یہ اجتماعی و باکسی اور ڈھنگ کا استغفار چاہتی ہے

91

وقت تو گزر نے کے لیے ہے۔ کبھی کسی کے لئے نہیں ٹھہرا ایک برس پیچھے مڑ کر دیکھا کہ پچھلے برس کورونا میں جب رمضان آیا تو کیا محسوسات تھے؟
اس وقت جب حرم شریف کے دروازے مسلمانوں پر بند ہوگئے ،مسجدوں کے دروازے معتکفین اور تراویح پڑھنے والوں کے لیے بند ہو گئے۔ سفید پوش لوگ سڑکوں پر آگئے۔ جب پچھلے برس مڑ کر دیکھا تو سوچا کہ کیا سیکھا ہم نے اس ماضی سے مستقبل کے لیے۔ماضی بھی ایک آئینہ ہے۔
پچھلے رمضان کی کچھ یادیں آپ کے لیے۔۔
بلغنا رمضان۔۔۔مولا۔۔بلغنا رمضان
ماہ رجب کے چاند پر ہمیشہ رسمی طور پر ہی پڑھا کہ اے اللہ ہمارے لیے رجب وشعبان میں برکت عطا فرما اور ہمیں رمضان نصیب فرما-اس یقین کےساتھ کہ رجب کے بعد شوال آنا ہی ہے اور شعبان سے جڑا رمضان۔ ہم رہے نہ رہے ان مہینوں نے یوں ہی ترتیب سے آنا ہے۔
یقین کریں زندگی میں پہلی بار “بلغنا رمضان”کہتے ہوئے رونگٹے کھڑے ہورہے ہیں ۔ رجب خوف میں گزرا ہے ۔شعبان خوف و ہراس میں اور “بلغنا رمضان” رمضان میں پہنچنا نصیب بھی ہوتا ہے کہ نہیں! کس حال میں رمضان میں پہنچیں گے یہ بھی نہیں معلوم ؟
ایسا تو زندگی میں کبھی نہیں ہوا تھا شاید تاریخ میں نہیں
اگر رمضان تک پہنچنا نصیب میں ہے تو مولا یہ کیسا پہنچنا ہے کہ روئے زمین کے باسیوں کا سانس رک رک کر آرہا ہے۔
گھر میں رہتے ہوئے اجنبی ہیں ۔نہ ساتھ کھانا کھا سکتے ہیں نہ ایک کمرے میں ہنس بول سکتے ہیں۔ ٹی وی کھولتے ہوئے خوف آتا ہے کسی کو فون کرو تو دل بجھ جاتا ہے۔ کسی کے پاس کوئی اچھی بات نہیں کرنے کو ۔سب سہمے ہوئے ہیں جیسے فضا میں آکسیجن کی کمی ہوگئی ہو ہم سب وینٹیلیٹر پر ہو ں۔
مولا ہم تیرے عاجز ولاچار بندے اچھے وقت کی آس لئے بیٹھے ہیں۔متفکر و دعا گو ہیں۔مولا ہمیں اس طرح خوف سے نجات دے دے جیسے تو نے اہل قریش کو دی تھی۔
بلغنا رمضان۔۔ رمضان میں داخل ہونا کتنی بڑی سعادت تھی۔ صحت کے ساتھ، دولت ایمان کے ساتھ، بلا خوف وخطر شعبان میں رمضان کی تیاری، عید کی تیاریاں ۔ خانہ کعبہ کا غسل،رمضان کی ہوائیں،اللہ کا گھر معتکفین کے لیے تیار کیا جارہا ہے۔ ماہ شعبان تو ٹھہرا رمضان کی تیاری کا مہینہ ۔کہیں گلی محلوں کی مسجدوں میں نئی صفیں بچھ رہی ہیں ,کہیں رنگ و روغن ہو رہا ہے ,تراویح کے انتظام ہورہے ہیں۔حفاظ نے تیاری شروع کردی اللہ کے گھر مسجدوں کی رونقیں جوبن پر۔
