کہاوت کہانی

86

وہی مرغے کی ایک ٹانگ

کوئی اپنی ضد پر اَڑ جائے اور کسی طرح بات نہ سنے تو یہ کہاوت کہی جاتی ہے۔ اس سے ایک دلچسپ کہانی وابستہ ہے۔
کسی بادشاہ کے دسترخوان پر مرغ پک کر آیا تو باورچی نے للچا کر ایک ٹانگ ہڑپ کر لی۔ بادشاہ کے سامنے جب ایک ہی ٹانگ پہنچی تو اس نے باورچی سے وجہ دریافت کی۔ اُس نے ہاتھ جوڑ کر کہا کہ ’’حضور! اس مرغ کی ایک ہی ٹانگ تھی۔‘‘ بادشاہ نے کہا کہ’’ کہیں مرغ کے ایک ٹانگ بھی ہو ا کرتی ہے؟ مجھے بھی ایسا مرغ دکھانا‘‘۔ کچھ دنوں کے بعد بادشاہ سلامت کہیں جا رہے تھے۔ سڑک کے کنارے ایک مرغ ایک ٹانگ پر کھڑا ہوا تھا۔ باورچی نے عرض کی کہ’’ دیکھیے حضور! وہ رہا ایک ٹانگ کا مرغ۔‘‘ بادشاہ نے حکم دیا کہ اسی وقت ڈھول بجایا جائے۔ ڈھول کی آواز سے گھبرا کر مرغ نے اپنی دوسری ٹانگ پروں سے نکالی اور بھاگ لیا۔ بادشاہ نے باورچی کی طرف دیکھا تو اس نے عاجزانہ کہا کہ ’’حضور! اُس دن میرے پاس ڈھول نہیں تھا ورنہ میں بھی بجوا دیتا اور مرغ کی دوسری ٹانگ بر آمد کر لیتا‘‘۔ بادشاہ اُس کی حاضر جوابی پر ہنس پڑا اور اس کو انعام و اکرام سے نوازا۔
یہ کہاوت اب ہٹ دھرمی پر بولی جاتی ہے۔

حصہ