شوکت صدیقی کا انٹرویو

202

۔’’میں ڈائجسٹوں کی جانب بہ امر مجبوری گیا کہ وہاں سے معقول معاوضہ ملتا ہے۔ برعکس اس کے ادبی رسائل میں معاوضے کا تصور محال ہے‘‘۔

تخلیقی عمل جیسے پراسرار بھید بھرا ہوتا ہے‘ کچھ موسم بھی ناگاہ ایسے آجاتے ہیں جب تخلیق کاروں کے اندر تخلیقی لہر بجلی کی طرح دوڑ جاتی ہے اور شعر و افسانہ ناول نگار وغیرہ کی اصناف پہ جیسے بارش سی برس پڑتی ہے۔ کم از کم عقل اس تجزیے سے قاصر رہتی ہے کہ کیوں ایک خاص موسم ہی میں اعلیٰ ادبی تخلیقات لکھنے والوں نے پیش کیں۔
پچاس کی دہائی میں اردو ناول کی صنف پر ایسے ہی بابرکت موسم آئے اور بہترین ناول لکھے گئے۔ قرۃ العین حیدر کا ’’آگ کا دریا‘‘ سے شوکت صدیقی کے ’’خدا کی بستی‘‘ تک ان ناولوں میں ناول نگاروں نے نوزائیدہ مملکت کی تخلیق کے تجربے کو ماضی اور حال کی روشنی میں سمجھنے اور تاریخی و معاشرتی حقائق کے پس منظر میں دکھانے کی کوشش کی اور یہ حقیقت ہے کہ اس دہائی کے قرب و جوار میں جو ناول لکھے گئے‘ اسلوب‘ معیار اور مقبولیت کے اعتبار سے آج بھی وہی ناول اردو ادب کے ماتھے کا جھومر ہیں۔ فضل احمد کریم فضلی کا ’’سحر ہونے تک‘‘ عبداللہ حسین کا ’’اداس نسلیں‘‘ جمیلہ ہاشمی کا ’’تلاشِ بہاراں‘‘ ممتاز مفتی کا ’’علی پور کا ایلی‘‘ یہ سارے ناول پچاس اور اوائل ساٹھ کی دہائی میں چھپے۔ فنی معیار کے اعتبار سے ان ناولوں کا مقام متعین کرنا تو نقادوں کا کام ہے لیکن یہاں تذکرہ چوں کہ شوکت صدیقی کا ہے‘ اس لیے یہ کہے بنا چارہ نہیں کہ ’’خدا کی بستی‘‘ نے اردو ناول کو سماجی حقیقت نگاری میں ایک نئی جہت سے آشنا کیا۔
’’خدا کی بستی‘‘ جو نوزائیدہ مملکت ہی کا افسانوی عنوان ہے‘ اس زمانے کے دارالحکومت کراچی کی زیر زمین جرائم کی دنیا (انڈر ورلڈ) کی بھرپور قوتِ مشاہدہ‘ جزئیات نگاری‘ قصے کے اتار چڑھائو‘ نوخیز مگر طاقت ور کرداروں کے ذریعے جس مؤثر طریقے سے پیش کیا گیا کہ ’’خدا کی بستی‘‘ کی اشاعت اردو ادب کا اہم‘ ناقابل فراموش واقعہ بن گیا۔ پاکستان ٹیلی ویژن کو ہر دل عزیز بنانے میں بھی اس ناول کا قابلِ قدر حصہ ہے کہ جب اس کی ڈرامائی تشکیل پیش کی جاتی تو سڑکوں اور گلیوں میں سناٹے کا راج ہوتا تھا۔ ناول کے کردار نوشہ‘ راجہ وغیرہ آج بھی پڑھنے والوں کے ذہنوں پر نقش ہیں۔ یہ جیتے جاگتے زندہ کردار اسی شہر کی تنگ و تاریک گلیوں کے باسی تھے‘ ناول نگار ان کے درمیان ہی رہتا‘ انہیں غور سے دیکھتا اور ان کو پورے وجود سے محسوس کرتا رہا۔ اس نے یہ ناول ان ہی کرداروں کے بیچ رہتے سہتے لکھا۔ ناول میں جو زندگی کی حرارت اور تمازت ہے اس لیے ہے کہ اسے زندگی سے پرے ہٹ کے‘ تخیل کی جولانی اور طلاقت لسانی کی مدد سے پیش کرنے کی ضرورت ہی نہ پڑی۔
