بلوچستان کی پس ماندگی کی بڑی وجہ حکومت کی عدم توجہ ہے

177

جسارت میگزین: بلوچستان کی پس ماندگی کی وجوہات کیا ہیں؟
یاسمین اچکزئی: بلوچستان کی پس ماندگی کی سب سے بڑی وجہ حکومتوں کی عدم توجہی ہے۔ علیحدگی پسند عنصر یہاں آٹے میں نمک کے برابر ہے، لیکن چونکہ لوگوں میں ان کا خوف ہے اور دہشت گرد خوف کو اور زیادہ پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں لہٰذا لوگ خاموشی کو غنیمت سمجھتے ہیں۔ بلوچ نوجوان پاکستان سے پیار کرتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کے مسائل کے حل کی طرف توجہ دی جائے، انہیں تعلیم، روزگار، صحت اور پینے کا صاف پانی مہیا کیا جائے۔ الخدمت اس کے لیے روز و شب کوششوں میں لگی ہوئی ہے، لیکن ظاہر ہے کوئی این جی او ریاست کی طرح تو کام نہیں کرسکتی، پھر بھی میں یہاں سب سے پہلے الخدمت کی تعلیمی خدمات کا ذکر کرنا چاہوں گی۔ ہم نے خواتین میں بچیوں کے علاوہ تعلیم بالغان کے لیے بھی ادارے کھولے ہیں۔ دو جامعۃ المحصنات کوئٹہ اور لسبیلہ حب میں ہیں، اس کے علاوہ پانچ اضلاع میں 11 ذیلی جامعات موجود ہیں۔ یہ ذیلی جامعات پشین، ژوب، خضدار اور نوشکی کے علاقوں میں ہیں جہاں چھ سو کے قریب طالبات تعلیم حاصل کررہی ہیں۔
دوسری مرکزی جامعہ لسبیلہ حب میں ہے، جہاں 230 طالبات ہیں۔ اس کے علاوہ جو طالبات سال بہ سال تعلیم حاصل کرکے اپنے علاقوں میں جاتی ہیں وہاں ہم ادارے کھولتے ہیں جہاں روزگار کا بھی انتظام کیا جاتا ہے۔ لہٰذا ان اداروں کو جامعۃ المحصنات کمیونٹی سینٹر کا نام دیا گیا ہے۔
ہم نے تعلیم کے سلسلے میں اپنا نعرہ دیا ہے کہ ’’قوم پڑھے گی تو پڑھے گا بلوچستان‘‘۔
ہماری جامعات میں بہترین دینی اور دنیاوی تعلیم دی جاتی ہے۔ پچھلے دنوں جامعہ حب کی ایک طالبہ شازیہ حبیب خان نے رابطۃ المدارس میں پوزیشن حاصل کی تھی۔
جسارت میگزین: بلوچستان میں پانی کی کیا صورتِ حال ہے اور الخدمت اس کے لیے کیا کررہی ہے؟
یاسمین اچکزئی: بلوچستان میں پانی کی صورتِ حال کا اندازہ آپ اس طرح لگا سکتی ہیں کہ وہاں ایسے علاقے ہیں جہاں پانچ پانچ کلومیٹر تک پانی کا کوئی انتظام نہیں ہے، جیسے کوہلو، بارکھان… وہاں کی خواتین پانچ پانچ کلومیٹر دور سے پینے کا پانی لے کر آتی ہیں اور وہ بھی ایسے کہ ان کے پائوں میں نہ تو جوتے ہوتے ہیں، نہ ٹھیک طرح کا برتن ہوتا ہے۔ ابھی پچھلے دنوں ہی ہم نے وہاں خواتین اور بچوں کے لیے سو جوڑے جوتے اور پانی کے بڑے کین فراہم کیے ہیں۔ لیکن حقیقت میں یہ کام حکومت کا ہے کہ وہاں پر پانی کے لیے انتظام کرے۔ یہ تو ایک انتہائی بنیادی ضرورت ہے۔
الخدمت اپنی بساط بھر کوششوں میں مصروف ہے۔ اس وقت پانی کے کُل 119 منصوبوں پر کام کیا جارہا ہے، جن میں 98 ہینڈ پمپ اور کنویں مکمل ہوگئے ہیں۔ تین فلٹر پلانٹ لگائے گئے ہیں، 21 منصوبے ابھی زیر تکمیل ہیں۔
