غزوہ بدر

81

’’اے اللہ ! یہ قریش ہیں، جو اپنے پورے غرور وتکبر کے ساتھ تیری مخالفت کرتے ہوئے اور تیرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلاتے ہوئے آگئے ہیں ۔ اے اللہ، تیری مدد ۔۔۔ جس کا تو نے وعدہ کیا ہے۔ اے اللہ اگر آج یہ مختصر گروہ ہلاک ہوگیا تو قیامت تک زمین پر تیری عبادت نہیں کی جائے گی‘‘۔یہ وہ اثر انگیز دعا تھی، جو حضرت محمد مصطفیؐ نے میدان بدر میں کی۔ جب مکہ کے مشرکین مدینہ کی نوزائیدہ اسلامی ریاست کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا عزم کرکے آئے تھے اور وہ حق وباطل کا پہلا معرکہ تھا۔ اسے یوم فرقان بھی کہتے ہیں۔
غزوۂ بدر۱۷؍رمضان المبارک ۲ ھ؁ کو ہوا۔ مدینہ کے جنوب مغر ب میں ایک سو پچاس (150) کلومیٹر کے فاصلے پربدر واقع ہے۔ اسے ہرطرف سے بلند پہاڑوں نے گھیر رکھا ہے ۔ اس میں کئی کنویں اور باغات تھے جہاں قافلے عموماً پڑاؤ ڈالتے تھے۔
اس کا پس منظر یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد معاشرے کے مخلص ترین افراد ایک ایک کرکے اسلام قبول کرنے لگے۔ وہ لوگ جن کے مفادات پرانے نظام سے وابستہ تھے تشدد پر اتر آئے نتیجہ ہجرت تھا۔ لیکن تصادم اس کے باوجود بھی ختم نہ ہوا۔ اسلام مدینہ میں تیزی سے ترقی کر رہا تھا اور یہ بات قریش مکہ کے لیے بہت تکلیف دہ تھی اور وہ مسلمانوں کو ختم کرنے کے منصوبے بناتے رہتے تھے۔ مسلمانوں کو بھی ہر وقت مدینہ پر حملے کا خدشہ رہتا تھا۔ اس صورت حال کی نزاکت کا یہ عالم تھا کہ صحابہ ہتھیار لگا کر سوتے تھے اور خود حضوراکرمؐ بھی اسی طرح کی حفاظتی تدابیر اختیار کرتے تھے۔
قریش مکہ نے مدینہ کی اس اسلامی ریاست پر حملہ کرنے کا اس لیے بھی فیصلہ کیا کہ وہ شاہراہ جو مکہ سے شام کی طرف جاتی تھی مسلمانوں کی زد میں تھی۔ یہ شاہراہ اُن کی تجارت کے لیے بہت اہم تھی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں کو مدینہ میں تبلیغ کرنے کی پوری آزادی تھی اور اسلام کے اثرات دور دراز علاقوں میں پہنچ رہے تھے۔ جنوب کے یمنی قبائل میں سے بھی بعض سلیم الفطرت لوگ مشرف بہ اسلام ہو گئے تھے ۔
یہ بات مشرکین مکہ کے لئے ناقابل برداشت تھی اور وہ نو زائیدہ اسلامی مملکت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا چاہتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے جنگ کی بھرپور تیاریاں شروع کر دیں۔ خود کو مستحکم کرنے کے لیے انہوں نے مکہ مکرمہ کے گردونواح کے قبائل سے معاہدات کیے اور معاشی وسائل کو مضبوط تر کرنے کے لیے یہ فیصلہ کیا گیا کہ اس مرتبہ جو تجارتی قافلہ شام بھیجا جائے اس کا تمام منافع اسی غرض کے لیے وقف ہو۔ ابوسفیان کو اس قافلے کا قائد مقرر کیا گیا اور مکہ مکرمہ کی عورتوں نے اپنے زیور تک کاروبار میں لگا دیے۔ اسلامی ریاست کے خاتمے کے اس منصوبے نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان میں کشیدگی میں مزیداضافہ کر دیا۔
