سنو پیاری دلہن

76

تم تو نوخیز ہو۔ تمہارے جذبے، تمہارا حسن، تمہارے جذبات بہت نایاب ہیں، بہت ہی نایاب۔ تم تنہا نہیں ہو، اب کوئی ہے جو تمہارا، صرف تمہارا ہوگا۔ اس رشتے میں بندھ کر جو دنیا کا سب سے پہلا رشتہ ہے، خدا اور بندے کے تعلق کے بعد میاں اور بیوی کا حسین رشتہ تخلیق ہوا۔ اس رشتے کے بعد ماں باپ، بھائی بہن اور بہت کچھ بنا اور بنتا چلا گیا۔
سنو دلہن! سچ کہا ہے کسی نے کہ اک سانچے کی طرح ڈھالا جاتا ہے ہمیں اس خوب صورت رشتے میں۔ ہم صف در صف ایک دوسرے کی کاپی بن کر اس خوب صورت رشتے میں بندھتے چلے جاتے ہیں اور خالق کی صفتِ تخلیق کا عکس بن کر اپنے رب کی تخلیق کی کاپیاں (انسان) اپنے وجود کے رگ و ریشے سے نکال کر دنیا کے آسمان پر مثل ستارے ٹانک دیتے ہیں۔
ان میں سے بہت سے ستارے کہکشاں بن کر دھرتی پر پھیل کر روشنی کے استعارے بن جاتے ہیں، اور بہت سے جگنو راستہ سُجھاتے ہیں۔ کبھی کبھار تو کچھ خاص، بہت خاص چاند اور سورج کی مانند دھرتی کے کونے کونے کو منور کردیتے ہیں۔
سنو دلہن! یہ رنگ، روشنی، ستارے استعارے تم ہی سے ہیں… تم اپنے اس روپ پرناز کرو، اور دیکھو، شیطان کی چالوں سے بچ کر چلنا، وگرنہ یہی ستارے انگارے بن کر تمہاری زندگی کو دہکا کر راکھ بھی کرسکتے ہیں۔
دیکھو اپنی حیثیت کو پہچانو دلہن! اور اس سانچے سے وقت کے روشن مینار بنا ڈالو۔ شب کی منحوس تیرگی سے اپنے دامن کو بچالو دلہن! بچالو اپنے آپ کو اور ساتھ اس دنیا کو بھی۔

حصہ