تہذیبوں کا تصادم

117

مصنف : شاہنواز فاروقی
قیمت 300 روپے۔صفحات : 216
ناشر : اسلامک پبلی کیشنز (پرائیوٹ) لمیٹڈ
042-35252501-2فون :
0322-4673731موبائل :
ای میل : islamicpak.com.pk
ویب گاہ : www.islamicpak.com.pk
042-35252503فیکس :
سقراط نے کہا تھا کہ میں ایک ایسی بڑ مکھی ہوں جو لوگوں کو کاٹ کاٹ کر انہیں سوچنے پر مجبور کر رہا ہوں،ہمارے عہد میں یہی کام ان دنوں شاہنواز فاروقی کر رہے ہیں،وہ ایک کہنہ مشق صحافی، قلم کاراور معروف دانشور ہیں۔وہ گزشتہ تین عشروں سے اپنے قلم کی نوک سے اپنے سماجی و تہذیبی شعور کو برت رہے ہیں،شاہنواز فاروقی پختہ سیاہی سے اپنانام اخبارات و جرائد میں دیکھ کر جی خوش کرنے والے ان کالم نگاروں میں نہیں جو ادھر ادھر کی معلومات جمع کرکے قارئین کی سمع خراشی کر رہے ہیں اورجس کا انہیں ادراک تک نہیں،بلکہ ان کی جملہ تحریریں ان کے قارئین کے لیے food for thoughtکا کام دیتی ہیں.ستائش کی تمنا اور صلے کی پروا کیے بغیر وہ قلم کے محاذ پر مورچہ بندہوکر” قلم قبیلہ “سے وابستہ پوری برادری کا فرض کفایہ ادا کررہے ہیں۔
سیموئن پی ہنٹنگٹن کی کتاب Clash of Civilizationکے منصہ شہود پر آنے کے بعد مختلف حلقہ ہائے دانش کی طرف سے اس حوالے سے جس نوع کے خیالات کا اظہار کیا گیا اور جو بھانت بھانت کی بولی بولی گئی،اس سے محسوس ہوتاہے کہ اس موضوع پر بات کرنے والے نہ تہذیب کے ت، سے واقف ہیں اور نہ ب سے ،ایسی صورتحال میں شاہنواز فاروقی کی مذکورہ کتاب کا دوبارہ طباعت کے بعد مارکیٹ میں آنا خوش آئند امر ہے۔
“تہذیبوں کا تصادم “میں شاہنواز فاروقی نے نہ صرف مغربی تہذیب اور اس کے فکر و فلسفے کا احاطہ کیا ہے بلکہ قارئین کی تفہیم کے لیے تہذیبوں کی تشکیل کے اصول و مبادی اور اساسی عقائد کا تفصیلاً ذکر کیا ہے،انہوں نے اپنی کتاب میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودوی،علامہ اقبال،اکبر الہ آبادی،سید قطب اور محمد قطب کی تحریروں کے حوالے سے اس امر کی نشاندہی کی ہے کہ اسلامی اور مغربی تہذیب کا تصادم زندگی کے کن کن دائروں میں جاری ہے.
کوئی وقت تھا کہ مسلم معاشرے میں مغرب سے تعلق کی نوعیت اور اس کے تہذیبی اثرات سے بچنے کا شعور اس درجے کو پہنچا ہوا تھا کہ بعضے مغرب کی بود و باش تو کجا اس کی لغت سے بھی گریز کرتے تھے اوراس شبہے میں کہ کہیں ٹماٹرTomatoکی بدلی ہوئی شکل نہ ہواسے ٹماٹر کی بجائے لال بینگن کہا کرتے تھے،اوراب صورتحال یہ ہے کہ معاشرہ دوش تا کمر مغرب کے رنگ میں رنگ ہواہے اورمعاشرہ اس مجہولانہ روش سے بھی واقف نہیں،کتاب میں شاہنواز فاروقی مغرب سے مسلمانوں کے تعلق کی اصل نوعیت کو نمایاں کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:۔
“گزشتہ دو سال سے پوری دنیا کے مسلمانوں کی زندگی کا سب سے اہم سوال یہ ہے کہ مغرب کے ساتھ ہمارے تعلق کی نوعیت کیا ہے؟ اس حوالے سے پوری مسلم دنیا تین گروہوں میں منقسم ہے۔ مسلم دنیا کا ایک گروہ ہے جو مغرب سے متاثر ہی نہیں بلکہ مرعوب ہے، اور وہ مغرب کو ’’حق‘‘ سمجھتے ہوئے اُسے سو فیصد قبول کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ مسلمانوں کی ’’نجات‘‘ مغرب کی پیروی میں ہے۔ مسلمانوں کا دوسرا گروہ وہ ہے جو اسلام اور مغرب کا ’’امتزاج‘‘ تیار کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ ہماری تمام ’’کامیابیاں‘‘ اس امتزاج سے نمودار ہوسکتی ہیں۔ مسلمانوں کا ایک بہت ہی چھوٹا گروہ وہ ہے جو مغرب کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ مغرب باطل ہے، چنانچہ اسے اصول حیات نہیں بنایا جا سکتا”۔
شاہنواز فاروقی کی اس کتاب میں ادب کی لطافت بھی ہے اور زبان کی شیرینی بھی ،کئی مقامات پرلطیف طنز کی کاٹ بھی ،یہ کتاب زندگی کو دیکھنے،برتنے اور گزارنے کا تناظر بھی فراہم کرتی ہےجس سے زندگی کے مسائل و معاملات کی تفہیم کی راہ آسان ہوجاتی ہے.یہ کتاب علم و ادب سے وابستہ افراد،ر یونیورسٹیز اور کالج کے طلبہ کو ضرور پڑھنی چاہیے تاکہ انہیں معلوم ہو کہ اقبال نے مغرب کی اس تہذیب کو جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری کیوں قرار دیا تھا۔

حصہ