پروفیسر احمد علی

155

سجاسد ظہیر، محمود الظفر اور ڈاکٹر عبدالعلیم ترقی پسند تحریک کو روس کی کمیونسٹ پارٹی کے مینی فیسٹو پر چلانے لگے، یہی ان سے میرا اختلاف تھا

طاہر مسعود: انجمن ترقی پسند مصنفین کا فنڈ کہاں سے فراہم ہوتا تھا؟
پروفیسر احمد علی: ہمیں فنڈ کے شروع میں ضرورت نہیں تھی۔ بعد میں پروپیگنڈے کے لیے انہیں پیسے ملے ہوں تو ملے ہوں میرے زمانے میں ایسا کوئی سلسلہ نہیں تھا۔
طاہر مسعود: ترقی پسند تحریک کے دم توڑنے کے اسباب کیا ہیں؟
پروفیسر احمد علی: اصل میں یہ تحریک 1938ء سے کمیونسٹ پارٹی کے زیر اثر اگئی تھی۔ اس کے بعد ہی یہ بہ حیثیت تحریک کے ختم ہونا شروع ہو گئی۔ گو اس وقت بھی اس تحریک میں ایسے شعرا شریک تھے جو کبھی ترقی پسند نہیں رہے مثلاً جوش۔ جوش میں انقلابی پہلو تو ہوسکتا ہے لیکن وہ ترقی پسند نہ کبھی تھے نہ ہیں۔
طاہر مسعود: آپ کی ادبی اور تخلیقی زندگی میں ہمیں کئی موڑ نظر آتے ہیں مثلاً آپ نے افسانہ نگاری سے ابتدا کی پھر ناول لکھے‘ شاعری کا ترجمہ کیا‘ تنقیدی مضامین تحریر کیے۔ اردو کو خیر باد کہہ کر انگریزی میں لکھنا شروع کردیا اور اب قرآن حکیم کا ترجمہ کر رہے ہیں‘ آپ اپنے اس ذہنی سفر کا کیا تجزیہ کریں گے؟
پروفیسر احمد علی: ہاں یہ ٹھیک ہے کہ میں نے افسانہ نگاری سے ابتدا کی لیکن افسانے میں وسعت نہیں ہوتی۔ افسانے میں انسان زندگی‘ اس کے اثرات اور تاریخ کے بدلتے ہوئے رخ کو ایک حد تک پیش کرسکتا ہے اور اسی لیے لکھنے والے میں تشنگی کا احساس باقی رہ جاتا ہے۔ گویا افسانہ ایک کڑی ہے جو اپنی جگہ معنی خیز ہونے کے باوجود محض ایک کڑی رہتا ہے۔ اس سے زرہ بکتر نہیں بنتا۔ میں ایک وسیع کینوس کی تلاش میں تھا اور اس کے لیے میں نے ناول کی صنف کا انتخاب کیا‘ لہٰذا ’’دلی کی شام‘‘ میں آپ دیکھیں گے کہ اس میں تاریخ‘ تمدن‘ زندگی کا اتار چڑھائو‘ نشیب و فراز‘ انسانی زندگی کی خوشیاں اور اس کے گم سبھی کچھ موجود ہیں۔ اس کے باوجود ’’دلی کی شام‘‘ میں برصغیر کی زندگی کا ایک رخ تھا جب کہ برصغیر کے اندر ہماری اجتماعی زندگیوں میں تبدیلیوں کا آغاز 1920ء سے ہوتا ہے۔ کل ہی میں ایک فرانسیسی مفکر کی کتاب پڑھ رہا تھا‘ کیا نام ہے اس کا لیوی اسٹرائوس‘ اس کا کہنا ہے کہ ہندوستان کی زندگی کا رخ 1900ء سے بدلتا ہے‘ جب انگریزوںنے آ کر ہندوستان کی زندگی کا رخ‘ اس کا دھارا بدل دیا۔ انگریز سے پہلے وید اور اپنشد کی کہانیاں انفرادی کہانیاں تھیں لیکن انگریزوں نے ہندومذہب پر کام کرکے اسے ایک زبردست مذہب بنا دیا۔ جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے اس عرصے میں ان کی تاریخ بھی متعین ہو جاتی ہے۔ خلافت تحریک کی ناکامی کے بعد سے مسلمانوں کے خیالات بدلنے شروع ہوئے اور 1930ء کے آخر تک انگریزیت آگئی۔ جس کی ایک مثال یہ تھی کہ عبدالرحمن بجنوری نے غالب کے دیوان پر مضمون لکھا تو گوئٹے سے لے کر سارے یورپی فلسفیوں کے نام گنوا دیے۔ حالاں کہ غالب کی شاعری سے ان فلسفیوں کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ بات یہ تھی کہ بجنوری صاحب ہم لوگوں پر رعب ڈال رہے تھے کہ انہوں نے گوئٹے کو پڑھا ہے اور واقعتاً لوگ مرعوب بھی ہو گئے اور بجنوری کے مضمون پر ایک شور مچ گیا۔ غرض یہ کہ ہماری زندگی میں ’’انگریزیت‘‘ داخل ہو چکی تھی۔ میرے ایک دوست تھے سید شاہد حسین وکیل‘ ویسے اچھے انکل کے نام سے پکارے جاتے تھے۔ ہم گرمیوں میں اکثر مسوری جاتے تھے۔ اسی برس ان سے وہاں ملاقات ہوئی۔ اچھے انکل نے ہمیں ایک تانگے والے کا عجیب قصہ سنایا کہ کس طرح وہ ان کے ہیٹ اور کوٹ کو دیکھ کر متاثر ہوگیا۔ اس سے اندازہ ہوا کہ ہم انگریزوں کی وجہ سے احساس کمتری میں مبتلاہو گئے ہیں اور اب اپنی انفرادیت فراموش کرکے ان کی نقل کرنے کو تیار ہو چکے ہیں۔ مسلمانوں کی صورت حال یہ تھی کہ ان میں مغربی علوم پڑھائے نہیں جاتے تھے اور مولوی انگریزی سے بے بہرہ تھا۔ اس طرح 1920ء سے 1940ء تک کے عرصے میں معاشرے کو داخلی طور پر ٹھیس لگی اور وہ تقریباً کھوکھلا ہو گیا۔ ہماری زندگی درہم برہم ہوگئی۔ ہماری ماضی کی یادوں اور نئی قدروں میں ایک تضاد اور ٹکرائو تھا۔ ہماری تہذیب ہمیں ایک طرف اور نئی مغربی تہذیب دوسری طرف کھینچ لے جانا چاہتی تھی۔ یہی دور تھا جب اکبر الٰہ آبادی مقبول ہوئے کہ قدریں بدل رہی ہیں اور لوگوں کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کس طرف جائیں؟ اس کشمکش‘ ٹکرائو اور تصادم کو تاریخی اعتبار سے پیش کرنا ضروری تھا۔ لہٰذا اسے میں نے اپنے ناول ’’اوشن آف نائٹ‘‘ میں پیش کیا۔ 1960ء کے بعد میرے حالات نے مجھے زندگی کے منجدھار سے الگ کر دیا۔ ظاہر ہی ہر شخص زندگی کے میدان میں ہمیشہ نہیں رہ سکتا لیکن ساتھ ہی یہ بھی درست ہے کہ زندگی کو کناروں پر بیٹھ کر سمجھنا ممکن نہیں ہے۔ 1950ء کے بعد جو تبدیلی آئی ہے اور عالمی بساط پر دو طاقتوں کے آگے ہم جس طرح بے بس ہیں‘ یہ سب باتیں ایسی ہیں جو مجھ سے ناول نویسی کا تقاضا کرتی ہیں لیکن ناول لکھنے کے لیے ذہنی سکون اور فرصت لازمی ہے۔ 1965ء کے بعد سے نہ تو ذہنی سکون ہے اور نہ روزگار کی فکر سے آزادی ملی ہے۔