جب ابوسفیان کا مذکورہ بالا قافلہ واپس آ رہا تھا تو ابوسفیان کو خطرہ محسوس ہوا کہ کہیں یہ قافلہ راستے ہی میں نہ لوٹ لیا جائے چنانچہ اس نے ایک ایلچی کو مکہ روانہ کیا۔ قاصد نے عرب دستور کے مطابق اپنے اونٹ کی ناک چیر دی اور رنگ دار رومال ہلا کر واویلا کیا اور اعلان کیا کہ ابوسفیان کے قافلے پرحملہ کرنے کے لیے محمد صلی اللہ علیہ وسلم بڑھے چلے آ رہے ہیں۔ اس لیے فوراً امداد کے لیے پہنچو۔ اہل مکہ سمجھے کہ قریش کا قافلہ لوٹ لیا گیا ہے۔ سب لوگ انتقام کے لیے نکل کھڑے ہوئے۔
راستے میں معلوم ہوا کہ یہ قافلہ صحیح سلامت واپس آ رہا ہے۔ لیکن قریش کے مکار سرداروں نے فیصلہ کیا کہ اب مسلمانوں کا ہمیشہ کے لیے کام ختم کرکے ہی واپس جائیں گے۔ چنانچہ قریشی لشکر مدینہ کی طرف بڑھتا چلا گیا اور بدر میں خیمہ زن ہو گیا۔
مدینہ میں قریشی لشکر کی آمد کی اطلاع ملی توحضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجلس مشاورت بلوائی اور خطرے سے نپٹنے کے لیے تجاویز طلب فرمائیں۔ مہاجرین نے جانثاری کا یقین دلایا۔ آپ نے دوبارہ مشورہ طلب کیا تو انصار میں سے حضرت سعد بن عبادہ ؓ نے عرض کیا کہ غالباً آپ کا روئے سخن ہماری طرف ہے۔ آپؐ نے فرمایا کہ ہاں۔ حضرت سعد بن عبادہ نے عرض کیا کہ:
’’یا رسول اللہؐ! ہم آپ پر ایمان لائے ہیں۔ ہم نے آپ کی تصدیق کی ہے اور گواہی دی ہے کہ جو کتاب آپ لائے ہیں وہ حق ہے اور ہم نے آپ کی اطاعت اور فرمانبرداری کا عہد کیا ہے۔ یا رسول اللہؐ جس طرف مرضی ہو تشریف لے چلئے۔ قسم ہے اس ذات کی جس نے حق کے ساتھ آپ کو معبوث کیا اگر آپ ہم کو سمندر میں کودنے کا حکم دیں گے تو ہم ضرور اس میںچھلانگ لگادیں گے اور ہم میں سے ایک شخص بھی باقی نہ رہے گا‘‘۔
حضرت مقداد نے عرض کیاکہ’’ہم موسیٰ ؑکی امت کی طرح نہیں ہیں جس نے موسیٰ سے کہا کہ تم اور تمہارا رب دونوں لڑو ہم تو یہاں بیٹھے ہیں ۔بلکہ ہم آپ کے دائیں بائیں، آگے پیچھے آپ کے ساتھ لڑیں گے‘‘۔
مشاورت کے بعد مجاہدین کو تیاری کا حکم ہوا۔ مسلمانوں کے ذوق شہادت کا یہ عالم تھا کہ ایک نوعمر صحابی حضرت عمیر بن ابی وقاص ؓ اس خیال سے چھپتے پھرتے تھے کہ کہیں کم عمر ہونے کی وجہ سے واپس نہ بھیج دئیے جائیں۔ اس کے باوجود مجاہدین کی کل تعداد 313 سے زیادہ نہ ہو سکی۔
۱۲؍ رمضان المبارک ۲ہجری کو رسول اللہ مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے ، تین سو تیرہ آدمی آپ ؐ کے ہمراہ تھے۔ یہ لشکر اس نرالی شان سے میدان کارزار کی طرف بڑھ رہا تھا کہ کسی کے پاس لڑنے کے لیے پورے ہتھیار تک نہ تھے۔ پورے لشکر کے پاس صرف 70 اونٹ اور 2 گھوڑے تھے جن پر باری باری سواری کرتے تھے۔ لشکر کی تنظیم اس طرح کی گئی کی ایک جیش مہاجرین کا بنایا گیا اور ایک انصار کا۔ مہاجرین کا عَلَم حضرت علی ؓ مرتضیٰ شیر خدا کو دیا گیا اور انصار کا عَلم حضرت سعدؓ بن معاذکو اور جنرل کمان کا پرچم جس کا رنگ سفید تھا، حضرت مصعب بن عُمیر رضی اللہ عنہ کو دیا گیا۔
