استحکام خاندان

150

جہاں چار لوگ کسی تقریب میں ملتے ہیں یہی فکرمندی پائی جاتی ہے کہ سماج میں طلاق اور خلع کے واقعات میں بہت تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔
ہماری عزیزہ کا میرج بیورو ہے۔وہ فون پر ایسی جگہ بیتیاں سناتی ہیں کہ یقین ہی نہیں آتا کہ سماج نے یہ کیسی کروٹ لی ہے؟
کیا ہم نوحے ہی پڑھتے رہیں گے یا فی الواقع کچھ ہاتھ میں ہے ہمارے کہ اس سرپٹ بھاگتے سماج کی باگیں تھام سکیں۔
ایک دوڑ ہے جس میں ہم بے خودی کے عالم میں سرپٹ دوڑ رہے ہیں۔
برینڈ اور ٹرینڈ نے سماج میں ایسی کھڑکیاں کھول دیں کہ باد سموم بہت کچھ جھلسائے دے رہی ہے۔
بیٹی کی شادی کے لیے شہر کی معروف برینڈ کی دکان کا چکر لگایا۔پتا چلا شادی ولیمہ کا جوڑا کم سے کم ایک لاکھ کا ہے تین چار لاکھ کے جوڑے بھی نظر سے گزرے۔
تعجب اس بات پر ہوا کہ ایسا رش تھا جیسے لنگر تقسیم ہو رہا ہو۔
برینڈ نے مقام بنا لیا ہے۔
دوست نے اس برینڈ سے لیا یا کزن نے وہاں سے لیا ۔۔نند کی بیٹی نے وہاں سے لیا تو میری بیٹی کیا کم ہے کسی سے؟؟
یہ آپا دھاپی مردوں کو حرام کمانے پر مجبور کررہی ہے یا وہ بوڑھے والدین کو تنہا چھوڑ کر دیار غیر کا رخ کررہے ہیں۔
مجھے تو خوشی ہوئی جب میری بیٹی نے بھائی کی شادی کے استعمال شدہ جوڑے کو اپنی شادی میں یہ کہہ کر پہنا کہ ہمیں ٹرینڈ سیٹر ہونا چاہیے۔ایک دن کے لیے لاکھوں روپے کیوں خرچ کریں۔مہندی سادہ خود لگالی کہ پارلر والیاں دلہن کی مہندی کے دس ہزار سے کم نہیں مانگ رہی تھیں۔
دولہا میاں نے بھی برانڈڈ کمپنیاں چھوڑ کر انتہائی سادہ لباس کا انتخاب کیا۔
ہم جن لوگوں کو دکھانے کے لیے سب کرتے ہیں وہ ہمیں کون سا میڈل دے دیتے ہیں۔
اصل میں ہم لوگوں کے لیے نہیں خود اپنے نفس کے مطالبات کی پرستش کرتے ہیں۔برینڈڈ کمپنیوں کے جادو سر چڑھ کر بول رہے ہیں۔ہر سیل لوٹ سیل اور کھڑکی توڑ ثابت کرتی ہیں خواتین، یوں برانڈڈ دکانوں پر دھاوا بول دیتی ہیں جیسے یہ قیامت سے پہلے آخری سیل ہو۔
اب برینڈ کے بعد کچھ ذکر ٹرینڈ کا۔۔
کل سویرے ایک مقبول ٹی وی چینل کی نشریات میں” ہماری پارٹی ہورہی ہے” سے مقبول ہونے والی دوشیزہ اپنی بہن کے ساتھ مہمان تھی۔
ٹیلیویژن کے جتنے چینلز سے صبح کی نشریات آتی ہیں غالباً کل سب سے زیادہ ریٹنگ اسی شو کو ملی ہوگی۔
بات اتنی سی ہے کہ مسکرا کر گزر جائیں۔
میں گھر میں ڈسکس کروں تو بیٹا کہتا ہے “ہر بات کیوں دل پر لے لیتی ہیں؟”
لوگ لطف لے رہے ہیں،انجوائے کرتے ہوئے اس کو ٹرینڈ بنا دیا۔
بیٹا بولا” ساٹھ برس کے باس نے کل چائے کی میز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا “آئیے “پاررری” ہو رہی ہے۔”
ہم کب اور کس طرح ان “ٹرینڈز” کے دیوانے ہوئے اس پر آنے والا مورخ ضرور تحریر کرے گا۔
بات یہ ہے کہ مال،عزت،شہرت.. انسان کی کمزوریاں ہیں.