ایک دور تھا تو مجھ پر ایسا بھی آیا کہ مہینے کے آخر میں جیب میں پھوٹی کوڑی بھی نہیں ہوتی تھی۔ پھر ڈپلومیٹک سروس جوائن کی تو تقریباً بارہ سال تک لکھنے پڑھنے سے بالکل علیحدہ ہو گیا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد مجھے دوبارہ لکھنے پڑھنے سے خود کو وابستہ کرنے کے لیے تقریباً تین سال لگے۔ امریکی حکومت نے 1975ء میں مجھے بلایا‘ وہاں پہنچا تو انہوں نے مجھے مذاہب کا ماہر بنا دیا اور پھر قرآن مجید کا ترجمہ کرنے کا فریضہ سونپ دیا جسے میں نے چیلنج کے طور پر قبول کر لیا۔
طاہر مسعود: کہا جاتا ہے کہ ادب کی موت واقع ہو چکی ہے۔ اگر یہ اطلاع درست ہے تو کیا آپ اس مرض کی تشخیص کرنا پسند کریں گے جس کی وجہ سے یہ سانحہ رونما ہوا؟
پروفیسر احمد علی: بحیثیت ادیب کے میں ادب کی موت کی تردید کرتا ہوں‘ لیکن بحیثیت حقیقت نگار اور ایک مؤرخ کے میں اسے حقیقت سمجھتا ہوں۔ آج کل اچٹتی ہوئی نگاہ سے زندگی کو دیکھنے والا ادب پسند کیا جاتا ہے اور حقیقی ادب مر چکا ہے۔ اصل میں آج کے دور میں ادب نہیں پنپ سکتا۔ ہمارے سامنے موت و زیست کے مسائل ہیں‘ انسانیت کے زندہ رہنے اور مرجانے کے مسائل ہیں‘ زندگی میں غربت و افلاس ہے‘ جدوجہد ہے‘ عالمی طاقتوں کی باہمی کشمکش ہے‘ جنگ کا خطرہ ہے‘ اسلحے کی دوڑ ہے۔ آج کا مسئلہ بنیادی طور پر بقا اور قائم رہنے کا مسئلہ ہے‘ ایسے میں ادب کو کون پوچھتا ہے‘ ادب کو تو مرنا ہی تھا۔
طاہر مسعود: کیا کوئی طریق علاج اب بھی ایسا ہے جس سے ادب کو زندہ کیا جاسکتا ہو؟
پروفیسر احمد علی: ایک ہی طریقہ ہے کہ ہم سب کچھ بھلا کر کہیں کہ ہمارا تعلق صرف ادب سے ہے‘ جیسے ہمارے پرانے فقیر اور صوفی گھروں سے دس بارہ برس کے لیے نکل جاتے تھے اور پھر ایک طویل ریاضت اور تپسیا کے بعد واپس زندگی میں آجاتے تھے یا تو ادیب انہی صوفیوں کی طرح ایک مقررہ مدت کے لیے نکل جائیں‘ جنگلوں اور شہروں کی خاک چھانیں اور پھر واپس آکر زندگی اور انسانوں کے بارے میں اپنے تجربات قلم بند کریں لیکن ظاہر ہے یہ سب کچھ کون کر سکتا ہے۔ سلیم احمد کو بھی نوکری کرنی پڑتی ہے کہ ساتھ پیٹ لگا ہوا ہے۔ مجھے یاد ہے بچپن میں مولوی باقر علی ہمارے محلے میں آکر لیکچر دیتے تھے۔ ایک لیکچر میں آج تک نہیں بھولا۔ وہ کہتے تھے ’’بلی بھی مارتی ہے چوہا پیٹ کی خاطر۔‘‘ اب یہی روزی تو ہے جس کی وجہ سے نیو کراچی سے لوگوں کو میکلو روڈ آنا پڑتا ہے اور ساتھ یہ خدشہ بھی لگا رہتا ہے کہ بس میں دیر ہو گئی تو غیر حاضری لگ جائے گی اور غیر حاضری لگ گئی تو مہنگائی کے تعاقب کی دوڑ میں اور پیچھے رہ جائیں گے۔ ایسے میں ادیبوں کا کیا پوچھنا ہے۔ دنیا میں جہاں بھی پبلشر ہیں‘ کتابیں چھاپ کر اس کا دس فیصد ادیبوں کو ضرور دیتے ہیں جب کہ آپ کے ملک میں کوئی پبلشر بہت احساس کرے گا تو شانِ بے نیازی سے کہے گا ’’میاں کتاب رکھ جائو۔‘‘ پھر اس کتاب کی اشاعت سے بھی آپ کو جتنا فائدہ ہوتا اس کے لیے ناگزیر ہے کہ ہر ماہ کتاب لکھیں۔ ظاہر ہے ہر مہینے کتاب نہیں لکھی جاسکتی۔ میرے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ادیب کے لیے فرصت اور اثاثہ ہونا بے حد ضروری ہے۔ آپ یہ دونوں چیزیں طے کرا دیں۔ میں احمد علی بیٹھ کر آپ کے لیے ناول لکھوں گا۔
طاہر مسعود: آپ نے آج سے پہلے جتنے ناول اور افسانے لکھے‘ اس کے لیے فرصت اور اثاثے کی ضرورت کیوں پیش نہیں آئی؟ تب تو حال یہ تھا کہ لکھنے والے ڈوب کر لکھتے تھے اور پڑھنے والے شوق سے پڑھتے تھے۔ ادب اور قاری کا یہ رشتہ کیوں ٹوٹ گیا؟
پروفیسر احمد علی: اس کی وجہ یہ ہے کہ دور بدل گیا۔ پہلے زندگی جمی ہوئی تھی۔ لوگ ایک دوسرے کو جانتے تھے۔ کچھ نہیں تو ریستوارنوں میں جمع ہو جاتے تھے۔ مہنگائی نام کو نہیںتھی جس چیزکی جو قیمت تھی اپنی جگہ برسہا برس سے ثابت قدمی سے موجود تھی۔ خود میرا حال یہ تھاکہ انتیس سال کی عمر میں جب میں نے شادی نہیں کی تھی تو نوکری پر لات مار دی تھی اور ہر بات سچائی سے کہتا تھا۔ کسی قسم کی مصلحتوں کو خاطر میں نہیں لاتا تھا‘ لیکن اب کہتی ہوئے بہت کچھ سوچنا پڑتا ہے۔ پاکستان بننے کے بعد ادیب ختم ہو گئے۔ انڈیا سے آئے ہوئے جتنوں ادیبوں کی یہاں کی حکومت کو ضرورت تھی انہیں ملازمتوں پر رکھ لیا اور جو سروس میں گئے ان کا ادب سے رشتہ ٹوٹ گیا‘ جیسا کہ میں نے بتایا کہ سول سروس میں جانے کے بعدمیںمیں بھی وہیں کھو گیا۔ وہاں اوپر سے نیچے تک سازشیں چلتی ہیں۔ البتہ اس ماحول میں رہنے کے باوجود جس نے کام کیا میں ان کے دل سے قدر کرتا ہوں۔ مثلاً جمیل جالبی یا صہبا لکھنوی جو قارئین نہ ہونے کے باوجود ’’افکار‘‘ حوصلے سے چھاپے جارہے ہیں۔
طاہر مسعود: ابھی حال ہی میں ’’نیوزویک‘‘ میں شائع شدہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکا میں ادیبوں کی معاشی صورت حال کچھ زیادہ خوش گوار نہیں ہے۔ رپورٹ میں ایک ایسے ادیب کا حوالہ تھا جس نے اپنے ایک ناول سے لاکھوں ڈالر کمائے لیکن اب وہ بھی محتاج ہے‘ آپ امریکا میں رہے‘ آپ کا کیا مشاہدہ ہے؟