مقام بدر پر پہنچ کر ایک چشمے کے قریب یہ مختصر سا لشکر خیمہ زن ہوا۔ مقابلے پر تین گنا سے زیادہ لشکر تھا۔ ایک ہزار قریشی جوان جن میں سے اکثر سر سے پاؤں تک آہنی لباس میں ملبوس تھے وہ اس خیال سے بدمست تھے کہ وہ صبح ہوتے ہی ان مٹھی بھر فاقہ کشوں کا خاتمہ کر دیں گے لیکن قدرت کاملہ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔
رات بھر قریشی لشکر عیاشی و بدمستی کا شکار رہا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ربّ کے حضور آہ و زاری میں گزاری اور قادر مطلق نے فتح کی بشارت دے دی۔ جس طرف مسلمانوں کا پڑاؤ تھا وہاں پانی کی کمی تھی اور ریت مسلمانوں کے گھوڑوں کے لیے مضر ثابت ہو سکتی تھی۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے باران رحمت سے مسلمانوں کی یہ دونوںمشکلات دور کر دیں۔ ریت جم گئی اور قریشی لشکر کے پڑاؤ والی مقبوضہ چکنی مٹی کی زمین پر کیچڑ پیدا ہو گیا۔
17 رمضان المبارک 2ھ (17 مارچ 624ء) کو فجر کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جہاد کی تلقین کی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ارشاد کے مطابق انہوں نے صف بندی کی اور آہن پوش لشکر کو شکست دینے کا آہنی عزم لے کر میدان کی طرف چلے۔
قریشی لشکر تکبر و غرور میں بدمست نسلی تفاخر کے نعرے لگاتا ہوا سامنے موجود تھا۔ مسلمانوں کے لیے سخت آزمائش کا وقت تھا اس لیے کہ اپنے ہی بھائی بند سامنے کھڑے تھے۔ حضرت ابوبکر ؓ کو اپنے بیٹے عبد الرحمن سے اور حضرت حذیفہ ؓکو اپنے باپ عتبہ سے مقابلہ کرنا تھا۔ عرب کے دستور کے مطابق پہلے انفرادی مقابلے ہوئے۔ سب سے پہلے عمر بن الحضرمی کا بھائی عامر میدان میں نکلا اور مدمقابل طلب کیا۔ مقابلے پر حضرت عمر ؓکا ایک غلام نکلا اور اس نے چشم زدن میں اس مغرور کا خاتمہ کر دیا۔ جو اپنے بھائی کا انتقام لینے کے لیے آیا تھا۔
اس کے بعد عتبہ بن ربیعہ اس کا بھائی شیبہ اور اس کا بیٹا ولید بن عتبہ میدان میں نکلے اور مبارزت طلب کی۔ تین انصاری صحابہ میدان میں نکلے لیکن ان تینوں نے یہ کہہ کر ان سے مقابلہ کرنے سے انکار کر دیا کہ یہ ہمارے ہم پلہ نہیں ہیں اور پکار کر کہا اے محمدصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے مقابلے پر قریشی بھیجو۔ ہم عرب کے چرواہوں سے مقابلے کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ چنانچہ آپ کے ارشار پر حضرت حمزہ ؓ، حضرت علی ؓاور حضرت عبیدہ ؓمقابلے کے لیے نکلے۔ مغرور قریشی سرداروں نے ان کے نام پوچھے اور کہا۔ ’’ہاں تم ہمارے ہم پلہ ہو‘‘مقابلہ شروع ہوا۔ چند لمحوں میں حضرت حمزہ ؓنے شیبہ کو جہنم رسید کر دیا اور حضرت علی ؓنے ولید کو قتل کر ڈالا اور لشکر اسلام سے تکبیر کی آواز بلند ہوئی۔ اس دوران میں عتبہ اور حضرت عبید ہ ؓ نے ایک دوسرے پر بھرپور وار کیا اور دونوں زخمی ہو کر گر پڑے۔ حضرت علی ؓ اپنے مدمقابل سے فارغ ہو کر عتبہ کی طرف لپکے اور ایک ہی ضرب سے اس کا کام تمام کرکے حضرت عبیدہ ؓ کو لشکر میں اٹھا لائے۔ قریش نے اپنے نامور سرداروں کو یوں کٹتے دیکھا تو یکبارگی حملہ کر دیا تاکہ اکثریت کے بل بوتے پر لشکر اسلام کو شکست دیں۔
