سوشل میڈیا ،کورونا سے این اے 249 تک

41

پڑوسی ملک سے آنے والی ہر قسم کی اطلاعات کا بہاؤ اپنے ساتھ پاکستان میں بھی ہلچل مچاتا رہا۔ خبروں کے ساتھ ہی پاکستان میں بھی کورونا کے سائے دوبارہ بڑھتے چلے گئے۔ اس میں سب سے دلچسپ بات آکسیجن کیس میں ہوئی۔ بھارت میں آکسیجن کی کمی، آکسیجن لیکیج واقعات و نظام صحت کے مکمل بیٹھ جانے کی خبروں کو پاکستان میں بھی طاری کر لیا گیا۔ایک جناب پاکستان کی وزارت خارجہ کی جانب سے ٹویٹر پرخیر سگالی و یکجہتی کے نام پر انڈیا کو ونٹی لیٹرز، ڈیجیٹل ایکسرے، پی پی ایز اور متعلقہ اشیاکی پیش کش کی گئی ہے ۔دوسری جانب فیصل ایدھی نے مودی کو ایمبولینس فراہمی کے لیے خط لکھ ڈالا۔سب خبروں میں آنے کی شعبدہ بازیاں تھیں۔ سوشل میڈیا پر اس معاملے کو لیکر خاصا رد عمل آیا کیونکہ تا دم تحریر بھارتی مظالم کا شکار مقبوضہ جموں کی وادی مسلمانوں کے خون سےرنگین ہے ۔دوسری جانب انڈیا میں آکسیجن کی مبینہ کمی کی وجہ سے اموات بڑھنے پرسعودی عرب نے انڈیا کی مدد کرتے ہوئے 80 میٹرک ٹن مائع آکسیجن فراہم کی ہے۔کتنی عجیب بات ہے نا کہ وہ ملک جس کے پاس صنعتوں، ٹیکنالوجی کا اتنا بڑا جال ہو،کئی اسٹیل ملز ہوں، گاڑیاں اپنی بنتی ہوں، وہاں آکسیجن جیسی کمی کا مسئلہ ہو جائے اور اُس سے کہیں چھوٹے ممالک اُسکی مدد کو دوڑیں۔ شیر و چوہے والی کہانی بچپن میں تو سنی تھی مگر اب دیکھ بھی رہے ہیں۔سعودی عرب کے اقدام پر رد عمل آیا کہ ’کوئ حیرانگی کی بات نہی ہے۔منافق کافروں کی مدد کو پہنچ گئے ہیں۔کشمیری مسلمانوں کا خون بہتے وقت اُن کی زبانوں پہ تالے لگ گئے تھے۔‘کسی نہ کہاکہ کھیل ’سرمایہ کاری کا ہے ،آکسیجن کا نہیں ‘۔اسی طرح یہ بھی کہاگیا کہ ،’جو اپنے مذہب کے کشمیریوں تک نہیں پہنچے وہ انسانیت تک کیسے پہنچ گئے ،کشمیر میں 680 دن سے کرفیو لاک ڈاؤن ہے وہاں لوگ نہیں کیا انسانیت نہیں کیا ،یا وہاں پر کورونا کو جانے کی اجازت۔ نہیں ۔وہاں تو بھارت کے دیہاتوں جتنا بھی میڈیکل سہولیات نہیں۔‘
تادم تحریر دُنیا بھر میں کوئی پندرہ کروڑ کے قریب مریض دریافت ہو چکے ہیں ان میں صرف بھارت میں ایک کروڑ اسی لاکھ کے قریب ہیں۔دُنیا بھر میں اکتیس لاکھ افراد اس وبا کا شکار ہو کر مر چکے ہیں جبکہ بھارت میں دو لاکھ اور امریکا میں پونے چھ لاکھ افراد اس وبا سے مر چکے ہیں۔امریکا کے بعد بھارت اِس وقت دنیا میں دوسرے نمبر پر آچکا ہے جبکہ پاکستان کا نمبر 31واں ہے ۔
کورونا کے بارے میں سب یہی کہہ رہے تھے کہ اس وبا کی شرح اموات 2 فیصد سے زائد نہیں۔ آج تک مجموعی صورتحال دیکھیں تو یہی کیفیت ہے بھارت میں تو ابھی یہ شرح 0.02 فیصد پر پہنچی ہے اور شور ایساہے کہ کچھ سنائی نہی دے رہا۔ایس او پی کی پابندی پر وبا کے ابتدائی ایام ہی سے ہر شعبہ زندگی کی جانب سے بات کی گئی ۔ ویسے تو ایس او پی کے کئی نکات تھے مگر اب صرف کم از کم ماسک استعمال کو لازمی رکھا گیا۔
