سادہ زندگی

161

سلطان ناصرالدین ہندوستان کا ایک ہی نیک اور سادہ مزاج بادشاہ گزرا ہے۔ کہنے کو تو وہ بادشاہ تھا، مگر عام بادشاہوں سے اس کا رہن سہن بالکل جدا تھا۔اپنے ذاتی خرچ کے لیے سرکاری خزانے سے ایک پیسہ بھی نہ لیتا۔ چھ ماہ میں ایک قرآن پاک اپنے ہاتھ سے لکھ لیتا۔ اس طرح سال میں دو کلام پاک تیار ہو جاتے، انہیں کے ہدیہ سے سال بھر تک اپنی گزر اوقات کرتا۔ کبھی کبھی ٹوپیاں بنا کر بھی کچھ رقم حاصل کر لیا کرتا تھا۔ اتنی قلیل آمدنی میں ظاہر ہے کتنی سادہ زندگی گزرتی ہوگی…! سلطان کی ایک ہی ملکہ تھی۔ وہ بھی بہت نیک اور سادہ مزاج تھی۔ سلطان خود محنت سے کماتا ۔ بلکہ اپنے ہاتھ سے کھانا پکاتی، اور اس طرح میاں بیوی قناعت کی زندگی گزارتے ایک دن ملکہ کھانا پکا رہی تھی۔ اتفاق سے توے سے روٹی اتارنے میں ہاتھ جل گیا۔ بہت تکلیف ہوئی۔ چنانچہ سلطان کی خدمت میں حاضر ہو کر نہایت دبی زبان سے عرض کیا۔
’’اگر آپ میری مدد کے لیے ایک ملازمہ رکھ دیتے تو بڑی عنایت ہوتی‘‘۔
سلطان نے کہا۔
’’بیوی! تم تو جانتی ہو کہ ہماری آمدنی بہت قلیل ہے اس میں ملازمہ رکھنے کی گنجائش کہاں ہے؟ سرکاری خزانہ رعایا کی امانت ہے۔ اسی کی فلاح و بہبود پر خرچ ہونا چاہیے۔ اس میں سے تو ہمیں اپنے اوپر خرچ کرنے کا کوئی حق نہیں، ملازمہ کہاں سے رکھ دوں؟‘‘
ملکہ یہ جواب سن کر خاموش ہو گئی۔ اور پھر ملازمہ رکھنے کے لیے نہ کہا۔

حصہ