قانون انسداد توہین رسالت ، ایک تاریخی اور تجزیاتی مطالعہ

68

اسلامی ریاست اور معاشرہ
گزشتہ کئی صدیوں سے دنیا میں مغرب کی ہمہ جہت بالادستی رہی ہے جس نے اسلام کے بارے میں متعدد غلط فہمیوں کو پھیلانا اپنا ہدف قرار دیا ہے۔ اسلام میں معاشرے اور ریاست کے وجود کا خود کوئی مقصد نہیں بلکہ بعض مقاصد اہداف کے حصول کا ایک ذریعہ ہیں۔ قرآن حکیم کی رو سے تو اصل مقصد انسانی شخصیت کی اس طرح تعمیر ہے کہ وہ (انسان) اللہ تعالیٰ کی منشاء کے مطابق عدل و انصاف پر مبنی اور بلند اخلاق کی حامل دنیا کی تعمیر میں معاون و مددگار ثابت ہو۔ کوئی اسلامی ریاست اپنے شہریوں کے اخلاقی رویوں سے لاتعلق نہیں رہ سکتی۔ اسے بہرحال اپنے مقاصد کو آگے بڑھانے کے لیے نہایت سرگرم نظریاتی کردار ادا کرنا ہوگا۔ صرف اسلامی ریاست ہی نہیں بلکہ کوئی بھی مہذب سیاسی نظم اپنی اس بنیاد سے صرف نظر نہیں کرسکتا کہ جس پر وہ استوار ہو۔ ماضی قریب میں ہم نے جدید دنیا کی نہایت طاقتور نظریاتی ریاستوں میں سے ایک سلطنت کو اپنے قومی پروگراموں اور بین الاقوامی پالیسیوں کی تشکیل و ترتیب میں نہایت سرگرم نظریاتی کردار کرتے دیکھا ہے۔ ’’جدید‘‘ مغربی ریاستیں برسراقتدار سپر طاقت کے مقاصد کو آگے بڑھاتے ہوئے بھی اپنی بقا کی فلسفیانہ بنیادوں سے لاتعلق نہیں رہتیں۔ چنانچہ سیاسی جماعتوں کا وجود اور بالغ حق رائے دہی، آزاد معیشت اور آزاد روی کا حامل معاشرتی ڈھانچہ وغیرہ مغربی نظام حیات کے بنیادی پتھر ہیں۔ اپنے ان نظریات و تخیلات سے مغرب اس طرح وابستہ ہے کہ بسا اوقات ان کارویہ تیسری دنیا کی اقوام کے لیے سیاسی اور شعوری اعتبار سے گلا گھونٹنے کے مترادف دکھائی دیتا ہے۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دور جدید کے حاشیہ بردار، مسلمانوں کو اتنی آزادی دینے کو بھی تیار نہیں کہ وہ (بعض) مغربی اقدار سے صرف نظر ہی کرسکیں۔ حتیٰ کہ مغرب کو مسلمانوں کا وہ جمہوری نظام بھی قابل قبول نہیں ہوتا جس میں مغرب کی معاشرتی اقدار، اقتصادی توجیہات اور سیاسی مفادات کا تحفظ و فروغ کار فرما نہ ہو۔ الجزائر اور پھر مصر میں جو کچھ ہوا، مسلمان اسے مغرب کی طرف سے الجزائری اور مصری عوام کے حق خود ارادیت سے انکار تصور کرتے ہیں۔ فرانس میں نامور مسلم اہل علم کی دو درجن تصانیف پر پابندی دراصل مغربی تعصب کا ہی ایک نمونہ ہے اور یہ بات بڑی عجیب ہے کہ (ملعون) رشدی کی تصانیف پر پابندی کو نکتہ چینی کا نشانہ بنانے والے مسلمانوں کی کتابوں پر ’’مہذب پابندی‘‘ کے خلاف آواز بلند کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اسی طرح فرانس میں معصوم مسلم طالبات کی طرف سے سروں پر اسکارف اوڑھنے کے خلاف ردعمل بھی مسلمانوں کے خلاف ناروا تعصب کا ایک مظاہرہ ہے۔
مسلم معاشرہ میں اسلامی اقدار کا تحفظ
