قرآن انسٹی ٹیوٹ کے تحت آگہی مہم برائے استحکام خاندان

161

خواتین کی دینی و علمی تعلیم و تربیت نے جس طرح اوّلین دور میں بہترین معاشرے کی تشکیل اور تعمیر و ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا، موجودہ دور میں بھی اس کی اہمیت و ضرورت مسلمہ ہے۔ دنیاوی و دینی تعلیم سے آراستہ ہوکر ہی اپنے گھر، معاشرے اور آئندہ آنے والی نسلوں کو سنوارا جاسکتا ہے۔
دورِ حاضر میں خواتین کو وہ شعور و آگہی حاصل نہیں جو دورِ جدید کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے انہیں دینی اقدار و روایات کا پاسدار بناکر وہ صحیح عملی رہنمائی فراہم کرے جو امتِ مسلمہ کے روشن مستقبل کی نوید ثابت ہو۔ اس کمی کو دور کرنے کے لیے جماعت اسلامی پاکستان نے ملک بھر میں قرآن انسٹی ٹیوٹس کی بنیاد رکھی۔ یہ ادارے خواتین کو قرآن، حدیث، تجوید اور فقہی علوم سے آراستہ کررہے ہیں۔ قرآن انسٹی ٹیوٹ کا مشن ہے: ”امتِ مسلمہ کی خواتین کو قرآن و سنت کی باضابطہ تعلیم دے کر ایسی باعمل مومنات کی تیاری، جن کے گھر اسلام اور نشاۃِ ثانیہ کے لیے تربیت گاہ ہوں، اور جو اللہ کے نظام کو قائم کرنے میں عملی طور پر شریک ہوں“۔
اسی مشن کی تکمیل کے لیے قرآن انسٹی ٹیوٹ پاکستان بھر کے 22 شہروں میں 83 مقامات پر قرآن و سنت کی روشنی پھیلانے میں مصروفِ عمل ہے۔
اغراض و مقاصد:
٭خواتین کو قرآن و سنت کی بنیادی تعلیمات سے روشناس کرانے اور دینی علوم کی ترویج کے لیے مختلف کورسز کا اجراء۔
٭قرآن و سنت کی روشنی میں مقصدِ حیات کا تعین، عورت کو اُس کے مقام و مرتبے کی آگاہی، اور اسلامی اوصاف سے مزین زندگی کا شعور دینا۔
٭نئے دور کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مثبت فکری رہنمائی دینا۔
٭خواتین کو تصورِ اقامتِ دین کا شعور دیتے ہوئے عملی جدوجہد پر آمادہ کرنا۔
قرآن انسٹی ٹیوٹ کی ایک اہم سرگرمی رمضان المبارک میں دورئہ تفسیر القرآن کا انعقاد ہے۔ اس ماہِ مبارک میں قرآن انسٹی ٹیوٹ میں تمام تعلیمی سرگرمیاں معطل کرکے صرف دورئہ تفسیر القرآن کروایا جاتا ہے، جس سے معلمات و طالبات کے ساتھ ساتھ عام خواتین بھی بڑی تعداد میں استفادہ کرتی ہیں۔
قرآن انسٹی ٹیوٹ کی طالبات اور عوام الناس کو مختلف مواقع اور مختلف موضوعات پر قرآن و سنت کی رہنمائی دینے کے لیے توسیعی لیکچرز کا انعقاد انسٹی ٹیوٹ کی روایت رہی ہے۔ ان لیکچرز کے لیے معروف خواتین مقررین کے علاوہ مرد مقررین، علماء اور معروف اسکالرز کو بھی مدعو کیا جاتا ہے۔
قرآن انسٹی ٹیوٹ بطور کمیونٹی سینٹر