’’اس نے دیکھا‘ محسوس کیا اور لکھ دیا‘‘ ناول کی روانی‘ اپنے ساتھ بہا لے جانے والی کہانی سے یہ قیاس کہ بہت سہولت سے لکھا گیا۔
اس کتاب کے اکثر انٹرویو اخبار کے لیے کیے گئے اور پہلے اخبار ہی میں چھپے۔ جب ان انٹرویو کو کتاب میں محفوظ کرنے کا ارادہ ہوا تو سوچا کہ نامکمل رہے گی‘ یہ کتاب اگر اس میں مزید چند اہم ادیبوں کے ساتھ شوکت صدیقی سے ان کی تخلیقات کی بابت گفت و شنید شامل نہ ہو۔ چنانچہ فون پر وقت طے کرکے ان کی خدمت میں حاضر ہوا‘ ان دنوں وہ نارتھ ناظم آباد میں رہتے تھے۔ شکیل عادل زادہ کے ’’سب رنگ‘‘ کے لیے نہایت گراںقدر معاوضے پر ناول نویسی میں مصروف۔ ’’جانگلوس‘‘ اور ’’چہار دیواری‘‘ لکھ کر ہی وہ نارتھ ناظم آباد کے مکان سے ڈیفنس کے شان دار بنگلے میں منتقل ہو سکے۔ مذکورہ دونوں ناولوں کی مقبولیت کے باوجود اردو فکشن کے نقادوں کے مضامین اور ناول نگاری کی تنقیدی کتب میں ان کا تذکرہ نہیں ملتا افسانوں اور ’’خدا کی بستی‘‘ کے حوالے سے شوکت صدیقی کو ترقی پسندوں کے قبیلے میں شمار کیا جاتا ہے۔ مجھے اپنی گفتگو اور برتائو میں وہ ایک معقول‘ معتدل اور حقیقت پسند سے محسوس ہوئے۔ گھنی بھنوئوں تلے ان کی چھوٹی چھوٹی آنکھوں کی چمک‘ سفید چمکتے ہوئے بال‘ مضبوط جسم اور دراز قامت شوکت صدیقی سے اس دوپہر کی ملاقات اب بھی یاد آتی ہے۔ ان کی کتابوں کے ناشر نثار حسین (کتاب پبلی کیشنز) بھی ہمارے دوست ٹھہرے۔ ان کی زبانی معلوم ہوا کہ شوکت صدیقی صاحب کو اپنا انٹرویوو اچھا لگا اور وہ اس حوالے سے انٹرویو نگار کا تذکرہ بھی کر چکے ہیں۔چنانچہ ایک ملاقات ان سے ڈیفنس کے مکان میں بھی ہوئی۔ پھر ایک دن (18 دسمبر 2006) ان کی سنائونی کی افسوس ناک اطلاع آئی۔ کہانی کار کی مہلتِ عمر ختم ہو جاتی ہے مگر کہانیاں ختم نہیں ہوتیں۔ زندگی ہر لمحہ ہر آن کہانیوں کو جنم دیتی ہے مگر انہیں لکھنے کے لیے شوکت صدیقی جیسا فن کار قدرت کے ایما پر ایک ہی بار دنیا میں آتا ہے۔
