اناڑی مریض

108

بیان کیا جاتا ہے، ایک شخص کی آنکھیں دھکنے آگئیں۔ اسے چاہیے تھا کہ کسی مستند طبیب کے پاس جاتا لیکن وہ جانوروں کے معالج کے پاس چلا گیا اور اس عقل مند نے وہی دوا اس کی آنکھوں میں ڈال دی جو جانوروں کی آنکھوں میں ڈالا کرتا تھا۔ اس حماقت کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس شخص کی بینائی ضائع ہو گئی۔
اس نے قاضی کی عدالت میں حاضر ہو کر معالج پر مقدمہ دائر کر دیا لیکن قاضی نے سارا بیان سن کر مقدمہ خارج کر دیا اور کہا کہ اگر یہ شخص گدھا نہ ہوتا تو اپنی آنکھوں کے علاج کے لیے جانوروں کے معالج کے پاس نہ جاتا۔
دانائی کا تقاضا ہے کہ اگر کسی شخص سے کوئی کام لینا ہو تو کام سپرد کرنے سے پہلے اس کے علم اور اہلیت کے بارے میں تحقیق کر لی جائے۔
حکایتِ سعدی

حصہ