سوشل میڈیا کے اثرات

57

سوشل میڈیا دور جدید کا ایسا ایجاد ہے جو جادو کی طرح سر چڑھ کر بول رہا ہے ۔اس کے سحر میں ہر چھوٹا بڑا گرفتار ہوچکا ہے ۔اس نے معاشرے کے تمام پردوں کو چاک کر کے رکھ دیا ہے ۔ہر قدر پامال ہو چکی ہے ۔یہ دو دھاری تلوار کی طرح کام کر رہا ہے ۔اس نے معاشرے کو ایسا جکڑ لیا ہے کہ بڑے بڑے مجتحد، مزکی اور انقلابی اپنی شہرت اور کامیابی کا زینہ سمجھ رہے ہیں ۔دوا فروشی سے لے کر ضروریات زندگی کی ہر چیز بیچی جا رہی ہے ۔ہوائے نفس کا کاروبار عام ہو چکا ہے ۔اک طرف یہ حکومتوں کے کے لئے درد سر بنا ہوا ہے تو دوسری جانب خاندانوں کا تار پود بکھیر رہا ہے ۔چھوٹے چھوٹے معصوم بچے عادی نشئ کی طرح اس کے دیوانے ہو چکے ہیں ۔جیسے ہی کوئی اک نیا app شروع ہوتا یے ۔دیکھتے ہی دیکھتے لاکھوں صارفین اس کے اچھے برے اثرات سے ماوراء اس کو استعمال کرنے لگتے ہیں ۔لیڈروں کی لیڈری سیاسی جماعتوں کی مقبولیت کا دار و مدار اب سوشل میڈیا ہے ۔کس کے کتنے فالورز ہیں یہی اس کا پیمانہ ہے۔سوشل میڈیا اک استاذ اعظم کا کام بھی کر رہا ہے ۔نت نئ معلومات اور علمیت کا ذخیرہ بھی اس سے حاصل ہو رہاہے ۔معاشرے کے درست حالات اور بدلتے ہوئے تیور کا بھی پتہ چل رہاہے ۔مثبت فکر اور نظریات کی ترسیل بھ آسان ہو گئ ہے ۔اس کے استعمال کرنے والے پر منحصر ہے کہ وہ اس کے ذریعے کیا فروغ دینا چاہتا ہے ۔اس پر Dating, Chating ,Messaging کی قہر سامانیہ اپنی جگہ اس میں ہر آدمی سوشل میڈیا کے مرکز میں اپنی انفرادی رازداری کو کھو چکا ہے ۔اک مراتھن ریس ہے جس میں Globally انسانی سماج شامل ہو گیا ہے ۔آن لائن کاروبار کا درست اور فراڈ دونوں پہلو نمایاں ہیں ۔بلیک ملنگ اور اغوا برائے تاوان سب کچھ آسان ہو چکا ہے ۔جرائم کے نت نئے انداز نے اک سیلابی کیفیت اختیار کر لی ہے۔نیکی کے کاموں میں اخلاص کی جگہ خود نمائ نے تحریکوں کو اللہ کی نصرت و تائید سے محروم کر دیا ہے ۔5 ہزار سال پہلے خانہ کعبہ کی تعمیر کے بعد حضرت ابراہیم اور اسماعیل علیہ السلام کی مخلصانہ پکار جو میڈیا اور ذرائع ابلاغ سے محروم تھی اللہ تعالی نے ایسا نوازا کہ رہتی دنیا تک بندگان خدا اور اہل ایمان اس گھر کا طواف کرتے رہیں گے ۔درویشی فقر و فاقہ کی نمائش نہیں ہوتی ۔یہ تو کردار کی خوشبو ہے خود ہی پھیل جاتی ہے ۔خیر وشر سے بنی دنیا ازل تا ابد معرکہ خیر وشر سے دوچار رہے گی موجودہ سائنسی ترقی ہو یا دور قدیم کا۔شیطانی قوتوں نے ہمیشہ انسانیت کو تباہ و برباد کر نے کے لئے اشتعال کیا ہے ۔کہا جاتا ہے کہ جدید ٹکنالوجی مستقبل قریب میں دنیا کا ہر کچھ بدل دے گی۔دجال کے خروج کو قریب سے قریب تر لا رہی ہے ۔مشتری ہوشیار باش کہ مانند اہل فکر کو اسکے مثبت اور منفی پہلوؤں کو نئ نسل پر عیاں کرنے کے لئے ہمہ وقت چوکنا رہنا ہوگا ۔علامہ اقبال نے درست کہا ہے کہ ۔دنیا کو ہے پھر معرکہء روح وبدن پیش ۔تہذیب نے پھر اپنے درندوں کو ابھارا اللہ کو پامردئ مومن پہ بھروسہ ۔ابلیس کو یورپ کی مشینوں کا سہارا ۔تقدیر امم کیا ہے کوئی کہ نہیں سکتا ۔مومن کی فراست ہو تو کافی ہے اشارہ ۔سوچنے، غور کیجئے پھر عمل کیجئے ۔

حصہ