پاکستان نصف صدی قبل (اپریل 1971)

115

(گزشتہ سے پیوستہ)
مکتی باہنی کی تشکیل:
ان تیاریوں کے ساتھ ساتھ بھارت نے پاک فوج کی جنگی صلاحیتوں کو کند کرنے کے لیے مکتی باہنی کو منظم کیا۔ مکتی باہنی کی ریڑھ کی ہڈی سابق ایسٹ بنگال رجمنٹ اور ایسٹ پاکستان رائفلز کے باغی افسر اورسپاہی تھے۔ ہندوستان جاکر ان کی صفوں میں عوامی لیگ کے رضاکار، یونیورسٹی کے طلبہ اور پناہ گزین بھی شامل کیے گئے۔ ان کی قیادت پاک فوج کے ایک باغی ریٹائرڈ کرنل ایم اے جی عثمانی کے سپرد تھی، جسے باقاعدہ کمانڈر انچیف مقرر کیا گیا تھا۔
باغی فوج کو سیاسی چھاتہ مہیا کرنے کے لیے عوامی لیگ کی مفرور قیادت کو استعمال کیا گیا، جو اُس وقت تک کلکتہ پہنچ چکی تھی۔ ان قائدین کو جلاوطن حکومت کی شکل دی گئی جس میں تاج الدین، قمر الزماں، منصور علی اور مشتاق احمد خوندکر کو شامل کیا گیا۔ اس حکومت کا مشن مکتی باہنی کی مسلح جدوجہد اور بھارت کی سرپرستی سے بنگلہ دیش آزاد کرانا تھا۔
باغیوں کی تشکیل اس طرح تھی:
1۔ مکتی باہنی (سابق فوجی، پولیس، ایسٹ پاکستان رائفلز، بھارتی فوج کے ریگولر ایجنٹ)
2۔ مجیب باہنی (عوامی لیگی، بنگالی ہندو، کمیونسٹ)
3۔ الف: جاسوسی گروپ، ب: سبوتاژ گروپ، ج: آرمڈ گروپ، د: افواہ ساز گروپ۔
عوامی رابطے میں زیادہ فعال گروپ مجیب باہنی تھا۔ لیکن مکتی باہنی کو شہرت زیادہ ملی۔ دیگر چار گروپ ان کے لیے مشترکہ خدمات انجام دیتے تھے۔ اس کے علاوہ مکتی باہنی کی دو مزید ذیلی شاخیں تھیں: اول خواتین آزادی گروپ، دوم سائنٹفک گروپ۔
خواتین گروپ نوجوان لڑکیوں پر مشتمل تھا جن میں زیادہ تر ہندو طالبات تھیں۔ انہوں نے ’’رضاکارانہ‘‘ طور پر اپنے آپ کو پیش کردیا تھا۔ عوامی لیگ کی حامی ان خوبرو لڑکیوں کو مکتی باہنی کی سبوتاژ سرگرمیوں کو آسان بنانے کے لیے تنصیبات پر پہرہ دینے والوں کو چند لمحوں کے لیے غافل کرنے کی خاطر ہر ’’ہتھکنڈا‘‘ استعمال کرنے کی تربیت دی گئی تھی۔ زمانہ ٔ قدیم سے لے کر جدید جنگوں تک طوائفیت کو ایک مؤثر جنگی ہتھیار جیسی اہمیت حاصل رہی ہے۔ یہ لڑکیاں اہم افراد سے لے کر تیسرے درجے تک کے افراد کی رفاقت میں ’’رضاکارانہ‘‘ وقت گزارنے کے بہانے، راز اگلوانے اور غفلت کا شکار کرنے کی کوششیں کرتی تھیں۔
جماعت اسلامی کے میاں طفیل محمد نے جولائی 1971ء میں مشرقی پاکستان کے دورے سے واپسی پر ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ بھارت نے مشرقی پاکستان پر اخلاقی حملے کے لیے بیس ہزار دوشیزاؤں کو تیار کیا ہے جن میں سے اب تک دوہزار کو مشرقی پاکستان بھیجا جاچکا ہے۔ (ہفت روزہ زندگی لاہور، 2 اگست 1971ء)
