سینیٹ، پیٹریارچی اور سوشل میڈیا

70

آج7مارچ ہے ، اگر ٹوئٹر کی ٹرینڈ لسٹ پر جھانکیں گے تو آپ کو عالمی یوم خواتین کی دھما چوکڑی ضرور دکھائی دے گی۔ یہ صرف قومی سطح پرنہیں بلکہ عالمی سطح پربھی نظر آئے گا۔کل ۸ مارچ کو ایک بار پھر فریئر ہال میں کراچی کی چند سو ’لبرل خواتین ‘ اپنے ’ایجنڈے‘ کے ساتھ ’عورت دھرنا2021‘کے عنوان سے جمع ہوں گی۔ مجھے یاد ہے کہ جماعت اسلامی نے سندھ اسمبلی کے ایم پی اے نے   اس مارچ کے خلاف پچھلے سال 2020میں اسمبلی میں احتجاج کے علاوہ تھانے میں ایف آئی آر بھی درج کرائی تھی ، لیکن کوئی کارروائی نہ ہو سکی۔یکم مارچ سے انہوں نے اپنے فیس بک پیج پر اس رضاکاروں بمشکل 34ہزار لائکس کا فیس بک پیج بنایا ہوا ہے مگر آپ دیکھیں کہ اُن کے نام کے ساتھ ایک ’بلیو ٹِک‘ کا نشان بتا رہا ہے کہ یہ ’ویری فائڈ پیج‘ مطلب اس پیج کو فیس بک انتظامیہ نے ’مصدقہ پیج ‘قرار دیا ہے ۔میں گواہ ہوںکہ ایسی ’سند‘ کی سہولت کئی لاکھ لائکس والے فیس بک پیجز کو باوجود کوشش تاحال حاصل نہیں ہو سکی ہے۔امسال عورت مارچ آرگنائزر نے کورونا کے تناظر میں ’خواتین کی صحت کے مسائل ‘ کو اپنے احتجاج کی تھیم بنایا ہے ۔ان کے مطابق PATRIARCHY کی وجہ سے خواتین کو سارےمسئلے درپیش ہیں اس لیے آپ کو کل اس پر خاصے پوسٹر نظر آئیں گے۔اس کا لفظی و لغوی مطلب یہی ہے کہ ’ ایسا معاشرہ جس میں مرد کے پاس تمام اختیارات ہوں یا وہی غالب ہوتمام شعبہ جات میں۔اِسی سارےچکر میں ’بہن چارہ‘ کی ایک اصطلاح بھی لانچ کی۔اس کے ذیل میں بہت کچھ باآسانی سمجھا جا سکتا ہے ۔عورت دھرنا منتظمین نے اپنی پیش کردہ تھیم کے مطابق ایک مطالباتی منشور جاری کیا ہے ۔اُس میں بیمارخواتین کی دیکھ بھال ، صنف پر مبنی تشدد اور خواتین کو جسمانی اور ذہنی تحفظ کے ساتھ خواتین کی صحت کے لئے بجٹ میں مختص رقم بڑھانے کا مطالبہ کیا گیاہے ۔طبی عمل کے دوران خواتین کی پرائیوسی کے حق کے علاوہ منشور میں قیدی خواتین ، بچپن کی شادی اور زبردستی مذہبی تبدیل کرنے والی خواتین کی خصوصی صحت کی دیکھ بھال کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔دوسری جانب دینی جماعتیں بھی اس دن کو اپنے انداز سے تیار کر رہی ہیں۔ جماعت اسلامی کا خواتین ونگ اس ضمن میں ایک ماہ سے ملک گیر مہم چلا رہا ہے یہ سمجھانے کے لیے کہ عورت بنیادی طور پر خاندان چلانے کی ذمہ دار ہے اور مضبوط خاندان ہی مستحکم معاشرہ بنا سکتاہے ۔کہتے ہیں کہ ’جمہوریت‘ مغرب کا ایجاد کردہ نظام ہے ، جسے اُس نے اپنے نوآبادیاتی دور میں اپنی قابض کالونیز پرمسلط کیا۔ ہندوستان پر انگریز غلامی کے اثرات کی وجہ سے یہ سلسلہ یہاں بھی پہنچا ۔ خلافت یا ماضی کی طرح کی انقلابی بادشاہت کو سامراج نے ویسے ہی ختم کر دیا تھا اسلیے جمہوریت کو بطور نظام اَپنانے کے سوا کوئی آپشن نہیں تھا ، البتہ پاکستان کی حد تک مارشل لا بھی خاصا عرصہ چلا۔بہرحال لولی لنگڑی یا جیسی بھی جمہوریت اپنائی گئی اُس کا ویسا خیال نہیں رکھا گیا۔ چونکہ سرمایہ دارانہ نظام میں مال و زر ، حرص و ہوس و اقتدار ہی سب کچھ ہوتا ہے اس لیے اُس کو پانے کی خاطر تمام حدود و قیود کو توڑا جا سکتا ہے ۔ پس اسی روح کے ساتھ پاکستان میں جمہوریت کی ایک بگڑی شکل رائج ہے جسے عوام کی فلاح و بہبود کے نام پر عوام بھگت رہے اور خواص عیاشی کر رہے ہیں۔پاکستان کی بیوروکریسی و حکمران طبقہ نے جمہوریت اور جمہوری عمل پر ایسا شب خون مارا کہ اب وہ بھی صرف نام کی ’جمہوری ‘رہ گئی ہے باقی کچھ نہیں ، اس کے لیے پاکستان میں ہر سطح کے انتخابات اس کی بہترین مثال ثابت ہوتے ہیں۔اس ہفتہ ایوان بالا یعنی سینیٹ کے انتخابات سوشل میڈیا پر کلیدی موضوع بنے رہے۔یکم مارچ سے ۴ مارچ تک ٹرینڈ لسٹ پر کسی نہ کسی شکل میں منڈلاتے رہے ۔جو کچھ اس الیکشن سے قبل لین دین ، خرید و فرخت کا تماشہ چلا وہ سب نے دیکھا ۔ مگر حقیقت یہی ہے کہ عوام یہ باتیں اُس طرح نہیں سمجھ سکتے جیسا اِن کو سمجھنا ضروری ہے یہ ضرور ہے کہ ایسی تمام حرکتوں سے پورے نظام الیکشن کی شفافیت پرسوال اٹھ رہا ہے اور ساتھ ہی عوام کا بھی نام نہاد جمہوری عمل سے اعتماد ختم ہوتا جارہا ہے۔ہوا بھی یہی کہ ہمارے وزیر اعظم عمران خان نے سینیٹ انتخابات میںبڑے اعتماد سے اپنا اہم کھلاڑی میدان میں اتارا یعنی ’عبد الحفیظ شیخ‘اور بڑے دعوے و چیلنج کیے مگر حیران کن طور پر حزب اختلاف کے نامزد ’ یوسف رضا گیلانی‘ بازی لے گئے۔ اب وزیر اعظم نے نتائج کے بعد اسمبلی توڑنے والے وعدے کےبجائے ’اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کا اعلان کر دیا ہے۔یوں ٹوئٹر پر اپوزیشن کی جانب سے خوب گت بنائی جا رہی ہے ۔ ایسے میں جب ویڈیوز لیک ہو رہی تھیں، اسمبلی اراکین کے ووٹوںکے لیے کروڑوں روپے کی بولیاں لگ رہی تھیں، خفیہ رائے شماری رکوانے کے لیے حکومت کے تمام حربے ناکام ہو چکے تھے ، سب کچھ بہت آسان تھا ، ایسے میں ۲ سیاسی جماعتوں نے بڑے فیصلے کیے ۔ تحریک لبیک پاکستان اور جماعت اسلامی پاکستان نے مرکز اور سندھ میں ووٹ نہ ڈالنے کا فیصلہ کیا ، صرف کے پی میں اپوزیشن کے ساتھ اپنی شرائط پر ووٹوں کا تبادلہ کیا گیا۔
