ایسا بھی تو ہوسکتا ہے

114

’’حد ہوگئی، دس بجنے والے ہیں لیکن یہاں لوگوں کو سونے سے ہی فرصت نہیں۔ دنیا کے کام کب سے شروع ہوچکے، بلکہ اب تک تو آدھے ہو بھی چکے ہوں گے۔ ایک میں اکیلی جان، آخر کیا کیا دیکھوں!‘‘ فراست بیگم نے ہاتھ سے فرائی پین پٹختے ہوئے کہا اور سبزی کاٹنے کے لیے چھری دیکھنے لگیں۔ ’’اُف مجال ہے یہاں کوئی چیز جگہ پر مل جائے۔‘‘ غصے میں انہیں سامنے رکھی چھری بھی نظر نہیں آرہی تھی۔ فریج سے چقندر نکال کر انہیںدھونے لگیں۔
’’کیا کررہی ہیں امی؟‘‘ سلمیٰ جمائی لیتے ہوئی باورچی خانے میں داخل ہوئی۔
’’اے دیکھ نہیں رہی سبزی دھو رہی ہوں۔‘‘ وہ غصے سے بیٹی کو دیکھتے ہوئے بولیں۔
’’تو مجھے کیوں ڈانٹ رہی ہیں! غصہ اس پر، نکالا اب بھی مجھ معصوم پر جائے گا۔ اپنی اُس شہزادی صاحبہ کو اٹھائیں نا، کیوں نہیں اٹھتی! آدھا دن ہورہا ہے، یہ آپ کی خاموشی بڑی نقصان دہ ہوجائے گی آپ کے لیے، دیکھ لیجیے گا۔‘‘ سلمیٰ نے حسب معمول جلتی پر تیل چھڑکا۔
’’اے ہاں اب ہمارے بھی بچے تھے، ہم نے بھی پالے، لیکن صبح تڑکے ہی اٹھ جاتے تھے۔‘‘ انہوں نے مبالغہ آرائی کی انتہا کردی (یہاں کون تحقیق کررہا تھا)۔
’’آپ کی اسی نرمی سے تو وہ شیر ہورہی ہے۔‘‘ سلمیٰ نے اطمینان سے فریج سے انڈا نکالا اور اسے ابالنے کے لیے چولہے پر رکھا… اسی وقت نائلہ باورچی خانے میں آئی۔ چہرے پر رت جگا صاف نظر آرہا تھا۔ تھکن بھی تھی۔
’’لایئے امی! یہ چقندر مجھے دے دیں، دیر ہوگئی، گڑیا نے رات بھی جگایا، شاید پیٹ میں درد تھا۔ صبح کہیں جاکر سوئی تھی تو مجھے بھی اس لیے…‘‘ وہ کچھ شرمندگی سے کہہ رہی تھی۔ باتیں ماں بیٹی کی اُس کے کان میں پڑ چکی تھیں، حالانکہ روز وہ سب سے پہلے ہی اٹھتی تھی، لیکن جس دن دیر ہوجائے تو پھر…؟ اور یہ سب باتیں اس کے لیے نئی نہ تھیں۔
’’اے بی بی! ہم نے بھی پانچ پانچ بچے سنبھالے، تم سے تو صرف دو ہی نہیں پلتے۔‘‘ فراست بیگم ناگواری سے بولیں۔ دھلے ہوئے چقندر انہوں نے ٹوکری میں ڈالے اور بڑبڑاتی باورچی خانے سے نکل گئیں۔ سلمیٰ نے اپنا ناشتا ٹرے میں رکھا اور طنزیہ مسکراہٹ سے بھابھی کو دیکھتی ماں کے پیچھے نکلی۔ جب کہ نائلہ نے خاموشی سے چقندر کی ٹوکری اور چھری اٹھائی اور سر جھکائے، لب بھینچے سبزی بنانا شروع کردی۔ کسی نے اس سے نہ تو بچی کا حال پوچھا اور نہ ہی اس سے ناشتے کا۔ چقندر بنانے میں بھی اسے کم از کم ابھی ایک گھنٹہ لگ جانا تھا۔
