ایک سو پانچ سالہ خاتون کی ہمت اور استقامت کی داستان

103

صغیرہ خاتون اپنی پیدائش کا سال اندازاً 1915ء بتاتی ہیں۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو ان کی عمر ایک سو پانچ سال سے اوپر ہی ہوگی، لیکن ذہنی اور جسمانی دونوں لحاظ سے وہ مکمل ہوش و حواس رکھتی ہیں۔ انہیں اپنی زندگی میں گزرے واقعات یاد ہیں۔ ان کی زندگی عورت کی ہمت،بہادری، ایثار اور استقامت کی داستان ہے۔ سب سے بڑھ کر ہر قسم کی مشکلات کے باوجود انہوں نے اپنے بچوں کی تربیت جس طرح کی وہ آج کی خواتین کے لیے مثال ہے۔ ہم نے ان سے ملاقات کی، ان سے ہونے والی گفتگو انہی کی زبانی ہم یہاں اپنے قارئین کی دل چسپی کے لیے پیش کر رہے ہیں۔

میں نے اپنی ماں کو نہیں دیکھا، وہ میرے ہوش سنبھالنے سے پہلے ہی انتقال کرچکی تھیں۔ ہم اجمیر میں رہتے تھے۔ ہمارے والد وہاں کے کھاتے پیتے خاندان سے تھے، ان کے دو گھر تھے، ایک میں تو ہم رہتے تھے اور دوسرے کو انہوں نے کرائے پر دیا ہوا تھا۔ جس گھر میں ہم رہتے تھے وہ بلندی پر تھا جہاں سے مزار نظر آتا تھا۔ مزار کی پہاڑی پر چراغاں ہوتا تھا۔ اُس وقت ہم وہاں یہ تماشا دیکھا کرتے تھے کہ عرس کے موقع پر ناچتے، گاتے، ڈھول بجاتے، چادریں لے کر لوگ جایا کرتے تھے چڑھانے کے لیے۔ ہمیں اُس وقت تو یہ سمجھ نہیں تھی کہ یہ بدعت ہے، ہم دلچسپی سے دیکھتے تھے۔ یہ تو بعد میں جماعت اسلامی کی قرآن کی کلاسوں میں جاکر پتا چلا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سب کی سخت ممانعت فرمائی ہے۔
ہماری والدہ کا انتقال ہمارے بچپن میں ہوچکا تھا۔ پھوپھی بھی کوئی نہیں تھی۔ والد نے دوسری شادی کرلی تھی۔ ان کا انتظام علیحدہ تھا۔ ایسا کچھ خاص تو یاد نہیں کہ بچپن میں تربیت کس نے کی، لیکن کھانا پکانا، سلائی کرنا گھر کی کھانا پکانے والی بوا سے سیکھا۔ پڑھائی نہیں ہوسکی، کیوں کہ اُس وقت لڑکیوں کی پڑھائی عام نہیں تھی۔ہمارے دادا کا آبائی مکان امروہہ میں تھا۔ شادی وہیں سے ہوئی۔ اُس زمانے میں شادیوں میں سارے رشتے دار ہفتوں کے لیے جمع ہوتے تھے۔ سادگی کا زمانہ تھا۔ کھانے بھی دو ہی طرح کے ہوتے تھے، ایک چاول، ایک روٹی، اور ایک میٹھا جو عموماً کھیر ہی ہوتی تھی۔ امروہہ میں دادا کے گھر سے رخصتی ہوئی اور ہم اجمیر آگئے۔ یہاں ساس، سسر، دادی ساس وغیرہ تھیں۔ دادی کے بچے بھی زیادہ تھے، یعنی ہمارے دیور اور ہم سب ساتھ رہتے تھے۔ نہ سیاست کی سمجھ تھی اور نہ ہی کسی بات کا کچھ پتا تھا۔
میاں نے دہلی سے تعلیم حاصل کی تھی۔ سرکاری نوکری تھی۔ پاکستان کی دھوم مچی تو ہمارے شوہر سے پوچھا گیا کہ پاکستان جانا ہے یا ہندوستان میں رہنا ہے؟ انہوں نے پاکستان لکھوا دیا۔ پہلے وہ اکیلے ہی آرہے تھے۔ ہمارے سسر نے کہا کہ تم جہاز سے جائو۔ اس دوران دہلی کے ائرپورٹ پر ہندوئوں نے حملہ کردیا۔
پاکستان بننے کا اعلان ہوا تو میرے دو بچے ہوچکے تھے۔ ایک بیٹا ایک بیٹی۔ اس دوران ساس کا انتقال ہوگیا تھا۔ میرے چھ دیور تھے، وہ بھی اُس وقت چھوٹے ہی تھے۔ بعد میں میرے بھی گیارہ بچے ہوئے جن میں دو بیٹیاں اور پانچ بیٹے حیات رہے اور چار کا انتقال ہوگیا۔الغرض پاکستان بننے سے پہلے ہمارے دو بچے ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہوچکے تھے جن کے ساتھ میں نے ہجرت کی۔
دہلی ائرپورٹ پر حملہ ہوا تو سسر نے میرے میاں سے کہا کہ اب تم اکیلے پاکستان نہیں جائو گے، ہم سب ساتھ جائیں گے۔ اس فیصلے کی ایک اور وجہ بھی تھی، ورنہ کوئی کیسے اپنا بسا بسایا گھر اور کاروبار چھوڑ کر جانے کا فیصلہ کرتا ہے!