شوکت صدیقی نے 20 مارچ 1923ء کو لکھنؤ میں آنکھ کھولی۔ والد الطاف حسین صدیقی کا ارادہ انہیں دینی تعلیم کے ساتھ قرآن پاک حفظ کرانے کا ہوا۔ چنانچہ اسی شہر کے مدرسۂ فوقانیہ میں ابتدائی تعلیم کے لیے داخل کیے گئے‘ جہاں سے انہوں نے اپنے والد ماجد کی خواہش پوری کی اور حافظ قرآن ہوئے۔ پھر دنیاوی تعلیم کی طرف توجہ ہوئی تو لکھنؤ یونیورسٹی سے سیاسیات میں ایم اے کے سند یافتہ کہلائے۔ 1950ء میں ہجرت کرکے لاہور آئے اور پھر کراچی منتقل ہو گئے۔ دو سال بعد رشتۂ ازدواج میں بندھ گئے۔ روزگار کے لیے صحافت کے پیشے سے وابستہ رہے۔ آپ روزنامہ ’’مساوات‘ روزنامہ ’’انجام‘‘ اور ہفت روزہ ’’الفتح‘‘ کے چیف ایڈیٹر رہ چکے ہیں۔
شوکت صدیقی کے نمائندہ افسانے ’’تیسرا آدمی‘‘، ’’راتوں کا شہر‘‘، ’’تانتیا‘‘ اور ’’شریف آدمی‘‘ جن کے کئی زبانوں میں ترجمے ہو چکے ہیں۔ یہ اعزاز بھی ان کا حصہ ہے کہ ’’راتوں کا شہر‘‘ دنیا بھر کی سو منتخب کہانیوں میں شامل کی گئی۔ ترجمہ اس کا پطرس بخاری مرحوم نے کیا تھا۔ ’’خدا کی بستی‘‘ کو اردو پڑھنے والوں میں جو مقبولیت ملی اس کا تو خیر ذکر ہی کیا کہ اب تک ایک سو سے زائد ایڈیشن چھپ چکے ہیں۔ یہ ناول ہندی‘ بنگالی‘ گجراتی کیعلاوہ روسی‘ چینی‘ بلغاری اور چیکوسلواکیہ کی زبان میں بھی ترجمہ ہوا۔ سوویت یونین کی سترہ زبانوں میں بھی اسے منتقل کیا گیا۔
شوکت صدیقی مرحوم کی تصانیف:۔
افسانے: -1 تیسرا آدمی (1952ء)‘ -2 اندھیرا اور اندھیرا (1954ء)‘ -3 راتوں کا شہر (1955ء)‘ -4 رات کی آنکھیں (1968ء)‘ -5 کیمیا گر (1984ء)۔
ناولٹ: کمیں گاہ (1956ء)۔
ناول: -1 خدا کی بستی (1958)‘ -2 جانگلوس‘ -3 چہار دیواری۔
تاریخ: گمشدہ اوراق (2011ء)۔
مضامین: ’’طبقاتی جدوجہد اور بنیاد پرستی (2012ء)۔
…٭…
طاہر مسعود: آپ کے مشہور ناول ’’خدا کی بستی‘‘ کو چھپے ہوئے اب 27 سال ہو چکے ہیں۔ آپ کیا محسوس کرتے ہیں کہ ادب کے میدان میں آپ اپنے مطلوبہ ہدف کو پا چکے ہیں یا ابھی کسی بڑے ناول کا خاکہ ذہن میں موجود ہے؟
شوکت صدیقی: ’’خدا کی بستی‘‘ کی اشاعت کے بعد میری صحافتی مصروفیات اس قدر بڑھ گئیں کہ لکھنے لکھانے کا سلسلہ تقریباً منقطع ہو گیا۔ میرے مسودے ادھورے تھے۔ میں چاہتا تا کہ وقت ملے تو انہیں مکمل کروں‘ آخری شکل دوں‘ لیکن وقت کا دامن تنگ تھا۔ بالآخر میں نے اپنے ادبی مقاصد کی تکمیل کے لیے صحافت کو خیر باد کہہ دیا اور ایک ناول ’’جانگلوس‘‘ شروع کیا۔ جو اب خاصا طویل ہو گیا ہے۔ اٹھارہ سو سترہ صفحات کا یہ ناول نصف کے قریب ’’سب رنگ ڈائجسٹ‘‘ میں چھپ چکا ہے اور نصف اشاعت باقی ہے۔
