جانوروں پر رحم

56

بہت دنوں کی بات ہے شہر غزنی میں ایک شخص رہتا تھا۔ اس کا نام تھا سبکتگین، وہ تھا تو اپنے قبیلے کا سردار مگر تھا بہت غریب۔ ایک گھوڑے کے علاوہ اس کے پاس کچھ نہ تھا۔ وہ اپنا زیادہ وقت سیر و شکار میں گزارتا تھا۔
ایک دن وہ شکار کو جارہا تھا۔ راہ میں اسے ایک ہرنی اور اس کا بچہ چرتے ہوئے ملے۔ سبکتگین نے گھوڑے کو ایڑ لگائی اور ان کے پیچھے تیزی سے دوڑایا۔ دونوں جان بچا کر بھاگے۔ مگر بچہ تو آخر بچہ ہی تھا۔ کتنا تیز بھاگ سکتا تھا؟ بالآخر سبکتگین نے اسے پکڑ لیا۔ اور لے کر گھر کو روانہ ہوا۔
ہرنی بے چاری محبت کی ماری اپنے بچے کے لیے اس کے پیچھے ہولی سبکتگین کی نگاہ ہرنی پر پڑی۔ اس کے افسردہ چہرے اور للچائی ہوئی نگاہ کو دیکھ کر سبکتگین کو رحم آگیا۔ اور اس نے بچے کو چھوڑ دیا۔ آزاد ہوتے ہی بچہ چلانگیں مارتا اپنی ماں کے پاس پہنچا اور دونوں نے خوشی خوشی جنگل کی راہ لی۔
رات کو سبکتگین نے آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا۔ آپؐ نے فرمایا۔
’’سبکتگین! تم نے ہرنی بے چاری پر حم کیا۔ تمہارا یہ کام اللہ کو بہت پسند آیا۔ تمہارا نام بادشاہوں کی فہرست میں درج کر لیا گیا ہے۔ اب تم جلد ہی بادشاہ ہو جائو گے۔ لیکن دیکھو سلطنت ملنے پر مغرور مت ہوجانا۔ اپنی رعایا کے ساتھ اسی طرح مہربانی کا سلوک کرنا۔‘‘
اس کے بعد سبکتگین بادشاہ ہو گیا۔ اس واقعہ کو اس نے ساری زندگی یاد رکھا اور اپنی رعایا کے ساتھ ہمیشہ شفقت و محبت کا برتائو کیا۔
nn

حصہ