منتخب غزلیں

133

عشق و عقل /علامہ اقبال

خِرد نے مجھ کو عطا کی نظر حکیمانہ
سکھائی عشق نے مجھ کو حدیث رندانہ
…٭…
خرد کی گتھیاں سلجھا چکا میں
مرے مولا مجھے صاحب جنوں
…٭…
گزر جا عقل سے آگے کہ یہ نور
چراغِ راہ ہے منزل نہیں ہے
عقل کو تنقید سے فرصت نہیں
عشق پر اعمال کی بنیاد رکھ
…٭…
عقل عیار ہے سو بھیس بدل لیتی ہے
عشق بے چارہ نہ مُلا ہے نہ زاہد نہ حکیم
…٭…
عقل و دل و نگاہ کا مرشد اولیں ہے عشق
عشق نہ ہو تو شرع و دیں بُت کدۂ تصورات
…٭…
زمانہ عقل کو سمجھا ہوا ہے مشعل راہ
کسے خبر کہ جنوں بھی ہے صاحب ادراک
…٭…
عشق دمِ جبرئیل، عشق دلِ مصطفی
عشق خدا کا رسول، عشق خدا کا کلام
عشق کی تقویم میں، عصرِ رواں کے سوا
اور زمانے بھی ہیں جن کا نہیں کوئی نام
…٭…
قابل اجمیری
جی رہا ہوں اس اعتماد کے ساتھ
زندگی کو مری ضرورت ہے
حسن ہی حسن جلوے ہی جلوے
صرف احساس کی ضرورت ہے
اس کے وعدے پہ ناز تھے کیا کیا
اب در و بام سے ندامت ہے
اس کی محفل میں بیٹھ کر دیکھو
زندگی کتنی خوبصورت ہے
راستہ کٹ ہی جائے گا قابلؔ
شوق منزل اگر سلامت ہے
…٭…
سحر انصاری
وصال و ہجر سے وابستہ تہمتیں بھی گئیں
وہ فاصلے بھی گئے اب وہ قربتیں بھی گئیں
دلوں کا حال تو یہ ہے کہ ربط ہے نہ گریز
محبتیں تو گئیں تھی عداوتیں بھی گئیں
لبھا لیا ہے بہت دل کو رسم دنیا نے
ستم گروں سے ستم کی شکایتیں بھی گئیں
غرور کج کلہی جن کے دم سے قائم تھا
وہ جرأتیں بھی گئیں وہ جسارتیں بھی گئیں
نہ اب وہ شدت آوارگی نہ وحشت دل
ہمارے نام کی کچھ اور شہرتیں بھی گئیں
دل تباہ تھا بے نام حسرتوں کا دیار
سو اب تو دل سے وہ بے نام حسرتیں بھی گئیں
ہوئے ہیں جب سے برہنہ ضرورتوں کے بدن
خیال و خواب کی پنہاں نزاکتیں بھی گئیں
ہجوم سرو و سمن ہے نہ سیل نکہت و رنگ
وہ قامتیں بھی گئیں وہ قیامتیں بھی گئیں
بھلا دیے غم دنیا نے عشق کے آداب
کسی کے ناز اٹھانے کی فرصتیں بھی گئیں
کرے گا کون متاع خلوص یوں ارزاں
ہمارے ساتھ ہماری سخاوتیں بھی گئیں
نہ چاند میں ہے وہ چہرہ نہ سرو میں ہے وہ جسم
گیا وہ شخص تو اس کی شباہتیں بھی گئیں
گیا وہ دور غم انتظار یار سحرؔ
اور اپنی ذات پہ دانستہ زحمتیں بھی گئیں
…٭…
سحر عشق آبادی
تکمیل عشق جب ہو کہ صحرا بھی چھوڑ دے
مجنوں خیال محمل لیلا بھی چھوڑ دے
کچھ اقتضائے دل سے نہیں عقل بے نیاز
تنہا یہ رہ سکے تو وہ تنہا بھی چھوڑ دے
یا دیکھ زاہد اس کو پس پردۂ مجاز
یا اعتبار دیدۂ بینا بھی چھوڑ دے
کچھ لطف دیکھنا ہے تو سودائے عشق میں
اے سرفروش سر کی تمنا بھی چھوڑ دے
وہ درد ہے کہ درد سراپا بنا دیا
میں وہ مریض ہوں جسے عیسیٰ بھی چھوڑ دے
آنکھیں نہیں جو قابل نظارۂ جمال
طالب سے کہہ دو ذوق تماشا بھی چھوڑ دے
ہے برق پاشیوں کا گلہ سحرؔ کو عبث
کیا اس کے واسطے کوئی ہنسنا بھی چھوڑ دے
…٭…
نظم/کتے
فیض احمد فیض
یہ گلیوں کے آوارہ بے کار کتے
کہ بخشا گیا جن کو ذوق گدائی
زمانے کی پھٹکار سرمایہ ان کا
جہاں بھر کی دھتکار ان کی کمائی
نہ آرام شب کو نہ راحت سویرے
غلاظت میں گھر نالیوں میں بسیرے
جو بگڑیں تو اک دوسرے کو لڑا دو
ذرا ایک روٹی کا ٹکڑا دکھا دو
یہ ہر ایک کی ٹھوکریں کھانے والے
یہ فاقوں سے اکتا کے مر جانے والے
یہ مظلوم مخلوق گر سر اٹھائے
تو انسان سب سرکشی بھول جائے
یہ چاہیں تو دنیا کو اپنا بنا لیں
یہ آقاؤں کی ہڈیاں تک چبا لیں
کوئی ان کو احساس ذلت دلا دے
کوئی ان کی سوئی ہوئی دم ہلا دے
…٭…