طاہر مسعود: میرے دو ناول ’’جانگلوس‘‘ اور ’’چہار دیواری‘‘ کے عنوان سے ڈائجسٹوں میں شائع ہو رہے ہیں۔ میں ان ناولوں کو اسی سنجیدگی سے لکھ رہا ہوں‘ جیسے میں نے ’’خدا بستی‘‘ لکھی جس طرح میں افسانے لکھتا رہا ہوں‘ مجھے ہمیشہ یہ خیال رہا کہ یہ ناول بعد میں کتابی صورت میں شائع ہوں گے اور میری ادبی تخلیق متصور ہوں گے۔ ایک وضاحت ضروری ہے وہ یہ کہ ان ناولوں کو لکھتے وقت میں اپنے قاری کے بارے میں پہلے کبھی اتنا محتاط‘ چوکنا اور حساس نہ تھا۔ اس طرف آکر مجھے اندازہ ہو ا کہ خالص ادب کے قاری اور ڈائجسٹ کے قاری کے مزاج اور پسند میں اختلاف پائے جاتے ہیں۔ ادب کا قاری مطالعے کے ضمن میں تربیت یافتہ ہوتا ہے جب کہ ڈائجسٹ کا قاری اتنا تربیت یافتہ نہیں ہوتاگا۔ اس میں مختلف ذہنی سطح کے لوگ شامل ہوتے ہیں جنہیں الفاظ کی نشست و برخاست‘ ان کی تربیت‘ حسن انتخاب اور بات سے بات پیدا کرنے کے ہنر سے قطعی دل چسپی نہیں ہوتی۔ وہ تو بس چاہتے ہیں کہ جب کہانی پڑھنا شروع کریں تو آخر تک پڑھتے چلے جائیں۔
میں ڈائجسٹوں کی جانب بہ امر مجبوری گیا کہ وہاں سے معقول معاوضہ ملتا ہے۔ برعکس اس کے ادبی رسائل میں معاوضے کا تصور ہی محال ہے۔ حالانکہ میں اپنا شمار ان ادیبوں میں کرتا ہوں جنہوں نے ہمیشہ اپنی تحریر کا معاوضہ وصول کیا ہے‘ خواہ وہ ’’نقوش‘‘ اور ’’سویرا‘‘ جیسے دقیع ادبی رسائل ہی کیوں نہ ہوں۔ معاوضہ وصول کرنے کی اپنی ایک منطق ہے۔ وہ جو کسی نے کہا ہے کہ محنت باپ ہے اور یہ زمین ماں ہے۔ ان دونوں کے امتزاج و اتحاد سے تخلیق اور ارتقا کا عمل جاری ہے۔ تو جب محنت اللہ کی جانب سے انسان کو بخشی ہوئی سب سے بڑی نعمت ہے تو پھر اس کا معاوضہ بھی ہونا چاہیے۔ مزدور‘ کاری گر‘ بڑھئی‘ کلرک‘ افسر غرض کہ ہر ایک کو اس کی محنت کا معاوضہ ملتا ہے۔ صرف ایک بے چارہ ادیب ہی اس سے محروم ہے۔ میں نے ادب سے برگشتہ ہو کر صحافت کا دامن تھاما تھا اس لیے کہ ادب سے پیٹ کی بھوک نہیں مٹتی۔ ادب پیشہ نہیں ہے۔ فیض جیسے شاعر کو بھی ملازمت کرنی پڑتی ہے۔خواہ وہ ملازمت ’’لوٹس‘‘کی وہ‘ عبداللہ کالج کی یا ’’پاکستان ٹائمز‘‘ کی۔ ڈایجسٹوں نے ادیبوں پر معاشی آسودگی کے دروازے کھول دیے ہیں‘ البتہ اس کے عوض ادیب کو خالص ادب کے بجائے ویسا ہی مال دینا پڑتا ہے جس کی مارکیٹ میں مانگ ہو‘ جو بکتا ہو۔