جس رمضان کی آس رجب سے لگاتے تھے مولا وہ رمضان پھر آئے گا۔۔پھر جنت سجائی جائے گی،پھر شیطان قید کیا جائے گا۔مولا پھر رحمتوں کی بدلیاں جھوم کر برسیں گی،پھر مغفرت کے سندیسے عام ہوں گے،پھر معتکفین ڈیرے ڈال دیں گے تیرے در پہ کہ اب خالی نہیں پلٹنا۔مولا پھر گردنیں جہنم سے آزادی کی نوید پائیں گی۔
شب قدر بھی آئے گی ناں مولا!ہزار راتوں سے بہتر رات۔ اس میں جبرئیل امین اترا کرتے ہیں فرشتوں کے جھنڈ لے کر۔۔سلامتی ہوتی ہے وہ رات طلوع فجر تک۔۔۔۔اور۔۔۔اورلیلۃ الجائزہ۔۔۔۔ آسمان دنیا پر ہلچل کی رات،جب زمین کے باسیوں کے لیے گفٹ پیک تیار ہورہے ہوتے ہیں۔ فرشتہ زمین پر اترنے کی تیاری کرتے ہیں مبارک بادیں لیے کہ۔۔۔ تم مقبول ٹھہرے۔۔ آج مرادوں کا دن ہے-آج اجرت کا دن ہے۔
ہمیں بتایا گیا تھا کہ وہ فرشتے ہر چوک چوراھے پر کھڑے مومنوں سے مصافحہ کرتے ہیں۔ ان کو سوائے انسان کے سب مخلوق دیکھتی ہے۔ وہ مزدوروں کی مزدوری لے کر اترتے ہیں۔ روزے داروں کے لیے مقبولیت کی خوش خبریاں۔
مولا…. رب کریم… بلغنا رمضان… بلغنا رمضان، ہمیں بھی رمضان میں داخل ہونا ہے۔ اس کورونا نے ہمیں زندگی کی حقیقت سمجھا دی مولا۔ موت سے پہلے مرنا کسے کہتے ہیں ہم نے جانا۔ مولا رحمتوں کے در کھولیے۔ رمضان کے دروازے بند نہ کیجیے گا۔ اپنے گھر کے در وا کر دیجیے۔ جبینیں سجدوں کے لیے تڑپ رہی ہیں آقا مسجدوں کے دروازے کھول دیجیے- ہم نے ایسے پہلے کبھی نہ مانگا تھا بلغنا رمضان۔۔ جیسے اب ہاتھ پھیلائے ہوئے ہیں۔
کرونا کے بعد ……
ہمارے لیے یہ تصور ہی کتنا جاں فزا ہے کہ خدا نے کورونا کی صورت میں عالمگیر فرعونوں اور نمرودوں کو ان کا چہرہ دکھا دیا ہے۔ ہم مسلمان سوچ رہے ہیں کہ مستقبل کی دنیا اب امریکا اور یورپ کی نہیں ہے۔ مغرب کا بھرم کھل گیا ہے۔ ان کے پاس ایک چھوٹے سے وائرس پر قابو پانے کی صلاحیت تو کجا وہ تو اپنے لوگوں کو ماسک، سیناٹائزر اور ٹیسٹ کٹس بھی مہیا نہ کر سکے۔ مغرب میں خدا اور مذہب ایک نئی قوت بن کر ابھر رہا ہے۔ کورونا کی تباہی نے بصارت کے اندھوں کو گویا بصیرت عطا کر دی ہے ۔لاکھوں مسلمانوں کو طویل عرصے سے محصور رکھ کر ظلم و ستم ڈھانے والے چین کے صدر شی جن پنگ مسلمانوں سے ملنے پہنچ گئے، مسجد کا دورہ کیا،مسلمانوں میں نہ صرف قرآن کے نسخے تقسیم کیے بلکہ ان سے کہا کہ وہ اپنے خدا سے اس بلا کے ٹلنے کی دعا کریں۔
ہم وڈیو کلپس میں دیکھ رہے ہیں کہ اٹلی میں اذان کی آوازیں سنی جا رہی ہیں۔امریکی صدر مسلمانوں سے دعا کی اپیل کر رہے ہیں۔ہم خوش ہیں کہ ایک ننھے وائرس نے جدید مغربی تہذیب کے سارے سائنسی، تہذیبی، عالمی، معاشی تکبر کو خاک میں ملا دیا ہے۔