’’اب سبزی کٹے گی تو نہ جانے کھانا کب تیار ہوگا۔‘‘ فراست بیگم کے بڑبڑانے کی آواز اب بھی آرہی تھی۔
…٭…
’’کیا ہوا امی! یہاں ایسے کیوں بیٹھی ہیں؟‘‘ طاہرہ نے باہر کمرے میں غصے میں بھری ماں کودیکھتے ہوئے کہا۔
’’ذرا ٹائم تو دیکھو۔‘‘ انہوں نے تیوریاں چڑھائے، گھڑی کی طرف اشارہ کیا۔ طاہرہ نے وقت دیکھا، دس بج رہے تھے۔ ’’بہو رانی ابھی تک آرام کررہی ہیں۔‘‘
’’امی! آپ کو معلوم تو ہے کہ کل شام عطیہ، گڈو کو ٹیکہ لگوا کر لائی تھی اور تب سے اسے بخار چڑھا ہوا ہے، گود ہی کہاں چھوڑ رہا تھا وہ۔ ساری رات وقفے وقفے سے آواز آتی رہی تھی۔ بے چاری سو بھی نہ پائی ہوگی رات بھر۔ آپ خود سوچیںکیسے صبح اٹھ جائے گی!‘‘ طاہرہ نرمی سے ماں سے کہہ رہی تھی۔
’’ہاں! وہ تو ہے، لیکن پھر بھی اب کیا سارا دن سوکر گزارے گی؟‘‘ امی تلخی سے بول رہی تھیں۔ بیٹی کی بات ٹھیک بھی تھی۔ انہوں نے ساتھ دل میں سوچا ’’کام کب شروع ہوگا۔‘‘
’’امی، کیوں پریشان ہوتی ہیں، میں ہوں، تو لائیں مجھے بتائیں کیا پکے گا۔ مرغی پکا لیتے ہیں، ساتھ آلو ڈال لیں گے۔‘‘ اس نے یہ کہا، ساتھ ہی فریج سے مرغی نکالی اور آلو لاکر چھیلنے لگی۔
’’اے بیٹی! یہ تم کیوں کرنے لگیں۔ شادی شدہ بیٹیاں بھی بھلا میکے میں کام کرتی ہیں، جب کہ گھر میں بھابھی موجود ہو۔‘‘ امی نے اسے جتایا۔
’’کیسی باتیں کرتی ہیں؟‘‘ اس نے ماں کی بات ہوا میں اڑائی۔ ’’کیا یہ میرے والدین کا گھر نہیں، اور کیا آپ میرے کام نہیں کرتیں، یا میں کوئی اجنبی ہوں؟‘‘ طاہرہ ہنسی۔ ’’امی آپ کو یاد ہے جب میرے بچے بیمار ہوجاتے تھے تو کیسے میں بھاگی بھاگی یہاں آجاتی تھی، پھر آپ میرے بچے سنبھالتیں اور میں آرام کرتی تھی۔‘‘ اس نے ماںکو چند برس پرانی باتیں یاد دلائیں۔ امی نے جواب میں سر ہلایا۔ ’’تو پھر آپ خود سوچیں عطیہ بھی تو تھک جاتی ہے، اور پھر وہ تو اس طرح میکے بھی نہیں جاتی اور ہم سب کا خیال بھی رکھتی ہے۔ اب کبھی ایسا ہوجاتا ہے تو پھر اسے کیا سنانا!‘‘ طاہرہ کہتی جارہی تھی اور امی کی تیوریوں کے بل کم ہوتے جارہے تھے۔
’’ہاں میرے خیال سے رات اُس نے کھانا بھی ٹھیک سے نہیں کھایا تھا۔‘‘ امی اب نرم پڑ چکی تھیں۔ ’’گڈو روئے جا رہا تھا۔‘‘