جب پاکستان کی قرارداد منظور ہوئی اُس وقت سکون تھا۔ ہندوستان کے مسلمانوں کو آنے والے وقت کے بارے میں اندازہ نہ تھا۔ میرے شوہر کے ایک دوست پہلے پاکستان آگئے تھے۔ انہوں نے دیکھا کہ واپسی میں ہندو گروہ در گروہ لاہور سے دہلی آرہے ہیں کہ مسلمانوں پر حملے کریں گے اور لوٹ مار کریں گے۔ واپسی پر اس نے ہندو کا روپ رکھا کہ جان کا خطرہ تھا۔ سکھ اور ہندو حملہ کرنے کے بارے میں منصوبے بنا رہے تھے اور وہ روتا تھا کہ میرے گھر والے اور مسلمان خطرے میں ہیں۔ ہندو کہتے: فکر نہ کر، ہم مسلوں سے تمہارا پورا بدلہ لیں گے۔ وہ سمجھ رہے تھے کہ اس بے چارے کے ساتھ مسلمانوں نے کچھ بہت ہی برا کیا ہے۔
شوہر کے اس دوست نے آکر ساری بات بتائی اور کہا کہ اب یہاں سے نکل جائو۔ ہمارے سسر نے بھی کہا کہ سب کو نکلنا ہے۔ اسی دوران بلوے شروع ہوگئے۔ پہرے داری شروع کی گئی۔ مرد پہرے داری کے لیے تھے، وہ کہتے تھے کہ حملہ ہو اور ہم مر چکے ہوں تو اوپر سے چھلانگ لگا دینا۔ ہمارے گھر کے قریب ایک سنگی والا کنواں تھا، وہاں مسلمانوں کو مار مار کر ڈالا جاتا تھا، یہاں تک کہ کنواں بھر گیا۔ ہماری رشتے کی ایک بہن کے گھر حملہ ہوا، ہر ایک کو ذبح کردیا گیا، اس کا دیور لاشوں کے نیچے دب گیا تھا۔ حملہ آور بلوائی یہ اعلان کرتے ہوئے نکلے کہ سارے مُسلّے مر گئے ہیں۔ ان کے جانے کے بعد وہ لاشوں کے نیچے سے نکلا۔ پھر رشتے کی بہن بھی زندہ نکل آئی۔ اس کا بچہ ہونے والا تھا، بچ بچا کر ہمارے گھر وہ دونوں آئے تو یہ حالت تھی کہ جیسے لاشیں۔ بہن کا بچہ ہوا تو وہ بھی مرا ہوا، جسے ہمارے صحن میں ہی دفنایا گیا کہ باہر تو نکلا ہی نہیں جا سکتا تھا۔ کھانے پینے کی ہر چیز ختم ہوگئی تھی، بس چنے تھے۔ نمک لگا کر گزارا کرتے رہے۔ اب کیوں کہ ٹرین سے جانا تھا، لہٰذا ہم سب کو گھر سے باہر نکالا گیا۔ شادی کے بعد پہلی بار باہر نکلے تھے۔ سارے مسلمان دہلی کے قلعے میں جمع تھے۔ جس بس میں ہم لوگ دہلی جارہے تھے، وہ راستے میں خراب ہوگئی۔ ہم بھرا گھر چھوڑ کر آئے تھے، بس جان بچا کر نکلے تھے۔ جہاں بس خراب ہوئی وہاں ایک گھر تھا مسلمانوں کا، جو خالی پڑا تھا، وہاں رات گزاری۔ دوسری بس صبح آئی اور اللہ اللہ کرکے ہم لوگ دہلی کے پرانے قلعے پہنچے۔ بہت دور اتار دیا گیا تھا۔ پیدل چلتے چلتے قلعے پہنچے۔ وہاں کچھ نہیں تھا، بس خالی میدان تھا۔ شامیانے تقسیم ہورہے تھے، انہیں لے کر لگایا گیا۔ قریب کسی مسلمان کی لکڑی کی ٹال تھی، انہوں نے اجازت دے دی کہ اس کو استعمال کرلیں۔ پانی بہت تھوڑا سا ملتا تھا۔ راشن میں چاول سگریٹ کے ڈبے سے ناپ کر ایک آدمی کے لیے ایک دن میں ملتا تھا۔ پانی مل جاتا تو دھو کر ابال لیے جاتے اور تھوڑے تھوڑے کھائے جاتے۔