لیکن الخدمت بہرحال ایک این جی او ہے، جو ریاست کی طرح نہ مالی وسائل رکھتی ہے اور نہ ہی قانونی قوت رکھتی ہے جیسی کہ حکومت کے پاس ہوتی ہے۔ لہٰذا حکومت کو بلوچستان پر بھرپور توجہ اور مالی وسائل لگانے کی ضرورت ہے۔
المحصنات کے تحت تعلیمِ بالغان کا انتظام بھی کیا گیا ہے، فہمِ دین کے کورس اور دیگر کورسز بھی کرائے جارہے ہیں۔ ہماری کوشش یہ ہوتی ہے کہ تعلیم بالغان کے تحت خواتین کو کم از کم پرائمری کورس پاس کروا دیا جائے۔ مائوں کی تربیت کے پیش نظر ہفتہ وار کلاسوں کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔
الخدمت کے تحت ’’رہبر اسکول‘‘ بھی قائم کیے گئے ہیں جس کی ماہانہ فیس بہت کم ہے، کیوں کہ وہاں کثیر آبادی غربت کا شکار ہے۔ ایسے افراد کے لیے فیس میں اور کمی کردی جاتی ہے تاکہ وہ وہاں تعلیم بھی حاصل کریں اور ان کی عزتِ نفس بھی متاثر نہ ہو۔
2013ء میں آواران میں زلزلہ آیا تھا اور وہاں بہت زیادہ جانی و مالی نقصان ہوا تھا۔ الخدمت فائونڈیشن کے تحت وہاں کے یتیم بچوں کو زیر کفالت لیا گیا۔ اب ان کی تعلیم اور دیگر ضروریات کے لیے الخدمت اپنی خدمات پیش کررہی ہے۔ اس سلسلے میں مزید یتیم بچوں کے لیے منصوبے تکمیل اور توسیع کے مراحل میں ہیں۔
جسارت میگزین: بلوچستان میں مظالم، خاص طور پر خواتین پر مظالم کا غلغلہ بین الاقوامی سطح پر بلند جاتا ہے، اس سلسلے کی حقیقت کیا ہے؟
یاسمین اچکزئی: بلوچ عورت پر کسی قسم کے مظالم نہیں ہوتے، الاّ یہ کہ کچھ رسومات ہیں، اور اب یہ بھی بہت کم ہوتی ہیں۔ لیکن یہ کیا کم ظلم ہے کہ پانچ، پانچ کلومیٹر دور سے اسے اپنے بچوں اور گھر کے لیے پانی لانا پڑتا ہے، بیمار ہوتی ہے تو طبی سہولیات ناپید ہیں، پڑھنا چاہتی ہے تو تعلیمی ادارے موجود نہیں۔ حکومت کو اعلانات کے بجائے اس سلسلے میں عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔
پھر ایک سب سے بڑا ظلم لاپتا لوگ ہیں۔ کسی عورت کا شوہر، کسی کا بھائی، کسی کا باپ اور کسی کا بیٹا لاپتا ہے۔ ایسے میں ایک ایک پل اذیت بن جاتا ہے۔ لاپتا بلوچ ایک ایسا زخم ہے جس پر غیر ملکی دہشت گرد اور ایجنٹ حسبِ منشا نمک چھڑکتے ہیں۔میری اربابِ اقتدار اور ایوانِ انصاف سے اپیل ہے کہ اس مسئلے کی طرف توجہ دیں اور اسے جلد از جلد حل کریں۔
جسارت میگزین: اپنے بارے میں بتائیں، جماعت اسلامی سے کیسے متعارف ہوئیں؟