جبکہ سائنٹفک گروپ میں سائنس کے طلبہ بھارتی سرحد کے قریب خفیہ مقام پر بھارتی انتہاپسند ہندو تنظیم راشٹریہ سیوک سنگھ کے کارکنوں کی رفاقت میں ایسی تباہ کن دستی چیزیں تیار کرتے جو تباہی پھیلا کر ماحول کو دہشت زدہ کرتیں۔
بھارت کے جنگی آقاؤں نے مکتی باہنی کے لیے حسب ذیل تین مقاصد مرتب کیے:
اوّل یہ کہ وہ سارے مشرقی پاکستان میں پھیل کر پاک فوج کے ساتھ جھڑپوں کا آغاز کرے، تاکہ اس کی نقل وحرکت معطل ہوکر رہ جائے اور وہ حفاظتی اقدامات کے لیے متعلقہ علاقوں میں مقید ہوجائے۔ دوم یہ کہ گوریلا کارروائیوں کو رفتہ رفتہ تیز کرکے پاک فوج کے مورال کو کمزور کیا جائے۔
سوم یہ کہ اگر پاکستان اس چھیڑ چھاڑ سے تنگ آکر باقاعدہ جنگ پر مجبور ہوجائے تو یہی مکتی باہنی بھارت کی باقاعدہ فوج کے لیے مشرقی فیلڈ فورس کا کام دے سکے۔ (پریم چوپڑا کی کتاب انڈیاز سیکنڈ لبریشن، ص 155)
ان مقاصد کو سامنے رکھ کر ایک بھارتی جنرل کی نگرانی میں مکتی باہنی کو تربیت دی گئی۔ شروع شروع میں تربیت صرف چارہفتوں تک محدود تھی، جس میں تخریبی کارروائیاں کرنے، کمین گاہوں پر گولیاں برسانے، دستی بم پھینکنے اور رائفل چلانے کی مشق کرائی گئی۔ بعد میں تربیتی مدت آٹھ ہفتے کردی گئی، اور ان کے علاوہ انہیں تمام ہلکے ہتھیاروں کی تربیت دی گئی۔ اس طرح تیس ہزار افراد کو تربیت دے کر ایک منظم اور مسلح فوج تیار کی گئی اور اسے بھارت کی باقاعدہ فوج کے شانہ بشانہ لڑانے کے انتظامات کیے گئے۔ ان کے علاوہ مزید ستّر ہزار افراد کو گوریلا جنگ کی تربیت دے کر مشرقی پاکستان بھیجا گیا۔
ان شرپسندوں اور باغیوں کے لیے ہتھیار اور دوسرا جنگی سامان حاصل کرنے میں بھارت کو شروع شروع میں مشکل کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن روس سے معاہدۂ دوستی کے بعد یہ مشکل حل ہوگئی۔ کرنل صدیق سالک نے لکھا ہے کہ اسی زمانے میں یورپ سے مشرقی پاکستان آنے والی خاتون صحافی نے انہیں بتایا کہ مشرقی یورپ میں دوسری جنگِ عظیم کے متروک روسی اسلحہ کے ڈھیر لگے ہیں، جنہیں بھارت منتقل کیا جارہا ہے۔
بنگلہ دیش کی نام نہاد جلاوطن حکومت بھی غیرملکی منڈیوں سے ہتھیاروں کی خریداری کررہی تھی۔ اس مقصد کے لیے بنگلہ دیش کے غیرسرکاری سفیر امریکہ اور برطانیہ میں فنڈز جمع کرتے تھے۔
عالمی برادری:
ماسکو کے اخبارات نے 2اپریل کو صدر جنرل یحییٰ کے نام روسی صدر پڈگورنی کا ایک خط یک طرفہ طور پر شائع کردیا، جس میں روسی صدر نے جنرل یحییٰ سے اپیل کی تھی کہ مشرقی پاکستان کی آبادی کے خلاف ظلم وستم اور قتل و غارت گری کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ اس اپیل کے جواب میں جنرل یحییٰ نے غیر لچک دارانہ رویہ اختیار کیا۔ پڈگورنی نے انسانی حقوق کے اعلان کا حوالہ دیا تھا، اس میں یہ رمز پوشیدہ تھا کہ اقوام متحدہ میں روس شاید بھارت کی مدد کرے۔ جنرل یحییٰ نے لکھا کہ اگر کوئی طاقت دوسرے ملکوں کے داخلی معاملات میں مداخلت میں کسی تیسرے ملک کی مداخلت کی حمایت کرے یا چشم پوشی سے کام لے تو اس طرح اقوام متحدہ کے چارٹر اور بنڈونگ کانفرنس کے اصولوں کی مخالفت کی مرتکب ہوگی۔
اپریل کے آخر میں کوسیجن نے جنرل یحییٰ کو نہایت شائستہ خط لکھا جسے بغرضِ اشاعت جاری نہیں کیا گیا۔ یہ ظاہر کرنے کے لیے کہ وہ پاکستان اور روس کے درمیان بھرپور تعاون کے خواہش مند ہیں، انہوں نے پاکستان کی دلجوئی کی خاطر معاشی میدان میں کئی اقدامات کیے۔
جنرل یحییٰ کے خط کے جواب میں 13اپریل 1971ء کو چو این لائی نے جنرل یحییٰ کو لکھا کہ آپ اور پاکستان کے کئی قائدین نے وحدتِ پاکستان کے تحفظ اور اسے شکست و ریخت سے بچانے کے لیے خاصا سودمند کام کیا ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ آپ اور پاکستان کے دیگر قائدین کے باہمی مشوروں اور اقدامات سے حالات یقیناً معمول پر آجائیں گے۔ ہمارے خیال میں پاکستان کی وحدت اور مشرقی و مغربی پاکستان کے عوام کا اتحاد پاکستان کی قوت اور خوشحالی کے لیے بنیادی ضمانت کا درجہ رکھتے ہیں۔ ہم عرصے سے نوٹ کررہے ہیں کہ آپ کے ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرکے بھارتی حکومت آپ کے مسائل کو الجھانے کی کوشش کررہی ہے، حکومتِ چین کے نزدیک اس وقت پاکستان میں جو کچھ ہورہا ہے وہ پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے۔
بڑی طاقتوں میں سب سے پہلے برطانیہ نے 27مارچ کو اپنے ردعمل کا اظہار کیا تھا، جو پاکستانی مؤقف کے قریب تر تھا۔ 28 مارچ کو انڈونیشیا اور ایران اور 3اپریل کو ترکی اور ملائشیا نے پاکستانی مؤقف کی حمایت میں اظہار رائے کیا۔
امریکہ کا اوّلین ردعمل یہ تھا کہ پاکستان انسانی ہمدردی کے پیش نظر بین الاقوامی ادارے کی طرف سے امداد قبول کرلے، جس سے پاکستان کے اندرونی معاملے کی دلیل متاثر نہ ہوگی۔ چند روز کے بعد 7اپریل کو امریکی وزارتِ خارجہ کے نمائندے نے کہا کہ ہمارے نزدیک اب بھی یہ امر اہم ہے کہ پُرامن حل کے ذریعے کشمکش کے خاتمے کے لیے ہرممکن قدم اٹھایا جائے۔ وہائٹ ہاؤس کو سب سے زیادہ تشویش اس امر پر تھی کہ مشرقی پاکستان میں خانہ جنگی جیسی صورت حال پھیل کر بین الاقوامی بحران میں تبدیل نہ ہوجائے جس سے ایشیا میں طاقت کا توازن متاثر ہوگا۔اسی دوران اپریل 1971ء کے وسط تک مشرقی پاکستان کے بحران میں اوّلین اور بظاہر فیصلہ کن تبدیلی ہوچکی تھی۔ 18اپریل کو پاک فوج نے برہمن باریہ اور اکھنور کے علاوہ چروانگہ کے مقام کو اپنے قبضے میں لے لیا جسے نام نہاد بنگلہ دیش کا عارضی دارالحکومت قرار دیا گیا تھا۔