اسلامی ریاست بالکل اسی طرح اپنی معاشرتی اقدار کے تحفظ کی ذمہ داری ہے جس طرح مغرب اپنی اقدار و نظریات کے تحفظ کی فکر میں رہتا ہے۔ جو قوم اپنے بنیادی مسلمات پر سمجھوتہ کرلے، اس کی تباہی یقینی ہوجاتی ہے۔ اگر ہیٹی اور پانامہ (جنوبی امریکا) کے ساتھ اس کا طاقتور ہمسایہ ملک کسی تحمل و رواداری کا سلوک نہیں کرسکتا تو اس کا صرف یہ مطلب ہے کہ تحمل و برداشت کی بھی حدود ہیں، جن کے باہر یہ جذبہ روبہ کار نہیں آسکتے۔
مسلم معاشرہ اس وقت تک بنیادی طور پر اقدار کا پابند معاشرہ ہوتا ہے جب تک وہ اس پیغام کار پر کار بند ہو، جو بنیادی طور پر دین سے عبارت ہوتا ہے۔ نسلی معاشروں میں نسل کو، رنگ پرست معاشروں میں رنگ کو اور بعض دوسرے معاشروں میں اقتصادی مفادات کو جو اہمیت اور مقام دیا جاتا ہے، ایک مسلم معاشرے میں وہی اہمیت اور مقام ان دینی و قانونی اصولوں کو حاصل ہوتا ہے جو قرآن حکیم میں بیان کیے گئے ہیں۔
لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اسلام ملے جلے معاشرے کا مخالف ہے۔ تاریخ اسلام میں اس امر کے بہت سے شواہد موجود ہیں کہ تقریباً سبھی مسلم ریاستوں میں بے شمار مذہبی، ثقافتی اور دیگر اقلیتی گروپ موجود رہے ہیں۔ بغداد کے عیسائیوں اور ہسپانیہ (اسپین) کے اموی حکمرانوں کے دور میں یہودیوں کی قدر و منزلت تو مثالی تسلیم کی جاتی رہی ہے۔ یہ بات بلاخوف تردید کہی جاسکتی ہے کہ اسلامی معاشرہ تاریخ میں کثیر المذہبی اور کثیر الثقافتی معاشرے کی واحد مثال ہے۔
مغرب میں مسلم اقلیتیں
یہ بات کسی کو اچھی لگے یا اچھی نہ لگے لیکن یہ کہنا پڑتا ہے کہ مغرب میں مسلم اقلیتوں کو جب رسوائی کا سامنا کرنا پڑا ہے، وہ خود ان ممالک کے اصولوں اور نظریات سے بلند آہنگ دعوئوں کے بالکل برعکس ہے۔ یہ بڑی بدقسمتی کی بات ہے کہ امریکا اور یورپی ملکوں میں جہاں آزادی کی روایات، مسلمات اور انسانی اخوت کا بلند آہنگ شور مچایاجاتا ہے، مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہے۔
اس پس منظر میںایسے قوانین جن کا مقصد اسلامی معاشرے، اسلامی ثقافت کی بنیاد اور اسلامی نظریہ کا تحفظ ہے، ان قوانین پر نکتہ چینی ہمارے فہم و تصور سے بالاتر ہے۔ توہین رسالت کے قانون کا مقصد تو پیغمبر اسلامؐ کی شخصیت کا احترام اور تحفظ ہے۔ یہ قانون ان روایتی معنوں میں ’’توہین‘‘ کا قانون ہی ہے جو مختلف مغربی ممالک میں رائج ہے۔ نہ اسے قرون وسطیٰ کے یورپ کے ان قوانین کے مماثل قرار دیا جاسکتا ہے، جو مذہبی شخصیات کی توہین یا ان کے خلاف باتیں کرنے والوں پر نافذ کیے جاتے تھے، نہ اسے اسیپن میں مسلم دور کے بعد ملحدین کے خلاف رائج قوانین سے ان کا کوئی تعلق ہے۔ درحقیقت یہ قانون رہنمائی اور ہدایت کے اس سرچشمہ کی حرمت کے تحفظ کے لیے ہے جس پر اسلام کی قانونی، آئینی، سماجی اور ثقافتی عمارت کھڑی ہے۔ اس رہنمائی کے تقدس اور حرمت کی ضمانت تو بنیادی طور پر اسلام پر ایمان رکھنے والوں کی اس نظریہ سے وابستگی اور شعور ہی فراہم کرتے ہیں۔ اگر ان کے ایمان کو ہی چیلنج کیا جائے تو اس کا مطلب پورے نظام کی بنیاد ہلانے کے مترادف ہوگا۔
