شادی اک جنجال

68

’’آج کالج سے جلدی آجانا، تمھاری خالہ اپنی سہیلی کے ساتھ آئیں گی۔‘‘ امی نے اطلاع دی۔
’’خالہ آ رہی ہیں یہ تو ٹھیک ہے، مگر سہیلی کو کیوں ساتھ لا رہی ہیں؟‘‘ حبا نے سوال داغا۔ چھوٹی بہن دعا کی معنی خیز مسکراہٹ سے حبا کی سمجھ میں ساری بات آگئی۔
’’امی منع کردیں خالہ اور اُن کی سہیلی کو، مجھے نہیں کرنی شادی ابھی۔ میرا گریجویشن مکمل ہوجائے تو مجھے جاب کرنی ہے، اپنا کیریئر بنانا ہے۔‘‘ حبا غصے سے بولی۔
’‘بیٹا تمھارے ابو تمھارے جاب کرنے کے حق میں نہیں ہیں، وہ امتحانات کے بعد تمھاری شادی کرنا چاہتے ہیں، آگے دعا اور روحان کی پڑھائی اور شادی کی بھی ذمے داریاں ہیں۔‘‘ امی نے سمجھایا تو حبا پاؤں پٹختی ہوئی چلی گئی۔
شام کو خالہ مع اپنی سہیلی کے آئیں اور حبا کو پسند کرکے اپنے بیٹے کا رشتہ ڈال گئیں۔ حبا نے رو رو کر گھر سرپر اٹھا لیا، کھانا پینا چھوڑ دیا۔ غرض اتنا زبردست احتجاج کیا کہ امی ابو نے فی الحال حبا کی شادی کا ارادہ ملتوی کردیا۔
سمرہ اسکول کے زمانے سے حبا کے ساتھ تھی۔ ایک ہی گلی میں دونوں کے گھر تھے۔ ساتھ ساتھ اسکول جاتی اور آتی تھیں۔ کالج میں بھی دونوں نے ایک جیسے مضامین کا انتخاب کیا۔ یوں دونوں کی دوستی دن دونی رات چوگنی ترقی کرتی چلی گئی۔ سمرہ کا بھی تعلیم مکمل کرنے کے بعد جاب کرنے کا ارادہ تھا، مگر اُس کے ابو بہت سخت مزاج تھے اور وہ اُن سے ڈرتی بھی تھی۔ سونے پہ سہاگہ اس کے دو بڑے بھائی بھی تھے جو کہ بالکل ابو کی طرح سخت مزاج تھے، بڑی مشکل سے کالج میں داخلے کی اجازت ملی تھی۔ جیسے ہی سالانہ امتحان ہوئے فوراً ہی سمرہ کے لیے ایک رشتہ آگیا۔ ابو اور بھائیوں کو بھی لڑکا پسند آگیا۔ وہ لوگ جلدی شادی کی تاریخ مانگ رہے تھے۔ سمرہ کا رونا دھونا کسی کام نہ آیا اور ٹھیک دو مہینے بعد وہ دلہن بن کر پیا سنگ رخصت ہوگئی۔ حبا نے مختلف اداروں میں اپنی ’’سی وی‘‘ ارسال کررکھی تھی۔ سمرہ کی شادی میں حبا کو سمرہ کی خالہ ساس نے اپنے بیٹے کے لیے پسند کرلیا۔ ایک دن حبا اپنی کتابوں کی الماری درست کررہی تھی کہ سمرہ اپنی ساس اور خالہ ساس کے ساتھ آدھمکی۔ حبا کو جب ان کے آنے کی وجہ معلوم ہوئی تو اس نے سمرہ کو خوب باتیں سنائیں:
’’چائے پیو اور اپنے مہمانوں کے ساتھ چلتی بنو، خود تو پھنس گئیں گھر گرہستی کے جنجال میں، اب مجھے بھی پھنسانا چاہتی ہو!‘‘
