منتخب غزلیں

117

اکبر الہ آبادی

دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں
بازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں
زندہ ہوں مگر زیست کی لذت نہیں باقی
ہر چند کہ ہوں ہوش میں ہشیار نہیں ہوں
اس خانۂ ہستی سے گزر جاؤں گا بے لوث
سایہ ہوں فقط نقش بہ دیوار نہیں ہوں
افسردہ ہوں عبرت سے دوا کی نہیں حاجت
غم کا مجھے یہ ضعف ہے بیمار نہیں ہوں
وہ گل ہوں خزاں نے جسے برباد کیا ہے
الجھوں کسی دامن سے میں وہ خار نہیں ہوں
یا رب مجھے محفوظ رکھ اس بت کے ستم سے
میں اس کی عنایت کا طلب گار نہیں ہوں
گو دعوی تقوی نہیں درگاہ خدا میں
بت جس سے ہوں خوش ایسا گنہ گار نہیں ہوں
افسردگی و ضعف کی کچھ حد نہیں اکبرؔ
کافر کے مقابل میں بھی دیں دار نہیں ہوں
٭٭٭
حفیظ جالندھری

کوئی چارہ نہیں دعا کے سوا
کوئی سنتا نہیں خدا کے سوا
مجھ سے کیا ہو سکا وفا کے سوا
مجھ کو ملتا بھی کیا سزا کے سوا
برسر ساحل مراد یہاں
کوئی ابھرا ہے ناخدا کے سوا
کوئی بھی تو دکھاؤ منزل پر
جس کو دیکھا ہو رہ نما کے سوا
دل سبھی کچھ زبان پر لایا
اک فقط عرض مدعا کے سوا
کوئی راضی نہ رہ سکا مجھ سے
میرے اللہ تری رضا کے سوا
بت کدے سے چلے ہو کعبے کو
کیا ملے گا تمہیں خدا کے سوا
دوستوں کے یہ مخلصانہ تیر
کچھ نہیں میری ہی خطا کے سوا
مہر و مہ سے بلند ہو کر بھی
نظر آیا نہ کچھ خلا کے سوا
اے حفیظؔ آہ آہ پر آخر
کیا کہیں دوست واہ وا کے سوا
٭٭٭
انجم بارہ بنکوی

دل کا گلاب میں نے جسے چوم کر دیا
اس نے مجھے بہار سے محروم کر دیا
اب پھول کیا کھلیں کہ جہاں پتیاں نہیں
موسم نے شاخ شاخ کو مسموم کر دیا
گھر بار چھوڑ کر وہ فقیروں سے جا ملے
چاہت نے بادشاہوں کو محکوم کر دیا
ان آنسوؤں سے دل کی تپش اور بڑھ گئی
بارش نے اور بھی مجھے مغموم کر دیا
یہ آرزو ہے اس پہ کوئی نعت لکھ سکوں
جس نے گناہ گار کو معصوم کر دیا
انجمؔ جناب میرؔ کا یہ فیض خاص ہے
ہم نے بھی اپنے درد کو منظوم کر دیا
٭٭٭
فراق گورکھپوری

طور تھا کعبہ تھا دل تھا جلوہ زار یار تھا
عشق سب کچھ تھا مگر پھر عالم اسرار تھا
نشۂ صد جام کیف انتظار یار تھا
ہجر میں ٹھہرا ہوا دل ساغر سرشار تھا
الوداع اے بزم انجم ہجر کی شب الفراق
تا بہ دور‌ زندگانی انتظار یار تھا
ایک ادا سے بے نیاز قرب و دوری کر دیا
ماورائے وصل و ہجراں حسن کا اقرار تھا
جوہر آئینۂ عالم بنے آنسو مرے
یوں تو سچ یہ ہے کہ رونا عشق میں بے کار تھا
شوخئ رفتار وجہ ہستئ برباد تھی
زندگی کیا تھی غبار رہ گزار یار تھا
الفت دیرینہ کا جب ذکر اشاروں میں کیا
مسکرا کر مجھ سے پوچھا تم کو کس سے پیار تھا
دل دکھے روئے ہیں شاید اس جگہ اے کوئے دوست
خاک کا اتنا چمک جانا ذرا دشوار تھا
ذرہ ذرہ آئنہ تھا خود نمائی کا فراقؔ
سر بسر صحرائے عالم جلوہ زار یار تھا
٭٭٭
ڈاکٹر سید قاسم جلال
ہے اس دنیا کی فطرت ہی نرالی
دعائوں کا یہاں بدلہ ہے گالی
ہوں ساری نعمتیں بھی خواہ حاصل
مقاصد پست ہوتے جا رہے ہیں
منزل آشنا ہے فکرِ عالی
ہے فنِ شاعری کی اصل بنیاد
حقیقت آشنا رنگیں خیالی
ہے پس منظر کا مظہر پیش منظر
زباں خاموش ہے، آنکھیں سوالی
وہاں کھل کر کریں اظہار کیسے
جہاں حق بات سمجھی جائے گالی
نہ پوچھو حال موجودہ ادب کا
ہے فرسودہ خیالوں کی جگالی
جلال اس بزم میں بہرے ہیں سب لوگ
کرے گی کیا یہاں شریں مقالی
٭٭٭

