ورکنگ وومن ویلفیئر ٹرسٹ کے زیر اہتمام

104

خواتین کانفرنس موجودہ حالات میں کیا حل پیش کررہی ہے

پاکستان میں مغربیت کو فروغ دینے اور خاندان کے ادارے کو تیزی سے منتشر کرنے کا ایجنڈا تیزی سے پھیلتا دکھائی دے رہا ہے۔اسی تناظر میں ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے حکمران اس بات کو تواتر سے بیان کرتے ہیں کہ ’خواتین کو بااختیار بنانا پاکستان کے آئین کا حصہ ہے اور حکومت زندگی کے تمام شعبوں میں خواتین کے مرکزی کردار کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے‘۔اس ’با اختیار‘ بننے یا بنانے کے ذیل میں جو کچھ نتائج سامنے آ رہے ہیں وہ بنیادی طور پر خاندان کی تباہی ، معاشرتی بے راہ روی اور خرابیوں کی صورت ہی سامنے آ رہےہیں۔یہ نتائج صرف پاکستان یا مسلم دنیا میں نہیں بلکہ دُنیا بھر میں سامنے آ رہے ہیں۔خواتین کو ’با اختیار ‘کا لیبل لگانے کا پہلا شاخسانہ ’ورکنگ وومن ‘کی صورت سامنے آیا ہے کہ ہر ہر شعبہ میں خواتین کی موجودگی اُس کے حق کے ساتھ بھر دی گئی ہے ۔یہ بات تو ظاہر ہے کہ خاتون اپنے تخلیقی اوصاف کے ساتھ کسی طور بھی مرد کے برابر نہیں ہو سکتی ، اسلیے جب زبردستی ایسا کرنے کی کوشش کی جائیگی تو مسائل کا انبار لگے گا۔انہی مسائل کو بلند کرنے کے لیے متاثرہ خواتین کے حق میں ’عالمی یوم خواتین‘ کا دن بھی استعمال ہوتاہے۔ورکنگ وومن ٹرسٹ پاکستان کی ایک منفرد تنظیم ہے جو کئی دہائیوں سےایسے ہی پیدا ہونے والے مسائل کے حل کے لیے کوشاں ہے۔یہ غیر سیاسی تنظیم پاکستانی خواتین کو آئین و قانون میں حاصل بے شمار حقوق پر عمل درآمد کی جدوجہد کے ساتھ خواتین کی رہنمائی، تربیت اور معاشی خود انحصاری کی راہیں بھی کھولتی ہے۔
امسال روش فارما کے تعاون سے عالمی یوم خواتین کے موقع پر ورکنگ وومن ٹرسٹ نے ’خواتین کانفرنس‘ کے انعقاد کا فیصلہ کیا ۔کراچی کے مقامی ہوٹل میں ’’کورونا دور میں خواتین لیڈر شپ ۔مواقع اور چیلنجرز ‘‘کے موضوع پر کانفرنس رکھی گئی۔کورونا نے دنیا بھر کےچلتے نظام میں ایسے بریک لگائے ہیں کہ ایک سال میں سب کچھ بدل گیا ہے ۔ ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ بدلتے حالات میں کس طرح ورکنگ وومن کی رہنمائی کی جائے اور اسکو درپیش مسائل کے حل کی راہ نکالی جائے ۔کانفرنس کے ذریعہ خواتین کانفرنس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی خواتین نے شرکت کی اور اظہار خیال کیا۔کانفرنس میں ورکنگ وومن کے ذیلی شعبہ ہنر ووکیشنل ٹریننگ سینٹر کے تیار کردہ ملبوسات کے اسٹال بھی لگائے گئے ۔