پاکستان میں بھی ہندوؤں کی جلتی لاشیں عجیب نوحہ گاتی دکھائی دے رہی ہیں۔ اس پر مزید یہ آکسیجن ڈرامہ ہوا، یقین کریں سب ایسے کود پڑے کہ بوقت افطار سڑک پر مفت کی بریانی بٹ رہی ہو۔پہلے اسٹیل مل کے مقامی انجینئر نے شوشہ چھوڑا کہ اگر پلانٹ چل رہا ہوتا تو آکسیجن کی کمی نہ ہوتی۔ اب بھلا بتائے بلکہ کوئی پوچھے کہ اگر پلانٹ چل رہا ہوتا تو آکسیجن تو پلانٹ ہی کو ملنی تھی نا؟؟؟ یہ آکسیجن اسٹیل مل کورونا کے لیے تھوڑا ہی بنا رہی تھی۔
مگر کیا کہیں میڈیا کو، یہ ڈیمانڈ کے چکر میں سب تلپٹ ہو گیا، یہ اسٹوری ایسی پکڑی کہ سب اسکے پیچھے بغیر سوچے سمجھے دوڑ پڑے، یہاں تک کہ حکومت بھی ۔حقیقت یہ ہے کہ پلانٹ 5 سال سے مکمل بند ہے اور بند ہونے سے قبل اس پلانٹ کا دو میں سے ایک کمپریسر پہلے ہی خراب ہو چکاتھا۔ اس کو چلانے کے لیے بھاری بجلی اور سی واٹر کا پلانٹ بھی کم از کم چلانا ہوگا جو کہ موجودہ حکومت کے مالی وسائل پر خاصا بوجھ ثابت ہوگا کیونکہ اس سارے کام میں تین سے چار ماہ لگ جائیں گے اور اس بھاری سرمایہ کاری کے بعد پلانٹ چل بھی گیا تو کیا اس وقت کورونا کی شدت باقی بچے گی ؟یہ اور اس جیسے بہت سارے سوالات بتا رہے ہیں کہ توجہ پانا، خبروں کی دوڑ میں شامل ہونا کس قدر اہمیت کا حامل ہو چکا ہے۔
سوشل میڈیا پر تحریک لبیک بھی موضوع بنی رہی اور سماجی میڈیا پر مستقل ٹرینڈ لسٹ پر چھائی رہی۔قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 249 کراچی میں ضمنی انتخاب کا معرکہ اس دوران بہت اہمیت کا حامل تھا۔ اس حلقہ میں تحریک لبیک قومی الیکشن کے نتائج میں تیسرے نمبر پر تھی۔
الیکشن والے دن بھی ووٹ صرف کرین کو، مصطفیٰ کمال، کراچی نواز کا، ووٹ ڈالفن کا، شیر پر ٹھپہ جیسے ٹرینڈ بنے رہے۔ ۔بہرحال یہ ضمنی الیکشن ایک اہم الیکشن تھا تمام تجزیہ کاروں کے مطابق یہاں تک کہ طلعت حسین بھی اسلام آباد میں بیٹھ کر نتائج کی ٹوئیٹ کرتے نظر آئے۔ویسے تو عمران خان نے اپنے ڈھائی سال مکمل ہونے پر جو اطمینان کا اظہار کیا اس پر بھی خوب شور مچا، مطمئن بے غیرتی کےڈھائی سال، چوروں پر بھاری ڈھائی سال، کا ٹرینڈ سوشل میڈیا پر منہ چڑاتا رہا۔
اسی طرح کئی دلچسپ تجزیہ جاری رہے ،ضمنی انتخاب کوئ بھی جماعت جیتے لیکن دوجماعتوں کو منہ چھپانے کی جگہ نہ ملے گی ، پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کو۔
اے این پی اور جمعیت علماء اسلام نے ن لیگ کی حمایت کرکےعزت بچالی۔سننے میں آرہا ہے کہ مقابلہ ن لیگ ، پی ٹی آئی اور مصطفی کمال کے درمیان ہوگا۔
29 اپریل کو ہونے والی پولنگ میں تادم تحریر مفتاح اسماعیل آگے ہیں۔اس کے علاوہ بھی سوشل میڈیا پر سیاسی ماحول خاصا گرم رہا خصوصاً بشیرمیمن انکشافات اور جسٹس فائزعیسیٰ کیس کے بعد سے سوشل میڈیا مہم شوروں پر رہی ۔
بشیر میمن کو مسلم لیگ ن کا ایجنٹ قرار دے کر رگڑا دیا جاتارہا۔
دوسری جانب شفقت محمود ایک بار پھر موضوع بنے رہے، جبران ناصر اور وقار ذکا اس ایشو کو خاصا زیر بحث لائے ۔کیمبرج امتحانات کے طریقہ کار، پر وزیر صاحب نے ٹوئیٹ کی امتحانات کی اجازت سخت ایس اوپیزپر عمل پیراہونے سے مشروط تھی اور جس طرح رپورٹس آئی ہیں، امتحانی مراکز کے باہر ایس او پیز پر عملدرآمد کمزور ہے۔
, NCOCsavestudents, NCOCcancelexam، StudentsRejectPTI,Shafqatmahmood

حصہ