پروفیسر احمد علی: جی ہاں! یورپ اور امریکا میں بھی کوئی شاعر ایسا نہیں ہے جس کی کتاب پبلشر خود اپنے خرچ پر چھاپے۔ دنیا میں ہر جگہ کاغذ‘ چھپائی‘ جلد بندی وغیرہ مہنگے ہو گئے ہیں۔ دوسرا سبب یہ ہے کہ قارئین سہل پسند ہو گئے ہیں۔ میں نے خود دیکھا کہ لوگ بھری بس میں بیٹھے بیسٹ سیلرز پڑھ رہے ہیں۔ ریڈرز ڈائجسٹ‘ ٹیلی ویژن اور ریڈیو اسی لیے مقبول ہیں کہ لوگ چاہتے ہیں کہ زیادہ پڑھے اور محنت کیے بغیر معلومات حاصل ہو جائیں یا کچھ وقت آسانی سے کٹ جائے۔ ایسی صورت حال میں ادیب کی معاشی حالت دگرگوں نہیں ہوگی تو کیا ہوگا۔
طاہر مسعود: کیا اس کا ایک سبب خود ادیبوں کا رویہ نہیں ہے جو اجتماعی مسائل کو محسوس کرنا اور اس پر ادب تخلیق کرنا چھوڑ دیا ہے؟
پروفیسر احمد علی: یہ بات بھی درست ہے‘ ادیب بے حس ہو گئے ہیں‘ مثلاًان کا زندگی سے کوئی تعلق نہیں رہا۔ ’’انگارے‘‘ نے مسائل سے اپنے گہرے تعلق کی وجہ سے مقبولیت حاصل کی تھی لیکن اب ایسی کون سی کتاب لکھی گئی ہے۔ تقسیم ہند کا واقعہ پیش آیا۔ مہاجرین کی ٹرین کی ٹرین کٹ گئی‘ آباد کاری کے مسائل نے اَن گنت انسانوں المیوں کو جنم دیا لیکن ان موضوعات پر ہمارے ادیب نے کون سا بڑا ادب تخلیق کیا اور چھوڑیے خود سانحہ مشرقی پاکستان پر غور کیجیے۔ آپ کا ایک بازو کٹ گیا اور آپ کے ادیب چپ رہے۔ ہمارے ادیبوں کا حال یہ ہے کہ کراچی کی گلیوں اور کوچوں سے ناواقف ہیں (طنزیہ لہجے میں) چلو کچھ نہیں تو لالو کھیت ہی کے بارے میں لکھ دو۔ دیکھیے خود ستائی کی بات نہیں ہے لیکن ’’دلی کی شام‘‘ میں ہندو کا کوئی کردار نہیں ہے لیکن اسے پورے ہندوستان کا ناول کہا جاتا ہے‘ آخر کیوں؟
طاہر مسعود: آپ نے محسوس کیا ہوگا کہ خصوصاً نئے لکھنے والوں کی جو کھیپ آئی ہے اس کے افسانے اور شاعری میں علامتوں کے بے دریغ استعمال ہوتا ہے اور ان علامتوں اور استعاروں کی تفہیم میں قاری کو بے حد دشواری محسوس ہوتی ہے۔
پروفیسر احمد علی: اس پر مجھے ایک واقعہ یاد آیا۔ چند سال پہلے کراچی یونیورسٹی میں ایک صاحب زادے اپنا مجموعہ کلام لے کر میرے پاسآئے‘ قسمیہ کہہ رہا ہوں‘ ان کے مجومع کا نام مجھ سے نہیں پڑھا گیا۔ بڑی مشکل سے پتا چلا کہ مجموع کا نام ’’والکنیو‘‘ ہے۔ میں نے پوچھا بھائی نام اردو کے بجائے انگریزی میں کیوں رکھا؟ کوئی تشفی بخش جواب نہیں دے سکے۔ اس مجموعے میں ایک مصرع تھا ’’بجھ گئے دور دور پیڑ‘‘۔
بھلا بتایئے پیڑ بھی بجھتے ہیں… عشق اور مجاز وغیرہ کی علامتوں کا تعلق ہماری زندگی سے تھا۔اس لیے ان کو سمجھنا کوئی مشکل نہ تھا لیکن آج کے ادیب برازیل اور ٹمبکٹو کی علامات لاتے ہیں اور انہوںنے ہمارے مسائل پر لکھنا چھوڑ دیا ہے لہٰذا قاری نے انہیں پڑھنا چھوڑ دیا۔
(جاری ہے)

حصہ