یوں تو فرعون بھی مشکل حالات میں حضرت موسیٰ سے کہتا تھا کہ اپنے خدا سے دعا کرو مگر جب مصیبت ٹل جاتی تھی تو تاریخ گواہ ہے کہ قومیں مزید سرکش ہو جاتی ہے آفات کے گزرنے پر۔
جان رکھئے! کفار کی اکثریت اس وقت ایمان لائی جب مکہ فتح ہوگیا۔
ہم مسلمان دنیا کے اسٹیج پر خدا اور اسلام کی واپسی کے منتظر یہ بھول گئے کہ فتح مکہ سے قبل “غزوات”کی ایک شان دار تاریخ ہے. ماقبل شعیب ابی طالب اور طائف کی وادیاں بھی تاریخ کا حصہ ہیں۔ فرض کریں کورونا وائرس نے خدا سے باغی دنیا کو خدا یاد دلا بھی دیا تو کیا ہم اس کے منتظر ہیں کہ آسمان سے فرشتوں کے لشکر اتر کر مسلمانوں کو نشاۃ ثانیہ کے تاج پہنائیں؟
مستقبل اسلام کا ہو ۔ہم آفاق سے سحر اسلام کے طلوع ہونے کا لطف لیں اور اپنے بخت پر ناز کریں!!!
اس وقت مسلمانوں کی ذمہ داریاں دوچند ہوگئی ہیں۔غیر مسلم مذہب اسلام کو قرآن میں نہیں مسلمانوں کے کردار میں تلاش کرتے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم دنیا کو دکھائیں کہ اسلام آج بھی ایک زندہ مذھب ہے جو مسلمانوں کے کردار میں زندہ ہے۔ ہمارے کردار کی کھوٹ جو مغرب اور اسلام کے درمیان دوری کی ایک بڑی وجہ ہے۔ اب وقت ہے اس کو دور کرنے کا۔ جان رکھیے کہ علوم وفنون جن کی دسترس میں ہوتے ہیں دنیا ان کے پیچھے چلتی ہے۔ ہمارے اسلاف کی تاریخ کی زندہ گواہی ہے کہ جب علم ان کا تھا تو دنیا ان کے سامنے سرنگوں تھی۔سائنس کے بھی وہ امام تھے اور سماجی علوم کے بھی۔
روایات میں ہے کہ امام مالکؒ کا جہاں مدرسہ تھا وہاں قریب میں کنواں تھا جب وہ خشک ہوگیا اور وجہ معلوم کی گئی تو پتا چلا کہ وہ پانی امام مالک کے شاگردوں نے اپنی دواتوں میں استعمال کر لیا تھا۔ایک وقت میں ان کے درس میں پچیس،تیس ہزار دواتیں استعمال ہوتی تھیں جبکہ ایک ایک دوات کو کئی طالبعلم استعمال کرتے تھے۔وہ وقت تھا جب مسلمان معاش کے لیے بندے نہیں تھے۔
اللہ کے نبیﷺ , آپ کے صحابہؓ اور تابعینؒ و تبع تابعینؒ نے اپنی زندگی کا مقصد علم کا حصول اور اس کی ترویج بنا رکھا تھا۔دنیا کے کونے کونے کا سفر کرتے تھے علم کے متلاشی۔ آج دنیا میں اگر کورونا نے اسلام کے لئے راہ ہموار کی ہے تو گویا رب کریم نے مسلمانوں کو موقع دیا ہے کہ ہم دنیا کو بتائیں کہ اسلام کیا ہے؟ اب وقت ہے کہ ہم سطحی باتوں اور لاحاصل بحثوں سے اوپر اٹھ کر سنجیدہ اور شائستہ علمی مزاج اپنائیں۔ دور جدید کے گمبھیر مسائل کا اسلام کے پاس کیا حل ہے؟