جب لڑائی شباب پر تھی تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت خشوع وخضوع کے ساتھ دعا فرمائی تھی۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک جھپکی آئی ۔ ابن اسحاق کی روایت ہے کہ پھر آپؐ نے سر اٹھا یا اور فرمایا کہ اے ابوبکرؓ خوش ہوجاؤ، تمہارے پاس اللہ کی مدد آگئی ہے۔ یہ جبرئیل علیہ السلام ہیں اپنے گھوڑے کی لگام تھامے اوراس کے آگے آگے چلتے ہوئے آرہے ہیں اور گردوغبار میں اَٹے ہوئے ہیں ۔
اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خیمے سے باہر تشریف لائے ۔ آپؐ نے زرہ پہن رکھی تھی اور فرماتے جارہے تھے: عنقریب یہ جتھہ شکست کھاجائے گا اور پیٹھ پھیر کر بھاگے گا۔ اس کے بعد آپؐ نے ایک مٹھی کنکریلی مٹی لی اور قریش کی طرف رُخ کرکے فرمایا کہ ان کے چہرے بگڑ جائیں اور ساتھ ہی مٹی ان کی طرف اچھال دی۔ مشرکین میں سے کوئی بھی ایسا نہیں تھا، جس کی دونوں آنکھوں، نتھنوں اور منہ میں اس ایک مٹھی مٹی میں سے کچھ نہ کچھ گیا نہ ہو۔
اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جوابی حملے کا حکم دیتے ہوئے فرمایاکہ اس ذات کی قسم ، جس کے ہاتھ میں محمد ؐ کی جان ہے ، ان سے جو آدمی بھی ڈٹ کر ، ثواب سمجھ کر ، آگے بڑھ کر اور پیچھے نہ ہٹ کر لڑے گا اور مارا جائے گا، اللہ اس ضرور جنت میں داخل کرے گا۔
(باقی صفحہ10 پر)
بقیہ: غزوۂ بدر
آپؐ نے قتال پر ابھارتے ہوئے یہ بھی فرمایا کہ اس جنت کی طرف اٹھوجس کی وسعت آسمانوں اور زمین کے برابر ہے۔چنانچہ مسلمانوں نے نہایت پرجوش انداز میں جہاد کیا اور فرشتوں نے بھی ان کی مدد کی۔ چنانچہ ابن سعد کی روایت میں حضرت عکرمہ سے مروی ہے کہ اس دن آدمی کا سرکٹ کر گرتا اور یہ پتا نہ چلتا کہ اسے کس نے مارا ہے ۔
ایک انصاری حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباسؓ بن عبدالمطلب کو (جو اُس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے) قید کرکے لایا تو حضرت عباس ؓ کہنے لگے کہ واللہ مجھے اس نے قید نہیں کیا ، مجھے تو ایک بے بال کے سروالے آدمی نے قید کیا جو نہایت خوبر وتھا اور ایک چتکبرے گھوڑے پر سوار تھا۔ اب میں اسے لوگوں میں نہیں دیکھ رہا ہوں۔ انصاری نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ؐ میں نے انہیں قید کیا ہے۔ آپؐ نے فرمایا کہ خاموش رہو۔ اللہ نے ایک بزرگ فرشتے سے تمہاری مدد فرمائی ہے۔
میدان کارزار خوب گرم تھا قریش کے مغرور آہن پوش لوہے کے لباس سمیت کٹ کٹ کر گر رہے تھے۔ مسلمان بھی خود داد شجاعت دے رہے تھے۔ اس ہنگامے میں انصار کے دو کم عمر بچے معاذ بن عمر بن جموع اور معاذ بن عفر، حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓکے پاس آئے اور ان میں سے ایک نے کہا۔