’’حبا! شادی تو ہر لڑکی کی ہوتی ہے ایک نہ ایک دن، یہ تو اللہ کا حکم ہے۔ سب والدین اپنی اولاد کے فرض سے جلد از جلد فارغ ہونا چاہتے ہیں۔ اس میں کیا برائی ہے؟ اور اویس بھائی بہت اچھے، تعلیم یافتہ اور برسرِ روزگار ہیں، تم بہت خوش رہوگی اِن شاء اللہ۔‘‘سمرہ نے سمجھایا۔
حبا کچھ سمجھنے کے لیے تیار نہ تھی، مستقل غصے میں الٹی سیدھی باتیں کرتی رہی۔ مجبوراً سمرہ خاموش ہوگئی۔ ان لوگوں کے جانے کے بعد بھی حبا بڑبڑاتی رہی۔ رات کو حبا کی امی نے شوہر کو اس رشتے کے بارے میں بتایا۔ انہوں نے حبا کو بلا کر کہا:
’’بیٹا! یہ رشتہ بہت مناسب معلوم ہورہا ہے، میں لڑکے کے بارے میں معلومات کراؤں گا کل، تم ذہنی طور پر شادی کے لیے تیار ہوجاؤ ۔‘‘
’’ابو آپ جانتے ہیں مجھے جاب کرنے کا کتنا شوق ہے، ایک جگہ سے جاب ملنے کی پکی امید ہے، میں چاہتی ہوں اس گھر کے حالات بدلیں، میں اچھا پہنوں اوڑھوں، میرے بہن بھائی اچھے تعلیمی اداروں میں پڑھیں، امی کا علاج اچھے اسپتال میں ہو۔ آپ مہربانی کرکے مجھے دو سال کی مہلت دے دیں، پلیز ابو پلیز۔‘‘ حبانے رو رو کر برا حال کرلیا۔ آخرکار باپ کا دل پسیج گیا۔ حبا کی امی نے سمرہ سے معذرت کرلی۔ حبا کو آفس میں نوکری مل گئی۔ تنخواہ بھی اچھی تھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے ایک سال گزر گیا۔ گھر کی مرمت اور رنگ روغن کرا کے نیا فرنیچر خریدا گیا۔ دعا پرائیویٹ کالج میں پڑھ رہی تھی اور روحان کا داخلہ شہر کے مہنگے اسکول میں ہوچکا تھا۔ آنے جانے کے لیے وین بھی لگوا لی تھی۔ حبا نے امی کا علاج پرائیویٹ اسپتال میں کروانا شروع کردیا۔ حبا اچھا لباس پہنتی، میک اَپ کا برانڈڈ سامان خریدتی، مہنگا موبائل اس کے زیر استعمال تھا۔
حبا ان دنوں خوشیوں کے ہنڈولے میں جھول رہی تھی۔ آفس میں اس کی ایک کولیگ اریج سے بہت اچھی دوستی ہوگئی تھی۔ وہ بھی شادی کو بوجھ سمجھتی اور لڑکیوں کی آزاد زندگی کو پسند کرتی تھی۔ آفس میں دونوں ساتھ لنچ کرتیں، ساتھ شاپنگ کرتیں۔ غرض ہر طرح سے زندگی انجوائے کرتیں۔
حبا کے لیے ان دنوں پھر ایک رشتہ آیا تھا۔ ’’امی! اگر ان لوگوں کو شادی کے بعد میرے نوکری کرنے پر کوئی اعتراض نہ ہو تو میں اس رشتے کے بارے میں سوچوں گی، ورنہ نہیں۔‘‘ حبا نے دوٹوک بات کی۔
’’بیٹا! سعد کی امی بیمار ہیں، کینسر کی مریضہ ہیں، ڈاکٹروں نے جواب دے دیا ہے، اس لیے وہ سعد کی شادی جلد کرنا چاہتی ہیں۔ ان کے ابو حیات نہیں اور تین چھوٹے بہن بھائی ہیں۔ تم نوکری جاری نہیں رکھ سکوگی۔‘‘ امی نے صورتِ حال واضح کی۔
