میں جھوٹ نہ بولوں گا

87

ایک شریف آدمی نے نہایت شوق سے گھر کے پاس ایک چھوٹا سا باغ لگا رکھا تھا جسے وہ ہر روز اپنے ہاتھ سے سینچتا۔ ایک دن وہ کہیں باہر گیا ہوا تھا کہ اس کا چھوٹا لڑکا ہاتھ میں آری لیے باغ کی سیر کو نکلا اور اس نے آری کو آزماتے آزماتے ایک سب سے اچھا درخت کاٹ دیا۔
شام کو باپ نے آکر باغ کو دیکھا تو اس درخت کو کٹا ہوا پا کر بہت غصے ہوا اور ہر ایک سے پوچھنے لگا کہ یہ درخت کس نے کاٹا ہے۔
اتنے میں بیٹا بھی آگیا۔ باپ نے اس سے پوچھا تو اس نے صاف کہہ دیا۔ ’’آپ ناراض تو ہوں گے مگر میں جھوٹ نہ بولوں گا۔ یہ درخت میں نے ہی کاٹا ہے۔‘‘
باغ کا شوقین باپ یا تو اتنا غصے ہو رہا تھا یا اس نے نہایت خوشی سے بیٹے کو گود میں اٹھا لیا اور کہا۔ ’’بیٹا مجھے تمہاری سچائی سے اتنی خوشی ہوئی کہ درخت کٹ جانے کا رنج اس کے سامنے کوئی چیز نہیں۔ شاباش! اسی طرح ہمیشہ سچ بولا کرنا۔‘‘
باپ کے اس معاف کر دینے اور شاباش دینے کا لڑکے کے دل پر انتا اثر ہوا کہ اس نے عمر بھر کبھی جھوٹ نہ بولا۔ ہوتے ہوتے اس کی سچائی سارے شہر میں مشہور ہو گئی۔
اس لڑکے کا نام جارج واشنگٹن تھا۔ جس نے امریکا کو آزاد کرایا اور وہی اس بہت بڑے ملک کا سب سے پہلا صدر چنا گیا۔ امریکا کے صدر مقام کا نام بھی اسی لڑکے کے نام پر رکھا گیا ہے۔

حصہ