ہم اسلامی فقہ کی سوجھ بوجھ پیدا کریں۔ اپنے تفقہ فی الدین کا وارث علماء کو نہ بنائیں ۔دین کا سنجیدہ علم ہر دنیاوی علم کے ساتھ ہماری اپنی ذمہ داری ہے۔ہمارے اسلاف نے صدیوں میں جو فقہ مرتب کیا ہے اس میں قیامت تک کے مسائل کا حل موجود ہے۔ لائبریریاں ان کتابوں سے بھری ہوئی ہیں۔ اجتہاد کے دروازے کھلے ہوئے ہیں۔ ہم کورونا کے بعد مہدی موعود یا ابابیلوں کے لشکر کا انتظار نہ کریں۔
کیا ہم اپنی نسلوں کو فقیہ، مجتہد، مفتی اور عالم دین بنانے کے لئے تیار ہیں؟؟ وہ عالم دین جو اعلی ترین عصری علوم کے بھی ماہر ہوں۔ مغرب کی خدا بیزار تہذیب کا تو رونا چھوڑیں ہم مسلمانوں نے بھی اپنی نسلوں کو منڈی کا کامیاب انسان بنانے کو ہی کامیابی سمجھا اور :خدا”ہماری زندگیوں میں “تصور” کی حد تک باقی رہ گیا۔ معیشت ,معاشرت اور سیاست تو کیا ہماری امنگوں، آرزوؤں اور خوابوں میں بھی “اغیار” کے رنگ ہی جھلکتے ہیں۔
کورونا کے بعد کی دنیا” کے لیے ہم کیا سوچ رہے ہیں ؟ مشرق سے ابھرتا ہوا سورج سوال کر رہاہے۔ نیا زمانہ کہ عہد انکار سے گزر کر حیات اثبات بن رہا ہے، خدائے گم کردہ پھر سے آفاق کی حدوں پر ابھر رہا ہے۔
آج جمعہ کا دن ہے۔ہماری گلی کے کونے پر جامع مسجد ہے۔ٹھیک سوا ایک بجے میرے شوہر جمعہ کی تیاری کرکے،خوشبو لگا کر دروازے کے باہر کھڑے ہوکر مسجد کو دیکھتے رہتے ہیں اور واپس آ جاتے ہیں۔ پھر آدھا گھنٹہ بعد جاکر گلی میں کھڑے ہوکر مسجد دیکھتے رہتے ہیں۔
آج چوتھا جمعہ ہے مسجد سے دوری کو۔ جمعہ کا دن تو مسلمانوں کے گھروں میں ہوتا ہی نماز جمعہ کی تیاری کا دن ہے۔نماز ظہر کی لیکن تیاری صبح سے شروع ہوجاتی ہے۔اصل میں مسلمانوں کا مسجد سے ویسا تعلق نہیں ہے جو دیگر مذاہب کے لوگوں کا اپنی عبادت گاہوں سے ہوتا ہے،عبادت گاہیں سب کی مقدس ہیں۔ مگر یہاں نہ ھفتہ میں ایک دن حاضری ہے،نہ جرمانہ ہے غیر حاضری پر۔ نہ ہم اپنی عبادت گاہوں کو”کچھ بڑوں”کے حوالے کرکے مطمئن کہ وہ ہمارے لیے استغفار کرتے رہیں۔ہمارے گناہوں کا بوجھ اتارتے رہیں۔اس لیے کہ۔۔خدا کو پیغام بھیج دیا ہے ۔
کار جہاں دراز ہے میرا انتظار کرمسلمانوں کا تو پورا دن نمازوں کے ساتھ جڑا رہتا ہے۔پانچ بار بستیاں حی علی الفلاح کی آواز سے گونجتی ہیں۔ ہمارے روزوشب نماز سے جڑے ہوتے ہیں کہ۔۔۔قبل از ظہر یہ کرنا ہے اور بعد عصر یہ کرنا ہے۔ عشاء سے پہلے یہ ہوجانا چاہیے فجر کے بعد یہ امور انجام دینے ہیں۔ ایسے وقت نہیں سونا کہ نماز قضا ہو جائے۔فجر کا الارم لازمی لگایا جاتا ہے۔