ورکنگ وومن ٹرسٹ کی صدر مسفرہ جمال نے کانفرنس میں شریک خواتین کو اُنکے اصل مقصد وجود کی جانب توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ عالمی یوم خواتین کے موقع پر ’خاندان‘ کے تحفظ اور استحکام کو ترجیح اول رکھنا ضروری ہے ۔ اللہ نے ہمیں ایسی خصوصیت دی ہے جس کی وجہ سے خواتین نسل کو آگے بڑھاتی ہیں ۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ ہم نے رب کی عطا کردہ اس عظیم نعمت پر شکر بجا لانے کے بجائے مغرب کی تقلید شروع کی جس نے خاندانوں کی تباہی کی صورت اختیار کی۔ہم خواتین کی امپاورمنٹ کے خلاف نہیں البتہ خاندان کی قیمت پر کچھ نہیں ہو سکتا۔یہ جاننے کے باوجود کہ مردوں کو الگ خصوصیات کے ساتھ پیدا کیا گیا مغرب نے دونوں کی برابری کا نعرہ لگا کر خواتین کو گمراہ کیا جا رہا ہے ۔بھاری فنڈز کے ساتھ قدرت کے خلاف جنگ کا آغاز کرکے خاندان کے ادارے کی تباہی ،طلاقوں اور خواتین کے ساتھ جنسی زیادتیوں کی صورت نتائج ہمارے سامنے ہیں۔ آج مغرب میں ’روایتی وائف اور روائتی لائف‘ پر بات شروع ہو گئی ہے اس شعور کے ساتھ کہ ہم نے اپنے بچوں کو وقت نہیں دیا اور خاندان تباہ کر ڈالے۔کام کرنا آپ کی چوائس ہے ذمہ داری نہیں، کفالت باپ و شوہر کے طور پر مرد کی ذمہ داری ہے ۔ہم باس کی بات مانیں تو شوہروں کی بات کیوں نہ مانیں ۔تربیت ہماری ذمہ داری ہے ، ہم مردوں کے برابر نہیں ہیں میں اپنے گھر کی خود باس ہوں اپنے گھرکی سی ای او میں خود ہوں ،کسی اور ادارے میں ملازمت کیوں کروں؟دو جاب کرکے گھر کیسے چل سکتا ہے ۔ میں بھی جاب کروں شوہر بھی کرے تو ہم اپنے گھر کو کیا وقت دیں گے ۔مغرب کے بنائے گئے پیمانے و نعروں کے بھیانک نتائج سے اب یہ نعرے مغرب میں بھی لگنا شروع ہو گئے ہیں ۔
معروف ماہر نفسیات ڈاکٹر نوشین شہزاد نے خطاب کرتے ہوئے اس بات کا احساس دلایا کہ کورونا لاک ڈاؤن ایام میں ہمارے پاس گھریلو تشدد کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا، جس کی بڑی تعداد رپورٹ نہیں ہو سکی۔ انسانی تاریخ یہی بتاتی ہے کہ مرد و خواتین نے خود محسوس کیا کہ وہ دونوں الگ الگ فطری صلاحیتیں رکھتے ہیں ، اس لیے تمدن کو آگے بڑھانے کے لیے از خود کام بٹ گئے اور کسی کو کوئی استحصال نہیں محسو س ہوا۔ہزاروں سال سے یہی تقسیم چلتی رہی ہے جو فطرت کے مطابق رہی جس میں قوت و استعداد کے مطابق زندگی کے کاموں کی تقسیم رہی۔کانفرنس سےسابق صدر فرسٹ وومن بینک طاہرہ رضا نے خواتین میں قائدانہ صلاحیتوں کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ خواتین کی عوامی زندگی میں قائدانہ صلاحیت میں اضافہ دراصل اس کی برادری اور ملک دونوں کے لئے فائدے مند رہتا ہے۔