الحمدللہ 2015ء میں قرآن انسٹی ٹیوٹ کو کمیونٹی سینٹر کے طور پر متعارف کرانے کے منصوبے پر کام کی ابتدا کی گئی۔ اس مقصد کے لیے روزمرہ زندگی کے مختلف مسائل سے متعلق شعور و آگہی پیدا کرنے کے لیے صحتِ عامہ، ٹائم مینجمنٹ اور پری میرج گائیڈنس کے لیے صحتِ عامہ کے موضوعات پر ورک شاپس کروائی گئیں۔ خواتین کو زندگی کے مسائل میں رہنمائی اور مشورے دینے کے لیے کاؤنسلنگ ڈیسک قائم کی گئیں جہاں دینی علم رکھنے والی خواتین بے حد ذمہ دارانہ رہنمائی و مشورے فراہم کرتی ہیں۔ فقہی مسائل کے لیے مستند علماء اور مفتی حضرات سے بھی مدد لی جاتی ہے۔ حسبِ ضرورت خواتین وکلا کے ذریعے قانونی مشورے بھی فراہم کیے جاتے ہیں۔ مالی و معاشی معاونت کی خدمات بھی کئی انسٹی ٹیوٹ میں جاری ہیں۔
جماعت اسلامی واحد تنظیم ہے جو منظم انداز میں کام کرتی ہے۔ ملک پر جب بھی کوئی نازک وقت آیا جماعت اسلامی نے اس مملکتِ خداداد پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔ حب الوطنی سے سرشار جماعت اسلامی کی اس مہم کا واحد مقصد لوگوں کو اللہ سے جوڑنا اور معاشرے کو بے راہ روی سے بچانا ہے۔ اسی مقصد کے لیے اسلامی شعائر سے مزین پاکستانی عورت اور مرد کو تیار کرنا اس جماعت کا مقصد ہے۔ 10فروری تا 10 مارچ ”مستحکم خاندان… مضبوط عورت“ کے عنوان سے جماعت اسلامی نے کامیاب مہم کا انعقاد کیا۔ پورے ملک میں استحکام خاندان کے حوالے سے مختلف سیمینار، ورکشاپ، ویبینار، مذاکرے اور دروس منعقد ہوئے۔ قرآن انسٹی ٹیوٹ پاکستان نے اس مہم میں مکمل طور سے جماعت اسلامی کا ساتھ دیا۔ ملک کے مختلف حصوں میں قائم انسٹی ٹیوٹس میں آن لائن لیکچرز، دروس اور پروگرامات منعقد ہوئے۔
ڈائریکٹر قرآن انسٹی ٹیوٹ کراچی اقبال انساء کا ”استحکام خاندان“ پر آن لائن لیکچر ہوا، جس میں انہوں نے کہا کہ انسان زمین پر اللہ کا نائب اور خلیفہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں میں سب سے پہلا رشتہ ہی میاں بیوی کا بنایا ہے۔ اگر آج کی ماں اپنے بچوں کی تربیت زمین پر اللہ کے نائب و خلیفہ کی ذمہ داری کو محسوس کرتے ہوئے کرے تو یہ معاشرہ پھر سے اسلام کی بہاروں سے فیض یاب ہوسکتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ انسان معاشرتی حیوان ہے جو فطری طور پر مل جل کر رہنے میں اطمینان محسوس کرتا ہے۔ نکاح کا پہلا نکتہ ہی اللہ کا تقویٰ اختیار کرنا اور اسی کے تناظر میں سچی اور صاف بات کرنا ہے۔ بہترین اسلامی معاشرے کی اساس بہترین اسلامی خاندان ہے۔ اسی لیے شیطان کو سب سے زیادہ خوشی میاں بیوی کے تعلقات ختم کرنے سے ملتی ہے۔ ایسی عورت جو شوہر اور بچوں کے مال کی امین ہے، پنج وقتہ نمازی اور رمضان کے روزے رکھتی ہے اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت میں اپنی مرضی کے دروازے سے داخل ہونے کی خوش خبری دی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مادیت پرستی کے اس دور میں بچوں کی تربیت کے لیے ضروری ہے کہ والدین انہیں حقیقی فلاح و کامیابی سے روشناس کروائیں۔ رشتوں میں باہم محبت و مؤدت پیدا کرنے کے لیے بیٹیوں کو بھائیوں کا احترام اور بیٹوں کو بہنوں سے شفقت و رحمت سے رہنے کا گُر سکھائیں۔ ماوں کو اپنے بیٹوں کی تربیت ایسی کرنی چاہیے کہ وہ خاندان و معاشرے میں قوّام کا منصب بخوبی نبھا سکیں، اور اس کے لیے ماوں کو اپنے بچوں کی شادی میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ دجالی دور کے فتنوں سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے خاندان کے حصار کو اسلامی شعائر سے مضبوط کریں تاکہ دورِ حاضر کی فتنہ پردازیوں سے ہماری نسل محفوظ رہ سکے، اور اسلام کی درست خدمت سرانجام دے سکے۔
قرآن انسٹی ٹیوٹ گل خیرن کیمپس 5 میں استحکامِ خاندان کے حوالے سے چار روزہ پروگرام کے پہلے لیکچر کا انعقاد کیا گیا جس کا عنوان ”النکاح من سنتی“ تھا۔ پروگرام کا آغاز صبح دس بجے تلاوتِ قرآن سے ہوا۔ تلاوت کی سعادت شعبہ حفظ کی طالبہ یسریٰ نے حاصل کی- تجوید و تفہیم کی طالبہ عابدہ خاتون نے ایک نظم پیش کی- لیکچر ”النکاح من سنتی“ پر گفتگو کرتے ہوئے معلمہ صائمہ عرفان صاحبہ نے کہا کہ نکاح نبی کریم ﷺ کی وہ اہم سنت ہے جس سے آدھا دین مکمل ہوتا ہے۔ انہوں نے بابرکت نکاح کے اسباب پر بھی روشنی ڈالی اور سورہ نساء کے حوالے سے تخلیقِ انسانی کے اصل مقصد کو بھی بیان کیا کہ نکاح کے ذریعے معاشرے میں خاندان کی تشکیل کس طرح سے ہوتی ہے۔ آخر میں طالبات کے سوالوں کے جوابات بھی دیے۔ پروگرام کے آخر میں پرنسپل رضوانہ نعیم صاحبہ نے موجودہ دور میں نکاح کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قرآن و سنت پڑھنے والی طالبات کو اس چیز کا صحیح شعور ہونا چاہیے تاکہ معاشرے میں برائی اور بڑھتی ہوئی فحاشی کا سدباب ہو۔ دعا سے پروگرام کا اختتام ہوا۔ پروگرام میں شرکا کی تعداد طالبات و اساتذہ اور علاقائی خواتین سمیت 200 تھی۔
قرآن انسٹی ٹیوٹ برائے خواتین کیمپس 1 کراچی میں اسلام کے عائلی نظام سے آگاہی کے لیے ایک پروگرام منعقد کیا گیا جس کا عنوان تھا ”مستحکم خاندان… محفوظ عورت“۔ پروگرام کا آغاز صائمہ وسیم کی اناؤنسمنٹ سے ہوا۔ تلاوتِ کلام پاک کرنے کی سعادت حاصل کی سالِ اوّل کی طالبہ افشاں حبیب نے۔ آج کے عنوان پر گفتگو کرنے کے لیے ہماری مقررہ تھیں نائب قیمہ جماعت اسلامی پاکستان محترمہ آمنہ عثمان صاحبہ۔ انہوں نے کہا کہ انسان ہونے کے ناتے مرد و عورت دونوں محترم ہیں اور معاشرے کو تشکیل دینے میں دونوں کی ذمہ داری یکساں ہے۔ میاں اور بیوی دونوں اللہ سے ڈرنے والے اور ایک دوسرے کے لیے احسان کا جذبہ رکھنے والے ہوں۔ پروگرام میں نوبیاہتا دلہنوں کو بھی اُن کی والدہ اور ساس کے ساتھ مدعو کیا گیا، اور انھیں ”آگہی، میرا لباس اور اجتماعِ اہلِ خانہ“ پر مبنی مطبوعات اور کلینڈر بطور تحفہ پیش کیے گئے۔ تفہیم و تجوید کی طالبات نے خوبصورت ترانہ ”ہم مائیں، ہم بہنیں، ہم بیٹیاں“ پیش کیا۔ بعد ازاں محترمہ شاہین ضیاء صاحبہ ایڈمنسٹریٹر قرآن انسٹی ٹیوٹ نے دلہنوں کو مفید مشوروں سے نوازتے ہوئے کہا کہ وہ مسکرا کر ملیں اور اپنے شوہروں سے راضی رہیں، اور زوجین ایک دوسرے کے مقابل کھڑے نہ ہوں بلکہ وہ ایک دوسرے کے معاون ہوں۔ محترمہ فرح عمران نائب ناظمہ جماعت اسلامی کراچی کی دعا سے یہ پروگرام اپنے مقررہ وقت پر مکمل ہوا جس میں تقریباً 100 خواتین و طالبات کی حاضری رہی۔