’’اچھا تو انہیں نوکرانی چاہیے جو گھر کے تمام کام بھی کرے اور ان کے بچوں کی ذمے داریاں بھی اٹھائے۔ مجھے نہیں کرنی شادی وادی، منع کردیں ان لوگوں کو، میں نے اتنے سال اتنی محنت سے پڑھا، آفس میں اتنی محنت سے کام کرتی ہوں۔ میرا پروموشن ہونے والا ہے، اب میں سب چھوڑ کے شادی کرلوں! یعنی جھاڑو برتن، روٹی ہانڈی کروں، تھوڑے تھوڑے پیسوں کے لیے شوہر کے آگے ہاتھ پھیلاؤں…؟ نہ بابا، یہ تو جاہل عورتوں کے کرنے کے کام ہیں۔ آپ منع کردیں ان لوگوں کو۔‘‘ حبا نے بدتمیزی سے جواب دیا۔
ابو نے بھی بہت سمجھایا، مگر حبا بہت منہ زور ہوچکی تھی۔ اریج کی صحبت میں آزادیِ نسواں کے فریب میں مبتلا ہوچکی تھی۔ کسی کے سمجھانے سے نہ سمجھی۔ آخرکار سعد کے گھر والوں کو بھی منع کردیا گیا۔
اسی طرح سال پر سال گزرتے گئے۔ ابو کا اچانک ہارٹ فیل کی وجہ سے انتقال ہوگیا۔ دعا کی تعلیم مکمل ہوتے ہی ایک اچھا رشتہ دیکھ کر امی نے اس کے ہاتھ پیلے کردیے۔ روحان ایم بی بی ایس کرنے کے بعد مزید تعلیم حاصل کرنے اسکالرشپ پہ لندن چلا گیا۔ دو سال بعد روحان نے وہیں پاکستانی فیملی کی ڈاکٹر طوبیٰ سے شادی کرلی۔ دعا کے شوہر کو دبئی میں نوکری مل گئی۔ وہ شوہر اور بچوں کے ساتھ دبئی شفٹ ہوگئی۔ حبا نے پرانا گھر بیچ کر گلشن میں پُرآسائش فلیٹ خرید لیا، اریج سے گاڑی چلانا سیکھی اور کچھ عرصے بعد گاڑی خرید لی۔ اب وہ مزے سے گاڑی چلا کر آفس آتی جاتی تھی۔ امی کی خرابیِ صحت کی وجہ سے دو ماسیاں رکھ لیں جو تین چار گھنٹے میں گھرکے تمام کام کرکے چلی جاتیں۔ ماسیوں سے امی کام کرواتیں تو ان کا دل بہلا رہتا۔ ان کے جانے کے بعد امی بے چینی سے حبا کا انتظار کرتی رہتیں۔ حبا 45 سال کی ہوگئی تھی۔ امی بہت بیمار رہنے لگی تھیں۔ انہیں حبا کی بہت فکر تھی کہ اگر مجھے کچھ ہوگیا تو حبا اکیلے زندگی کیسے گزارے گی۔ اب تو کوئی رشتہ بھی نہیں آتا تھا۔ ایک دن حبا آفس سے آئی تو بہت دیر گھنٹی بجاتی رہی لیکن امی نے دروازہ نہ کھولا۔ حبا نے کسی طرح دروازہ کھولا تو امی باتھ روم کے پاس بے ہوش پڑی تھیں۔ حبا ایمبولینس میں ڈال کیا نہیں اسپتال لے گئی۔ سر میں چوٹ آئی تھی۔ دو دن آئی سی یو میں رہنے کے بعد امی خالقِ حقیقی سے جا ملیں۔ دعا اور روحان کو اطلاع دی مگر کورونا کی وجہ سے جہازوں کی آمدو رفت معطل تھی۔ دونوں بہن بھائی ماں کی آخری رسومات میں شرکت نہ کرسکے۔ پڑوسیوں اور کچھ دور کے رشتے داروں نے مل کر جنازہ آخری آرام گاہ تک پہنچایا۔