’’چچا! آپ ابوجہل کو پہچانتے ہیں وہ کہاں ہے۔ ہم نے سنا ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں گستاخی کرتاہے۔ اس پاک ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے اگر میں اس کو دیکھ لوں تو اس وقت تک اس سے جدا نہ ہوں گا جب تک کہ وہ مر نہ جائے یا میں شہید نہ ہو جاؤں‘‘ اتفاق سے ابوجہل کا گزر سامنے سے ہوا۔ حضرت عبد الرحمن بن عوف ؓ نے اس کی طرف اشارہ کر دیا۔ اشارہ پاتے ہی یہ دونوں ننھے مجاہد اپنی تلواریں لے کر اس کی طرف بھاگے۔ وہ گھوڑے پرسوار تھا اور یہ دونوں پیدل۔ جاتے ہی ان میں سے ایک ابوجہل کے گھوڑے پر اور دوسرے نے ابوجہل کی ٹانگ پر حملہ کر دیا۔ گھوڑا اور ابوجہل دونوں گر پڑے۔ عکرمہ بن ابوجہل نے معاذ بن عمر کے کندھے پر وار کیا اور ان کا باز لٹک گیا۔ باہمت نوجوان نے بازو کو راستے میں حائل ہوتے دیکھا تو پاؤں کے نیچے لے کر اسے الگ کر دیا اور ایک ہی ہاتھ سے اپنے شکار پر حملہ کر دیا۔ اتنے میں معاذ بن عفرا کے بھائی معوذ وہاں پہنچے اور انہوں نے ابوجہل کو ٹھنڈا کر دیا اورحضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ نے اس کا سر تن سے جدا کر دیا۔
کافروں کا سردار ابوجہل مارا گیا۔ جنگ کے بعد حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ ابوجہل کا سرکاٹ کر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائے تو آپ ؐ نے فرمایا کہ مجھے اس کی لاش دکھا ؤ۔ لاش کو دیکھ کر آپؐ نے فرمایا کہ یہ میری امت کا فرعون تھا۔ جس کا شر اور فتنہ موسیٰ ؑ کے فرعون کے شر اور فتنہ سے کہیں بڑھ کر تھا۔ موسیٰ ؑ کے فرعون نے مرتے وقت تو کلمہ پڑھا، مگر اس امت کے فرعون نے مرتے وقت بھی کفر اور تکبر ہی کے کلمات کہے۔
اس میدان بدر میں ابوجہل کے علاوہ امیہ بن خلف جس نے حضرت بلال پر بے پناہ ظلم ڈھائے تھے اور کئی اہم سرداران قریش بھی مارے گئے۔ اور یہ مغرور لشکر میدان چھوڑ کر بھاگ کھڑا ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے اسلام کو فتح دی تھی اور دنیا نے دیکھ لیا کہ فتح و شکست میں مادی قوت سے زیادہ روحانی قوت کا دخل ہوتا ہے۔ مسلمانوں کے کل 14 آدمی شہید ہوئے۔ اس کے مقابلے میں قریش کے 70 آدمی مارے گئے جن میں سے 36 حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے ہاتھوں قتل ہوئے۔ 70 سے زیادہ گرفتا ر ہوئے۔ قریشی مقتولین میں ان کے تقریباً تمام نامور سردار شامل تھے اور گرفتار ہونے والے بھی ان کے معززین میں سے تھے۔ مثلاً حضرت عباس بن عبد المطلب ’’حضور کے چچا‘‘ عقیل بن ابی طالب، اسود بن عامر، سہیل بن عمرو اور عبد اللہ بن زمعہ وغیرہ۔
جنگ کے خاتمے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتولین کے پاس کھڑے ہوکر فرمایا کہ تم لوگ اپنے نبی کیلئے کتنا برا کنبہ اور قبیلہ تھے۔ تم نے مجھے جھٹلایا ، جبکہ اوروں نے میری تصدیق کی۔ تم نے مجھے نکالا ، جبکہ اوروں نے مجھے پناہ دی۔ حضرت ابوطلحہ ؓ سے روایت ہے کہ بنی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے قریش کے چوبیس بڑے سرداروں کے لاشے بدر کے ایک گندے خبیث کنویں میں پھینک دیے گئے۔
مقام صفراء میں حضورؐ نے قیدیوں میں نضر بن حارث کے قتل کا حکم دیا اور مقام عرق انطبیہ میں پہنچے تو عقبہ بن ابی معیط کے قتل کاحکم دیا اور اسی جگہ اس کی گردن ماری گئی۔ نضر اور عقبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شدید ترین دشمنوں میں سے تھے۔ بدزبان اور دریدہ دہن تھے۔ اس لیے تمام قیدیوں میں سے صرف ان دو کی گردن مارنے کا حکم دیا۔
