنے کے اہل ہیں…؟ میری اس سلسلے میں بہت سے لوگوں سے بات ہوئی جنہوں نے سخت ناگواری کا اظہار کیا، اور یہاں تک کہا کہ دین کو ’’تماشا‘‘ بنادیا گیا ہے، ان پروگراموں کو رمضان ٹرانسمیشن کا نام نہ دیا جائے تو بھی برداشت کیا جا سکتا ہے۔ ان پروگراموں کی مانگ بڑھانے کے لیے ان کی میزبانی اداکاروں اور گلوکاروں کے حوالے کی جاتی ہے۔ خدانخواستہ میں ان کے کردار پر انگلی نہیں اٹھا رہی، انہیں علم دین کی آگہی کے لیے پروگرام میں شریک تو کیا جا سکتا ہے لیکن پروگرام مستند علمائے کرام کے حوالے کیا جائے تاکہ وہ عوام الناس کی صحیح معنوں میں رہنمائی کرسکیں۔ اس نشست پر وہی لوگ بیٹھنے کے قابل ہیں جو مکمل طور پر دینِ اسلام کی تعلیمات سے نہ صرف آراستہ ہوں بلکہ اس کے پیرائے میں مکمل ڈھلے ہوئے ہوں، جن کے قول و فعل میں تضاد نہ ہو۔
میرا تعلق ایک لمبے عرصے تک درس و تدریس سے رہا۔ کراچی کے اس معروف اسکول کی مالکہ (جہاں میں پڑھاتی تھی) کا زور اس بات پر رہتا کہ ہر مضمون کا استاد متعلقہ مضمون پر مکمل دسترس رکھتا ہو تاکہ وہ اپنے مضمون سے نہ صرف انصاف کرپائے بلکہ اپنے شاگردوں کو بھی مطمئن کرے۔ ہر میٹنگ میں وہ اس بات پر زور دیتی تھیں کہ استاد شاگردوں کے لیے رول ماڈل (نمونہ) ہیں، آپ صرف کلاس روم میں بچوں کے سامنے سروں پر دوپٹہ نہ لیں بلکہ اسکول سے باہر نکلیں تو بھی آپ کے سر ڈھکے ہوئے ہو۔ یہ وہ اصول ہیں جو ایک تعلیمی ادارے کے بچوں کی رہبری و اصلاح کے لیے مرتب کیے گئے تھے… اور یہ چینلز جو لاکھوں کروڑوں لوگ دیکھتے ہیں کیا ایسے اصول وضوابط یہاں مرتب کیے گئے ہیں؟ ہر ایک آسانی سے جواب دے گا: بالکل نہیں… یہ مضمون لکھتے وقت میں صرف اپنی رائے نہیں دے رہی بلکہ آس پاس کے سیکڑوں لوگوں کی رائے بیان کررہی ہوں…
ٹی وی اسکرین کے آگے بیٹھنے والوں میں ہر عمر کے لوگ شامل ہوتے ہیں… پھر اس ماہِ مبارک میں انعامات دینے والے کچھ پروگرام بھی باقاعدگی سے نشر ہورہے ہیں، جن میں سیکڑوں لوگ مدعو کیے جاتے ہیں۔ شرکت کرنے والے ایسے پروگراموں کی ریکارڈنگ کے لیے چھ چھ سات سات گھنٹے اسٹوڈیو میں موجود رہتے ہیں۔ سوچیے، ذرا غور کیجیے کہ اس قسم کی لہو و لعب سرگرمیوں میں رمضان المبارک کی بابرکت گھڑیاں صَرف کرنا ایک مسلمان کو زیب دیتا ہے…؟ ہرگز نہیں… رمضان المبارک کا ہر لمحہ بارگاہِ الٰہی میں رجوع کرنے کے لیے مختص کرنا اپنی ذات پر احسان کرنے کے مترادف ہے۔
پھر جب یہ پروگرام نشر ہوتے ہیں تو مدعو کیے ہوئے تمام افراد، ان کے اہل خانہ و احباب ٹی وی کے سامنے بیٹھے اپنا قیمتی وقت گنواتے ہیں۔ اکثر عشاء کی نماز اور تراویح کے وقت ہی ایسے پروگرام پیش کیے جاتے ہیں۔ کہنے والے یہ کہتے ہیں کہ آپ کیوں دیکھتے ہیں یہ پروگرام…؟ ٹھیک ہے سب نہیں دیکھتے لیکن 30 سے 40 فیصد لوگ ایسے ہیں جو ’’باز‘‘ نہیں آتے۔ بڑے نہ سہی، بچے ہی ٹی وی کے آگے اس وقت بیٹھے رہتے ہیں… مائیں سوچتی ہیں، چلو اچھا ہے مصروف ہیں۔