ہماری بھابھی کے بھائی کا ہارٹ فیل ہو گیا اچانک۔بیوہ کی حالت دیکھی نہ جاتی تھی۔اگلی صبح جب نماز فجر سے آدھ گھنٹہ قبل انکے موبائل پر الارم بجنا شروع ہوا تو بیوہ فون اٹھا کر سسک اٹھیں کہ نمازی تو گیا۔الارم کو کیا پتا کروڑوں لوگ دن بھر اذانوں کا انتظار کرتے ہیں۔اپنے روٹین نمازوں کے ساتھ ترتیب دیتے ہیں۔لاکھوں قدم سارا دن مسجدوں کی سمت اٹھتے ہیں۔لوگ گھر لیتے وقت دیکھتے ہیں کہ مسجد کتنی دور ہے؟؟ ہم لاشعوری طور پر ساری عمر نمازوں کے اوقات کا طواف کرتے رہتے ہیں۔ہمارے مرد مساجد کے طواف میں عمر بتا دیتے ہیں۔ مغربی اور یورپی دنیا کے باسیوں کے لیے تو مسجد دوسرا گھر ہے۔ان کی خوشیاں ,غم حتیٰ کہ باہمی روابط تک مسجد کے گرد ہی گھومتے ہیں۔
سچ ہے کہ مسلمان مردوں کے دل مسجد میں اٹکے رہتے ہیں۔جو مسجدوں میں نماز کو نہیں جاتے وہ بھی چندہ ضرور دیتے ہیں۔مسجد کے سامنے سے احترام گزرتے ہیں۔غریب محلوں میں بھی ماہ رمضان میں مسجدوں میں افطاری بھیجی جاتی ہے۔موذن،پیش امام خاکروب سب کا خیال اہل محلہ خود رکھتے ہیں۔
ریاست شہریوں سے کہتی ہے کیسینو نہ جاؤ،پارک نہ جاؤ ۔دفتر نہ جاؤ،جم نہ جاؤ،”مسجد نہ جاؤ تھیٹر جانا،کلب جانا،دفتر جانا،مسجد جانا،سب یکساں فعل نہیں ہیں اپنی روح کے اعتبار سے؟ کورونا مسجد سے پھیل سکتا تھا تو اتنا ہی خطرہ کرنسی نوٹوں اور اے ٹی ایم سے بھی تھا مگر ڈبلیو ایچ او یہ خطرہ بیان کرکے رہ گئی پابندی تو نہ لگ سکی۔
علمائے کرام ریاست کی رٹ قائم رکھے ہوئے ہیں اور اجتماعی فتووں میں ریاست کے احکام کی تابعداری کر رہے ہیں کیونکہ ریاست کا کام شہریوں کے جان ومال کا تحفظ ہے۔مسلمان تو جیتا ہی ایمان کی بقا کے لیے ہے۔ مسلمان نہ کورونا کو موت سمجھتا ہے،نہ موت سے نفرت کرتا ہے۔ احتیاطی تدابیر عین حکمت دین ہیں۔ مسجد تو مسلمانوں کا مسکن رہی ہے اسلامی تاریخ میں۔ وہاں صفہ کا چبوترا تھا۔ وہی مسافر خانہ۔ وہی پارلیمنٹ ہوتی تھی۔
ابھی ذرا دیر قبل اندرون سندھ کنڈیارو میں ایک ساتھی سے بات ہو رہی تھی میں نے کہا آج جمعہ ہے کیا لوگ ریاستی حکم کی پابندی کرتے ہیں؟ کہا یہاں گاؤں دیہات میں جتنے لوگ جمعہ کی نماز میں آتے تھے اب ہر نماز میں اتنے لوگ آتے ہیں کیونکہ مسلمان تو پریشانی پر مسجدوں کا رخ کرتے ہیں۔یہاں بھی لوگوں کو پتا ہے کہ بیماری اور موت دینے والا اللہ ہے۔اس وقت شعوری آگہی اور ریاست کی رٹ کو قائم رکھنا وقت کی ضرورت ہے۔یہ آزمائش ایمان کے جلا کا سبب بنے گی ان شاءاللہ ۔

 

حصہ