یاسمین اچکزئی: یہ کوئی بیس، بائیس سال پہلے کی بات ہے جب محترمہ سمیحہ راحیل سے میری پہلی ملاقات ہوئی، وہ درسِ قرآن کی دعوت دینے ہمارے گھر آئی تھیں۔ چونکہ ہماری رہائش ایک ہی علاقے میں تھی، لہٰذا میں اگلے روز ہی بغیر کسی دقت کے قرآن کی کلاس میں شریک ہوئی، اور پھر سلسلہ چل پڑا۔ محترمہ بلقیس سیف جو کہ اسمبلی کی رکن رہ چکی ہیں، اُن سے حادثاتی ملاقات میرے بیٹے کے اسکول میں ہوئی۔ جماعت اسلامی سے باقاعدہ تعارف کرانے میں اُن کا بھی بڑا کردار ہے اور اُن سے یہ رشتہ اب تک جڑا ہوا ہے۔
میرا تعلق پٹھان آغا سید فیملی سے ہے، والد سندھ کی ممتاز سماجی، سیاسی و روحانی شخصیت کے طور پر جانے جاتے تھے۔ میں دس بہن بھائیوں میں سب سے بڑی ہوں۔ آنکھ کھولی تو گھر میں پیسے کی ریل پیل دیکھی، مگر والدین نے سونے کا نوالہ کھلایا تو شیر کی نگاہ بھی رکھی۔ تربیت پر خصوصی توجہ دی جاتی۔ شادی کے بعد کوئٹہ منتقل ہوگئی۔ میرے پانچ بچے ہیں جو کہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنی اپنی فیلڈ میں مطمئن و کامیاب زندگی بسر کررہے ہیں۔
جسارت میگزین: مطالعے سے لگائو ہے؟ اور کیسی کتابیں پسند ہیں؟
یاسمین اچکزئی: مجھے مطالعے کا بہت شوق ہے، بچپن سے ہی کتابوں کا مطالعہ رہتا۔ لٹریچر سے مجھے خاصا لگائو ہے۔ خطبات، پردہ، الجہاد فی الاسلام میری پسندیدہ کتب میں سے ہیں۔ ’’خطبات‘‘ میں سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کیا خوب لکھتے ہیں کہ اگر ہر شخص چوبیس گھنٹوں میں سے محض ایک گھنٹہ بھی علم ِدین سیکھ لے، وہ مسلمان بننے کے لیے کافی ہے۔ سو عمل کے لیے بھی مطالعہ بہرحال لازمی ہے۔
جسارت میگزین: گھریلو زندگی اور الخدمت کے امور میں توازن کیسے برقرار رکھا؟
یاسمین اچکزئی: مومن ہر جگہ مجاہد ہی ہوتا ہے۔ قربانی اور اخلاص کے بغیر یہ کام نہیں ہوسکتا۔ الحمدللہ میری فیملی خاص کر میرے شوہر نے بہت ساتھ دیا۔ میرا ایک بیٹا معذور ہے اور مجھے پہلے کراچی سے ہفتہ وار ضلع لسبیلہ حب جانا ہوتا ہے جہاں راستے کی دشواری کے باعث کچھ گھنٹوں کا سفر بارہ گھنٹوں پر محیط ہوجاتا ہے۔ ایسے میں میری عادت ہے کہ نکلنے سے پہلے رات کو ہی سارے کام نمٹا لیتی ہوں۔ بیٹے کی معذوری کے باوجود یہ میرے شوہر کا بے پناہ تعاون اور صابرانہ رفاقت ہے کہ میں بے فکر ہوکر تنظیمی امور سرانجام دے پاتی ہوں۔ میرے شوہر نہایت احساس کرنے والے ساتھی ثابت ہوئے، اسی لیے کبھی پریشانی کا سامنا نہیں ہوا۔
جسارت میگزین: زندگی کے کوئی یادگار لمحات ہمارے قارئین سے شیئر کرنا چاہیں گی؟
یاسمین اچکزئی: 2019ء میں جاپان میں اسپیشل بچوں کے اسکولوں کے تحت ایک مقابلہ ہوا جس میں دنیا بھر کے 40 ممالک کے تقریباً 6,500 بچوں نے حصہ لیا۔ اس میں روزانہ کی بنیاد پر ایکٹی ویٹی شیئر کی جاتی تھیں۔ الحمدللہ میرے اسپیشل بچے محمد عابد نے پہلی پوزیشن حاصل کی اور تائی کوانڈو میں کامیاب ہوئے۔ وہ لمحہ میرے لیے نہایت خوشی و فخر کا تھا۔
nn

حصہ