ـ2021اکبرالہ آبادی کا سال

108

ادب صرف شعر و شاعری، داستان گوئی اور عشقیہ کہانیوں یا ذہنی تفریح کا نام نہیں، بلکہ اصل ادب وہ ہے جس سے معاشرے کی اصلاح اور کردار سازی، اور قوم کو جھنجھوڑنے کا کام لیا جائے۔ اردو کے عظیم شاعر اکبر الہٰ آبادی ایسے ہی شعرا کی فہرست میں صفِ اوّل میں شامل ہیں۔ انھوں نے ایسے دور میں آنکھ کھولی جب انگریز ہندوستان پر اپنے پنجے پوری طرح گاڑ چکے تھے۔ انہیں انگریزوں سے سخت نفرت تھی، اس کی وجہ یہ تھی کہ انھوں نے 1857ء کی جنگ اور انگریزوں کے مظالم کا مشاہدہ اپنی آنکھوں سے کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے کالج اور یونیورسٹیوں میں انگریزی طرز تعلیم اور مغربی تہذیب کے خلاف خوب آواز اٹھائی۔
اکبر 16 نومبر1846ء کو الہٰ آباد کے قریب ایک گاؤں میں پیدا ہوئے اور 9؍ستمبر 1921ء کو 75سال کی عمر میں الہٰ آباد ہی میں وفات پائی۔
انھوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی تھی، اس لیے روزگار کے حصول کے لیے انگریز حکومت ہی سے رجوع کرنا ان کی مجبوری تھی۔ وہ عدلیہ سے وابستہ ہوئے اور ترقی کی منازل طے کرتے کرتے سیشن جج بن گئے، اور اپنی خدمات کے باعث ’خان بہادر‘ کا خطاب بھی حاصل کیا۔
لیکن اس سب کے باوجود اُن کے دل میں انگریزی تہذیب کے بُرے اثرات سے مسلمانوں کو محفوظ رکھنے اور اصلاح کا بھرپور جذبہ تھا، وہ کھل کر تو انگریز سرکار کے مقابل نہیں آئے، البتہ انہوں نے طنز و مزاح سے بھرپور شاعری کے ذریعے اپنے مقصد کے حصول میں ساری عمر صرف کردی۔
صدیق الرحمٰن قدوائی نے اپنی کتاب ’انتخاب اکبر الٰہ آبادی‘ میں اس تعلق سے بہت خوب لکھا ہے، اور سرسید و حالی کی طرح اکبر کو بھی اصلاح پسند ادیب قرار دیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’’اکبر کے نزدیک شاعری کا مقصد زندگی کی تنقید و اصلاح تھا۔ سرسید تحریک کے علَم برداروں نے اور اکبر نے اپنے اپنے نقطہ نظر کے مطابق شاعری کے ذریعے قومی اصلاح کی کوشش کی۔ سماجی اعتبار سے متضاد نقطہ نظر رکھنے کے باوجود سرسید، حالی اور اکبر یکساں ادبی نقطہ نظر کے حامل تھے‘‘۔
حقیقت تو یہ ہے کہ اکبر الٰہ آبادی نے انگریزی زبان یا مغرب کی اچھی چیزوں کو اختیار کرنے سے منع نہیں فرمایا، اگر اپنی شاعری میں کہیں ’انگریزی‘ یا ’انگلش‘ کی تنقید کی ہے تو اُن کا اشارہ انگریزی یا مغربی تہذیب کی طرف ہے۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ انھوں نے اپنی شاعری میں جابجا انگریزی الفاظ کا استعمال بھی کیا ہے جو ثابت کرتا ہے کہ وہ انگریزی زبان کے مخالف نہیں تھے۔
لسان العصر کے لقب سے سرفراز اکبر الٰہ آبادی نے ہمیشہ اسلامی تہذیب کا پاس رکھا اور مسلمانوں سے ہمیشہ یہی گزارش کی کہ وہ اپنی تابناک تہذیب و ثقافت سے دست بردار نہ ہوں۔ اس معاملے میں ان کا ذہن کافی حد تک شاعرِ مشرق اور تصورِ پاکستان کے خالق علامہ اقبال سے وابستہ تھا، بلکہ یوں کہا جائے تو زیادہ بہتر ہوگا کہ علامہ اقبال اکبر الٰہ آبادی کو اپنا مرشدِ معنوی تصور کرتے تھے۔ اقبال نے اکبر الٰہ آبادی کے نام 6 اکتوبر 1911ء کو لکھے گئے ایک خط میں اس بات کا اعتراف بھی کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں ’’میں آپ کو اسی نگاہ سے دیکھتا ہوں جس نگاہ سے کوئی مرید اپنے پیر کو دیکھے، اور وہی محبت اور عقیدت اپنے دل میں رکھتا ہوں، خدا کرے وہ وقت جلد آئے کہ مجھے آپ سے شرفِ نیاز حاصل ہو اور میں اپنے دل کو چیر کر آپ کے سامنے رکھ دوں۔ لاہور ایک بڑا شہر ہے لیکن میں اس ہجوم میں تنہا ہوں، ایک فردِ بھی ایسا نہیں جس سے دل کھول کر اپنے جذبات کا اظہار کیا جا سکے‘‘۔ کچھ ایسی ہی محبت اکبر الٰہ آبادی کو اقبال سے بھی تھی۔ انھوں نے اپنے ایک شعر میں اس بات کا اظہار بھی کیا جو اس طرح ہے:
دعویِٰ علم و فرد میں جوش تھا اکبرؔ کو رات
ہو گیا ساکت جب ذکرِ اقبال آ گیا
کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اکبر الٰہ آبادی مغربی تعلیم کے دلدادہ سر سید احمد خان کے مخالف تھے۔ لیکن دونوں شخصیتوں پر گہری نظر رکھنے والوں کو معلوم ہے کہ سرسید سے اکبر کا اختلاف شخصی نہیں بلکہ نظریاتی تھا۔ یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ اکبر الٰہ آبادی مغربی تہذیب اور برطانوی عادات و اطوار سے انتہائی درجہ نفرت کرتے تھے۔ سرسید سے اختلاف بھی اسی سلسلے میں تھا، ورنہ اپنی زندگی کے آخر وقت میں انھوں نے سر سید کے کاموں کی تعریف کئی اشعار کے ذریعے کی ہے۔ ان اشعار کو پڑھ کر آپ کو یہ بھی اندازہ ہوگا کہ وہ سرسید کی کارگزاری سے خوش تھے اور ان کے ذریعے کیے گئے کاموں کے دلدادہ بھی۔ چند اشعار ملاحظہ فرمائیں:
واہ اے سیدِ پاکیزہ گہر کیا کہنا
یہ دماغ اور حکیمانہ نظر کیا کہنا
قوم کے عشق میں یہ سوزِ جگر کیا کہنا
ایک ہی دھن میں ہوئی عمر بسر کیا کہنا
ہماری باتیں ہی باتیں ہیں سید کام کرتا ہے
نہ بھولو فرق ہے جو کہنے والے اور کرنے والے میں
اکبر نے اپنی شاعری سے اصلاحِ معاشرہ کا وہ کام لیا جو سرسید احمد خان اور علامہ اقبال جیسی شخصیتوں کا شیوہ رہا۔ انھوں نے اپنی شاعری میں اکثر سماجی برائیوں، مغربی تہذیب اور لادینیت کو طنز و مزاح کے پیکر میں ڈھال کر تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کی اس طرزِ شاعری کی خوبی ہی تھی کہ لوگوں کی اَنا کو ٹھیس بھی نہیں پہنچتی تھی اور وہ اپنا محاسبہ کرنے پر مجبور بھی ہو جاتے تھے۔
تعلیم جو دی جاتی ہے ہمیں وہ کیا ہے؟ فقط بازاری ہے
جو عقل سکھائی جاتی ہے وہ کیا ہے؟ فقط سرکاری ہے
o
صیاد ہنر دکھلائے اگر تعلیم سے سب کچھ ممکن ہے
بلبل کے لیے کیا مشکل ہے اُلّو بھی بنے اور خوش بھی رہے
o
چھوڑ لٹریچر کو اپنی ہسٹری کو بھول جا
شیخ و مسجد سے تعلق ترک کر اسکول جا
چار دن کی زندگی ہے کوفت سے کیا فائدہ
کھا ڈبل روٹی، کلرکی کر، خوشی سے پھول جا
o
تم شوق سے کالج میں پھلو پارک میں پھولو
جائز ہے غباروں میں اُڑو چرخ پہ جھولو
لیکن ایک سخن بندۂ عاجز کا رہے یاد
اللہ کو اور اپنی حقیقت کو نہ بھولو
اکبراسلامی روایات کے حامی تھے، یہی وجہ ہے کہ دورِ جدید کی تبدیلیوں کا شکوہ ان کی زبان پر رہتا:
بے پردہ نظر آئیں مجھے چند بیبیاں
اکبرؔ زمیں میں غیرتِ قومی سے گڑ گیا
پوچھا جو ان سے آپ کا پردہ کدھر گیا
کہنے لگیں کہ عقل پہ مردوں کی پڑ گیا
اکبر 9؍ستمبر 1921ء کو 75سال کی عمر میں الٰہ آباد ہی میں وفات پاگئے۔ سن 2021ء میں ان کی وفات کو پورے سو سال مکمل ہورہے ہیں۔ چنانچہ ادارہ علم دوست نے سن 2021ء کو قوم کے اس عظیم مصلح کا سال منانے کا فیصلہ کیا ہے۔
nn

حصہ