اس کہاوت کے پیچھے ایک دلچسپ کہانی ہے۔

131

کہاوت کہانی
کنواں بیچا ہے، کنویں کا پانی نہیں بیچا

ایک شخص نے دوسرے آدمی کے ہاتھ اپنا کنواں فروخت کر دیا۔ جب وہ آدمی کنویں سے پانی کھینچنے آیا تو اُس شخص نے اُس کو یہ کہہ کر روک دیا کہ’’ میں نے کنواں بیچا ہے،کنویں کا پانی تو نہیں بیچا‘‘۔ جھگڑا بڑھا تو کنویں کا خریدار قاضی ٔ شہر کے پاس فریاد لے کر گیا۔ قاضی نے مقدمہ کی رُوداد سُن کر کہا کہ ’’کنویں کا سابق مالک بات تو صحیح کہہ رہا ہے۔ اس نے واقعی کنویں کا پانی نہیں بیچا۔ چنانچہ اس کو عدالت کی طرف سے حکم دیا جاتا ہے کہ وہ دو دن کے اندر کنویں میں سے اپنا پانی نکال لے ورنہ دوسرے کے کنویں میں اپنا پانی رکھنے کا کرایہ دینا ہو گا۔‘‘ یہ سُن کر کنویں کے سابق مالک کے ہو ش اُڑ گئے اور اُس نے اُسی وقت ہاتھ جوڑ کر عدالت اور کنویں کے مالک سے معافی مانگی،کنواں مع پانی کے اس کے سپرد کیا اور اس طرح گلو خلاصی حاصل کی۔
کہاوت ایسی ہی فضول دلیل کی جانب اشارہ کر رہی ہے۔

حصہ