یاد دہانی

144

“بچو! یہ پلیٹیں اور تھرماس آکر لے جاؤ، باقی ناشتہ میں لا رہی ہوں”۔ امی کی آواز سن کر چھے سالہ حمزہ اور آٹھ سالہ شہلا باورچی خانے میں آگئے۔ اور وہاں اسٹول کے نیچے بیٹھے اپنے بلی کے بچے کو دیکھنے لگے۔ بچوں کو چیزیں پکڑاتے ہوئے امی کہنے لگیں “آج ناشتہ بناتے ہوئے ایک مزیدار بات ہوئی جلدی سے کھانے کی میز پر بیٹھو پھر بتاؤں گی۔ دادی جان کو بھی بلا لو تمہارے ابو کوجلدی جانا تھا وہ ناشتہ کر چکے ہیں”۔
امی بھی آکر بیٹھ گئیں اور چیزوں کا لین دین کرنے لگیں۔
حمزہ نے بےچینی سے کہا “امی وہ مزے کی بات بتائیں نا”
“ارے ہاں۔ پتا ہے میں جب کچن میں آئ تو یہ تمہارا چینو میرے پیروں میں آکے بیٹھ گیا۔ میں سمجھ گئی کہ یہ بھی ناشتہ مانگ رہا ہے۔ میں نے کونے میں جا کر اس کے برتن میں دودھ دے دیا یہ پینے لگا اور میں اپنا کام کرنے لگی۔ تھوڑی دیر میں یہ دوبارہ میرے پیروں میں آگیا اورمیرے پائنچے پکڑنے لگا، میں نے جھک کر دیکھا تو اپنی منی منی آنکھیں میچ میچ کر دم ہلانے لگا جیسے میرا شکریہ ادا کر رہا ہو اور پھر کچن سے باہر چلا گیا۔ دیکھو یہ جانور ہے اور اتنا سمجھتا ہے کہ جو کھانے کو دے اس کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔”
“امی ہم بھی تو شکر الحمدللہ کہتے ہیں نا؟” شہلا نے سمجھداری سے کہا۔
حمزہ کیوں پیچھے رہتے بھلا۔ “اور امی ہم شروع میں بسم اللہ الرحمٰن الرحیم بھی تو پڑھتے ہیں۔”حمزہ نے کہا۔
امی نے پیار سے اپنے لیے بنایا پراٹھے کا نوالہ حمزہ کے منہ میں ڈال دیا اور کہنے لگیں۔ “مگر مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ ہم کچھ کھانے سے پہلے کبھی کبھی بسم اللہ پڑھنا بھول بھی جاتے ہیں۔ اچھا… یہ بتاؤ کیا ہم دن بھر صرف کھانے کی میز پر بیٹھ کر ہی کچھ کھاتے ہیں کیا دن بھر میں کہیں بھی کچھ بھی نہیں کھاتے؟
اب تو بچے سوچ میں پڑ گئے۔ دادی جان بھی بچوں کی باتوں سے مزہ لے رہی تھیں۔ کچھ دیر بعد امی نے کہا “یہ بتاؤ تم شام کو پاپ کارن کھاتے ہو کبھی چاچو کے ساتھ آئس کریم کھانے جاتے ہو اور جو تمہیں دادی جان مونگ پھلیاں دیتی ہیں تو…؟
شہلا کو کھانے پینے کے مزید مواقع یاد آنے لگے یاد آنے لگے۔ “امی جان ہم تو دن میں کبھی بسکٹ کھا رہے ہوتے ہیں کبھی آپ فرائز بناکے دیتی ہیں، اور ہم جب کسی کے گھر مہمان بن کے جاتے ہیں وہ بھی ہمیں جوس، کیک وغیرہ کھلاتے ہیں۔”
اب حمزہ کو بھی یاد آنے لگا “جب خالہ جان کے گھر جاتے ہیں تو وہ بھی مزے مزے کی چیزیں کھلاتی ہیں۔”
“تو کیا ان چیزوں کو کھاتے وقت بسم اللہ الرحمن الرحیم اور الحمد للہ نہیں کہنا چاہیے؟” امی کے سوال پر دونوں چونک پڑے۔ “امی اس وقت تو ہمیں یاد ہی نہیں رہتا بس اسد اور فرح کے ساتھ کھیلتے رہتے ہیں اور خالہ جان سے چیزیں لے کر کھاتے رہتے ہیں۔” شہلا کے لہجے میں شرمندگی سی جھلک رہی تھی۔
امی نے فوراً ہی کہا: “اور پھر شیطان اس کھانے میں شامل ہو جاتا ہے۔ اور بچوں سے کہتا ہے بس کھیلتے رہو اور کوئی اچھا کام نہ کرو. تو پھر کچھ ایسا کرتے ہیں کہ بسم اللہ پڑھنا یاد رہے۔ اب سے کھانے کی میز پر آنے کے بعد حمزہ زور سے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھیں گے اور جب سب کھانا ختم کر لیں گے تو شہلا کھانے کے بعد کی دعا زور سے پڑھے گی۔ کیوں شہلا بعد کی دعا تو یاد ہے نا؟”
امی نے شہلا سے پوچھا۔ “جی۔۔ وہ تو ہمیں اسکول میں یاد کرائی تھی۔” شہلا نے کہا۔
سب نے ناشتہ بھی ختم کر لیا تھا۔ امی نے برتن سمیٹنا شروع کیے اور بات ختم کرتے ہوئے کہا “اب درمیان میں بھی کوئی چیز کھانے یا پینے لگو تو ایک دوسرے کو ضرور یاد دلانا۔” اتنے میں ان کا بلی کا بچہ اندر آگیا اور شہلا صاحبہ اس میں مگن ہو گئیں۔
“امی !باجی تو ابھی سے اپنا کام بھول گئی۔” حمزہ نے شکایت لگائی۔
“شہلا بیٹا دعا نہیں پڑھاؤ گی؟”
“اوہ سوری امی!” کہہ کر سلیقے سے کرسی پر بیٹھ کر کھانے کے بعد کی دعا بلند آواز سے پڑھنے لگی۔

حصہ