سمجھدار کتے

63

ابو کہا کرتے تھے ’’کتے بھونکتے رہتے ہیں اور قافلے نکل جاتے ہیں‘‘۔ اُس وقت شاید ایسا ہی ہوتا ہوگا، اب تو کتے بھی قافلوں کی صورت میں نکلا کرتے ہیں۔ کسی گلی، محلے یا پھر کسی بھی سڑک پر نکل کے دیکھ لیجیے، کچھ ایسی ہی صورت حال دیکھنے کو ملے گی۔ لیکن ان حالات میں بھی لگتا ہے جیسے کاشف کا کتوں سے چھتیس کا آنکڑا ہو۔ محلے کا کوئی بھی کتا اُس کے شر سے محفوظ نہیں۔ کسی کونے میں بیٹھے کتے کو لات مارتے ہوئے گزرنا، یا گلی سے گزرتے کتوں پر بالٹی بھر پانی انڈیل دینا اُس کے پسندیدہ مشاغل میں شامل ہے۔ ویسے اس معاملے میں وہ ہمیشہ سے ہی بڑا خوش قسمت رہا ہے کہ اس کا سامنا کبھی بھی اصل کتے سے نہیں ہوا، وہ تو فقط کتوں سے ہی متھا لگاتاآیا ہے۔ شاید اس کی ان حرکتوں کی وجہ سے ہی محلے کے کتے اب ہماری گلی کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتے، بلکہ سڑک پر جانے کے لیے ہماری گلی میں قدم رکھنے کے بجائے دو گلیوں کی مسافت طے کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ جو بھی ہے، پَر ایک بات طے ہے کہ کتے بدل گئے مگر کاشف اب تک نہ بدلا… اور بدلے بھی کیسے! شہر میں کتوں کی تیزی سے ہوتی افزائشِ نسل اس کو بدلنے کا موقع ہی کہاں دیتی ہے! ابھی کل ہی کی بات ہے، کاشف پتھر اٹھائے دوڑے جا رہا تھا، میرے پوچھنے پر بولا ’’آج کالے کتے کی خیر نہیں، پرسوں مرغی کے دو چوزے لایا تھا ایک غائب ہے، ضرور اسی نے کام دکھایا ہوگا، ورنہ کسی کی کیا مجال!‘‘ لاکھ سمجھانے کے باوجود کاشف نہ سمجھا اور کتے کی تلاش میں لگا رہا، لیکن وہ نہ ملا۔ سب جانتے ہیں کہ کتے آوارہ کہلانے کے باوجود جہاں رہتے ہیں اُس زمین کو چھوڑ کر نہیں جاتے۔ بس اسٹاپوں، بازاروں اور ریلوے اسٹیشنوں پر دیکھو تو کئی آوارہ کتے نظر آتے ہیں… اور تو اور، بعض تو ریلوے لائن پر آکر اپنی ٹانگ تک کٹوا بیٹھتے ہیں مگر پھر بھی ریلو ے اسٹیشن نہیں چھوڑتے، حالانکہ ان کے سامنے روزانہ ہزاروں لوگ اپنا گھر بار، زمین سب کچھ چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔ آوارہ کتوں کو کوئی دھتکارے یا مارے، وہ کبھی بھی اپنی جگہ یا علاقہ نہیں چھوڑتے۔ لیکن نہ جانے کاشف میں ایسا کیا ہے جس کی وجہ سے محلے کے سارے ہی کتے اُس سے اس قدر خوف زدہ ہیں کہ نہ صرف محلہ بلکہ اپنا آبائی علاقہ تک چھوڑنے پر مجبور ہو اتے ہیں۔
ایک طرف اگر کاشف کی یہ خصوصیت ہے، تو دوسری جانب کتے بھی کچھ کم نہیں۔ آج کے کتے تو اس قدر سمجھ دار ہیں کہ لاکھوں ووٹ لے کر منتخب ہونے والوں کو بھی گھر بھیجنے کا فن خوب جانتے ہیں۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ میں یہ کیا کہہ رہا ہوںِ؟ ایک جانور، وہ بھی کتا بھلا کیسے سمجھ دار ہوسکتا ہے! تو پریشان نہ ہوں، ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ کتا اکثر جانوروں سے زیادہ ذہین اور سمجھ دار ہوتا ہے، اگر اس کی سمجھ بوجھ کا انسان کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو وہ عموماً چار سال کے بچے کے برابر ہوتی ہے، لیکن بعض کتے تو ایسے بھی ہیں جو سات سال کے بچے جتنی سوجھ بوجھ رکھتے ہیں۔ اور اِس وقت ہم جن کتوں کا ذکر کررہے ہیں وہ تو سات سال سے کہیں زیادہ عمر کی سوجھ بوجھ رکھتے ہیں۔ یہ ایسے ہیں کہ جس رکنِ اسمبلی نے بھی ان کے خلاف کچھ سوچا، اُس کے حلقے کے کسی رہائشی پر حملہ کرکے اس کی رکنیت معطل کروا دیتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ارکان ِ سندھ اسمبلی اپنے اپنے حلقے کے عوام کو ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتے، بلکہ وہ ملنا ہی نہیں چاہتے۔ ظاہر ہے جب وہ عوام کے درمیان جائیں گے تو لوگ اپنے مسائل خصوصاً کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے بارے میں سوالات کریں گے، جس پر انہیں کتوں کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے کچھ وعدے وعید کرنے پڑ جائیں گے، ایسی صورت میں بات علاقے میں پھیلے گی، یعنی بات نکلے گی تو پھر دور تک جائے گی۔ ظاہر ہے جب بات اتنی دور تک جائے گی تو کیسے ممکن ہے کہ گلی کے کتے نہ سن سکیں! اس سے پہلے کہ عوام سے کیے گئے وعدے حقیقت کا روپ دھاریں اور کتا مار مہم شروع کردی جائے، کتے بھی اپنی چال چلتے ہوئے کسی ایک شخص پر حملہ کرکے اس رکن اسمبلی کی رکنیت ہی معطل کرا دیتے ہیں، جس کی جیتی جاگتی مثال فریال تالپور اور ملک اسد کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ اب کوئی بے وقوف ہی ہوگا جو ان کتوں کے خلاف کارروائی کرے… اور پھر کسی بھی رکنِ اسمبلی میں اتنی جرأت کہاں کہ الیکشن میں کروڑوں روپے لگاکر حاصل کی گئی سیٹ یونہی کتوں سے پنگا لے کر گنوا دے! لہٰذا کتوں کے خلاف کارروائی نہ کرنا ہی ان کے اقتدار کی ضمانت ہے۔ واضح رہے کہ عدالتِ عالیہ نے حکم دیا ہے کہ جس علاقے میں بھی کتے کے کاٹنے کا واقعہ ہوگا وہاں کے ایم پی اے کی رکنیت معطل کردی جائے گی۔
اب دوسرا کمال بھی دیکھ لیں… ایک زمانے میں گھروں کی چوکیداری، زمینوں پر قائم ڈیروں کی رکھوالی، یہاں تک کہ انسان اپنی حفاظت کے لیے محافظ کے طور پر کتے رکھتا تھا، جبکہ آج کتوں کے لیے انسان رکھے جارہے ہیں جو نہ صرف ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں بلکہ انہیں نہلانے، کھلانے اور ٹہلانے کی ذمہ داری بھی ادا کرتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں وہ برسرِ روزگار ان کتوں کی وجہ سے ہی ہوتے ہیں، انہیں بطور خاص کتوں کی دیکھ بھال کے لیے ماہوار تنخواہوں پر رکھا جاتا ہے۔ اگر یقین نہیں تو شام کے وقت پوش علاقوں کی سڑکوں پر جاکر دیکھیے کہ یہ ملازم کس طرح ان کتوں کے ناز نخرے اٹھانے پر مجبور ہیں۔ وہ بظاہر کتوں کے گلے میں ڈلی زنجیر کو تھامے ہوتے ہیں لیکن حقیقت میں ان کے ملازم اور خدمت گزار ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کتوں کے مزاج نہیں ملتے۔ یہی وجہ ہے کہ کتوں کے گلے میں زنجیر ہونے کے باوجود دیکھنے والوں کے لیے ان دونوں کے درمیان اصل کی شناخت کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ اس ساری صورت حال کو دیکھتے ہوئے اگر یہ کہا جائے کہ کل تک انسان کتے پالتا تھا، جبکہ آج کتے کی وجہ سے نہ صرف ایک انسان بلکہ اس کا پورا گھرانہ پل رہا ہے تو غلط نہ ہوگا۔