روش ڈائیگونسٹک کی ہیلتھ مینیجر صدف عقیل نے کانفرنس میں صحت مند خاتون اور صحت مند معاشرہ کے موضوع پر اظہار خیا ل کرتے ہوئے روش کی ڈائیگنوسٹک خدمات و سہولیات بتاتے ہوئے کہاکہ ایک خاتون کی زندگی کئی زندگیوں سے جڑی ہوتی ہے اس لیے اسکی صحت کا اثر کا دائرہ بھی بہت وسیع ہوتا ہے۔خواتین کو درپیش صحت کے مسائل کو فوری توجہ دینے کی ضرورت ہوتی ہے اس میں ڈاکٹر کو بروقت نہ دکھانا یا عدم توجہی دکھانا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے ۔ایڈووکیٹ رعنا خان نے کانفرنس سے خطاب میں اپنے تجربات کی روشنی میں سوال اٹھایا کہ کیا آج کی خاتون خود اپنے مسائل حل کرنا چاہتی ہے اور کیا وہ سمجھتی ہے کہ حقوق کے ساتھ فرائض کیا ہیں۔بحیثیت وکیل ہمیں خواتین کے ساتھ مسائل کا ہی سب سے زیادہ سامنا رہتا ہےفرائض کی ادائیگی پر توبات ہی نہیں ہو پاتی ۔ایسے میں جب مطالعہ قرآن کا موقعہ ملا تو جاناکہ جس طرح خالق کائنات نے عورت کے حقوق کا خیال رکھا ہے ویسا تو کوئی نہیں کر سکتا تھااس کے ساتھ فرائض بھی مقرر کیے ہیں۔اس کے لیے ہمیں آگہی بھی دینی ہوگی اور شعور دینا ہوگا۔ورکنگ وومن ٹرسٹ کی رکن مرکزی کونسل ماریہ طلحہ نے کانفرنس کی سفارشات اور ورکنگ وومن ٹرسٹ کا مکمل تعارف و کام کی تفصیل پیش کی ۔

ورکنگ وومن کے مسائل کے حل کے لیے سفارشات

ورکنگ ویمن ویلفئرٹرسٹ کی خواتین کانفرنس نے ایسی جامع سفارشات تیار کیں جو موجودہ حالات میں ، لاک ڈاؤن سے متاثرہ دنیا کے ہر ملک کی خواتین کے لیے ایک رہنما دستاویز ہے ۔ اس میں ملازمت پیشہ خواتین کو درپیش تمام تر مسائل کے حل کا احاطہ کیا گیا ہے ۔ ان سفارشات میں سب سے اولین بات ’ورک فرام ہوم‘ کی سہولت ہے ۔ آج بھی دنیا کے کئی جدید ممالک میں لاک ڈاؤن جاری ہے اور لوگ گھروں سے کام کر رہے ہیں ۔اس لیے اس کانفرنس کی پہلی سفارش یہی تھی کہ کورونا کے لاک ڈاؤن کے دوران ’ ورک فرام ہوم ‘ کے ہونے والے کامیاب تجربے کی روشنی میں خواتین ورکرزکے لئے اس سہولت کو اختیار کرنے کے معاملے میں خصوصی قانون سازی کی جائے جس میں فریقین کو قانونی اور اخلاقی حدود کے مطابق اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کااختیار حاصل ہو۔سب جانتے ہیں کہ خواتین کو نوکریوں ، خصوصاً فیکٹری ورکرز کو کس قسم کی جنسی ہراسانی کا سامنا رہتا ہے جس کی وجہ سے خواتین شدید ذہنی دباؤ (اسٹریس )کا شکار رہتی ہیں، اس لیے ورکنگ وومن ٹرسٹ نے ہمیشہ خواتین کے تحفظ کے علاوہ ان کے لیے ڈے کیئر سینٹر کی فراہمی کو بھی یقینی بنایا جانا ضروری ہے۔
اسی طرح کورونا ویکسین کی آمد پر جو سلسلہ شروع ہوا ہے ، اس سے متعلق کانفرنس کے اعلامیے میں اہم سفارش کی گئی کہ ویکسین کی فراہمی میں ترجیحا ًفرنٹ لائن ورکرز اور بزرگوں کے بعد فیکٹریز اور دیگر اداروں میں کام کرنے والی خواتین کو ترجیح دی جائے تاکہ وہ اپنی اچھی صحت کے ساتھ اہل خانہ و گھر کی معاشی ذمہ داریوں کو اٹھا سکے۔