حضورؐنے اسیران جنگ کو صحابہ ؓ میں تقسیم کرکے انہیں آرام سے رکھنے کا حکم دیا۔ صحابہ کرام نے اپنے قائد کے فرمان پر اس حد تک عمل کیا کہ خود کھجوریں کھا کر قیدیوں کو کھانا کھلایا۔ صحابہ کرام سے ان کے بارے میں مشورہ طلب کیا گیا تو حضرت عمر فاروق ؓ نے انہیں قتل کر کے دشمن کی قوت توڑنے کی تجویز پیش کی حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے فدیہ لے کر چھوڑ دینے کا مشورہ دیا۔حضور اکرم ؐ نے حضرت ابوبکر ؓ سے اتفاق کرتے ہوئے اسیران جنگ کو فدیہ لے کر چھوڑ دیا جو قیدی غربت کی وجہ سے فدیہ ادا نہیں کر سکتے تھے اور پڑھے لکھے تھے انہیں دس مسلمانوں کو پڑھنا لکھنا سکھانے کے عوض رہا کر دیا گیا۔ یہ قیدی حسن سلوک سے اس حد تک متاثر ہوئے کہ ان میں سے بہت سے مشرف بہ اسلام ہوئے جن میں حضرت عباس بن عبد المطلب اور عقیل بن ابوطالب شامل تھے۔
غزوہ بدر اسلام اور کفر کا پہلا اور اہم ترین تصادم تھااس سے دنیا پر واضح ہو گیا کہ نصرت الٰہی کی بدولت مومنین اپنے سے کئی گناہ فوج کو شکست دے سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں سو مومنوں کو ہزار کافروں پر فتح کی بشارت دی۔ غزوہ بدر میں شامل مسلمانوں نے جس قوت ایمانی کا مظاہرہ کیا اس کا اندازہ اس بات سے ہو سکتا ہے کہ باپ بیٹے کے خلاف اور بیٹا باپ کے خلاف۔ بھانجا ماموں کے خلاف اور چچا بھتیجے کے خلاف میدان میں آیا۔ حضرت عمر ؓنے اپنے ماموں کو اپنے ہاتھ سے قتل کیا۔ حضرت حذیفہ ؓ کا باپ عتبہ بن ربیعہ لشکر قریش کا سپہ سالار تھا اور سب سے پہلے قتل ہونے والوں میں شامل تھا۔ اس جنگ کاایک اور پہلو یہ ہے کہ مسلمانوں نے بہت نظم و ضبط سے دشمن کا مقابلہ کیا اور اپنی صفیں نہیں ٹوٹنے دیں۔ جنگ کے خاتمے پراللہ اوراس کے رسولؐ کے حکم کے تحت مال غنیمت کی تقسیم ہوئی۔ مال غنیمت کی اتنی پر امن اور دیانت دارانہ تقسیم کی مثال کم ہی ملتی تھی۔
اس کے بعد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح کی خوشخبری سنانے کے لئے حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓ اور حضرت زید بن حارثؓ کو مدینہ منورہ روانہ کیا۔ اس دوران یہود اور منافقین نے جھوٹے پروپیگنڈے کرکے مدینے میں ہلچل مچا رکھی تھی یہاں تک یہ خبر بھی اڑا دی تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہید کردئیے گئے۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصدوں کے مدینے پہنچنے کے بعد ہرطرف خوشی اور شادمانی کی لہر دوڑ گئی اور مدینے کے دروبام تہلیل اور تکبیر کے نعروں سے گونج اٹھے۔
اس طرح ۲ ھ؁ میں روزے فرض ہونے کے بعدمدینے کی اسلامی ریاست میں مسلمانوں کی پہلی عید بہت پرمسرت گزری۔
(ماخذ: طبقات ابن سعد،سیرت النبیؐ، مولانا شبلی نعمانی ؒ، محسن انسانیتؐ، نعیم صدیقی ؒ، الرحیق المختوم، صفی الرحمن مبارکپوری)

حصہ