سفارتی سطح پر اکثر حکومتیں اس رائے کا اظہارکرچکی تھیں کہ مشرقی پاکستان کی صورت حال پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے۔ ان حالات میں بھارتی حکومت کو مجبوراً دفاعی انداز اختیار کرنا پڑا۔ اب تو بھارتی سرزمین پر مقیم مشرقی پاکستانیوں کے باہمی اختلافات سامنے آنے لگے تھے۔ بھارت میں یہ کہا جارہا تھا کہ اس کا قومی مفاد اسی میں ہے کہ پاکستان دولخت ہوجائے۔
اپریل کے آغاز میں بھارت کی سرزمین پر باغیوں کو تربیت دینے کے بعد مسلح کیا گیا اور بنگلہ دیش کی عارضی حکومت کی بھارت نے ہرطرح سے مدد کی تاکہ مشرقی پاکستان میں گوریلا کارروائی کی جاسکے۔ اسی دوران بھارت نے پاکستان کے ساتھ طویل مقابلے کی منصوبہ بندی شروع کردی، اسے یہ اچھی طرح معلوم تھا کہ اس کا انجام دونوں کے درمیان تیسری جنگ کی صورت میں نکلے گا۔
بحران کے پہلے دور میں بھارت کی کوششیں اس امرپر مرکوز رہیں کہ پاکستان کے خلاف عالمی رائے عامہ کو ہموار کیا جائے اور پاکستان پر عالمی رائے عامہ کا دباؤ ڈالاجائے۔ چنانچہ بھارت نے پاک بھارت تعلقات کی ہر ہر خرابی کو ڈرامائی رنگ دینے کی بھرپور کوشش کی، اور دونوں ملکوں کے درمیان طویل چپقلش کو تیز تر کرنے کا کوئی موقع ضائع نہ جانے دیا۔
مارچ میں بھارت میں داخل ہونے والے مشرقی پاکستان کے باشندوں کی تعداد بہت کم تھی، اپریل کے تیسرے ہفتے کے بعد ان لوگوں کی تعداد میں ڈرامائی طور پر اضافہ شروع ہوا جس کی بڑی وجہ بھارت کی پالیسی تھی۔ سفارتی محاذ پر بھارت نے اس انخلاء سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ چنانچہ اس انخلاء کے مسئلے پر عالمی سطح پر تشویش کا اظہار ہونے لگا۔ پاکستان کے خلاف اور بھارت کے حق میں فضا ہموار ہونے لگی۔ نقل مکانی کے تسلسل کے باعث بھارت کے اس مؤقف کو بہت تقویت ملی کہ خواہ مشرقی پاکستان کا بحران پاکستان کا اندرونی معاملہ کیوں نہ ہو، اتنی بڑی تعداد میں بنگالیوں کے بھارت میں آنے سے بھارت کے اندرونی معاملات پر گہرا اثر پڑا ہے۔
پاک روس معاہدہ:
اپریل کے آخر میں روس نے پاکستان سے ایک معاہدہ کیا جس کی رو سے روس کو پاکستانی چمڑے کی برآمد دگنی کردی گئی۔ اس کے بعد اعلان ہوا کہ روس نے بالآخر اس منصوبے کی منظوری دے دی جس کے تحت کراچی کے قریب اسٹیل مل لگانے کا فیصلہ کیا گیا۔ حالانکہ اگست 1970ء میں روس نے اس منصوبے کو ناقابلِ عمل تصور کرتے ہوئے اسے نامنظور کردیا تھا۔ امریکی حکومت نے اعلان کیا کہ وہ موجودہ ترقیاتی منصوبوں پر تعاون جاری رکھے گی، مگر مستقبل کی ترقیاتی امداد کا دارومدار عالمی ادارے کے ذریعے مشرقی پاکستان میں امدادی کاموں کی نگرانی پر پاکستان کی رضامندی پر ہوگا۔