طاہر مسعود: ڈائجسٹوں میں لکھنا بلا شبہ معاشی اعتبار سے منافع بخش ہے لیکن اس کی وجہ سے کئی بنیادی نوعیت کے مسائل پیدا ہو گئے ہیں۔ آپ یہ تو تسلیم کریں گے کہ بڑا ادب ہمیشہ ’’اندرونی ضرورت‘‘ کے تحت تخلیق کیا گیا ہے۔ ڈائجسٹوں کی اپنی ضروریات ہوتی ہیں جو ادیب کو اپنا پابند بنا کر اس کے آزاد ذہنی اور تخلیقی سرگرمیوں میں حائل ہوتی ہیں۔ نتیجتاً ادیب کے تخلیق کردہ فن پارے کا درجہ فنی اعتبار سے بلند نہیں ہو پاتا کیوں کہ وہ ایک خاص قسم کے قاری کی ذہنی سطح اور پسند و ناپسند کو مدنظر رکھ کر تخلیق کیا جاتا ہے۔ کیا آپ محسوس نہیں کرتے کہ ’’خدا کی بستی‘‘ کو آپ نے جس خلوص اور جذبے کی صداقت سے لکھا تھا۔ ’’جانگلوس‘‘ لکھتے وقت ڈائجسٹ کے مطالبات کو اس ادبی خلوص پر اوّلیت حاصل رہی؟
شوکت صدیقی: بعض ایسے ادیب جو ڈائجسٹوں کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر لکھتے ہیں اور قارئین میں مقبول بھی ہیں‘ ادیبوں کا حلقہ انہیں ادیب ہی نہیں تسلیم کرتا۔ میں نے ڈائجسٹوں کی ضروریات کو کبھی مقدم نہیں جانا۔ سیدھی سی بات یہ ہے کہ میرے ذہن میں ناول کاایک خاکہ تھا‘ اس پر میں نے کام کیا اور ڈائجسٹ کے مدیر کے پاس جا کر پوچھا‘ میں ایک ناول لکھنا چاہتا ہوں‘ کیا آپ اسے شائع کرنا پسند کریں گے؟ طاہر مسعود صاحب! اگر آپ نے میرے افسانے پڑھے ہیں تو آپ نے یقینا اس میں دل چسپی کا عنصر پایا ہوگا۔ میں نے قاری سے ہمیشہ اپنا رشتہ برقرر رکھا ہے۔ میں ان ادیبوں میں سے ہرگز نہیں ہوں جو یہ سوچتے ہیں کہ مجھے لکھنا تھا‘ میں لکھ دیا۔ اب قاری کو پسند آئے یا نہ آئے‘ مجھے اس سے کوئی غرض نہیں۔ ادب ایک سماجی فریضہ ہے۔ میں نے اس فریضے سے کبھی روگردانی نہیں کی۔ میں نے ’’خدا کی بستی‘‘ کو جس لگن سے لکھا تھا‘ اسی خلوص اور جذبے سے ’’جانگلوس‘‘ تحریر کیا ہے تاکہ اس کی اشاعت کے بعد لوگ اسے دوسرے درجے کی تحریر نہ قرار دیں۔
طاہر مسعود: آپ نے طویل عرصے سے ادبی رسائل میں چھپنا ترک کر رکھا ہے‘ مادی فوائد کے حصول کے علاوہ بھی اس کے کچھ اسباب ہیں؟
شوکت صدیقی: ادبی رسائل تقریباً ختم ہو چکے ہیں۔ ’’افکار‘‘ واحد پرچہ ہے جو پابندی سے نکلتاہے ورنہ نقوش‘ فنون‘ نیا دور‘ سیپ اور اوراق سال ڈیڑھ سال بعد شائع ہوتے ہیں۔ پھر یہ کہ میں نے اس عرصے میں افسانے بھی نہیں لکھے۔ صحافت اور کالم نویسی ترک کرنے کے بعد جسم و جاں کا رشتہ برقرار رکھنے کے لیے اپنی محنت بیچنی پڑی۔ ادب میری سماجی ضروریات کی تکمیل سے معذور تھا۔ جب تک مجھ پر بال بچوں کی ذمہ داری نہیں تھی‘ میں نے نہایت لگن سے لکھا‘ لیکن شادی کے بعد فرد کی حیثیت سے مجھ پر ذمہ داریاں عائد ہوئیں اور اب میں انہیں نبھا رہا ہوں۔
(جاری ہے)

حصہ