’’اچھا تم ایسا کرو مرغی چڑھائو، میں یہ آلو چھیل دیتی ہوں اور پیاز بھی تو دو…‘‘ امی کہہ رہی تھیں اور طاہرہ مطمئن انداز میں سر ہلاتی اٹھ گئی۔
…٭…
’’آپ یہاں بیٹھی ہیں اور آپ کو پتا ہے میں ابھی کیا کیا سن کر آرہی ہوں۔‘‘ ریحانہ نے اپنی بڑی بہن سے کہا جو کمرے میں کپڑے تہہ کرکے رکھ رہی تھی۔
’’کیا سن لیا، بتائوگی تو مجھے معلوم ہوگا نا۔‘‘ وہ اکتا کر بولی۔
’’اوپر چچی اور ان کی بیٹی محترمہ خوب ہرزہ سرائی کررہی ہیں آپ کے خلاف۔‘‘
’’کون؟ بڑی چچی…‘‘ بڑی آپا بولیں۔
’’تو اور کیا… توبہ توبہ ایسی ایسی باتیں سن کر آئی ہوں کہ کیا بتائوں۔‘‘ ریحانہ کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے بولی۔
’’اب کچھ منہ سے بھی پھوٹو گی یا میرے بلڈ پریشر میں ہی اضافہ کرو گی؟‘‘ وہ شعلہ بار لہجے میں بولیں۔
’’اگر کچھ کہہ دوں گی تو آپ تو میرے ہی اوپر الٹ پڑیں گی جس طرح بتانے سے پہلے ہی غصہ کررہی ہیں۔‘‘ ریحانہ منہ بناتے ہوئے بولی۔
’’اچھا چلو تم کو کچھ نہیں کہوں گی، اب بتائو۔‘‘
’’آپ کی جاب سے متعلق، وہی کہ آفس میں مردوں کے ساتھ جاب کرتی ہے، آنے جانے کا وقت ہی نہیں اور… اور بھی بہت کچھ…‘‘ ریحانہ بھنویں اچکا کربولی اور پھر خاموش ہوگئی۔
’’بس ان کو یہی تکلیف ہے، اپنی بیٹیاں تو میٹرک سے آگے نہ بڑھ سکیں، جیٹھ کی لڑکیوں نے ماسٹرز کرلیا تو ہضم نہیں ہورہا۔ اب میں نے ابا کے لاکھوں روپے خرچ کرکے ایم بی اے کیا، تو کیا اس ڈگری کا فائدہ نہ اٹھائوں، جب کہ مجھے جاب بھی اتنی اچھی مل گئی۔‘‘ آپا نے ریحانہ سے پوچھا تو وہ جلدی سے تائیدی انداز میں سر ہلانے لگی۔
’’بالکل… بالکل! بھیا سے اچھی تو آپ کی جاب ہے۔‘‘
’’بس اسی بات کی تو تکلیف ہے، دیکھ لوں گی میں ان کو اور ان کی وہ میٹرک تھرڈ ڈویژن فضہ، وہ خود کیا چیز ہے! خود کو بہت بڑی اداکارہ اور گلوکارہ سمجھتی ہے۔ ہر وقت تو ہیروئن بنی رہتی ہے۔ میں نے سنا ہے کسی چینل پر بھی آڈیشن دینے گئی تھی۔ ابھی اس کا بھانڈا پھوڑ دوں تو منہ دکھانے کے قابل نہ رہے گی، بری طرح ناکام ہوئی تھی۔‘‘ آپا تو شروع ہوچکی تھیں۔
’’ہیں آپا…؟‘‘ ریحانہ نے آنکھیں پھاڑیں ’’سچ، آپ کو کیسے پتا؟‘‘
’’ارے وہ میری دوست ہے نا لبنیٰ، اس کا بھائی وہیں کام کرتا ہے، وہ تو ہم سب کو جانتا ہے۔ اسی نے بتایا۔‘‘ اب آپا کچھ اکڑ کر بولیں ’’سب معلوم ہوجاتا ہے، اب دیکھنا میں کیا کرتی ہوں…‘‘ آپا کہے جارہی تھیں اور ریحانہ ان کی ہر بات پر تیز تیز سر ہلاتی جارہی تھی۔
