….رحمتوں کے بعد ”’مغفرت”کے عشرے کا آغاز

116

حضرت ابو ہریرہ ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐ نے فرمایا ”جو شخص رمضان کا ایک روزہ بھی بلا عذر شرعی (سفر او رمرض کے بغیر)چھوڑدے،پھر ساری عمر بھی روزے رکھے تو اس روزے کی تلافی نہ ہوسکے گی“اور آپؐنے فرمایا کہ”روزہ ڈھال ہے جس طرح لڑائی میں تمہارے پاس ڈھال ہوتی ہے جو دشمن کے حملے سے تمہیں بچاتی ہے اسی طرح یہ روزہ ڈھال ہے جو جہنم سے بچانے والی ہے او ریہ کہ روزہ جسم کی زکوٰۃ ہے“۔عبداللہ بن حارث ؓ حضور ؐ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ میں حضور ؐ کے پاس پہنچا تو اس وقت آپؐ سحری کھارہے تھے آپ ؐنے فرمایا سحری کھانا باعث برکت ہے اور یہ مبارک ناشتہ ہے،یہ برکت اللہ تعالی نے تم لوگوں کو عطا کی ہے تو سحری کھانا مت چھوڑنا۔
بخاری کی حدیث ہے کہ”یہ غم خواری کا مہینہ ہے“ ایک اور جگہ فرمایا”یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا صلہ جنت ہے یہ نیکیوں کا موسم بہار ہے،سارے سال فرشتے جنت کی سجاوٹ کا سامان کرتے ہیں، جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو شیاطین باندھ دیئے جاتے ہیں اور جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیئے جاتے ہیں“،جب نبی کریم ؐ رمضان کا چاند دیکھتے تو آپ ؐ کے چہرے کا رنگ بدل جاتا،نماز میں خشوع پہلے سے زیادہ بڑھ جاتا اور دعا میں پہلے سے زیادہ عاجزی بڑھ جاتی۔آپ ؐنے فرمایا کہ ”یہ وہ مہینہ ہے جس کا پہلا عشرہ رحمت،دوسرا عشرہ مغفرت اور تیسرا عشرہ دوزخ سے آزادی اور نجات ہے-“ اور اب رمضان کا دوسرا عشرا شروع ہو چکا ہے جو کہ”مغفرت کا عشرہ“ہے-
رمضان کے بارے میں آپ ؐ کی بہت سی احادیث مروی ہیں جس سے اس کی رحمتوں او ربرکتوں کا اندازہ ہوتا ہے اور اس بات کا پتا چلتا ہے کہ بندے کو بندگی کی معراج تک پہنچانے میں یہ مہینہ اللہ کی طرف سے خاص فضل اور خاص انعام ہے اور اسکی نعمتیں بے پایہ ہیں یعنی سچی بات تو یہ ہے کہ بندہ تو گناہ گار ہے،خطا کار ہے اور بندے کا احساس گناہ اس بات کا متلاشی رہتاہے کہ اسکے گناہوں کی مغفرت کے لیے کونسا موقع اسکو ملے اور نبیؐ فرمارہے ہیں کہ ”یہ رحمت کا مہینہ ہے،جہنم سے رہائی کا مہینہ ہے“،حضرت عائشہ ؓ راوی ہیں کہ جب رمضان کا آخری عشرہ قریب آتا تھا تو نبی کریم ؐ اپنی کمر کس لیتے تھے یعنی اور زیادہ مستعد ہوجاتے تھے اور راتوں کو جاگتے تھے اوراپنے گھر والوں کو بھی جگا تے تھے یعنی خود جاگنا بھی سنت اور گھر والوں جگانا بھی سنت۔تو نبی ؐ کے معمولات میں اور رمضان کے شب و روز کے مطالعے سے اس با ت کا اندازہ ہوتا ہے کہ آپ اس مہینے کی برکتوں کو سمیٹنے کے لیے اور اپنے رب کا قرب حاصل کرنے کے لیے آ پ اپنی امت کے لیے وہ سنت چھوڑ کرگئے ہیں جس کو اختیار کرکے انسان راہ نجات حاصل کرسکتا ہے یہ وہ حدیث ہے جس میں آپؐ نے بڑی تفصیل سے رمضان کی فضیلت بیان فرمائی۔
عمل کا بڑھنا:یہ حدیث قدسی ہے انسان کا ہر عمل بارگاہ الٰہی میں جب پیش ہوتا ہے تو ہر نیکی دس گناسے لے کر سات سو گنا تک پھیلائی جاتی ہے جس ماحول میں وہ نیکی کی گئی اور جن حالات میں وہ نیکی کی گئی جس سختی اور گرمی کو برداشت کرکے نیکی کی گئی تو نیت کے حساب سے اس نیکی کا اجر بڑھایا جاتا ہے لیکن نبی ؐ نے فرمایا کہ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے کہ ”ہر نیکی سات سو گنا تک پھیلائی جاتی ہے مگر روزہ اس کلیے اور ضابطے سے مستثنیٰ ہے اس لیے کہ جو بندہ صبح سے لے کر شام تک بھوکا اور پیاسا میری خاطر اور میری ہی بخشی ہوئی نعمتو ں سے گریز کرتا ہے تو بس پھر اس کا صلہ تو میں اپنے ہاتھ سے دوں گا اس کے بدلے میں گویا میں خود ہی مل جاؤں گا-“یعنی ذرا اندازہ کیجیے کہ بندے کی سعادت کا اور خوش نصیبی کا کیا عالم کہ اس کو خود اللہ تعالیٰ مل جائے تو اس کی کونسی نعمتیں‘ فضل اور انعام ہے جو اس کو نہ ملے۔ یہ روزہ قرب الٰہی کا بہترین ذریعہ ہے ایک جگہ آپ ؐ نے ارشاد فرمایا کہ ”بہت سے روزے دار ایسے ہیں جن کو خالی بھوک اور پیاس کے اپنے روزے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا اور بہت سے راتوں کو جاگنے والے اور شب بیدار ایسے ہیں کہ جنہیں علاوہ رت جگے کے اور کچھ میسر نہیں آتا“ یعنی آپ اندازہ کیجئے کہ ایک طرف تو روزہ قرب الٰہی کا ذریعہ ہے اور دوسری طرف آپ ؐ فرماتے ہیں کہ سوائے رت جگے کے اس کے نامہ اعمال میں اور کچھ بھی نہیں۔
غور طلب بات ہے کہ جو روزہ ہے اور جتنی عبادات بھی اللہ تعالی نے اپنے بندوں پر فرض کی ہیں ان ساری عبادات میں روزے کی عبادت نفس پر گراں گزرنے کے اعتبار سے یعنی مشکل میں ڈالنے کے اعتبار سے، نفس پر شاک گزرنے کے اعتبار سے تمام عبادتوں میں نمایاں ہے یعنی باقی تمام عبادتوں میں نمازمثال کے طور پر دن میں پانچ مرتبہ پڑھی جاتی ہے اور انسان کو ایسے عمل سے ہم کنار کرتی ہے کہ جس کے اندر کچھ مشقت بھی ہے لیکن ایک جزوقتی سا عمل ہے مگر روزے کے اندر نفس انسان سے دو محبوب ترین چیزیں چھین لی جاتی ہیں جو اس کو بہت پسند ہیں ایک تو نفس انسان کو کھانا پینا بہت پسند ہے اور روزے کے اندر اسکو چودہ پندرہ گھنٹے بھوکا پیاسا رکھا جاتا ہے،دوسرا نفس انسان کو سونا بہت پسند ہے یعنی آرام طلبی نفس کو بہت مرغوب ہے اور روزے کے اندر آپ دیکھیں تو رات کو سونے کا جو سب سے اچھا حصہ ہے جونیند کی معراج ہے کہ عین رات کے دو بجے اور تین بجے اس کو اٹھا دیا جاتا ہے کہ سحری بھی کھانی ہے کہ یہ بہتر اور افضل چیز ہے یعنی اس کو جگایا جاتا ہے اس کی نیند کو توڑا جاتا ہے یعنی اس کے جاگنے کے معمولات کو اور اس کے کھانے پینے کے معمولات کو تبدیل کیا جاتا ہے تو حضرت نفس پر یہ عبادت شاک گزرتی ہے اور گراں گزرتی ہے کہ کھانے سے بھی گریز ہے اور آرام سے بھی گریز ہے اور سچی بات تو یہی ہے کہ اللہ کو یہی چیز مطلوب ہے،یہی کیفیت مطلوب ہے کہ اس کیفیت کو پیدا کرکے اس پر قابو پانا یہی تربیت دینا مقصود ہے۔
ضبط نفس جس کو کہتے ہیں کہ جب نفس سرکش ہو اور اس کے اندر ابال آئے اور اس کو اشتعال کی کیفیت اپنے اندر پائے تو اس کو ضبط کیا جائے، اس کو باگیں ڈالی جائیں اور لگام دی جائے مثال کے طور پر آپ نے خشکی کے اوپر کسی کو تیرتے نہیں دیکھا ہوگا نہ ڈوبتے دیکھا ہوگا،جس کو تیرنا سکھانا ہو اس کو پانی میں اتارا جاتا ہے اور جب وہ ڈوبنے لگتا ہے تو اس کو تیرنے کے گُر سکھائے جاتے ہیں، نفس انسانی کو مشکل میں ڈالا جاتا ہے تاکہ بھوک پیاس میں مبتلا کرکے اس کے اندر غصہ پیدا ہو،جھنجھلاہٹ پیدا ہو،ایک اشتعال کی کیفیت ہو اور نیند سے بے آرام کرکے مزید اس میں اضافہ کیا جائے اور پھر گویا نفس کو دبلا کرکے،پتلا کرکے اس کو ضعف میں مبتلا کرکے قوت توڑ کے اس کی ہوا کو یعنی خواہشات نفسانی کو ہدایات ربانی کے طابع کیا جائے کہ انسان اس کی لگامیں تھامنے کے بجائے اس کے نفس انسان کی لگامیں تھامے اور اپنے پیچھے انسان کو چلائے- اس لیے اللہ نے جتنی بھی عبادات فرض کی ہیں اس میں روزہ ایسی عبادت ہے جو حضرت انسان کی طبیعت پر شاک اور گراں گزرتی ہے۔