قرآن انسٹی ٹیوٹ گل خیرن کیمپس 5 میں استحکامِ خاندان کے حوالے سے چار روزہ پروگرام کے دوسرے لیکچر کا انعقاد کیا گیا جس کا عنوان ”صحابیاتِ رسولؐ کے آئینے میں عورت کا کردار“ تھا۔ پروگرام کا آغاز صبح ساڑھے دس بجے ہوا۔ تلاوت کی سعادت شعبہ حفظ کی طالبہ سفینہ بیلا نے حاصل کی- معلمہ صدف عنبرین صاحبہ نے سیر حاصل گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج کی عورت سراب کے پیچھے بھاگ رہی ہے، مادیت پرستی میں جکڑی ہوئی ہے۔ صحابیاتِ رسولؐ جس بھی رشتے سے منسلک تھیں چاہے ماں، بہن، یا بیٹی… دین کی آبیاری میں ہر وقت مصروفِ عمل رہتی تھیں۔ ڈاکٹر حمیرا معروف نے مقصدِ حیات کے شعور کی آگاہی دی اور اپنے اپنے فرائضِ منصبی کو ادا کرنے کی طرف توجہ دلائی۔ پروگرام کے آخر میں پرنسپل رضوانہ نعیم صاحبہ نے شرکاء خصوصاً طالبات کو مادیت پرستی کے سیلاب میں بہنے کے بجائے ایک مسلمان عورت کا کردار ادا کرنے پر ابھارا، اور اس کے بعد مقررہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے تیسرے دن کی ورکشاپ کا اعلان کیا۔ ‏دعا سے پروگرام کا اختتام ہوا۔ شرکائے پروگرام کی تعداد طالبات و اساتذہ کے علاوہ علاقے کی خواتین سمیت 200 تھی۔
قرآن انسٹی ٹیوٹ کیمپس ون قاسم آباد حیدرآباد میں ”استحکام خاندان، مضبوط عورت، مستحکم خاندان“ لیکچر سیریز کے پہلے پروگرام کا آغاز تلاوتِ قرآن پاک سے ہوا جس کی سعادت وائس پرنسپل حرا نے حاصل کی، جبکہ نعت رسول ؐ مقبول اقرا نے پڑھی۔ قرآن انسٹی ٹیوٹ ضلع حیدرآباد کی ایڈمنسٹریٹر سیدہ مہر نےقُوْا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا پر لیکچر دیا۔
قرآن انسٹی ٹیوٹ گل خیرن کیمپس 5 میں استحکام خاندان کے حوالے سے چار روزہ پروگرام کے تیسرے لیکچر کا انعقاد کیا گیا جس کا عنوان ”لا یدخل الجنتہ قاطع“ تھا۔ پروگرام کا آغاز صبح ساڑھے دس بجے ہوا۔ سورہ نساء کی صلہ رحمی سے متعلقہ چند آیات کی تلاوت کی سعادت تجوید و تفہیم کی طالبہ حفصہ نعیم نے حاصل کی- معلمہ صائمہ عرفان نے حمد باری تعالیٰ نہایت پُرسوز آواز میں پیش کی۔ معلمہ ردا ندیم نے ورکشاپ کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ آج کے اس پُرفتن معاشرے میں جیسے جیسے دین سے دوری بڑھ رہی ہے اسی تیزی سے رشتوں کا تقدس بھی کم ہوتا جارہا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس بھی رشتے سے منسلک تھے صلہ رحمی کا بہترین طریقہ بذریعہ سنت رہتی دنیا کے لیے پیش کردیا۔ پچھلی امتوں کو بھی اس کا حکم دیا گیا تھا اور آپؐ کی وصیت میں بھی صلہ رحمی کا حکم جا بہ جا ملتا ہے۔ آج ہمارے بہت ہی پیارے رشتے ماں باپ، بہن بھائی، میاں بیوی سب اَنا نے برباد کردیے ہیں- ان سب کو قرآن و سنت کے ذریعے سے سمجھ کر درستی کی ضرورت ہے۔ چھوٹی بچی سے دورانِ پروگرام دل یا نفس پر بوجھ کے حوالے سے ایک ایکٹیوٹی بھی کرائی گئی۔ معلمہ صائمہ عرفان نے دورِ حاضر میں طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح اور اس کے متعلقہ مسائل پر بھی توجہ دلائی، اُن کا کہنا تھا کہ اس کی آیک بڑی وجہ فقہی مسائل سے ناواقفیت ہے۔ پروگرام کے آخر میں شعبہ حفظ کی طالبہ مشال کے مختصر ترین دورانیے میں قرآن کریم حفظ کرنے کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ مشال اور ان کی والدہ نے اس موقع پر اپنے تاثرات کا بھی اظہار کیا۔ آخر میں معلمہ محترمہ فرحت اشرف نے اجتماعی دعا کروائی۔ پروگرام کے آخر میں پرنسپل رضوانہ نعیم صاحبہ نے شرکاء اور مقررہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے چوتھے دن کی ورکشاپ کا اعلان کیا۔ اس پروگرام کے شرکاء کی تعداد طالبات و اساتذہ کے علاوہ علاقے کی خواتین سمیت 180 تھی۔
مارچ 2021ء: قرآن انسٹی ٹیوٹ کیمپس8 گلشن اقبال میں استحکام خاندان کے حوالے سے پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ پروگرام کا آغاز تلاوتِ قرآن پاک سے کیا گیا جس کی سعادت تفہیم و تجوید کی طالبہ فرزین نے حاصل کی۔ نعت ِ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم تفہیم و تجوید کی طالبات عبیدہ،ورثہ اور فاطمہ نے پیش کی۔اس کے بعد معلمہ شیما رضوان نے عورت کے حوالے سے نظم پیش کی۔پرنسپل شائستہ سفیر صاحبہ نے پچھلے لیکچرز کا مختصر خلاصہ پیش کیا۔مہمانِ خصوصی محترمہ اقبال النساء ڈائریکٹر قرآن انسٹی ٹیوٹ سندھ نے موضوع کے حوالے سے سیر حاصل گفتگو کی جس میں سامعین نے بھرپور دلچسپی ظاہر کی۔پرنسپل شائستہ سفیر صاحبہ کی دعا کے ساتھ پروگرام کا اختتام کیا گیا۔کمپیئرنگ کے فرائض معلمہ کشور پراچہ نے ادا کیے۔ مہمانوں کی تواضع کا بھی اہتمام کیا گیا۔
مارچ ہی میں قرآن انسٹی ٹیوٹ کیمپس 1 کے تحت بہادر آباد کے سرسبز و شاداب لان گلستانِ انیس میں ”استحکام خاندان میں عورت کا کردار“ کے عنوان سے ایک خوبصورت تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس کی صدارت کے فرائض ڈائریکٹر قرآن انسٹی ٹیوٹ کراچی محترمہ اقبال النساء نے انجام دئیے۔ اناونسمنٹ کے فرائض قرآن انسٹی ٹیوٹ کیمپس 7 کی پرنسپل محترمہ عائشہ ریاض نے ادا کیے۔ تلاوتِ قرآن پاک اور حمد و نعت سے پروگرام کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ پروگرام کا اہم اور بنیادی نکتہ ”استحکام خاندان میں عورت کا کردار“ کے حوالے سے مختلف مکاتبِ فکر کی خواتین کے خیالات سے آگہی حاصل کرنا تھا۔ اس مقصد کے لیے مذاکرے کے شرکاء میں ڈی آئی جی سندھ خواتین جیل محترمہ شیبا شاہ، جناح یونیورسٹی کی پروفیسر ڈاکٹر ثریا قمر، شیخ زاید کی پروفیسر ڈاکٹر جہاں آراء لطفی، ریسرچ اسکالر ڈاکٹر صفیہ ملک، ناظمہ کراچی اسماء سفیر، مذہبی اسکالر حمیرہ خالد، الہدیٰ انٹرنیشنل، النور اسلامک فاؤنڈیشن، خدام اکیڈمی، دیگر اسلامی اور تعلیمی مندوبین نے شرکت کی۔ مذاکرے کی میزبانی کے فرائض نائب نگراں قرآن انسٹی ٹیوٹ فریدہ گلزار اور ڈاکٹر یاسمین وہرہ نے ادا کیے۔ ایک سوال پر خواتین و بچہ جیل میں خدمات سرانجام دینے والی ڈی آئی جی سندھ شیبا شاہ نے کہا کہ میں مشترکہ خاندانی نظام کی زبردست حامی ہوں، آج بھی اگر مشترکہ خاندانی نظام کو پروموٹ کریں گے اور عورت کو اس کے تمام شرعی حقوق ملیں گے تو معاشرے میں جرائم میں نمایاں کمی آسکتی ہے۔ ڈائریکٹر قرآن انسٹی ٹیوٹ کراچی اقبال النساء نے کہا کہ اسلامی نظام غلبے کے لیے آیا ہے، اور ہم اس کے غلبے کی ممکنہ کوششیں کررہے ہیں۔ ہمارے پاس خواتین ڈاکٹرز، اسکالرز، صحافی، تمام مکاتبِ فکر کی معلمات اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی خواتین کی بڑی تعداد موجود ہے، ہم ان کے ساتھ مل کر ان شاء اللہ خاندانی استحکام کے لیے ہمہ جہت کوششیں جاری رکھیں گے۔ ڈاکٹر جہاں آراء لطفی نے کہا کہ یورپ نے 16ویں صدی سے خاندان کی اہمیت کو نظرانداز کیا۔ اب دوبارہ یورپ اپنے اصل کی جانب پلٹ رہا ہے۔ ناظمہ کراچی جماعت اسلامی اسماء سفیر نے کہا کہ اپنے بچوں اور بچیوں کی شادی کے بعد ہمارے رویّے اور مزاج میں ضرور تبدیلی آنی چاہیے۔ جیسے ایک تیز رفتار گاڑی کوئی موڑ مڑتے ہوئے اپنی رفتار کو تھوڑا دھیما کرلیتی ہے، بالکل اسی طرح خاندان میں بہوؤں اور دامادوں کے اضافے کے بعد ہمیں اپنے رویوں میں تھوڑا ٹھیراؤ لانا چاہیے۔ میں آپ سے یہ بالکل نہیں کہوں گی کہ آپ اپنے داماد سے اپنے بیٹے کی طرح یا اپنی بہو سے اپنی بیٹی کی طرح برتاؤ کریں۔ یہ بالکل الگ رشتے ہیں۔ ان کی نزاکتوں کو سمجھ کر اور انہیں ایک مقام دے کر ہی ہم انہیں بحسن و خوبی ساتھ لے کر چل سکتے ہیں۔ ہمیں لوگوں کے لیے مثال بننا ہے۔ ہماری ان تمام کاوشوں کا مقصد پاکستان کو اسلام اور اسلامی خاندان کی بہاروں سے فیض یاب کرنا ہے۔ خدام اکیڈمی کی ام شہزاد، النور فاونڈیشن کی نزہت شاہد، ڈاکٹر شمائلہ نعیم، محقق صفیہ ملک، حمیرہ خالد و دیگر نے بھی خاندان کے حق میں دلائل دیئے۔ ایڈمنسٹریٹر قرآن انسٹی ٹیوٹ 1کی شاہین ضیاء نے دعا کروائی۔ ڈائریکٹر قرآن انسٹی ٹیوٹ کراچی کی جانب سے مذاکرے کے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا گیا اور ان میں یادگاری شیلڈز اور تحائف تقسیم کیے گئے۔ تمام شرکاء کے لیے تواضع کا بھی اہتمام کیا گیا۔
اللہ سے دعا ہے کہ مملکتِ خداداد پاکستان میں خاندان کی شیرازہ بندی کی کوششیں کرنے والے ان مٹھی بھر نفوس کی مدد فرمائے،تاکہ ہم سب مل کر پاکستان کو درست معنوں میں اسلام کا قلعہ بناسکیں۔

حصہ