چونکہ خواتین کی ایک بڑی اکثریت گھریلو معاشی مسائل کی وجہ سے نوکری سے منسلک ہوتی ہیں اس لیے مہنگائی اُن پر براہ راست اثر انداز ہوئی ہے ۔تنخواہیں بڑھنا تو دور کی بات الٹا کٹوتیاں ہوتی رہی ہیں ، ایسے میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ مہنگائی پر قابو پانے کے لئے اشیاء ضرورت کی قیمتوں کو جامد کر دیا جائے اور مصنوعی گراں فروشی اور قلت کو سختی سے روکا جائے ۔
اسی طرح بجلی ،گیس کے نرخ میں اضافےکرنے کے بجائے کم از کم دوسال کے لیے خواتین ورکرز کو سبسیڈی دی جائے ، رہائشی مکانوں کے کرایوں میں ہوشربا اضافے کو روکنے کے لئے مناسب اقدامات کئے جائیں ۔ اس ضمن میں کورونا کی وجہ سے تنخواہوں میں ہونے والی کٹوتیوں کو فوری واپس لیا جائے ۔یہ وہ بنیادی مطالبات ہیں جو ہر مزدور خاتون جس کے کندھوں پر بوڑھے والدین یا چھوٹے بچوں یا بیمار شوہر کی ذمہ داری ہے اُس کے دل کی آواز ہے۔
عمومی جائزہ رپورٹس نے ثابت کیا کہ عالمی وبا کے دوران مشترکہ خاندانی نظام میں رہنے والے افراد نے بیماری اور وبا کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مسائل سے بہتر انداز میں سامنا کیا اور بہت سے مسائل سے بچے رہے چنانچہ کانفرنس نے یہ بھی سفارش کی کہ عظیم تر معاشرتی ادارے ’خاندان‘کے استحکام اور بقا کے لئے ملازمتوں کے اوقات کار اور شرائط ملازمت کو خاندان دوست بنایا جائے ۔ وزارت بہبود خواتین اور تمام چیمبرز آف کامرس کے تحت چھوٹے پیمانے پر کاروبار کرنے والی خواتین کو مارکیٹنگ اور کاروبار کی سہولت فراہم کرنے کے لئے خصوصی پروگرام ترتیب دئے جائیں ۔
دفاتر اور پروڈکشن یونٹس میں حفظان صحت کے اُصولوں کے مطابق ماحول کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔اس حوالے سے خواتین کا ایک وہ طبقہ بھی ہے جو اپنے بچوں کے حصول تعلیم کے لیے پریشان نظر آیا کیونکہ اُس کے پاس آن لائن تعلیمی نظام کو جاری رکھنے کے لئے وسائل نہیں تھے اس لیے آن لائن کلاسز کا بھی متبادل تلاش کیا جائے تاکہ ورکنگ اور کم آمدنی اور وسائل والی ماؤں کے لئے بھی اپنے بچوں کی تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنا ممکن ہو ۔ اس کے ساتھ ہی کانفرنس کے اعلامیے میں یہ اہم بات بھی پیش کی گئی کہ خواتین ورکرز کو محفوظ اور باسہولت ٹرانسپورٹ فراہم کی جائے ۔یہ مسئلہ اس وقت کراچی کا اہم ترین مسئلہ ہے ۔ جب پورے شہر سے بڑی چھوٹی بسیں ختم ہو گئی ہوں، چنگچی جیسی سواری کا سڑکوں پر راج ہو تو کیسے پر سکون ، محفوظ سفر ممکن ہوگا۔

حصہ