یہی وجہ ہے کہ مسلم معاشرہ پیغمبر اسلامؐ کی شخصیت کی حرمت کے بارے میں نہایت حساس رہا ہے۔ صحابہ کرام (رضوان اللہ علیہم اجمعین) کے دور سے اب ہمارے دور تک، دنیا کے مختلف حصوں میں، مختلف حالات اور تاریخ کے مختلف مراحل کے دوران رسول اسلامؐ کی شخصیت کی حرمت کے بارے میں مسلمانوں کے ردعمل کا تسلسل بھی ہماری اپنی گزارشات کی روشنی میں دیکھا جانا چاہیے۔
قانون توہین رسالت کی تاریخ
پاکستان میں نافذ قانون توہین رسالت نہ تو مذہبی تعصب یا ہٹ دھرمی ہے، نہ یہ پاکستانی مسلمانوں کی مذہبی ’’دیوانگی‘‘ کی کوئی شکل ہے نہ ہی اسے ملک کے قانونی نظام میں کسی جبر سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ یہ قانون دراصل اسلام کی روایات اور اس مسئلہ (توہین رسالت) کے متعلق مسلمانوں کے ادراک و شعور کے عین مطابق ہے۔قانون توہین رسالت کی دینی اور قانونی بنیاد کی صراحت و وضاحت سے قبل جو اس قانون کا اصل الاصول ہیں ہمیں اس قانون کی دفعات کا جائزہ لینا چاہیے۔
تعزیرات ہند
یہاں یہ صراحت ضروری معلوم ہوتی ہے کہ تعزیرات پاکستان جو ۱۸۶۰ء (قیام پاکستان سے پہلے یہ تعزیرات ہند کے نام سے نافذ ہوئیں) میں نافذ العمل ہوئیں، ایک بالکل الگ باب (باب ۱۵) موجود ہے۔ اس میں مذہب س تعلق رکھنے والے جرائم اور ان کی سزائوں کا تعین کیا گیا ہے۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ اب سے پہلے یعنی ۱۸۶۰ء میں ان تعزیرات کے برطانوی مصنف اور حکومت برطانیہ نے مذہب سے متعلق جرائم کو تسلیم کیا تھا۔
یہ باب (باب ۱۵) ۴ دفعات ۲۹۵، ۲۹۶، ۲۹۷ اور ۲۹۸ پر مشتمل تھا، جو کسی طبقہ کے مذہب کی توہین کی نیت سے اس کی عبادت گاہ کو نقصان پہنچانے یا کسی مذہبی اجتماع میں خلل اندازی، کسی طبقہ کے قبرستان میں مداخلت بے جا کرنے یا ایسے الفاظ منہ سے بولنے کے جرم سے متعلق تھیں جس کا مقصد جان بوجھ کر کسی کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنا ہو۔ یہ دفعات قانون کی کتاب میں ۱۳۹ برس سے بھی زیادہ عرصہ سے موجود تھیں اور ان کے تحت سیکڑوں مقدمات درج ہوئے اور نمٹائے جاتے رہے۔ قانون کی ان دفعات میں سموئے ہوئے بنیادی نظریات پر نہ صرف برطانوی ہند کی عدالتوں میں بلکہ پریوی کونسل تک میں، تفصیل سے بحث کی گئی ان کا تفصیلی تجزیہ کیا گیا اور مختلف سطح کی عدالتوں اور پریوی کونسل میں بھی ان کی توضیح و تشریح کی گئی۔ چنانچہ قانون کے مطابق کسی کے ’’مذہبی معتقدات کی بے حرمتی‘‘ ’’مذہبی جذبات کو مجروح کرنے‘‘ یا ’’مذہبی عقائد کی توہین‘‘ جیسی اصطلاحات کی تعبیر و تشریح میں کسی نوع کا کوئی ابہام موجود نہیں۔
۱۸۶۰ء میں ان دفعات کے نفاذ کے فوراً بعد ہی محسوس کیا گیا کہ برطانوی ہند کے مختلف گروہوں میں مذہبی حساسیت میں اضافہ سے پیدا ہونے والی صورت حال سے نمٹنے کے لیے یہ دفعات ناکافی ہیں۔ چنانچہ نہ صرف برطانوی دور حکومت کے دوران میں بلکہ ۱۹۴۷ء میں آزادی کے بعد بھی مختلف مراحل پر اس باب میں مزید دفعات کا اضافہ کیا جاتا رہا۔ چنانچہ اس باب میں درج اصل دفعات کا اندراج بے جا نہ ہوگا۔
دفعہ ۲۹۵