اسی دوران دادی ساس کا انتقال ہوگیا۔ اب سب سوچ رہے تھے کہ کیا کریں؟ کفن کہاں سے آئے؟ ان کی گٹھری کھولی، کیوں کہ گھر سے نکلتے ہوئے سسر نے کہا تھا کہ سب دو، دو جوڑے رکھ لیں۔ انہوں نے اپنی گٹھری میں کفن رکھ لیا تھا۔ ایسے ہوتے تھے بزرگ اُس زمانے میں۔ میں نے ہی نہلایا۔ اب سوچتی ہوں پتا نہیں کیسے نہلایا ہوگا، کیوں کہ اس بارے میں علم ہی نہیں تھا۔ قرآن کی کلاسوں سے اس بارے میں واقفیت ہوئی۔ اب تو میں نے بہت لوگوں کو نہلایا ہے، پھر ہدایات کے لیے کورونا سے پہلے تک لوگ مجھے دور محلوں سے بھی بلا کر لے جاتے تھے۔ دین کا علم اسی لیے ضروری ہے۔ دادی ساس کو پرانے قلعے کے باہر دفن کیا گیا۔ قلعے میں بہت مشکلات ہوئیں۔ مہینے بھر بعد خبر ملی کہ ٹرینیں چل پڑی ہیں۔ پھر ہم سب کو نکال کر اسٹیشن لے گئے اور ٹرین میں بٹھایا گیا۔ ٹرین چل پڑی، لیکن لاہور سے پہلے روک لی گئی۔ اُس زمانے میں ٹرینیں کاٹی جارہی تھیں۔ بڑی دہشت تھی۔ میں نے اپنے بیٹے سلطان کو لپیٹ کر اوپر سامان کے پیچھے ڈال دیا، بیٹی گود میں تھی کہ ساتھ ہی ماری جائیں۔ آخر پوری ایک رات کے بعد صبح ٹرین چلی اور لاہور پہنچی۔ مغل پورہ میں اتار دیا گیا۔ رات وہیں گزاری، صبح ہم جو سرکاری ملازمین تھے انہیں پاگل خانے پہنچا دیا گیا کہ یہاں ٹھیریں۔ پاگلوں سے کچھ کمرے خالی کرائے گئے تھے۔ رات میں پاگلوں کی چیخ پکار سے بھی نیند نہیں آتی تھی اور پھر ان کے کمروں میں اندر سے کنڈی نہیں ہوتی تھی، اس لیے ڈر تھا کہ کوئی آ نہ جائے۔ پھر ہم کراچی آگئے اور کھارادر میں ایک گھر ہمیں الاٹ کردیا گیا۔ ہجرت کے وقت جو بیٹی ہمارے ساتھ تھی وہ بھوک، پیاس اور سفر کی مشکلات کے باعث بیمار ہوگئی اور اس کا انتقال ہوگیا۔ ابھی تک کھانے پینے کی پریشانی تھی کہ سرکاری نوکری سے پیسے نہیں ملے، جو پاس تھے وہ ختم ہوگئے تھے۔ بچی کے کفن دفن کے لیے بڑی مشکل سے انتظام کیا۔ کراچی میں بہت تنگی میں گزارا ہوا۔
اجمیر اور دہلی ترکمان دروازے میں جائدادیں تھیں، بھرے پرے گھر تھے، لیکن سب چھوڑ کر ہم نے ہجرت کی۔ ہمارا وطن پاکستان بڑی قربانیوں سے بنایا گیا ہے۔ اس کی قدر نہیں کی گئی جیسی کہ کرنی چاہیے تھی۔ وطن تو اپنے گھر کی مانند ہوتا ہے۔ کون اپنے گھر میں چوری اور ڈاکے ڈالتا ہے… اور جو ڈالتے ہیں وہ پاکستان کو اپنا وطن ہی نہیں سمجھتے۔کھارادر کے بعد قاسم آباد میں میرے بچے ہوئے، انہیں پڑھایا لکھایا۔ ہمارے گھر کے سامنے جماعت اسلامی کی راہنما صبیحہ شاہد کا گھر تھا، بس وہاںٍ سے جماعت اسلامی سے تعارف ہوا، وہیں دین کو سمجھا۔ بعد میں میرے بچے جمعیت اور جماعت میں شامل ہوئے۔ سارے بچے تعلیم کے میدان میں بھی آگے رہے، تدریس سے وابستہ ہوئے۔ ایک بیٹی نے غریب بچوں کے لیے اسکول کھولا جہاں یونیفارم اور نصاب بھی فراہم کیا جاتا ہے۔میں پڑھی لکھی نہیں ہوں، لیکن قرآن کو سمجھا اور پھر سمجھایا۔ یہ اللہ کے کرم سے ممکن ہوا۔ اللہ نے مجھے جماعت اسلامی کا ساتھ عطا فرمایا۔ جماعت اسلامی کی سابقہ ناظمہ تحسین فاطمہ کے ساتھ رہی۔ انہوں نے مجھے گوٹھوں اور کچی آبادیوں میں قرآن کی کلاس کے لیے بھیجا۔ اب میری عمر اتنی ہے لیکن کورونا سے پہلے میں درس کے لیے جایا کرتی تھی۔ اب گھر میں ہوں لیکن اِن شاء اللہ حالات ٹھیک ہوتے ہی دوبارہ اسی طرح قرآن کے لیے مصروف ہونے کی خواہش ہے۔

حصہ