پاکستانیوں سچ کو مانو ، حق کو تسلیم کرو۔جماعت اسلامی کو مضبوط کرو ‘۔ دوسری جانب قاسم خان سوری کا حکومتی بیانیہ اس پیرائے میں رہا ’ووٹ کو عزت دو‘کے ڈرامہ بیانیے سے اپنی موروثی نوٹ کو عزت دو کرپٹ سیاست کے بل بوتے پر سینیٹ کے انتخابات میں حفیظ شیخ کو ہارس ٹریڈنگ کے ذریعے ہرایا گیا، پاکستان تحریکِ انصاف کے امیدواروں نے اسلام آباد کی خواتین کی نشست سمیت ملک بھر کی تمام نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔‘BEHINDYOUSKIPPER ، vOTEOFCONFIDENCE، کپتان سب پر بھاری ، قوم کا مان عمران خان اور دیگر ہیش ٹیگ ٹرینڈ بنائے گئے البتہ اپوزیشن نے بھی زرداری، گیم ااور عمران خان،اس ہفتہ غازی تنویر قادری کا یوم پیدائش بھی ٹوئٹر پر خوب جارحانہ انداز سے ٹرینڈ کی صورت منایا گیا۔اس کی بدولت لوگوں کو جاننے کا موقع ملا کہ ناموس رسالت ﷺ کا یہ عظیم غازی 32سالہ ایک ایسا نوجوان ہے جس نے اسکاٹ لینڈ یارڈ میں رہتے ہوئے ،وہاں کی چکا چوند میں رہنے کے باوجود ایمانی حلاوت کے ساتھ اپنے رسول ﷺ سے تعلق کو زندہ کر دکھایا۔5 ماہ سے گلاسکو میں مقیم اسد نامی ایک دکان دار شاتم رسول ہونے کے ساتھ ایک خود ساختہ دین کا موجد بن کر سوشل میڈیا کو استعمال کر رہا تھا ۔ ویسے تو قادیانی تھا جسے اپنے اِس عمل پربرطانوی واسکاٹش گورنمنٹ کی شے بھی ملی ہوئی تھی ۔اُس نے کام یہ کیا تھا کہ مقامی عیسائی آبادی کو ٹارگٹ کرنے کے لیے عیسائی عقائد کو اپنے کفریہ نظریات کے ساتھ ملا لیا تھا جس سے اُس کو مقامی مریدمیسر ہوئے ۔24 مارچ 2016کو اسکاٹ لینڈ سے گلاسکو کا سفر کر کے اسد کذاب کی دکان میں گُھس کر اُس کو مار ڈالا۔قادیانیت و عیسائیت میں صف ماتم بچھانے والا عظیم مُجاھد آج بھی پابند سلاسل ہے۔
پی ایس ایل 2021کےلانچ ہونے والے گانے کے بعد ہی لوگ سمجھ گئے تھے کہ معاملہ گڑ بڑ ہے ۔پشاور زلمی کوملنے والی رعایت نے رنگ دکھایا اور بعد ازاں کورونا نے رنگ دکھایا جس کے بعد شعیب اختر کا یہ کہنا غلط نہیں لگا کہ ،’ پی سی بی دنیا کا وہ واحد ادارہ ہے جس کے نااہل ہونے پر کسی کو کوئی شک نہیں ہونا چاہیے ۔ پی سی بی کو اتنی عقل نہیں تھی کہ آپ جا کر ایک ہوٹل ہی پورا بک کروا لیں ، جہاں کھلاڑی ٹھہرے وہاں شادیاں بھی ہو رہی ہیں اور لوگ بھی آ جا رہے ہیں۔ آپ نے ملک کی ساکھ کے ساتھ کھیلاہے ، آپ کے پاس نالائق لوگ ہیں ، چیئرمین پی سی بی کو جواب دینا چاہیے ، میں اعلیٰ عدلیہ سے درخواست کرتاہوں کہ وہ اس کا نوٹس لیں اور انکوائری کروائیں ۔کیوں نہیں ہوٹل پورا بک کروایا گیا ، پوری دنیا میں ہوٹل بند کردیا جاتاہے اس میں کوئی آ اور جا نہیں سکتا ،لیکن یہاں پر کوئی گالف کھیلنے جا رہاہے ، تو کوئی بال کٹوارہا ہے ۔‘پھر چراغوں میں روشنی نہ رہی اور بالآخر پی ایس ایل ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا گیا۔اس کی آڑ میں شائقین کرکٹ نے وہاب ریاض، ڈیرن سیمی، جاوید آفریدی، پی سی بی مینجمنٹ کو خوب رگڑے لگائے ۔میمز کی بھرمار تھی جس کو جو سمجھ آیا لگاتا رہا۔

حصہ