چونکہ ان کو حاصل کرنے کے لیے جتن کرنا پڑتے ہیں اس لیے ان کے حصول کے متمنی پوری پوری زندگیاں لگا کر ان کو حاصل کرتے ہیں۔
مشہور گائیگ ہوں،موسیقار ہوں،کھلاڑی ہوں یا ادیب
برسوں کی جدوجہد کے بعد کوئی مقام پاتے تھے۔
بدلتے زمانے نے شہرت کے حصول کا انتہائی آسان طریقہ متعارف کرادیا۔
راتوں رات چند سیکنڈ کی وڈیو اس درجہ کا ہیرو بنا سکتی ہے کہ آپ کو ٹی وی چینل مہمان بناتے ہیں!!
اب آپ کو ڈراموں کی آفر ہوسکتی ہے،برانڈڈ ملبوسات کو تشہیر کے لیے نئے چہروں کی تلاش ہوتی ہے۔
اب تو سپر مال بھی نئے چہروں کے متلاشی ہیں۔
فن کا فن ٹہرا اور ذریعہ معاش بھی،بہرحال ہم تیسری دنیا کے ایک غریب ملک کے باسی ہیں۔
ہر مہینہ ایک نیا ٹرینڈ آتا ہے ساٹھ مہینہ کی عمر سے ساٹھ برس تک کے فرد کا ٹرینڈ بن جاتا ہے۔
مانا کہ یہ تفریح کے نام پر ہے مگر فرد اور اجتماعیت اپنے ذوق تفریح سے بھی پہچانے جاتے ہیں۔
ایک نفیس ذوق کی پہچان قرآن نے یہ بتائی تھی کہ
“وہ گزر جاتے ہیں۔”
مگر ہم ٹہر جاتے ہیں۔۔
چسکے لیتے ہیں۔۔
آگے بڑھاتے(فارورڈ کرتے)ہیں۔۔۔
اب یہی وڈیو لاکھوں لوگوں نے ایک دوسرے کو فارورڈ کی۔
وہ لڑکیاں جو چائے ڈرائنگ روم کا دروازہ بجا کر دروازے کی اوٹ سے دیتی ہیں کہ بھائی یا والد کے دوست بیٹھے ہیں۔۔۔
ٹک ٹاک کے نام پر رات دن شرفاء اور پڑھے لکھے گھروں کی خواتین اپنی وڈیوز اپ لوڈ کرتے کوئی جھجک محسوس نہیں کر رہی ہیں۔
سستی شہرت کے حصول کی چاٹ لگا دی گئی۔
اسی سماج میں کبھی تفریح طبع کے لیے
مشاعرے ہوتے تھے۔۔
ادبی بیٹھکیں ہوتی تھیں۔۔
اب تفریح کا موضوع ٹک ٹاک ہے۔
ہزاروں نوجوان ذہن یہی سوچ رہے ہیں،سیکڑوں عمل رہے ہیں۔
یہ صلاحیتوں بھری جوانیاں کسی تعمیری کام اور سوچ پر بھی لگائی جاسکتی تھیں۔
ابھی تو کرنے کے بہت کام تھے۔
“بولڈ نیس” کے نام پر یہ ہمارے خاندانی نظام کو لگنے والے جھٹکے ہیں جہاں کبھی باپ اور بھائی کا بھی خوف ہوتا تھا.
ہم نے وہ دور بھی دیکھا جب بیویاں شوہروں کے اور بہنیں بھائیوں کے خوف یا احترام کی وجہ سے برقع پہنتی تھیں۔
یونیورسٹی کے گرلز کامن روم میں روز صبح ایک طالبہ اپنا سیاہ برقع اتار کر بیگ میں رکھتی تھی۔جاتے وقت پھر پہن لیتی۔
ایک دن میں نے وجہ پوچھی تو بولی کہ “بھائی کی اجازت نہیں کہ بے پردہ گھر سے نکلوں۔”
اب یہ بھی گئے وقتوں کی کہانیاں ٹہریں۔
نہ ابا حضور کی مجال ہے نہ بھائی کی۔۔
نہ ماں شوہر اور بیٹے کو اجازت دیتی ہے کہ بیٹی یا بہن کے معاملات میں مداخلت کریں۔
ہم نے بھی “شخصی آزادی”کے نام پر بڑا سودا چکا لیا۔۔
اسلام دشمن کیا ہمیں نقصان پہنچائیں گے ہم تو خود اپنی “پارٹیاں”انجوائے کررہے ہیں اور زندگی میں مقصد کے بجائے فن اور ہنگامہ تلاش کررہے ہیں۔
ہوائیں ہمیں اڑائے لیے پھر رہی ہیں کہ۔۔۔۔
چلو تم ادھر کو ہوا ہو جدھر کی۔۔۔۔

حصہ