مجھ کو خواہش ہی ڈھونڈنے کی نہ تھی
مجھ میں کھویا رہا خدا میرا
جون ایلیا
٭٭٭
گناہ گن کے میں کیوں اپنے دل کو چھوٹا کروں
سنا ہے تیرے کرم کا کوئی حساب نہیں
یگانہ چنگیزی
٭٭٭
جو چاہئے سو مانگیے اللہ سے امیرؔ
اس در پہ آبرو نہیں جاتی سوال سے
امیر مینائی
٭٭٭
الطاف حسین حالی
ہیں جہل میں سب عالم و جاہل ہمسر
آتا نہیں فرق اس کے سوا ان میں نظر
عالم کو ہے علم اپنی نادانی کا
جاہل کو نہیں جہل کی کچھ اپنے خبر
٭٭٭

نہ جانے باہر بھی کتنے آسیب منتظر ہوں
ابھی میں اندر کے آدمی سے ڈرا ہوا ہوں
آنس معین
٭٭٭
گاہے گاہے کی ملاقات ہی اچھی ہے امیرؔ
قدر کھو دیتا ہے ہر روز کا آنا جانا
امیر مینائی
٭٭٭
کیسے کہہ دوں کہ ملاقات نہیں ہوتی ہے
روز ملتے ہیں مگر بات نہیں ہوتی ہے
شکیل بدایونی
nn
بھیڑ تنہائیوں کا میلا ہے
آدمی آدمی اکیلا ہے
صبا اکبرآبادی
٭٭٭
جانے والے سے ملاقات نہ ہونے پائی
دل کی دل میں ہی رہی بات نہ ہونے پائی
شکیل بدایونی
٭٭٭
مل رہی ہو بڑے تپاک کے ساتھ
مجھ کو یکسر بھلا چکی ہو کیا
جون ایلیا
٭٭٭
فرازؔ ترک تعلق تو خیر کیا ہوگا
یہی بہت ہے کہ کم کم ملا کرو اس سے
احمد فراز
٭٭٭
نقشہ اٹھا کے کوئی نیا شہر ڈھونڈیئے
اس شہر میں تو سب سے ملاقات ہو گئی
ندا فاضلی
٭٭٭
آج تو مل کے بھی جیسے نہ ملے ہوں تجھ سے
چونک اٹھتے تھے کبھی تیری ملاقات سے ہم
جاں نثاراختر
٭٭٭

٭٭٭
اللہ اگر توفیق نہ دے انسان کے بس کا کام نہیں
فیضان محبت عام سہی عرفان محبت عام نہیں
محمد خالد
٭٭٭

جگر مراد آبادی
اللہ اگر توفیق نہ دے انسان کے بس کا کام نہیں
فیضان محبت عام سہی عرفان محبت عام نہیں
یہ تو نے کہا کیا اے ناداں فیاضی قدرت عام نہیں
تو فکر و نظر تو پیدا کر کیا چیز ہے جو انعام نہیں
یارب یہ مقام عشق ہے کیا گو دیدہ و دل ناکام نہیں
تسکین ہے اور تسکین نہیں آرام ہے اور آرام نہیں
کیوں مست شراب عیش و طرب تکلیف توجہ فرمائیں
آواز شکست دل ہی تو ہے آواز شکست جام نہیں
آنا ہے جو بزم جاناں میں پندار خودی کو توڑ کے آ
اے ہوش و خرد کے دیوانے یاں ہوش و خرد کا کام نہیں
زاہد نے کچھ اس انداز سے پی ساقی کی نگاہیں پڑنے لگیں
مے کش یہی اب تک سمجھے تھے شائستہ دور جام نہیں
عشق اور گوارا خود کر لے بے شرط شکست فاش اپنی
دل کی بھی کچھ ان کے سازش ہے تنہا یہ نظر کا کام نہیں
سب جس کو اسیری کہتے ہیں وہ تو ہے امیری ہی لیکن
وہ کون سی آزادی ہے یہاں جو آپ خود اپنا دام نہیں
٭٭٭

حصہ