کسی طبقہ کے مذہب کی توہین کی نیت سے، ان کی عبادت گاہ کو نقصان پہنچانا یا اس کی بے حرمتی کرنا جو کوئی شخص، کسی بھی عبادت گاہ کو تباہ کرے گا، یا اس کی بے حرمتی کرے گا، یا کسی ایسی چیز کی حرمت یا تقدس کو اس نیت سے نقصان پہنچائے گا جسے افراد کا کوئی گروہ متبرک (مقدس) خیال کرتا ہو کہ اس طبقہ کے مذہب کی توہین کی جائے یا یہ جانتے ہوئے کہ افراد کا کوئی طبقہ اس نوع کی نقصان اندازی، بے حرمتی یا توہین کو اپنے مذہب کی توہین خیال کرے گا( ایسے شخص یا اشخاص کو) دو سال تک قید کی سزا دی جاسکے گی، یا جرمانہ کیا جاسکے گا یا دونوں سزائیں دی جاسکیں گی۔
دفعہ ۲۹۵ (الف)
سوچے سمجھے اور خبث باطن پر مبنی کسی عمل (یا اعمال) کے ذریعے کسی طبقہ کے مذہب یا مذہبی جذبات کی اس لیے توہین کرنا کہ اس طبقہ کے مذہبی جذبات کو برانگیختہ کیا جائے، جو کہ عمد اور سوچے سمجھے برے ارادے کے ساتھ پاکستان کے شہریوں کے کسی بھی طبقے کے مذہبی احساسات کی تذلیل کرنے کے لیے بذریعہ الفاظ جو بولے گئے ہوں یا لکھے گئے ہوں یا کسی بھی واضح طور پر طریقوں سے کسی بھی طبقہ کے مذہب یا مذہبی عقائد کی توہین کرے گا دو سال تک سزائے قید کا مستوجب ہوگا یا اسے جرمانہ کیا جائے گا یا دونوں سزائیں دی جائیں گی۔
جب پاکستان ایک آزاد مملکت کے طور پر معرض وجود میں آیا تو تعزیرات کے اس باب کا دائرہ کار مزید بڑھایا گیا۔ یہ توسیع ماسوائے اصل قانون کی مزید توضیح کے اور کچھ نہ تھی۔ ہم اس قانون میں اضافہ کی جانے والی دفعات کا تاریخ وار ذکر کرتے ہیں۔
۱۹۸۲ء میں تعزیرات پاکستان کے (ترمیمی) آرڈیننس مجریہ ۱۹۸۲ء کے ذریعے دفعہ ۲۹۵ بی کا اضافہ کیا گیا جو اس طرح ہے۔
دفعہ ۲۹۵ (ب)
قرآن مقدس کی توہین کرنا وغیرہ، کوئی شخص جو عمداً قرآن حکیم کے نسخہ یا اس کی کسی آیت کی بے حرمتی کرتا ہے، اسے نقصان پہنچاتا ہے یا اس کا استعمال توہین آمیز طریقہ سے کرتا ہے یا کسی غیر قانونی مقصد کے لیے ایسا کرتا ہے، عمر قید کی سزا کا مستوجب ہوگا۔
۱۹۸۴ء میں اس باب میں مزید دفعات شامل کی گئی تا کہ پیغمبر اسلام حضرت محمدؐ کی شخصیت، ان کے اہل بیت اور ان کے آخری نبیؐ (خاتم النبیین) ہونے (کے عقیدہ) کے تحفظ کے لیے زیادہ موثر (قانونی) قوت فراہم کی جاسکے۔ یہ اقدام ایک ایسا قانون بنانے کی طرف بڑا بنیادی اقدام تھا جو مسلمانوں کی صدیوں سے قائم روایات اور مستند معیار کے مطابق ہو۔ مسلمانوں کا یہ متفقہ عقیدہ ہے کہ پیغمبر اسلامؐ کی توہین کا اقدام بہت بڑی بغاوت ہے، جس کی سزا موت ہی ہوسکتی ہے۔
چنانچہ آئین میں چوتھی ترمیم مجریہ ۱۹۷۴ء روبہ عمل لانے اور اس کے نتیجہ میں ہونے والی ترامیم کے ذریعے (جو آئینی ترامیم اس وقت پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں منظور کی تھی) درج ذیل تین دفعات ایک آرڈیننس کے ذریعے نافذ کی گئیں جسے ’’قادیانی گروپ، لاہوری گروپ اور احمدیوں کی اسلام مخالف سرگرمیوں (کے امتناع و سزا) کا آرڈیننس ۲۰ مجریہ ۱۹۸۴ء‘‘ قرار دیا گیا۔
(جاری ہے)

حصہ