دوپٹہ

148

۔’’ارے ارے امی ایک منٹ۔‘‘ خالد نے آواز لگائی۔
ردا، جو باورچی خانے سے آنے والی سالن کی خوشبو پر چونک کر چمچ ہلانے کے لیے اُٹھی، تو پیچھے بیٹھے خالد کی آواز پر گھبرا کر گردن موڑی۔ ’’کیا ہوا بیٹا؟‘‘
’’کچھ نہیں امی! بس آپ کے دوپٹے سے چشمہ صاف کررہا تھا۔‘‘
’’توبہ ہے، ٹشو پیپر لے لیا کرو۔‘‘ ردا نے ڈانٹا۔
’’نہیں امی، آپ کے دوپٹے سے زیادہ اچھا صاف ہوتا ہے۔‘‘ ماں سے محبت میں گندھے لہجے میں خالد نے مسکرا کر جواب دیا، جس پر ردا کی ممتا سرشار ہوگئی اور اُس نے بھی مسکراتے ہوئے باورچی خانے کا رُخ کیا۔
یہی ہوا کرتا تھا، ردا کا دوپٹہ کپڑے کا ایسا کثیرالمقاصد ٹکڑا تھا جس میں اولاد کے کئی مسائل کا حل تھا۔ آج ہی صبح نبیہہ کی آنکھ میں شاہد نے کھیلتے ہوئے انگلی ڈال دی وہ تو گرتی پڑتی ایک آنکھ سے دیکھتی ہوئی ’’امی… امی…!‘‘ کا نعرہ لگاتی، آنسو بہاتی ماں کے سر پر پہنچ گئی، اور جھٹ ماں نے بھی فرسٹ ایڈ یعنی اپنا دوپٹہ اُٹھایا اور پھونک مار مار کر آنکھ کی سکائی شروع کردی۔ یوں نبیہہ کو تسلی ہوئی۔
ماں تو ہے ہی محبت کا دوسرا نام، جب بھی فائزہ کی اپنی سہیلی سے لڑائی ہوجاتی وہ اپنے آنسو ردا ہی کے دوپٹے سے خشک کرتی۔ ’’کئی مرتبہ کہا ہے اتنی چھوٹی چھوٹی باتوں پر اپنی سہیلیوں سے لڑائی نہ کیا کرو۔‘‘
’’امی! آپ کو نہیں پتا…‘‘ اور دھائیں دھائیں روتی امی کے دوپٹے میں منہ چھپا لیتی، اور ردا پیار سے فائزہ کے بال سمیٹتی اُسے درگزر کے گُر سکھاتی۔
یہی دوپٹہ ہوا کرتا تھا جو ڈھائی سالہ فہمینہ نیند کی آمد کے ساتھ ہی اپنے سینے سے لگاکر ہاتھوں کے دائرے میں سمیٹ کر دنیا و مافیہا سے بے خبر سوجاتی۔ پھر یہی دوپٹہ تھا کہ جوں ہی ردا نماز کے لیے کھڑی ہوتی، ندا بھاگ کر ردا کی الماری سے دوپٹہ کھینچ لاتی اور برابر میں نماز شروع کردیتی۔ یہ ردا کا دوپٹہ ہی تو تھا جو وہ رب کے آگے جھولی کی طرح پھیلا کر اولاد کے لیے دو جہاں کی عافیت مانگتی۔
یہ صرف ایک آنچل ہی نہیں، یہ محض کپڑے کا ٹکڑا نہیں، یہ اللہ اور رسولؐ کی محبت کے بعد سب سے زیادہ برستی ہوئی محبت کی بارش ہے، اُس محبت و الفت کی جو بچے کی تخلیق سے شروع ہوکر اولاد کی آخرت کے سنور جانے کی فکر تک جاتی ہے۔ ماں وہ ہستی ہے جس کی آنکھوں سے ہر دو صورت میں آنسو رواں ہوجاتے ہیں چاہے وہ اولاد کی تکلیف یا کامیابی کے لیے ہو، خاندان کے استحکام و خوش حالی کے لیے ہو اُس کے دل کو متاثر کرتے ہیں۔ یہ ایک ایسا ٹھنڈا اور میٹھا چشمہ ہے جو مانگے یا بِن مانگے محبت اور تحفظ سے سیراب کرتا ہے۔ مگر شاید ہمیں اِس نعمت کی قدر نہیں۔ ہم اندھا دھند اُن معاشروں کی تقلید میں لگے ہوئے ہیں جہاں اولادیں آیاؤں اور ڈے کیئرز کی نذر ہورہی ہیں۔ وہ آیائیں کہ جن کے ہاتھ میں نہ محبت کا لمس ہے اور نہ رہنمائی کا جذبہ۔
آج کثرت سے ڈے کیئرز قائم ہورہے ہیں، لیکن یہ ضرور یاد رکھنا چاہیے کہ آج کا ڈے کیئر آنے والی نسلوں میں اولڈ ہومز قائم کرنے کا جذبہ شدید کردے گا جو کہ نظر آنا شروع ہوچکا ہے۔ یہی معاشرہ ہے جو ننھے وجودوں سے ماں چھین کر انہیں آیا اور ماسی دے رہا ہے، جو کہ محبت کا لمس اور نرم بوسے سے محروم ہوکر جھنجھلاہٹ اور ڈانٹ کی سختی کا شکار ہورہے ہیں۔ وہ مائیں کہاں سے آئیں گی جو بیٹیوں کو نسلوں کی تربیت کرنا سکھائیں، اور بیٹوں کے سینے اللہ اور رسولؐ کے لیے غیرت سے بھردیں، جنھیں حلال و حرام کی تمیز سکھائیں۔ اس وقت ہم اپنی اولاد سے مسلسل غافل ہیں اور اُن کے ہاتھوں میں موبائل گیمز، کمپیوٹر اور ٹیبلٹس تھما کر انہیں مصروف کردیا ہے۔ یہ بچے بہت تیزی سے اپنی بنیادوں، خاندان اور اپنے دین سے دور ہورہے ہیں۔ ہمیں ضرور اس پر سوچنا ہوگا۔ یہ ہمارے کل کا سوال ہے، ورنہ یہ وہ نقصان ہے جس کا ازالہ ممکن نہیں۔

حصہ