…٭…
’’کیا ہوا، اس طرح افسردہ کیوں بیٹھی ہو؟‘‘ بجو نے کاپیاں چیک کرتے کرتے سراٹھا کر مہوش کو دیکھا۔
’’نہیں کچھ نہیں…‘‘ مہوش نے زبردستی کی مسکراہٹ چہرے پر لا کر کہا۔
’’کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔‘‘ بجو نے کاپیوں کے ڈھیر سے ایک کاپی اور اٹھائی۔
’’بجو! آپ یہ اسکول کی ملازمت چھوڑ دیں۔‘‘
’’ارے گڑیا کیسی باتیں کرتی ہو، جاب چھوڑ دوں؟ تو پھر دیکھو نا ہمارے گھر کے حالات ویسے ہی نازک ہیں، میری آمدنی سے ایک سہارا مل جاتا ہے۔ بجلی، گیس کے بل اور پھردونوںچھوٹوں کی اسکول فیس، تم جانتی تو ہو۔‘‘ بجو پھیکی مسکراہٹ کے ساتھ بولیں۔
’’ہوں، میں تو جانتی ہو پَر ہم لوگوںکی زبان کیسے پکڑیں جو بے دریغ چلتی ہے۔‘‘ مہوش افسردگی سے بولی۔
’’اب کیا ہوگیا؟ کس نے کیا کہہ دیا؟‘‘
’’بس یہ محلے والے اور… میں کیا کہوں، مجھے اچھا نہیں لگتا کوئی میری بہن کے متعلق کچھ کہے۔‘‘
’’تو تم نہ سنو، کہنے والوں کو کہنے دو۔‘‘ بجو لاپروائی سے بولیں۔
’’آپ نہ جانے کیسے یہ برداشت کرلیتی ہیں، مجھے تو بہت غصہ آجاتا ہے۔‘‘
’’اوہو…!‘‘ بجو ہنسیں۔ ’’ایک مزے کی بات بتائوں‘‘، اب انہوں نے کاپی کو بند کرتے ہوئے مہوش کو متوجہ کیا ’’جو لوگ دوسروں کو برا کہتے ہیں نا، وہ دراصل اپنا ہی برا کرتے ہیں، لیکن خود انہیں اس کی خبر نہیں ہوتی۔‘‘
’’وہ بھلاکیسے؟‘‘ مہوش نے حیرانی سے بہن کو دیکھا۔
’’وہ ایسے کہ اپنی نیکیاں ہمیں دے دیتے ہیں، ہمیں تو ان کا احسان مند ہونا چاہیے کہ انہوں نے بیٹھے بٹھائے ہمارے اعمال نامے میں نیکیوںکا اضافہ کردیا۔‘‘ بجو اطمینان سے بول رہی تھیں۔ ’’بلکہ اب تم ایسا کرو یہ جو کل میں کچھ فروٹ لائی تھی اس میں سے کچھ فروٹ ایک پلیٹ میں رکھ کر وہاں دے آئو… یہ شکریہ ہے ان کا۔‘‘
’’ہائیں بجو! کیا کہہ رہی ہیں؟‘‘ مہوش متحیر تھی۔
’’جو کہہ رہی ہوں وہ کرو، اور لوگوں کی اس طرح کی باتوں پر توجہ مت دیا کرو بلکہ مطمئن رہو… یہ سوچو کہ وہ خود اپنے گناہوں میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔‘‘
’’ارے ہاں بجو! یہ تو واقعی بڑے مزے کی بات ہے۔ اگر ہم اس طرح سوچں تو… میرا تو سارا غصہ ختم ہوگیا آپ کی بات سن کر، میں ابھی یہ پھل دے کر آتی ہوں۔‘‘ مہوش مسکراتے ہوئی بولی اور بجو نے اطمینان سے ایک اور کاپی اٹھالی۔

حصہ