نبی ؐ نے فرمایا کہ”روزہ ڈھال ہے اگر تو اس کو توڑ نہ دے-“ تو صحابہ ؓ نے پوچھا کہ یہ ڈھال کس طرح ہے؟ تو آپ ؐ نے فرمایا کہ”انسان جب جھوٹ بولتا ہے اور غیبت اور چغلی کرتا ہے تو اس میں سوراخ ہو جاتے ہیں اور ظاہری بات ہے کہ وہ ڈھال کس کام کی جس کے اندر سوراخ پڑے ہوئے ہوں یہ ڈھال ہے گناہوں کے مقابلے میں یہ ڈھال ہے آتش دوزخ کے مقابلے میں“لیکن بہت سارے لوگ اس کو ڈھال بنانے کے بجائے اس کو تلوار بناتے ہیں کہ روزے کی حالت میں روزہ بہلانے کے لیے ٹی وی کے آگے بیٹھ جاتے ہیں پھر غیبت کی محفلیں سجاتے ہیں یہ وہ چیزیں ہیں جن سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے جن سے منع فرمایا جا رہا ہے اس سے روزہ ناقص ہو جاتا ہے اور اپنی روح سے محروم ہو جاتا ہے، آپ ؐ نے فرمایا کہ جس نے جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا نہیں چھوڑا تو اللہ تعالیٰ کو اس بات کی حاجت نہیں کہ بندہ صبح سے شام تک بھوکا پیاسا رہے۔ پھر رمضان نزول قرآن کا بھی مہینہ ہے اور یہ ہدایت و رحمت اور زندگی گزارنے کا بہترین سلیقہ سکھانے والی کتاب ہے۔
ہم رمضان سے پہلے گھروں کی صفائی کرتے ہیں ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے دل کی بھی صفائی کریں حسد، کینہ، بغض اور عداوت کو دل سے نکال دیں اور اس دل کے اندر اللہ اور اس کے رسول ؐ کی یاد کو پروان چڑھائیں- اب گھر گھر جانے کی ضرورت نہیں فون کال سے اپنے عزیز و اقارب سے کہا سنا معاف کروائیں، جن کے والدین ناراض ہیں تو انہیں راضی کریں تاکہ رمضان کی عبادات قبول ہوسکیں، جن کے ماں باپ ناراض ہوتے ہیں اس کی کوئی عبادت قبول نہیں ہوتی، اپنے معاملات ٹھیک کرنے کی کوشش کریں، اللہ کرے یہ رمضان ہمارے لیے باعثِ رحمت اور برکت اور بہترین قرب الٰہی کا ذریعہ ہو اور جنت کا حصول اس رمضان کے ذریعے ہم سب کے لیے آسان ہوجائے، اللہ تعالیٰ ہم سب کو ایمان اور احتساب کے ساتھ روزے رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ رمضان کا ایک ایک لمحہ ہمارے لیے قیمتی ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ عبادت کے لمحات گھر کے کاموں میں گزر جائیں، جاگنے والی راتوں کی عبادات کی تیاری کرلیں اور چاند رات جو دراصل انعام اور اجرت کی رات ہے، وہ بازاروں کی نذر یا گھر کی صفائیوں کی نذر نہ ہو جائے- اللہ سے تعلق کو مضبوط کرنے کے لیے کمر کس لیں، افطار اور کھانے کا اہتمام کریں کیوں کہ نبی کریم ؐ کا ارشاد ہے کہ ”جو روزہ دار کو افطار کرائے تو اس کے پچھلے گناہ معاف ہو جاتے ہیں، جہنم سے نجات مل جاتی ہے-“ تو صحابہ ؓنے ارشاد فرمایا کہ یا رسول اللہ ہم اس کی استطاعت نہیں پاتے تو کیا ہم اس اجر و ثواب سے محروم رہیں گے؟ فرمایا ”نہیں اگر تم ایک گھونٹ لسی اور دودھ سے افطار کرا دو اگر یہ بھی میسر نہیں تو پانی کے گھونٹ پر افطار کرا دو اس پر بھی اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا کہ روزے دار کو ملے گا جب کہ اس کے ثواب میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی ہاں جو اس کی استطاعت پائے کہ روزے دار کو پیٹ بھر کر کھانا کھلائے تو اس کو حوضِ کوثر سے جامِ کوثر پینا نصیب ہوگا جب تک وہ جنت میں پہنچے اس کو پیاس محسوس نہیں ہوگی“۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو رمضان کی برکتیں اور رحمتیں سمیٹنے والا بنائے۔آمین

حصہ