یہی اوقات مقرر ہیں بہت سے چینلز پر ڈراموں کے لیے… اور ڈراموں میں کیا کچھ پیش کیا جارہا ہے، اس کے ہمارے معاشرے پر کیا اثرات مرتب ہورہے ہیں، اس سے ہر ایک واقف ہے، بلکہ اب تو اس فیلڈ سے متعلقہ لوگ بھی خائف ہیں۔ پچھلے دنوں مرحومہ حسینہ معین کی ایک نشست کے حوالے سے تحریر کے کچھ جملے پڑھے کہ حسینہ معین نے لکھنا اس لیے کم کردیا ان چینلز کے لیے کہ اب وہ کچھ پیش نہیں کیا جارہا ہے جو وہ پسند کرتی ہیں (یعنی وہ چینلز کی پسند کے مطابق لکھنا پسند نہیں کرتیں)۔ انہیں آج کل کے ان ڈراموں کی کہانیاں اور اسکرپٹ پسند نہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ حساس لوگ اس قسم کے ڈرامے پسند نہیں کرتے جو معاشرے پر منفی سوچ و عمل کو مسلط کرتے ہیں۔
افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ یہ جن خواتین کے پسندیدہ ڈرامے ہیں چاہے اُن کی تعداد 30 فیصد ہی ہو، وہ ہر صورت میں ان کی قسط کو دیکھنا لازمی سمجھتی ہیں چاہے نماز بعد میں جلدی جلدی اور جیسی تیسی ادا ہو۔ اگر نماز وقتِ مقررہ پر صحیح ادا کرلیتی ہیں تو کہتی ہیں کہ ہم دن میں ’’نشر مکرر‘‘ میں اپنا مطلوبہ ڈرامہ ضرور دیکھتے ہیں… یعنی ہر صورت میں ’’اس لہو ولعب سعادت‘‘ سے اپنے آپ کو محروم کرنا گوارا نہیں۔ چالیس سے پینتالیس فیصد لوگوں کی رائے یہ سنی گئی ہے کہ پورے ماہِ مبارک کو ایسے پروگراموں اور اس قسم کی نشریات سے بچایا جائے۔
اس ماہِ مبارک میں ہر نیکی کا اجر جب دگنا ہوجاتا ہے تو گناہوں سے بچنا بھی لازمی ہے۔ اس ماہِ مبارک کی برکتوں سے وہی فیضیاب ہوسکتا ہے جو اپنا دامن اس قسم کی لہو ولعب سرگرمیوں سے بچائے۔ اس ماہِ مبارک کو فرض روزوں، فرض و نوافل سے اور حقوق العباد کی ادائیگی کے ذریعے گزارنا افضل ہے۔ اس ماہِ مبارک اور اس کے روزوں اور عبادت کو خلوصِ دل سے ادا کیا جائے تو انسان کی ذات منور ہوجائے۔ یہ تمام عبادات ’’ظاہر‘‘ ہیں، لیکن روزہ ایک ایسی عبادت ہے جو خاص رب العالمین ہی جانتا ہے کہ میرا بندہ روزہ دار ہے (سبحان اللہ)۔ بخاری شریف میں آپؐ کا ارشاد ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے: روزہ دار کھانا میرے لیے چھوڑتا ہے، اپنی لذت میرے لیے چھوڑتا ہے، اور اپنی بیوی کو میرے لیے چھوڑتا ہے (کہ اس سے اپنی خواہش پوری نہیں کرتا)۔
اس ارشاد سے معلوم ہوا کہ روزہ خاص رب العالمین کے لیے ہے۔ اس ارشاد سے ظاہر ہے کہ بندہ روزے کی حالت میں کچھ جائز خواہشات سے بھی پرہیز کرتا ہے۔ تو اللہ کے بندو! ان سرگرمیوں سے جن سے عام دنوں میں بھی بچنا لازم ہے، ایسی سرگرمیاں رمضان المبارک اور روزے کی حالت میں رب العزت کیسے گوارا کرسکتا ہے! آپؐ نے روزے کو ’’ڈھال‘‘ فرمایا، یعنی یہ بندے کو برائیوں سے بچانے کے لیے ڈھال کا کام دیتا ہے، یہ دوزخ سے بچانے کے لیے مضبوط قلعہ و ڈھال ہے، لیکن شرط وہی ہے کہ اطاعتِ خداوندی اور خلوصِ نیت ہو… یعنی جس بندے نے رمضان المبارک کا مہینہ اطاعت ِخداوندی میں صبر و تحمل، اخلاص، پرہیزگاری کے ساتھ گزارا اُس کے لیے اجر و ثواب ہے، بخشش کا ذریعہ ہے، مغفرت کا سبب ہے۔
لہٰذا اس ماہِ مبارک کی رحمتوں و برکتوں سے اللہ کے بندوں کو بہرہ ور کرنے کے لیے چینلز بھی اپنا حصہ شامل کریں۔ عوام الناس کو کم از کم اس مقدس مہینے میں تو لہو و لعب قسم کی نشریات و پروگراموں سے بچانے کے لیے لائحہ عمل بنائیں۔ میں ان سطور کے ذریعے چینلز سے وابستہ تمام لوگوں سے التماس کرتی ہوں کہ خدارا اس سلسلے میں مثبت سوچ و عمل کو اپنائیں اور عملی قدم اٹھائیں۔

حصہ