الطاف حسین حالی

ہیں جہل میں سب عالم و جاہل ہمسر
آتا نہیں فرق اس کے سوا ان میں نظر
عالم کو ہے علم اپنی نادانی کا
جاہل کو نہیں جہل کی کچھ اپنے خبر
…٭…

نہ جانے باہر بھی کتنے آسیب منتظر ہوں
ابھی میں اندر کے آدمی سے ڈرا ہوا ہوں
آنس معین
٭٭٭
گاہے گاہے کی ملاقات ہی اچھی ہے امیرؔ
قدر کھو دیتا ہے ہر روز کا آنا جانا
امیر مینائی
٭٭٭
کیسے کہہ دوں کہ ملاقات نہیں ہوتی ہے
روز ملتے ہیں مگر بات نہیں ہوتی ہے
شکیل بدایونی
بھیڑ تنہائیوں کا میلا ہے
آدمی آدمی اکیلا ہے
صبا اکبرآبادی
٭٭٭
جانے والے سے ملاقات نہ ہونے پائی
دل کی دل میں ہی رہی بات نہ ہونے پائی
شکیل بدایونی
٭٭٭
مل رہی ہو بڑے تپاک کے ساتھ
مجھ کو یکسر بھلا چکی ہو کیا
جون ایلیا
٭٭٭
فرازؔ ترک تعلق تو خیر کیا ہوگا
یہی بہت ہے کہ کم کم ملا کرو اس سے
احمد فراز
٭٭٭
نقشہ اٹھا کے کوئی نیا شہر ڈھونڈیئے
اس شہر میں تو سب سے ملاقات ہو گئی
ندا فاضلی
٭٭٭
آج تو مل کے بھی جیسے نہ ملے ہوں تجھ سے
چونک اٹھتے تھے کبھی تیری ملاقات سے ہم
جاں نثاراختر
٭٭٭

٭٭٭
اللہ اگر توفیق نہ دے انسان کے بس کا کام نہیں
فیضان محبت عام سہی عرفان محبت عام نہیں
محمد خالد
٭٭٭

جگر مراد آبادی
اللہ اگر توفیق نہ دے انسان کے بس کا کام نہیں
فیضان محبت عام سہی عرفان محبت عام نہیں
یہ تو نے کہا کیا اے ناداں فیاضی قدرت عام نہیں
تو فکر و نظر تو پیدا کر کیا چیز ہے جو انعام نہیں
یارب یہ مقام عشق ہے کیا گو دیدہ و دل ناکام نہیں
تسکین ہے اور تسکین نہیں آرام ہے اور آرام نہیں
کیوں مست شراب عیش و طرب تکلیف توجہ فرمائیں
آواز شکست دل ہی تو ہے آواز شکست جام نہیں
آنا ہے جو بزم جاناں میں پندار خودی کو توڑ کے آ
اے ہوش و خرد کے دیوانے یاں ہوش و خرد کا کام نہیں
زاہد نے کچھ اس انداز سے پی ساقی کی نگاہیں پڑنے لگیں
مے کش یہی اب تک سمجھے تھے شائستہ دور جام نہیں
عشق اور گوارا خود کر لے بے شرط شکست فاش اپنی
دل کی بھی کچھ ان کے سازش ہے تنہا یہ نظر کا کام نہیں
سب جس کو اسیری کہتے ہیں وہ تو ہے امیری ہی لیکن
وہ کون سی آزادی ہے یہاں جو آپ خود اپنا دام نہیں
٭٭٭

حصہ