بھٹو کی ہوسِ اقتدار:
ایک جانب مشرقی پاکستان میں خانہ جنگی جاری تھی، باغی غیربنگالیوں کو بے رحمی سے ذبح کررہے تھے اور پاک فوج باغیوں کی سرکوبی کے آپریشن میں دن رات مصروف تھی۔ دوسر ی جانب آرمی ایکشن اور شیخ مجیب کی گرفتاری کے بعد میدان صاف پاکر مسٹر بھٹو نے کہا کہ پاکستان کے اس بحران کوصرف منتخب نمائندے ہی حل کرسکتے ہیں۔انہوں نے یکم اپریل کو صدر جنرل یحییٰ سے سوا چھ گھنٹے طویل ملاقات کی جس میں اقتدار پیپلز پارٹی کے حوالے کرنے پر اصرار کیا۔ مختصر یہ کہ اِدھر اقتدار ہتھیانے کے لیے جوڑ توڑ ہورہا تھا اور اُدھر مکتی باہنی بھارتی فوج کی مدد سے غیراعلانیہ جنگ میں مصروف تھی۔
اپریل کے مہینے سے بھارت نے مشرقی پاکستان کی سرحد پر اپنی فوجوں کو جمع کرنا شروع کردیا۔ تھوڑے ہی عرصے میں اس نے پانچ ڈویژن فوج جمع کردی۔ اس صورتِ حال اور پاکستان کے اندرونی معاملات میں بھارت کی مداخلت سے جنرل یحییٰ نے دوست ملکوں کے سربراہوں کو آگاہ کردیا۔پاکستان اور بھارت کی فوجیں ایک دوسرے کے سامنے صف آراء ہوگئیں۔ چینی صدر نے صدر یحییٰ کو مراسلہ لکھا کہ بھارت نے حملہ کیا تو چین پاکستان کی بھرپور مدد کرے گا۔
2 اپریل کو دوارکا کے قریب پاکستانی جہاز کو تباہ کرنے کی بھارتی کوشش ناکامی سے دوچار ہوئی۔ 15اپریل کو بھارتی طیارہ اغوا کرنے والے کشمیری نوجوانوں کو حراست میں لے لیا گیا۔ طیارے کے اغوا اور تباہی کے واقعے میں بھارت کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا، اس حوالے سے تحقیقاتی کمیشن نے اپنی رپورٹ صدرِ مملکت کو پیش کردی۔ 20 اپریل کو سرکاری طورپر اعلان کیا گیا کہ طیارے کے اغوا میں بھارتی محکمہ سراغرسانی کا ہاتھ تھا۔
اسی دوران مشرقی پاکستان کی معیشت کو مفلوج کرنے کے لیے صنعتی اداروں اور اہم تنصیبات کو تباہ کرنے کی بھارتی مہم زور پکڑگئی، جبکہ پاکستان میں بھارتی ہائی کمشنر بی کے اچاریہ نے یہ طفل تسلی دی کہ بھارت نام نہاد بنگلہ دیش کی حکومت کو تسلیم نہیں کرے گا۔
بھارت نے 23 اپریل کو کلکتہ میں پاکستانی سفارت خانہ بند کرنے کا فیصلہ کیا، اس کے جواب میں بھارت کو بھی ڈھاکہ میں اس کا سفارتی مشن بند کرنے کا حکم دیا گیا۔
(حوالہ جات: پریم چوپڑا کی کتاب ’’انڈیاز سیکنڈ لبریشن‘‘، ص 155۔ ٹی ای لارنس کی کتاب ’’سیون پلرز آف وزڈم‘‘، ص192۔

حصہ