اب آجائیں کتوں کی تیسری کلاس کی جانب… یعنی خونخوار کتے… میں خود ایک ایسی بستی سے واقف ہوں جہاں سے گزرنے والوں کو ایسے بیسیوں کتے باقاعدہ پروٹوکول کی صورت سڑک کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک پہنچایا کرتے ہیں، یہ الگ بات ہے کہ پروٹوکول دیتے بھونکتے کتوں کے درمیان سے گزرنا بڑی مہارت کا کام ہوتا ہے۔ گاڑی چلاتے وقت آپ کو اس بات کا خاص خیال رکھنا ہوتا ہے کہ گاڑی کی رفتار دوڑتے کتوں سے کم نہ ہو، بصورتِ دیگر اس کا خمیازہ کسی بھی اسپتال سے لگوائے جانے والے چودہ ٹیکوں کی صورت میں بھگتنا پڑسکتا ہے۔ اگرگزشتہ تین سال کا جائزہ لیا جائے تو صرف کراچی میں 30 ہزار سے زائد افراد آوارہ کتوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔ ظاہر ہے جب ہماری صوبائی حکومت اس بدترین صورتِ حال پر توجہ نہ دے تو اسی قسم کے نتائج برآمد ہوں گے۔ جہاں تک متاثرہ عوام کا تعلق ہے تو ان کا اللہ ہی حافظ ہے، یعنی اسپتالوں میں جب ویکسین دستیاب نہ ہو تو متاثرہ شخص کو ریبیز نامی خطرناک بیماری سے کون بچا سکتا ہے! ریبیز کیا ہے؟ اسے سمجھنا کوئی راکٹ سائنس نہیں، ہر شخص اس سے بہ خوبی واقف ہے۔ لوگ خوب جانتے ہیں کہ ریبیز کا شکار کتا کسی شخص کو کاٹ لے تو وہ متاثرہ شخص پانی سے خوف کھاتا ہے، جب اسے پانی دیا جاتا ہے تو گلے میں اس قدر تکلیف ہوتی ہے کہ پانی نیچے نہیں اترتا، مریض بہکی بہکی باتیں کرنے لگتا ہے، اس کی طبیعت میں بے چینی بڑھنے لگتی ہے،جس کے بعد سانس اکھڑنے سے موت واقع ہوجاتی ہے۔اس کی موت کے مراحل نہایت تکلیف دہ ہوتے ہیں۔اگر اس مرض کا بروقت علاج ہوجائے تو مرض رک جاتا ہے، ورنہ عام طور پر ریبیز کا شکار مریض آہستہ آہستہ موت کے منہ میں چلا جاتا ہے
کتنے افسوس کی بات ہے کہ ترقی کے اس دور میں جب انسان خلاؤں میں زندگی تلاش کررہا ہے، ہم اپنے شہریوں کی زندگیاں ان آوارہ کتوں سے بچانے میں مکمل طور پر ناکام نظر آتے ہیں۔ ان کتوں کی بڑھتی ہوئی نسل پر حکومتی خاموشی اور اداروں کی عدم توجہی کے باعث جہاں نظر اٹھائیں آپ کو آوارہ کتوں کے غول کے غول دیکھنے کو ملتے ہیں
اس بدترین صورتِ حال میں حکومتِ سندھ خاص طور پر بلدیہ عظمیٰ کراچی کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہر میں کتوں کی بڑھتی ہوئی آبادی کی روک تھام کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کتا مار مہم جیسے اقدامات کرے، تاکہ شہر بھر میں سگ گزیدگی کے بڑھتے ہوئے واقعات کا سدباب ہو سکے۔ اور اگر حکومت فوری اقدامات کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرے تو میرا یہ مفت مشورہ ہے کہ وہ آوارہ کتوں کو شہر بدر کرنے کا ٹھیکہ کاشف جیسے نوجوانوں کے سپرد کردے، تاکہ کراچی سمیت پورے صوبہ سندھ میں سگ گزیدگی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر قابو پایا جا سکے۔

حصہ