ایک ہفتے کی چھٹی کے بعد آج حبا آفس پہنچی تو سب کولیگز نے اس سے اظہارِ افسوس کیا۔ دل بہت اداس تھا، کسی کام میں نہیں لگ رہا تھا۔ بہ مشکل چھٹی کا وقت ہوا تو گھر پہنچنے پر گہری خاموشی نے اس کا استقبال کیا۔ گھر بکھرا ہوا تھا۔ خالی گھر کیسے ماسیوں کے حوالے کردیتی! پہلے تو امی ان سے کام کروا لیتی تھیں۔
اتنے برسوں بعد چند برتن دھونے حبا کو بہت گراں گزرے۔ اکیلی اپنے لیے کیا کھانا بناتی! چائے کے ساتھ بسکٹ کھا کر گزارہ کرلیا۔ خالی گھر اسے کاٹ کھانے کو دوڑ رہا تھا۔ رینگ رینگ کر دن گزر رہے تھے۔ روزانہ امی کے ایصالِ ثواب کے لیے قرآن پڑھتی۔
آج پورا ایک مہینہ ہوگیا تھا امی کو رخصت ہوئے۔ اتوار کا دن تھا، حبا نے والدین کے ایصالِ ثواب کے لیے بریانی کی دیگ پکوا کر یتیم خانے میں دے دی۔ رات کو ہلکا سا بھی کھٹکا ہوتا تو حبا گھبرا کر اٹھ جاتی۔ پورے گھر کے دروازے کھڑکیاں چیک کرتی کہ کہیں چور تو نہیں آگیا؟ پھر بستر پر لیٹتی تو آنکھوں سے نیند غائب ہوچکی ہوتی۔
آج سمرہ کا فون آیا تھا، امی کی تعزیت کے لیے ملنے آنا چاہ رہی تھی۔ حبا نے گھر کا پتا سمجھایا اور اتوار کو آنے کا کہہ دیا۔ سمرہ اپنی بڑی بیٹی اور بہو کے ساتھ آئی تھی۔ دو بچے بھی ساتھ تھے۔ دونوں گلے ملیں تو حبا کے ضبط کے بندھن ٹوٹ گئے۔کچھ دیر رونے کے بعد جب حالت سنبھلی تو سب حالات کہہ سنائے۔ سمرہ نے بہت دلاسہ دیا، اپنے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔ سمرہ کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں۔ ایک بیٹی بیٹا کی شادی کردی تھی۔ دونوں کا ایک ایک بیٹا تھا جو ساتھ آئے تھے۔ باقی دونوں بچوں کے رشتے بھی طے ہوگئے تھے۔ اگلے مہینے شادی متوقع تھی۔ سمرہ جلد آنے کا وعدہ کرکے رخصت ہوگئی۔ روزانہ سمرہ فون کرکے خیریت پوچھتی۔ اریج نے بھی ایک این جی او جوائن کرلی تھی اور آج کل اسلام آباد میں مقیم تھی۔ کچھ دن بعد سمرہ اپنے بیٹے اور بیٹی کی شادی کا خوب صورت کارڈ لے کر آئی اور شرکت کی پُرزور دعوت دی۔
بہت دنوں بعد حبا اہتمام کے ساتھ تیار ہوکر تحائف لے کر شادی ہال پہنچی۔ فوٹو سیشن چل رہا تھا۔ دونوں دلہنیں اور دونوں دولہا اسٹیج پرصوفے پر بیٹھے تھے۔ دائیں بائیں سمرہ اور اس کے شوہر تھے۔ صوفے کے پیچھے بڑا بیٹا اور بہو، بیٹی اور داماد اپنے بیٹے کے ساتھ کھڑے تھے۔ سب کے چہرے خوشی سے چمک رہے تھے۔ حبا کے دل سے ہوک اٹھی۔ اس نے تحائف سمرہ کی بہن کے حوالے کیے اور طبیعت کی خرابی کا بہانہ کرکے بوجھل قدموں سے پارکنگ ایریا کی طرف بڑھ گئی۔
nn

حصہ